ضلع لاہور:لاہورگزیٹئر1883-84میں کیسا تھا؟(۱)

old_lahore-1
EjazNews

لا ہور کاضلع لاہور ڈویژن کے تین اضلاع کے وسط میں ہے جو شمال میں عرض البلد 37، 30اور 54,31اور مشرق میں طول البلد 40,73اور1,75پر واقع ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ علاقہ ایک بے قاعدہ مربع شکل کا ہے۔ اس کی جنوب مشرقی سرحد دریائے تن کے ساتھ اور شمال مغرب میں سیدھا زاویہ ستلج اور پھر باری دوآب اور راوی سے ہوتا ہوا رچنا دوآب سے جا ملتا ہے۔ اس کی شمال مغربی سرحد راوی کے دائیں کنارے پر 23 میل تک محیط ہے۔ ضلع کی شمال سے جنوب تک زیادہ سے زیادہ لمبائی 65 میل اور مشرق سے مغرب تک زیادہ سے زیادہ چوڑائی 75 میل ہے ۔ضلع لاہور کے شمال مغرب میں ضلع گوجرانوالہ شمال مشرق میں امرتسر اور جنوب مشرق میں دریائے ستلج واقع ہے جو اسے ضلع فیروز پور سے الگ کرتا ہے۔ اس کے جنوب مغرب میں ضلع نگری واقع ہے۔ ضلع لاہور کی چار تحصیلیں ہیں جن میں تحصیل شر قصور میں راوی پارکا علاقہ اور تحصیل چونیاں میں جنوب مغربی علاقے کا نصف حصہ شامل ہے جبکہ نصف شمال مشرقی علاقہ سیل لاہور کا حصہ ہے جو دریائے راوی قصورتحصيل اور ستلج کے ساتھ واقع ہے۔
ضلع لاہور میں دس ہزار سے زیادہ آبادی کے شہر درج ذیل ہیں
لاہور1,49,369:
قصور17,336:
ضلع کا انتظامی صدر مقام اس کی شمال مشرقی سرحد سے 23 میل دور دریائے راوی پر لا ہور شہر میں واقع ہے۔ پنجاب کے 32اضلاع میں ضلع لاہور رقبے کے اعتبار سے گیارہویں اور آبادی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔
صوبے کے کل علاقے میں اس کا تناسب تین اعشاریہ چار دو فیصد ،کل آبادی میں تناسب چار اعشارنو ایک فیصد اور برطانوی علاقے کی شہری آبادی میں اس کا تناسب آٹھ اعشاریہ تین آٹھ فیصد ہے۔ ضلع لاہور کے اہم مقامات طول البلد عوض البلد اور سمندر سے اونچائی کے اعدادوشمار درج ذیل ہیں:

ضلع لاہور کے اہم مقامات طول البلد عوض البلد اور سمندر سے اونچائی کے اعدادوشمار

طبی خصائص
ضلع لاہور کی زمین کی سطح اور زرخیزی مختلف علاقوں میں ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے اور اس کا انحصار پیاس، راوی اور ڈ یک دریاؤں کے رخ پر ہے۔ آخر الذکرڈیک ایک نالہ ہے جو ضلع کے راوی پار کے علاقے میں راوی کے متوازی بہتا ہے۔ ان تینوں دریاؤں کی وادیاں اور ان کے درمیان ابھری ہوئی زمین لاہور کے طبعی خصائص میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔ اور راوی کے درمیان چوڑی پٹی میں شمال کی جانب بہتر ین کاشتکاری ہوتی ہے البتہ جنوب کی سمت زمین بے آب و گیاہے اور بنجر ہے جہاں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اونٹوں کے چارے کا کام دیتی ہیں اور اگر موسمی حالات موافق ہوں تو وہاں بھی گھاس اگ آتی ہے جو مویشیوں کے لیے بہترین چراگاہ ثابت ہوتی ہے۔ یہاں آبا د یہات کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور گاؤں بھی ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں لیکن اس علاقے میں جگہ جگہ تالاب اور کنوؤں ، مسمار عمارتوں اور قدیم قلعوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں جن سے ماضی کی خوشحالی کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ علاقہ ماجھے کے نام سے موسوم ہے جو سکھ مذہب کے پیرو کاروں کا گڑھ ہے۔ جنوب میں اسے نکا یعنی سرحد اور دریا کے کنارے سے نشیب میں واقع ہونے کے باعث اتار کہا جا تا ہے۔ ماجھے کی جنوبی سرحد ضلع کے مشرقی کونے میں تاج کے مشرق اور مغرب کی سمت میں واقع ہے۔ یہ علاقہ بیاس اورستلج کے سنگم سے چند میل دور ہے۔ اس سے آگے جنوب کی سمت میں بانجھے کی زمین سے چالیس فٹ نیچے ہے اور ایک مثلث نما علاقہ ستلج تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوب اور مغرب کی سمت میں اس کی چوڑائی میں ماجھے کی نسبت اضافہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مغربی سرحد پرضلع کی چوڑائی کوئی 34 میل رہ جاتی ہے۔ ماجھے کے نیچے مختصر فاصلے پر بیاس کے قدیم بہاؤ کے آثار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اس علاقے کو مقامی زبان میں اتار کے مقابلے میں ہتھار کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

