صحت کیلئے سردیوں کی دھوپ کتنی فائدہ مند ہے؟

sun_energy

سردیوں کی دھوپ کے باوجود اگر ایشیائی ممالک کے باشندے بھی وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوں تو یہ گوروں کیلئے حیرت کی بات ہوتی ہے۔ ہمارے سروں پر چمکتا سورج جو وٹامن ڈی کے حصول کا ارزاں ترین ذریعہ ہے مگر باوجود اس نعمت سے مستفید ہونے کے ہم اس سے بچائو کی تدابیر سوچتے ہیں۔ جلد کے سیاہ پڑ جانے کا خوف ہو یا الٹرا وائلٹ شعاعو ں کے اثرات سے جلد کے کینسر کا ڈر ہو، ہم سورج سے کنی کتراتے ہیں اور اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کم عمر بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کے 14کیسز سامنے آئے ۔ یہ تمام کے تمام ایشیائی بچے تھے ۔ ڈاکٹروں نےانہیں اضافی سپلیمنٹس تجویز کئے، تشخیص سے علاج تک کے مراحل کی مانیٹرنگ کے آغاز میں یہ پتا کرنا مشکل تھا کہ اگر جسم میں وٹامن ڈی کی خاص مقدار موجود ہے تو کیلشیم کے ساتھ مل کر انجذاب میں کیو ں مشکل پیش آرہی ہے۔ یہ دونوں وٹامنز یعنی کیلشیم اور وٹامن ڈی باہم اشتراک سے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت بحال رکھتے ہیں۔ جسم میں ایک بھی جزو کی کمی رہ جانے پر دوسرا ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین اور بچوں کی صحت کے ایک جائزکے مطابق ہماری 90فیصد آبادی وٹامن ڈی کی کمی میں مبتلا ہے ۔ اس وٹامن کی کمی کی بلند شرح خاص کر ولادت کے وقت محسوس کی جاتی ہے۔ ہڈیوں کا گھلائو اور بھر بھرا پن اسی دور میں ظاہر ہوتا ہے۔ جدید طرز معاشرت میں فلیٹوں کے مکینوں کے لئے دھوپ کا حصول ناممکن ہے۔ وہ خواتین اور بچے جو دن کا بیشتر حصہ گھروں پر گزارتے ہیں انہیں علی الصبح یا ڈھلتی شام سے پہلے چھتوں اور بالکونیوں کا رخ کرنا چاہئے تاکہ سورج کی تمازت سے قدرتی طور پر وٹامن ڈی حاصل کر سکیں۔
وٹامن ڈی کی کمی کی علامات:
بالغوں اور بچوں دونوں ہی میں جوڑوں کا درد، عضلاتی اینٹھن ، کمر کا درد، نظر کی کمزوری یا دھند لا نظر آنا اور بہت جلد تھک جانا واضح ترین علامتیں ہیں۔ بچوں میں ricketsایسا عارضہ ہے جس میں ٹانگوں کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ قدرتی ساخت سے مختلف ہو جاتا ہے ۔ ٹانگوں کا Curvہوجانا اور دیر سے دانتوں کا نکلنا اہم علامتیں ہیں۔
وٹامن ڈی کی کمی سے ہونے والے چیدہ چیدہ امراض:
آسٹویو پوروسیس، آسٹیو مالا سیا، رکٹس، گردوں کی پتھری، الزائمر اور قوت مدافعت میں کمی کے باعث کینسر تک ہو جانے کے خدشات ہو تے ہیں۔
اگر ڈاکٹر ہمیں اضافی سپلیمنٹس تجویز کرتے ہیں تو توجہ اس امر پر مرکوز کرنی پڑے گی کہ کیا یہ ہضم بھی ہیں اور معدے میں تکلیف یا درد تو پیدا نہیں کر رہے ہیں تو فوراً ڈاکٹر کو اپنی کیفیت بتانی چاہئے۔ وہی آپ کی غذائی رہنمائی یعنی غذا کے انتخاب کا تعین کرے گا۔ مثلاً اگر آپ کو یہ وٹامن 600iuیومیہ درکار ہے تو اس مقدار کوکن کن ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ڈاکٹروں اور ماہرین غذائیت سے باقاعدہ مشورے کا کلچر اپنالیں۔
اضافی انجیکشنز اور شربت تیزابیت پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جگر ، گردوں دل کے امراض کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن، قبض، اسہال(ڈائریا) اور متلی کی کیفیت محسوس ہو تو جان لینا چاہئے کہ سپلیمنٹ ہمارے لئے موزوں انتخاب نہیں۔ وٹامن ڈی کا آسان سا ایک ٹیسٹ ہوتا ہے اور بسا اوقات کلائی اور کہنیوں کی ہڈی کا ایکسرے کروایا جاتا ہے۔
دھوپ سے دوستی کرلینے سے ہم بڑے فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً استعمال کی ہوئی غذائیں اسی دھوپ کی وجہ سے جسم میں جذب ہو کر آکسیجن میں تحریک پیدا کرتی ہیں۔
چند تجاویز:
صاف اور سرخ و سفید رنگت والی خواتین اور مردوں کو زیادہ دھوپ سینکنی چاہئے۔ یعنی سانولے لوگ اگر 15-20منٹ تک دھوپ میں رہتے ہیں تو گوری رنگت والے لوگوں کو دس منٹ مزید دھوپ سینکنی چاہئے۔
سمندری مچھلی اپنی غذا کا لازمی جزو بنالیں۔ یہ فارم فش اور دریائی مچھلی کی نسبت وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار رکھتی ہے۔
فورٹیفائڈ فوڈز میں وٹامن ڈی موجود نہیں ہوتے۔ مثلاً سفید آٹے کو بھوسی ملے آٹے (لال آٹے) پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔
ایسے بچے یا بڑے جو دن کا بیشتر حصہ ٹی وی ، کمپیوٹر کے سامنے یا ان ڈور گیمز میں گزار دیتے ہیں ان میں وٹامن ڈی کی کمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ ایسے بچے دانتو ںاور ہڈیوں کے امراض میں مبتلا نظر آتے ہیں۔
ماں بننے کے مراحل عبور کرنے والی خواتین کو وٹامن ڈی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعما ل کرنا چاہئے تاکہ ہونے والا بچہ Ricketsکی بیماری لے کر تولد نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ ماں کی صحت بھی برقرار رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں