صدیقوں پر محیط بلتستان کی تاریخ

Chitral-gilgit-biltistan

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا چھبیس ہزار دو سو چھے مربع کلومیٹر (دس ہزار ایک سو اٹھارہ مربع میل) علاقہ بلتستان ہے۔ بلتستان پاکستان کے انتہائی شمال میں سلسلہ کوہ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے درمیان واقع ہے۔ بلتستان شمالی علاقہ جات کے دو اضلاع سکردو اور گھانچے پرمشتمل ہے۔
بلتستان کے مشرق میں لداخ اورگرگل، مغرب میں ضلع گلگت وضلع دیامر، شمال میں چین کا صوبہ سنکیانگ اور جنوب میں وادی کشمیر واقع ہیں۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے ساڑھے سات ہزار سے آٹھ ہزار فٹ تک کی بلندی پر واقع ہے۔
پہاڑ اور گلیشیئر :
بلتستان میں کوہ قراقرم کے سلسلے کا دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ چھوغو بروم (2-K، گوڈون آسٹن )8611 میٹر بلند ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی گیارھویں نمبر کی بلند چوٹی گشبروم II (ہڈن پیک) 8048 میٹر بلند ہے اور دنیا کی چودھویں بلند چوٹی رگاشہ بروم IIجس کی بلندی 8035 میٹر ہے۔
سلسلہ قراقرم کی تین سو بلند چوٹیوں میں سے ایک سو پچاس چوٹیاں بلتستان کی حدود میں واقع ہیں۔ ان مشہور چوٹیوں میں گشہ بروم III،7952 میٹر، گشہ برومIV، 7925 میٹر اور مشہ بروم 7821میٹر بلند ہے۔
قطبین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اور مشہور گلیشیئر سیاچن بلتستان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی قراقرم کے سلسلے میں کم وبیش چالیس چھوٹے بڑے گلیشیر موجود ہیں جن میں سے بیافی، بلتور، چھوغولونگمہ اوررینگمو گلیشیر قابل ذکر ہیں۔
در با اور جھیلیں:
بلتستان میں دریائے سالتورو، دریائے شیوک، دریائے سندھ (مقامی نام سنگے چھو یعنی شیر دریا) ، دریائے با شواور دریائے برولد و ( دریائے شگر) بہتے ہیں۔
دریائے سالتو رومشرق کی طرف سے آ کر خپلو کے قریب دریائے شیوک میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے شیوک مشرق میں سکردو سے بتیس کلو میٹر پہلے دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے باشوشمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف بہتا ہوا دریائے برولدو (دریائے شگر ) میں مل جاتا ہے۔ دریائے شگر سکردو کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔
. بلتستان میں جھیل کچورہ جھیل فوروق جھیل ست پارہ ،جھیل کپتناہ، جھیل شگر جر بہ، جھیل دیوسائی اور جھیل خندوس غوارشی ہیں جو اس کوہستانی علاقے میں فیروزے کے خوبصورت نگینوں کی طرح جڑی ہوئی ہیں۔
سطح مرتفع اور وادیاں:
سکردو کے جنوب میں دیوسائی کی دو سو ساٹھ مربع کلومیٹر وسیع وعریض مشہورسطح مرتفع ہے جس کی اوسط بلندی9500 فٹ ہے۔ دیوسائی کا مقامی نام ”غبیارسہ“ ہے جس کے معنی ہیں ”گرمیوں میں رہنے کی جگہ“۔ دیوسائی کی اس پر فریب سبزہ زار مرتفع پرگرمیوں کے موسم میں ہزاروں قسم کی قیمتی خودرو جڑی بوٹیاں اور پھول کھلتے ہیں۔
بلتستان میں روندو (رونگ یل)، سکردو (رگیایل)، شگر، خپلو، گھر منگ (کرتخشہ ) اور گلتری کی چھ اہم وادیاں ہیں۔
وادی روند دریائے سندھ کے دونوں پہلووں پر واقع ہے۔ اس وادی کے سات آٹھ دیہاتوں میں شنا بھی بولی جاتی ہے۔ اس وادی میں کئی نالے ہیں جن کے ساتھ گنجان آبادی ہے۔
وادی نسبتاً گرم ہونے کی وجہ سے پھلوں کا گھر ہے۔ اخروٹ شہتوت، انگور، خوبانی، سیب، انار اورناشپاتی وغیرہ بکثرت ہیں۔ یہ وادی گرمیوں میں گرم ہے لیکن سردیوں میں بہت سرد ہے اور بہت برف پڑتی ہے۔
سکردو کی دادی وسعت کی وجہ سے صدیوں سے بلتستان کے حکمرانوں کا دارالحکومت رہی ہے۔ اس وادی میں عمد ہ قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ کچورہ کے عنبری سیب ذائقے اور جسامت کے اعتبار سے بہت مشہور ہیں۔ قلعہ کھرفوچو، شنگریلا ( کچورا ) اور ست پارہ جھیل اس وادی کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔
شگر کی وادی در یائے شگر کے دونوں جانب واقع ہے۔ یہ وادی چوڑائی میں کم ہے لیکن لمبائی میں بہت زیادہ ہے اور چین کے صوبے سنکیانگ کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔
شگر کی وادی میں چھوغو بروم (2-K) ، رگاشہ بروم (3- K، -5 K ،4 K- ) اور ٹروینگوٹا ور جیسے مشہور اور بلند پہاڑ ہیں۔ اس وادی میں خو بانی اور چیری وغیرہ بہت عمدہ اور ذائقہ دار ہیں۔ وادی میں دوسرے پھلوں کی بھی بہتات ہے۔
خپلو کی وادی دریائے شیوک کے دونوں جانب واقع ہے۔ یہ وادی چین کی سرحد اور درہ قراقرم پرختم ہو جاتی ہے۔ خپلو کی وادی میں مشہ بروم (1-K) اور 6- K، 12 , K – 7 – K اور 13-K کی بلند چوٹیاں ہیں اسی وادی میں مشہور گلیشیر سیاچن اور رینگمو گلیشیر واقع ہیں۔ خپلو کی وادی کی بولی بلتی زبان کی سب سے شستہ اور اچھی بولی ہے۔
کھرمنگ کی وادی کا اصل نام کرتخشہ ہے۔ اس وادی میں بہت زیادہ تعداد میں قلعے ہیں۔ ان قلعوں کی بہتات کی وجہ سے اس کا نام کھرمنگ پڑ گیا ہے۔ کھرمنگ کی دادی دریائے سندھ کے دونوں جانب کرگل کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وادی بہت تنگ ہے۔
بلتستان کی چھٹی اور سب سے چھوٹی وادی گلتری ہے۔ یہ وادی سطح مرتفع دیوسائی کے مشرق میں واقع ہے اور صرف نو دس دیہاتوں پرمشتمل ہے۔
بلتستان کی مختصر تاریخ:
قدیم زمانے میں بلتستان مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ۔مثلاً پلو، بلور، بالتی، بلتی، تبت خور دو غیرہ، آخر میں فارسی اثرات کے تحت بستی سے بلتستان کہلایا۔
روایات کے مطابق قبل مسیح کے زمانے میں ایک دیو مالائی کردار کیسر لداخ، لہاس، کرگل اور بلتستان کے علاقوں پر حکمران تھا۔ کیسرکے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ مظالم کے خاتمے اور بدیوں کو دور کرنے کے لیے آسمان سے اتارا گیا تھا۔ کیسر نے گلگت، ہنزہ اورنگر کی ریاستوں پر بھی حملے۔ کیسر کے زمانے میں لوگ ”بون چھوس“ کے پیروکار تھے۔ کیسر کی رزمیہ داستان سینہ بہ سینہ بارہ ابواب پرمشتمل چلی آرہی ہے۔یہ داستان کلاسیکی ادب کا شاہکار ہے۔
سو دوسو سال قبل مسیح کے دوران میں بدھ مت کی تبلیغ شروع ہوئی۔ پانچویں چھٹی صدی عیسوی میں لداخ سے گلگت تک پلولا شاہی حکمران تھے۔ نوویں صدی عیسوی تک بلتستان تبت کا ایک صوبہ تھا لیکن خانہ جنگی کی وجہ سے وہ بھی سلطنت سے جدا ہو گیا۔ علیحدگی کے بعد بلتستان کی مختلف وادیوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوگئیں۔
لوک روایات میں جن افسانوی حکمرانوں کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں ”رگیا لوستر الیو “کا نام قابل ذکر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وادی سکردو پر رگیا لوسترالیو کی حکومت تھی جس کا صدر مقام رگیا پل تھا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا رگیا لوچولو بنرانگ کا نام رگیایل نامی ریاست کے دیو مالائی حکمرانوں میں گنا جاتا ہے۔“
تیرھویں صدی کے آغاز میں سکردو کا شاہی خاندان نرینہ اولاد سے محروم ہو گیا۔ روایت ہے کہ ایک خوبرو نوجوان فقیر دیوسائی کی طرف سے آ کرسکردو کے قریب ایک غار میں قیام پذیر ہو گیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو تو اس نے دیوسائی کی بلندی کی طرف اشارہ کیا لیکن لوگ سمجھے کہ وہ کہہ رہا ہے کہ وہ آسمان سے اترا ہے۔ روایات کے مطابق یہ نوجوان ابرہیم محضری یا ایرانی نژاد تھا اور براہ کشمیر سکردو پہنچا تھا۔ مقامی حکمران ”شکری“ نے اسے داماد بنالیا۔ بلتی زبان میں گھر داماد کو” مقپا“ کہتے ہیں۔ ابراہیم کو احتراماً ” مقپون“ کہا جانے لگا۔ اس کے بعد ابراہیم مقپون حکمران ہو گیا اور مقپون خاندان کی بنیاد پڑی۔ اس خاندان نے رفتہ رفتہ عروج حاصل کیا اور تقریبا ساڑھے چھ سو سال تک برسراقتدار ہا۔

شگر کی وادی میں چھوغو بروم (2-K) ، رگاشہ بروم (3- K، -5 K ،4 K- ) ٹروینگوٹا ور جیسے مشہور اور بلند پہاڑ ہیں۔ اس وادی میں خو بانی اور چیری وغیرہ بہت عمدہ اور ذائقہ دار ہیں۔ وادی میں دوسرے پھلوں کی بھی بہتات ہے۔

ابراہیم مقپون ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا لیکن اس کی نسل کے بعد میں آنے والے مقپون اپنے پرانے طور طریقے چلاتے رہے حتیٰ کہ پندرھویں صدی عیسوی میں حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی بلتستانی تشریف لائے۔ اس وقت وہاں بدھ مت رائج تھا۔ آپ کی یہاں آمد سے بلتستان میں اسلام کی اشاعت شروع ہوئی۔ اسی دور میں بہرام چو نے روندو کے حکمران سے وہ علاقہ چھین کر سکردو میں شامل کرلیا۔ بہرام چو کے بیٹے بوخانے اپنی حکومت کے دور میں شہر سکردو آباد کیا شگری سے دارالحکومت سکردمنتقل کیا اور مشہور قلعہ ( کھر فوچو ) تعمیر کیا۔ اسی دور میں میر شمس الدین عراقی بلتستان میں آئے اور آٹھ سال تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وہیں رہے۔ اندازہ ہے کہ اسی دور میں قدیم بلتی رسم الخط کی جگہ فاری رسم الخط را ئج ہوا ۔مقپون بوخاکے بعد اس کا بیٹا شیر شاہ اور اس کے بعد شیر شاہ کا بیٹا علی خان حکمران بنا تو مقپون خاندان کا عروج شروع ہوا۔
مقپون سربرآوردہ حکمرانوں میں شیرعلی امین کا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں رقم ہے۔ شیر علی نے اپنی بہادری سے تبت سے گلگت و چترال تک اپنی سلطنت کو وسعت دی۔ اس کے تعلقات مغلوں کے ساتھ بھی قائم ہو گئے اس کی بیٹی شہزادہ سلیم (جہانگیر) سے بیاہی گئی۔ شیرعلی انجمن نے اپنی سلطنت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک سو میل طویل دیوار تعمیر کی ، اس میں دروازے اور برج بنائے۔
علی شیر انچن کی وفات کے بعد تخت حاصل کرنے کے لیے خانہ جنگی شروع ہوگئی اور برسوں تک حکومت کی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہی۔ علی شیر انچن کے بعد شاہ مراد بڑامد بر حکمران ثابت ہوا۔ اس نے بروشال سے لداخ تک تمام علاقے اپنے زیر نگیں کر لیے۔ شاہ مراد کی وفات کے بعد پھر خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ بالآخر اہل سکردو نے 1710ءمیں رفیع خان کو تخت پر بٹھا دیا۔رفیع خان نے اسرائ1710ءسے 1745ءتک حکومت کی۔ اس کے بعد مقپو ن حکومت کا زوال شروع ہو گیا۔1787ءمیں علی شیر ثانی حکمران بنا اور1800ءتک اس کی حکومت رہی۔ علی شیر ثانی کے بعد اس کا بیٹااحمدشاہ تخت نشین ہوا۔ احمد شاہ مقپون بلتستان کا آخری تاجدار ثابت ہوا۔
مقپون احمد شاہ نے1800ءسے 1840ءتک حکومت کی لیکن اس کے دور میں علاقہ اندرونی انتشار کا شکار تھا تاہم کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ احمد شاہ نے بڑی دلیری سے مقابلہ کی لیکن مقامی سرداروں کی سازشوں کے باعث اسے شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ نتیجہ یہ کہ احمد شاہ اپنے اہل وعیال سمیت اسیر ہو کر کشمیر پہنچا اس کے ساتھ ہی بلتستان کی آزاد اسلامی ریاست اور مقپون سلطنت کا چراغ گل ہو گیا۔
ڈوگروں نے بلتستان پر ایک سو سال سے بھی زائد عرصے تک حکومت کی۔ ڈوگروں کے دور حکومت میں بلتستان کے رہنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔ اہل بلتستان انسانیت سوز مظالم برداشت کرتے رہے لیکن انھوں نے ڈوگروں کی حکومت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آیا تو اہل بلتستان نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تقریباً چھ ماہ کی خوں ریز جنگ کے بعد یہ علاقہ ڈوگروں کی نحوست سے پاک ہوکر آزاد ہوگیا۔ اہل بلتستان نے اسلامی رشتہ کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا۔
بلتستان کے لوگ:
بلتستان میں منگول، مون قبائل، بروشویعنی یشکن ،شین، ہو رقبائل، مقپون خاندان، سادات، چترالی اور کشمیری لوگ آباد ہیں۔ یہ صدیوں سے یہاں آباد ہیں اور آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ پانچ سات فیصدی لوگ شنابولنے والے ہیں باقی سب بلتی زبان اور تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں۔
بلتستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی منگول کی ذیلی شاخ ”تبتی “سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ سارے بلتستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ اسی نسل کی وجہ سے اس علاقے میں بلتی زبان پھیلی۔ دوسری صدی عیسوی کے دوران میں ہندوستان کے مون قبائل کے ہزاروں افراد بدھ مت کی تبلیغ کے لیے بلتستان میں پہنچے اور وہیں آباد ہو گئے۔
چلاس اور کوہستان کے علاقے میں آباد بروشویعنی یشکن قبائل آباد تھے۔ دسویں اور گیارھویں صدی کے دوران میں شینوں کی بالادستی کے باعث یشکنوں کو بلتستان کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ یہ لوگ زیادہ تر رونگ یل (روندو) اور شگر کے علاقے میں آباد ہو گئے اور مقامی آبادی کی بلتی تہذیب میں مدغم ہو گئے۔
شین ( دارد ) قبائل کو بھی بڑی تعداد چلاس اور کوہستان سے آگے بلند علاقوں میں چراگاہوں کی تلاش میں بلتستان میں آباد ہوگئی۔ سولھویں اور سترھویں صدی میں مقپون حکمران علی شیر انجن ، شاہ مراد، شیر شاہ وغیرہ نے گلگت، چلاس اور چترال کو فتح کیا تو شینوں کی بڑی تعداد بحیثیت قیدی لا کر بالائی علاقوں میں آباد کی۔
پرانے زمانے میں ترکستان (یارقند، کاشغر وغیرہ) کی طرف سے بھی قراقرم عبور کر کے لوگ آئے۔ ان کا ایک قبیلہ ( ہور) سات سو سال تک خپلو اور کریس میں حکومت کرتارہا۔

(ڈاکٹر ممتاز منگلوری)

اپنا تبصرہ بھیجیں