طالوت و جالوت کی جنگ اور بنی اسرائیل کاامتحان

war
EjazNews

اس تمام ردو کد کے بعد بنی اسرائیل کو انکار کرنے کے لئے کوئی چارہ کار باقی نہیں رہااور حضرت سموئیل کے الہامی فیصلہ پر طالوت کو اسرائیل کا بادشاہ بنا دیا گیا۔
اب طالوت نے بنی اسرائیل کو کو نفیر عام دیا کہ وہ دشمنوں (فلسطینیوں) کے مقابلہ کے لیے نکلیں۔ جب بنی اسرائیل طالوت کی سرکردگی میں روانہ ہوئے تو بنی اسرائیل کی آزمائش کا ایک اور مرحلہ پیش آیا وہ یہ کہ طالوت نے یہ سوچا کہ جنگ کا معاملہ بیحد نازک ہے اور اس میں بعض مرتبہ ایک شخص کی بزدلی یا منافقانہ حرکت پورے لشکر کو تباہ کر دیا کرتی ہے اس لیے از بس ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے اس گروہ کو جہاد سے پہلے آزما لیا جائے کہ کون شخص تعمیل حکم،ضبط نفس اور صداقت و اخلاص کا حامل ہے اورا س میں یہ اوصاف نہیں پائے جاتے اور بوہ بزدل اور کمزور ہے تاکہ ادائے فرض سے پہلے ہی ایسے عناصر کو کاٹ کر الگ کر دیا جائے۔ کیونکہ یہاں صبر و ثبات قدمی اور اطاعت و انقیاد اصل ہے ،لہٰذا جو شخص معمولی پیاس میں ضبط و صبر پر قدرت نہیں رکھتا وہ جہاد جیسے نازک معاملہ میں کس طرح ثابت قدم رہ سکتا ہے۔
چنانچہ جب یہ گروہ ایک ندی کے کنارے پہنچا تو طالوت نے اعلان کیا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اس سے جی بھر کر پانی نہ پیے، لہٰذا جو شخص اس کی خلاف ورزی کریگا وہ خدا کی جماعت سے نکال یا جائے گا اور جو تعمیل ارشاد کریگا وہ جماعت میں شامل رہے گا۔ البتہ سخت پیاس کی حالت میں گھونٹ بھر پانی پی کر حلق تر کر لینے کی اجازت ہے۔
ترجمہ: جب طالوت لشکریوں کو لے کر روانہ ہوا تو اس نے کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو نہر کے پانی کے ذریعہ آزمائے گا پس جو شخص اس سے سیراب ہو کر پیے گا وہ میری جماعت میں نہ رہے گا اور جو ایک چلو پانی کے سوا اس سے سیراب ہو کر نہیں پیے گا۔ وہ میری جماعت میں رہے گا پھر تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ سب نے اس نہر سے سیراب ہو کر پی لیا۔ (بقرہ)
مفسرین کہتے ہی کہ یہ واقعہ اردن پر پیش آیا۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں بات چیت کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر ہے۔
بہر حال نتیجہ یہ نکلا کہ جب لشکر ندی کے پار ہو گیا تو جن لوگوں نے خلا ف ورزی کرتے ہوئے پانی پی لیا تھا وہ کہنے لگے کہ ہم میں جالوت جیسے قوی ہیکل اور اس کی جماعت سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے ضبط نفس اور اطاعت امیر کا ثبوت دیا تھا انہوں نے بے خوف ہو کر یہ کہاکہ ہم ضرور دشمن کا مقابلہ کرینگے اس لیے کہ خدا کی قدرت کا یہ مظاہرہ اکثر ہوتا رہتا ہے کہ چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں، البتہ ایمان باللہ اور اخلاص و ثبات شرط ہے۔
ترجمہ: پھر جب طالوت اور اس کے سات وہ لوگ جو ایمان رکھتے تھے ، ندی کے پار اترے تو ان لوگوں نے طالوت کے حکم کی نافرمانی کی تھا ، کہا ہم یہ طاقت نہیں کہ آج جالوت سے اور اس کی فوج سے مقابلہ کر سکیں لیکن وہ لوگ جو سمجھتے تھے انہیں ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے پکار اٹھے ۔ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی جماعتوں پر حکم الٰہی سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کاساتھی ؟۔ (بقرہ)۔