لاہور تاریخ کے آئینے میں

راوی کی وادی بہت تنگ ہے۔ اس کی چوڑائی دو سے تین میل ہے۔ دریا کے اس پار زیادہ تر زمین بنجر ہے یا وہاں پر جنگلات ہیں ۔ دریا کے جنوب مشرق میں کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ ڈیک کے کناروں پرکہیں کہیں دیہات آباد ہیں جو زیادہ پرانے نہیں ۔ یہ علاقہ گیارہ میل تک راوی کے متوازی چلا جاتا ہے۔
ضلع لاہور ماسوائے دریاؤں کے کناروں اور شہری علاقے کے بہت کم زرخیز ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں پانی کی شدید قلت ہے۔ جہاں جہاں کنویں کھودے جا سکتے ہیں یا جہاں جہاں نہروں اور مصنوعی ذرائع سے پانی حاصل ہوسکتا ہے وہاں پر زرعی پیداوار قرب و جوار کے اضلاع کے مقابلے میں کم نہیں البتہ سیالکوٹ ہوشیار پور یا جالندھر سے اس کا مواز نہیں کیا جاسکتا۔ باری دوآب کا بیشتر مرکزی حصہ عام طور پر چراگاہوں کے لیے وقف ہے۔ یہاں خاصی بارشیں ہوتی ہیں جن سے عمدہ گھاس پیدا ہوتی ہے جو مویشیوں کے لیے چارے کا کام دیتی ہے۔ یہاں سے اوپر کی طرف کا علاقہ ماسوائے نہر باری دوآب سے سیراب ہونے والے علاقے کے ضلع کا سب سے کم زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں کی آبادی بہت کم اور منتشر ہے ۔جہاں انسانوں اور مویشیوں کو پینے کا اچھا پانی تک دستیاب نہیں۔
دریائے راوی :
راوی پنجاب کے پانچ دریاؤں میں سب سے چھوٹا دریا ہے۔ تنگ پاٹ اور پیچ وخم کے باعث یہ دریا کشتی رانی کے مقصد کے لیے موزوں نہیں۔ اس کا قدیم نام ہندوستانی دیو مالائی قصوں کے ہاتھی کے نام ایرواتی، اسٹرابو کے ہیاروتس، آریاؤں کے بدراوتس پٹولمی کے ایدرلیس، پلینی کے روادیس اور عرب جغرافیہ دان مسعودی کے راعید سے مشتق ہے۔ (وائلڈ فورڈ نے اپنی کتاب Sacred Isles of the west ایشیاٹک ریسرچ جلدہشتم میں لکھا ہے کہ بظاہر راوی در یا انہیں کسی قبیلے کا نام معلوم ہوتا ہے۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہ ہو گا کہ ضلع منٹگمری میں بعض ایسے قبیلے موجود ہیں جو خود کو ’’عظیم راوی‘‘ کہتے ہیں)۔ دریائے راوی امرتسر کے گاؤں ایچوگل سے ضلع لاہور میں داخل ہوتا ہے اور الپا کلاں نامی گاؤں کے قریب منٹگمری کی سرحد پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ دریا پورے ضلع لاہور سے گزرتا اور لاہور شہر سے ایک میل کے فاصلے پر بہتا ہے۔ آگے چل کر اس کی کئی شاخیں بنتی ہیں جو آخر کار دوبارہ بڑے دھارے میں شامل ہوجاتی ہیں۔ لکھوڈھیر اور لاہور شہر کے قریب واقع شاخیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ راوی میں آنے والا سیلاب دونوں اطراف کے ایک ایک میل رقبے کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے البتہ نہر باری دوآب کی تعمیر کے بعد سیلاب میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے جس سے آبپاشی کے لیے طغیانی پر انحصار کرنے والے کئی دیہات کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ دریا کا دھارا جواگرچہ بہت پیچدار ہے جنوب مغرب کی سمت میں بہتا ہے۔ اس میں کشتی رانی بہت مشکل ہے۔ ریلویز میں توسیع کے بعد دریا کے ذریعے اناج کانقل وحمل تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ دیودار کی عمارتی لکڑی، جو چمبہ کے جنگلات سے گیلیوں کی صورت میں دریا میں بہہ کر آتی ہے، صرف اونچے درجے کے سیلاب میں ہی لا ہور پہنچ پاتی ہے۔ لاہور پشاور روڈ پر راوی کے اوپر کشتیوں کا ایک پل تعمیر کیا گیا ہے۔ مقامی رسل و رسائل کے لیے چھوٹی کشتیاں بروئے کار لائی جاتی ہیں ۔ کشتیوں کا پل سارا سال کھلا رہتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں پانی کے بہاؤ کی اوسط رفتارتقریباً تین میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کا پاٹ ریت اورمٹی سے بھرا ہوا ہے۔
ستلج:
یہ دریا جنوب کی سمت میں بہتا ہے اور لاہور کی سرحد سے اوپر بیاس سے جا ملتا ہے۔ یہاں سے دونوں دریاستلج کے نام سے موسوم ہوتے ہیں اور پھر ہندوستان میں داخل ہوجاتے ہیں البتہ پہلے کی صورت حال نہیں تھی ۔ ضلع لاہور کے ایک سیٹلمنٹ آفیسر (اب سر) رابرٹ ایجرٹن لکھتے ہیں:
’’ما جھے اور ستلج کے درمیان دریائے بیاس کا پرانا پاٹ واقع ہے جوقصور اور چونیاں کے پرگنوں سے گزرتا ہے۔ پرانے پاٹ کے آثار ضلع ملتان میں بھی ملتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ستلج اور بیاس الگ الگ بہتے تھے اور کچھ فاصلے پر جا کر دریائے سندھ کے ساتھ جا ملتے تھے۔ چونیاں کے دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ بیاس 1750 عیسوی میں قدیم پاٹ سے بہنا بند ہوگیا تھا اور یہ کہ یہ عمل اچانک نہیں بلکہ بتدریج وقوع پذیر ہوا تھا۔ پاٹ کی ہیئت سے بھی اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ دریا سکھ گورو ہر جی مہربان کی اس بددعا کے نتیجے میں سوکھ گیا تھا جو اس نے اپنے ڈیرے کے گرنے کی وجہ سے دی تھی۔ گوروکا یہ ڈیرہ چونیاں کے قریب قدیم پاٹ کے کنارے اب بھی موجود ہے۔ البتہ اب وہاں اس کے کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ گوروکا گدی نشین ستلج کے اس پار ہر سا ہے کے مقام پر رہتا اور چونیاں میں ایک جاگیرکامالک ہے۔ میرا خیال ہے کہ بیاس کے بہاؤ کی بندش کی جو تاریخ بیان کی گئی ہے وہ درست ہے۔‘‘
قصور اور چونیاں کے قصبے اور بہت سے قدیم دیہات جو گزشتہ برسوں میں یقیناً دریا میں سیلاب کی وجہ سے بہہ گئے ہوں گے ستلج کے کنارے آباد ہیں۔ستلج کا پھیلاو راوی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور اس کے بہاؤ کی رفتار بھی بہت تیز ہے۔ سردیوں میں پانی کے بہاؤ کی رفتار پانچ میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ فیروز پور سے نیچے کی طرف دریا میں خاصی کشتی رانی ہوتی تھی البتہ اب زیادہ تر آمدورفت ریلوے کے ذریعے ہوتی ہے۔ دخاتی کشتیاں فیروز پورتک چلی جاتی ہیں (ضلع لاہور کے تقریباً نصف فاصلے تک) لیکن یہ صورت حال صرف سیلاب کے دنوں میں ہوتی ہے۔ وادی ستلج کی چوڑائی کافی زیادہ ہے اور سیلاب سے خاصی زمینوں کو فائدہ پہنچتا ہے البتہ سیلاب کے باعث کہیں زیادہ نقصان ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے راوی کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کونقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ دریائی پاٹ کے خصائض راوی جیسے ہیں اور اس میں ریت اور مٹی بھری ہوتی ہے۔ لاہور اور فیروز پور روڈ پرگنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریا کے اوپر کشیوں کا پل تعمیر کیا گیا ہے۔ کئی مقامات پر چھوٹی کشتیاں بھی چلتی ہیں ۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظرمئی کے وسط سے اکتوبر کے وسط تک پل ہٹادیا جاتا ہے۔ اب نند سے لے کر گنڈاسنگھ والا تک ریلوے سروس میں توسیع کردی گئی ہے۔ سیلاب کے دنوں میں دخانی کشتی چلائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں