صرف دس منٹ کیلئے یوگا کیجئے ،اپنی صحت کیلئے

yoga

لمحہ بہ لمحہ اپنے خیالات، احساسات اور حسیات سے آگہی اور خیالات کی روانی کو ان کے حال پر چھوڑ کر صرف ’’لمحہ موجود‘‘ پر توجہ مرکوز کرنے کا فن مائنڈ فل نیس کہلاتا ہے۔ مائنڈ فل نیس ہمیں خیالات کی آوارگی سے بچا کر جذباتی توازن فراہم کر کے انزائٹی، ڈپریشن اور جسمانی دردمیں کمی اور عمر رسیدگی کے اثرات کو روک کر ہمیشہ شاداب رکھتا ہے۔ اس سے ذہنی خستگی اور تھکن کم ہوتی ہے جبکہ پرسکون نیند کے ساتھ توجہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسے آپ ارتکازِ توجہ ،ذہنی رویّے اور سوچ میں تبدیلی یا مثبت سوچ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ذیل میں بتائی گئی باتوں پر صرف 10منٹ عمل کر کےآپ دن کو خوشگوار صحت مند اور پرسکون بنا سکتے ہیں۔
ہر دن کچھ ایسا کر گزریں جو اچھا لگے یعنی روزانہ کچھ وقت تفریح اور ذاتی نشوونما کے لئے وقف کریں، جیسے صبح اٹھتے ہی یوگا، چہل قدمی، مراقبہ یا ورزش کرنا، کام پر جاتے وقت موسیقی سے لطف اندوز ہونا، مطالعہ کرنا، آئس کریم کھانا وغیرہ۔
جب آپ اپنی چیزیں خود سیٹ کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ روٹین کی زندگی بھی تبدیل ہوتی ہے۔ اپنے کمرے میں بکھری چیزوں کو ترتیب دیں، ایسا کرنے سے خیالات میں موجود انتشار ختم ہوجائے گا۔
یہ زندگی اللہ کی امانت ہے جو موت کی صورت عدم میں چلی جاتی ہے۔ اس لئے ہر دن اپنے اسمارٹ فون ،لیپ ٹاپ پر کوئی ایسی آیت ضرور پڑھیں جس میں عزم ہو۔ ’’اے اللہ !جو میرے حق میں بہتر ہو، وہ مجھے دے!‘‘دل کی دھڑکن ’’اللہ ہو‘‘ کی لے سے ہم آہنگ کریں۔
ناشتہ ، دوپہر اور رات کا کھانا جب سامنے آئے تو تھوڑی دیر ٹھہریئے اور طعام کی سوندھی سوندھی خوشبو کو محسوس کیجئے۔ ذائقے کو محسوس کرنے سے آپ معیار ی غذا کے انتخاب پر مائل ہوں گے۔ پورے ہفتے تین وقت کھانے کے شیڈول میں مختلف ڈشنز ہونی چاہئیں۔
صبح صبح شفق کے روح پرور نظارے کو دیکھنا اپنا معمول بنا لیں،یہ جادوئی زرد دھاتی رنگت تمام دن آپ کو مسحور رکھے گی۔ سورج غروب ہوتے لالی،شام کی سرمئی رنگت ، رات کا ملگجی اندھیرا، یہ سارے مناظر آنکھوں اور روح کو تراوٹ بخشتے ہیں۔ جسم کو تروتازہ کرنے کے لئے زمین پر پائوں دھرتے وقت اس طرح قدم قدم جما کر چلیںجیسے آپ دھرتی کو بوسہ دے رہے ہوں۔ اس طرح جسم اور اعضا کا زمین سے رشتہ جڑ جائے گا۔
سانس کے آنے جانے سے زندگی کی عمارت قائم ہے، جس کے بارے میں میر تقی میر فرما گئے ؎ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘۔ سانس کے نظام کو درست رکھنے کے لئے سانس کی مختلف مشقوں(Breathing Exercises) کو اپنا معمول بنالیں۔ آپ ہر صبح وشام صرف 10منٹ نکال کر خود کو دن بھر آکسیجن سے بھرپور سانس کے ساتھ تروتازہ رکھ سکتے ہیں۔
’’قوت سامعہ‘‘ (کان سے سننا) ، ’’قوت لامسہ‘‘ (ہاتھ سے چھونا) ، ’’قوت ذائقہ‘‘ (زبان سے چکھنا)، ’’قوت شامہ‘‘ (ناک سے سونگھنا) اور ’’قوت باصرہ‘‘ (آنکھ سے دیکھنا) ہمارے پانچ ظاہری حواس ہیں، جن کا تعلق ظاہری علم سے ہے جبکہ علم لدنی کا تعلق حواس باطنہ (پوشیدہ) سے ہے،جسے امام غزالی نے پانچ باطنی حواس ’’قوت حسیہ‘‘، ’’قوت خیالیہ‘‘، ’’قوت عقلیہ‘‘، ’’قوت فکریہ‘‘ اور ’’قوت قدسیہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنی ظاہری و باطنی حسیات کے ساتھ چھٹی حس کو بھی بیدار کریں۔
انسان اور حیوان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان ذہن وشعور کے ساتھ معمولات کو تبدیل کرنے اورخوب سے خوب تر کی جستجو میں لگا رہتا ہے جبکہ جانوروں کی زندگی ایک ہی جبلت اورخود کار نظام کے ماتحت ہوتی ہے۔ انسان کیلئے یکسانیت اکتاہٹ بن جاتی ہے،اس لیے روز کچھ نیا کریں ۔
انسان پیدائش وموت تک دوسروں کا محتاج اور قرض دار ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دوستوں اور شتہ داروں سے تعلق کو اپنی اخلاقی ذمہ داری وفرض سمجھیں اورکبھی خود غرضی کا مظاہرہ نہ کریں، اس کے علاوہ تعلقات عامہ کو استوار کرنے کی سعی کریں۔ہم معاشرے میں رہتے ہیں تو ہمیں معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ وقت والدین، دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے نکالنا چاہئے۔

بشکریہ:سلیم انور عباسی

اپنا تبصرہ بھیجیں