مجاہدین کا لشکر اب آگے بڑھا اور اس کے لشکر کی تعداد بھی زیادہ تھی ۔ مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں اخلاص و تضرع کے ساتھ دعا کی کہ دشمن کو شکست دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ا پنی فتح و نصرت سے شاد کام بنا۔
تورات اور کتب سیر میں ہے کہ جالوت کی غیر معمولی شجاعت و بہادر نے بنی اسرائیل کو متاثر کر رکھاتھا اور اس کی مبار زطلبی کے جواب میں جھجک محسوس کرتے تھے۔
حضرت دائود علیہ السلام کی شجاعت:
بنی اسرائیل کے اس لشکر میں ایک نوجوان بھی تھا جو بظاہر کوئی نمایاں شخصیت نہیںرکھتا تھا اور نہ شجاعت و بہادری میں کوئی خاص شہرت کا مالک تھا، یہ دائود علیہ السلام تھے۔ کہاجاتا ہے وہ اپنے والد کے سب سے چھوٹے لڑکے تھے اور شرکت جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے بلکہ باپ کی جانب سے بھائیو ں اور دوسرے اسرائیلیو ں کے حالات کی تحقیق کے لیے بھیجے گئے تھے مگر جب انہوں نے جالوت کی شجاعانہ مبارز طلبی اور اسرائیلیوں کی پس و پیش کو دیکھا تو ان سے نہ رہا گیا اور طالوت سے اجازت چاہی کہ جالوت کا جواب دینے کے لیے ان کو موقع دیا جائے ۔ طالوت نے کہا تم ابھی ناتجربہ کار لڑکے ہو اس لیے اس سے عہدہ برانہیں ہو سکتے ۔مگر دائود ؑ کا اصرار بڑھتا ہی رہا اور آخر کار طالوت کو اجازت دینی پڑی۔
دائود علیہ السلام آگے بڑھے اور جالوت کو للکارا جالوت نے ایک نوجوان کو مقابل پایا تو حقیر سمجھ کر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی مگر جب دونوں کے درمیان نبرد آزمائی شروع ہو گئی تو اب جالوت کو دائود ؑ کی بے پناہ شجاعت کا اندازہ ہوا۔ دائود علیہ السلام نے لڑتے لڑتے گو پھن سنبھالی اور تاک کر پے بہ پے تین پتھر اس کے سر پر مارے اور جالوت کا سر پاش پاش کر دیا اور پھر آگے بڑھ کر اس کی گردن کاٹ لی۔ جالوت کے قتل کے بعد جنگ کا پاسا پلٹ گیا اور بنی اسرائیل کی جنگ مغلوبہ جارحانہ حملہ میں تبدیل ہو گئی اور طاغوتی طاقت شکست ہوئی ا ور بنی اسرائیل کا مگار و کامراں واپس لوٹے۔ اس واقعہ نے حضرت دائود کی شجاعت کا دوست و دشمن دونوں کے قلوب پر سکہ بٹھا دیا اور وہ بے حد ہر دل عزیز ہو گئے اور ان کی شخصیت بہت نمایاں اور ممتاز نظر آنے لگی۔
اگرچہ قرآن عزیز نے ان تفصیلات کو غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کر دیا ہے یا حقیقۃً یہ تفصیلات خود اپنی جگہ پر صحیح نہیں ہیں لیکن اس بات پر قرآن اور تورات دونوں کا اتفاق ہے کہ جالوت کے قاتل حضرت دائود علیہ السلام ہیں اور جالوت کے قتل سے اسرائیلیوں کو فتح اور دشمن کو شکست نصیب ہوئی۔
ترجمہ: اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل ہوئے تو کہنے لگے اے پروردگار! ہم کو صبر دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافر قوم پر ہم کو فتح و نصرت عطا فرما بس اللہ کے حکم سے انہوں نے ان کو شکست دے دی اور دائود نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے دائود کو حکمت اور حکمت عطا فرمائی اور جو مناسب جانا وہ سب کچھ سکھایا۔ (بقرہ)۔
بعض اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے کہ جالوت کی زبردست طاقت اور بنی اسرائیل کے اس کے مقابل ہونے میں جھجک کو دیکھ کر طالوت نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرونگا اور اس کو حکومت میں بھی حصہ دار بنائونگا۔ چنانچہ جب دائود علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر دیا تو طالوت نے وفا عہد کے پیش نظر اس کے ساتھ اپنی لڑکی میکال کی شادی کر دی اور حکومت میں حصہ دار بنالیا۔
ایک اسرائیلی روایت پر محاکمہ:
تورات کے صحیفہ سموئیل میں طالوت اور دائو د کے متعلق ایک طویل داستان پائی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ طالوت نے دائود کے شجاعانہ کارناموں کی بنا پر حسب وعدہ ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی مگر بنی اسرائیل کی ان کے ساتھ والہانہ عقیدت اور ان کی غیر معمولی شجاعت کو اس نے اچھی نظر سے نہ دیکھا اور اس کے دل میں ان کی جانب سے آتش بغض و حسد بھڑک اٹھی مگر اس نے اس کو پوشیدہ رکھا اور اندر ہی اندر ایسی ترکیبیں کرتا رہا کہ جس سے دائود کا قصہ پاک ہو جائے۔
باپ کے خلاف طالوت کے لڑکے اور لڑکی دائود کے راز دار اور ہمدرد ہے اور اس لیے ہر موقعہ پر طالوت کو ناکام ہونا پڑا۔ آخر زچ ہو کر اس نے علی الاعلان دائود کی مخالفت شروع کر دی اور دائود یہ دیکھ کر اپنی بیوی اورسالے کو ہمراہ لے کر فرار ہو گئے اور فلسطینیوں کے ایک قصبہ میں طالوت کے دشمن کے یہاں پنا ہ لی۔ اسرائیلوں کی اس باہمی آویزیشن سے دشمنوں نے فائدہ اٹھایا اورانہوں نے فوج کشی کر کے اسرائیلوں کو سخت ہزیمت دی۔
اب اس جگہ سے سُدی کی روایت اور تورات کی روایت میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے تورات کہتی ہے کہ طالوت اس جنگ میں مارا گیا اور سدی کہتا ہے کہ شکست کا یہ منظر دیکھ کر ساول (طالوت) اپنے کیے پر پچھتایا اور نادم ہوا اور وقت کے بزرگوں اورکاہنو ں سے دریافت کیا کہ میری توبہ قبو ل ہونے کی بھی کوئی صورت نکل سکتی ہے سب نے انکار کیا مگر ایک عابدہ عورت ہاں کہہ کر اس کو الیسع نبی کی قبر پر لے گئی اور دعا کی حضرت الیسع قبر سے اٹھے اور اس سے کہا کہ تیری توبہ کی صرف یہ ایک صورت ہے کہ تو حکومت دائود کے حوالے کر دے اور اپنے خاندان سمیت جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو کر شہید ہوجا۔ چنانچہ اس نے یہی کیا اور اس طرح حکومت دائود کے ہاتھوں میں بلا شرکت غیر آگئی اور سائول (طالوت) نے مع خاندان کے جام شہادت پی لیا۔
یہ پوری داستان سموئیل کے صحیفہ سے ماخوذ ہے مگر سدی کے حوالے سے اصحاب سیر نے بھی اس اسرائیلی داستان کو اسلامی روایات کی طرح بیان کیا ہے حتیٰ کہ حضرت دائود کی جو منقبت سورہ بقرہ کی آیت میں مذکور ہے اس داستان کو اس کی تفسیر میں بیان کر دیا گیا۔ معلوم نہیں کہ گزشتہ دور میں اسرائیلیات کی نقل کا اس قدر ذوق کیوں پیدا ہو گیا تھا کہ یہود نے جن داستانوں کو اپنی گمراہی اور غلط روی کی تائید کے لیے گڑھا تھا ان کو بھی اسلامیات میں شامل کرنے سے احتیاط نہیں برتی گئی اور تاریخ و سیرت تو کجا تفسیر قرآن جیسے اہم مقام کو بھی اس خرافات سے محفوظ نہ رہنے دیا گیا چنانچہ یہاں بھی یہی صورت حال پیش آئی ہے۔
قرآن عزیز کی زبانی آپ سن چکے ہیں کہ جب اسموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے مطالبہ پر طالوت کو بادشاہ مقرر کر دیا تو بنی اسرائیل نے اتباع و انقیاد کا وعدہ کرنے کے باوجود اس کو بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور انحراف کی راہ اختیار کی تھی مگر جب خدائی نشان نے ان کو لاجواب بنا دیا تب مجبور و مقہور ہو کر طالوت کو اپنااولوالامر تسلیم کیا، چنانچہ علما یہود اس بات کو محسوس کرتے رہے کہ ہماری مجرمانہ عادات و خصائل کے اعداد و شمار میں یہ ایک مزید اضافہ ہے کہ ہم نے خدا کے مامور انسان طالوت کو نااہل بنا کر شروع میں اس کو بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لہٰذا ایسی صورت پیدا کرنی چاہیے کہ جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ طالوت کے بارہ میں ’’ نا اہلیت امارت ‘‘ کا جو دعوی ہم نے کیا تھا صحیح اور سچ ظاہر ہو جائے اور ہم کو دنیا کے سامنے یہ کہنے کاموقع ملے کہ یہی وہ امور تھے جن کو ہم اپنی فطانت و فراست سے پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور آخر طالوت کی نالائقی اور نااہلیت ثابت ہو کر رہی۔ جرم ہلکا کرنے اور اپنی مجرمانہ خصلت پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ وہ اقدام ہے جو اسموئیل کی کتا ب میں طالوت اور حضرت دائود علیہ السلام کی باہمی آوزیش سے متعلق داستان میں نظر آرہا ہے مگر افسو س کہ ہمارے بعض ارباب سیر و راویان تفسیر نے بھی اس حقیقت تک پہنچے بغیر اپنی سادگی سے کتب تفسیر و تفسیر میں اس کو نقل کر دیا اور یہ توجہ نہ فرمائی کہ جس ہستی کو قرآن عزیز مامور من اللہ قرار دے رہا ہے اور جس کی برکت سے تابو ت سکینہ بنی اسرائیل کو دوبارہ عطا ہورہا ہے اور جس کو ’’ زادہ بسط ۃ فی العلم والجسم ‘‘ کہہ کر اس کے علم و شجاعت کو پر شوکت الفاظ میں سراہ رہا ہے ہم بغیر کسی دلیل و برہان قوی کے کس طرح ایسے شخص کو قابل نفرت وحرکات کا حامل قرار دے کر مورد لعن و طعن بنا سکتے ہیں ۔ قرآن عزیز سے یہ قطعاً بعید ہے کہ جس ہستی کی زندگی کاایک بہت بڑا حصہ معاصی میں گزر رہا ہو اور وہ جرائم کا مرتکب ہو رہا ہو اس کے مناقب و محامد کا تو ذکر کر دے اور اس کی زندگی کے دوسرے پہلو کو نمایاں نہ کرے پس جبکہ قرآن عزیز نے طالوت کے ثنا و منقبت کے علاوہ ایک لفظ بھی مذمت کا بیان نہیں کیا بلکہ اس کی جانب اشارہ تک موجود نہیں ہے تو ایک مسلمان کے لیے کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ وہ تورات کی اس خرافی داستان کو صحیح تسلیم کرے ، حاشکا و کلا!
یہی وجہ ہے کہ مشہور محقق ابن کثیر ؒ نے اپنی تاریخ میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد یہ فرما دیا:
’’اور اس قصہ کے بعض حصے اوپری داستان اور قابل اعتراض ہیں۔‘‘
نیز یہ بھی فرمایا کہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک عورت نے الیسع نبی کی قبر پر حاضر ہو کر ان کو موت سے جگایا یہ خود اس واقعہ کے غلط ہونے کا عمدہ ثبوت ہے اس لیے کہ اس قسم کے معجزات کا ظہور انبیاء ورسل سے کبھی کبھی ہوتا ہے نہ کہ ایک زاہدہ و عابدہ عورت سے ۔ چنانچہ اسی وجہ سے ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس واقعہ کی جانب مطلق توجہ نہیں فرمائی اور بلاشبہ یہ ہرگز توجہ کے قابل نہیں ہے۔
اسی دوران میں حضرت سموئیل علیہ السلام کا انتقال ہو گیا۔
مولانا محمد حفظ الرحمن سہواروی

اپنا تبصرہ بھیجیں