صحت ہر پاکستانی کا حق ہے پر کب؟

health-1
EjazNews

20کروڑ 70لاکھ پاکستانی کسی نے کسی قسم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ کسی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو کسی کے گھر کے آس پاس سیوریج کا گند ا پانی جمع ہے۔ کوئی ڈاکٹر کے علاج کو ترستا ہوا موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو کوئی انصاف کی تلاش میں محرر سے لے کر ایس ایچ او تک دھکے کھاتا رہتا ہے بہت ہو گیا تو کسی ڈی پی او کے دروازے کے باہر خود سوزی کرن ے کی دھمکی دے دی یا خاموشی کے ساتھ انصاف کی دہائی دیتے ہوئے موت کے منہ میں چلا گیا۔ کسی کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں تو کوئی غربت کی لکیر کے نیچے سے روٹی کو ترس رہا ہے۔ بھوک میں مبتلا پاکستانیوں کا تناسب کسی رپورٹ میں 29فیصد اور کسی رپورٹ میں 41فیصد تک ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دن میں روٹی کھانے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ انہیں تعلیم کی سہولت میسر ہے اور نہ علاج معالجے کی کیونکہ غربت کی لکیر کا یہی پیمانہ تہہ ہے۔ یہ سچ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ تقریباً آدھے پاکستان کو ہماری حکومتوں نے کمال ہوشیاری کے ساتھ خود ہی ”طلاق“ دے رکھی ہے۔ ڈیفنس ، ڈی ایچ اے، کینٹونمنٹ سمیت تمام ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں حکومت پانی مہیا کرتی ہے نہ بجلی دیتی ہے۔ سڑک بناتی ہے نہ سیوریج کا بندوبست کرتی ہے۔ حتیٰ کہ سٹریٹ لائٹس اور چوکیدارانہ نظام بھی ان سوسائٹیوں کو خود ہی قائم کرنا پڑتا ہے۔ اربوں ، کھربوں روپے کے منصوبے کن لوگوں کے لیے ہیں یہ عالی شان سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں کن لوگوں کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان میں عوام کے لیے کون سی سرگرمی سرانجا م دی جاتی ہے کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ عوام کی عدالت کے چرچے کرنے والے بھی ان عوامی ججوں کو کچھ نہیں بتاتے۔ قیام پاکستان سے اب تک عوام کی حالت جوں کی توں ہے اس عرصہ میں کئی سیاسی پارٹیوں نے قدم جمائے کسی نے ایوان صدر بنایا تو کسی نے وزیراعظم ہاﺅس کی عالی شان عمارتیں تعمیر کیں۔ پرانی عمارت پسند نہ آئی تو نئی بنا ڈالی۔ پیسے کی کیا کمی تھی۔ پیسہ کم تھا تو بجلی کے منصوبوں کے لیے جس کو آج لوگ ترس رہے ہیں جس کی قیمت چند پیسوں سے بڑھ کر 7-8روپے فی یونٹ تک پہنچ چکی ہے۔ ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ پیسے کی کمی ہے۔ تو سکولوں اور کالجوں کے لیے ۔ سکولوں کی چھتیں ہیں نہ چار دیواری۔ پینے کا صاف پانی ملتا ہے نہ مناسب واش روم۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نمائندوں نے ہمیں کیا دیا۔ لیکن سب سے پہلے ہم کسی ایک شعبے کو لے لیتے ہیں ۔ آج کا شعبہ ہے صحت کا۔ ٹی بی کے مریضوں میں 5لاکھ کا سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔بعض علاقوں میں ٹی بی کا تناسب 7سے 11فیصد تک ہے۔ ہیپاٹائٹس کے صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ بعض علاقوں میں پیٹ کی بیماریوں کا تناسب 12-13فیصد تک ہے۔اسہال کی بیماری میں 15دن میں 1مرتبہ تقریباً ہر بچہ مبتلا ہو تا ہے۔ ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد ایک تہائی ہے۔ یعنی ہر تیسرا بالغ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہے۔ پولیو کے مرض میں کمی آئی لیکن اب بھی پولیو فری ملک نہیں بن سکا۔جعلی ادویات اور مختلف طرح کے وائرسز الگ انسان کو پریشان کیے ہوئے ہیں۔ 2011ءکے بعد خسرہ اور ڈینگی نے کئی مرتبہ سر اٹھایا ۔ بعض سیاسی حکومتوں نے سرے سے کوئی نیا ہسپتال ہی نہیں بنایا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اگر اس کا جواب ہم ڈھونڈیں نکلیں تو بہت کہتے ہیں بہت دور تک جائے گی۔
سیاسی حکومتوں کے منشور دیکھیں اوران کی کارکردگی دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے منشور پہاڑ کی کسی اونچی چوٹی پر بیٹھ کر بنا ہوا اور حکمرانی کے وقت وہ زمین پر آکے بھول گئے ہوں کہ انہوں نے عوام سے وعدے کیا کیے تھے اور کر کیا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے شعبہ صحت پر اٹھنے والے اخراجات کو جی ڈی پی کے 0.86 فیصد سے بڑھا کر 2.6فیصد تک کر نے کا وعدہ کیاتھا۔ تمام بنیادی مراکز صحت ، دیہی مراکز صحت، ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے علاوہ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔ زچہ و بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دینے کے علاوہ تمام ضلعی اور تحصیل ہیڈ کواٹرز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عہد کیا۔ ہر ضلع میں صحت کی سہولتیں مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اور ان شعبوں میں نئی بھرتیوں کا یقین دلایا۔ آنکھوں ، دانتوں کے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا۔ غریبوں کو مفت ابتدائی سہولتیں مہیا کرنے کے علاوہ سرکاری شعبے کی کم کوریج کو بڑھا کر 100فیصد کرنے کا وعدہ کیا۔ زچہ و بچہ اور کم عمر بچوں کی شرح اموات کو ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے برابر لانے کا عہد کیا۔ صحت عامہ کے شعبے کے اختیارات نچلے سطح پر منتقل کرنے کے لیے ایک جامع نیشنل ہیلتھ پروگرام شروع کرنے کا یقین دلایا۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کی سہولتوں کا شاندار مرکز بنانے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا یقین دلایا۔ نابینا پن، ذہنی امراض کے علاوہ منہ اور دانتوں کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے نیشنل پروگرام شروع کرنے کا عہد کیا۔سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے اور انہیں ریگولیٹ کرنے کے لیے ریگولیٹری ادارے قائم کرنے کا یقین دلایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں