شیخ السلام مولانا عبد اللہ سلطان پوری و شیخ عبد النبی صدر الصدور

akber_badsha
EjazNews

مخدوم الملک ، شیخ الاسلام مولانا عبد اللہ سلطان پوری:
ان کے بزرگ ملتان سے آئے اور سلطان پور (ضلع جالندھر) میں آباد ہوئے تھے۔ مولانا عبد اللہ کے علم و فضل کی شہرت نے ہمایوں بادشاہ کو پہلے دور میں ان کا معتقد بنایا۔ مخدوم الملک،خطاب اور قاضی القضاۃ کا عہدہ دیا۔ شیر شاہ سوری کے عہد میں ’’شیخ الاسلام‘‘ کے نام سے اقتدار کا پایہ اور اونچا ہوا۔ غالباً سلیم شاہ ان سے خوش نہ تھا اور حق یہ ہے کہ مطلق العنان بادشاہی دینی یا دنیاوی کسی قسم کی دست اندازی کو سند نہیں کرتی۔ مخدوم ، مذہبی مقدمات میں بادشاہ کو اپنی رائے پر چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ سلیم شاہ نے امیروں سے یہاں تک کہا کہ بابر کے چار بیٹوں کو ہم نے ممالک ہند سے نکالا، مگر یہ پانچواں بیٹا باقی رہ گیا ہے ! کسی نے پوچھا، پھر تم نے کیوں رکھا؟کہا اس سے بہتر آدمی نہیں ملتا۔ مخدوم کی اصلی کمزوری یہ تھی کہ اوروں پر تشدد کے باوجود اپنے عمل میں اخلاص نہ تھا۔ روپیہ سمیٹتے اور مختلف حیلوں سے زکوۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ نوجوان اکبر نے بیرم خان کی اتالیقی سے نجات پائی تو مخدوم الملک کا ملک میں دخل کیوں کر گوارا ہوتا۔ یوں بھی وہ اس وقت بڑا پر جوش، مخلص مسلمان تھا ۔ شاید مخدوم کی بے اخلاصی دیکھ کر بد گمان ہوا اور شیخ عبد النبی کو صدر صدور بنا کر آئمہ کی تنخواہ، مدد معاش، اوقاف وغیرہ کی نگرانی کا کام شیخ کے حوالے کر دیا یہ 972ھ کا واقعہ ہے۔ آٹھ دس برس تک شیخ عبد النبی کی چڑھ بنی رہی ۔ پھر ان سے بھی بادشاہ کی بگڑ گئی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ مگر ان چند سال میں اہل بدعت کے خلاف یہ دونوں صاحب متفق رہے اور الحاد و شیعیت کی نئی چنگاریوں کو دبانے میں بڑی سرگرمی دکھائی۔ یہاں تک کہ پہلے فیضی نےشعر گوئی کے ذریعے دربار شاہی میں رسائی پائی پھر 982میں اس کا بھائی ابوالفضل آیۃ الکرسی کی تفسیر نذر لایا اور حاشیہ نشینوں میں بٹھایا گیا۔ اگلے برس فتح پور سیکری کی نئی عمارتوں میں ایک مکان ’’عبادت خانہ‘‘ موسوم ہوا۔ جہاں جمعہ کی شام کو اہل علم جمع ہوتے اور بادشاہ کے حضور میں مذاکرہ کرتے تھے ۔ انہی میں فقہ کے اختلافی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ یہ وہ فروعات ہیں جن میں پرانےفقہا نے بال کی کھال نکالی ہے اور مختلف بلکہ متضاد آرا کا ایک طوما ر جمع کر گئے ہیں کہ اگر کوئی تحقیق کرنا چاہے تو غسل و وضو ہی کے مسائل میں برسوں غوطے کھاتا رہے۔ مولویوں کی کم عقلی ملاحظہ ہو کہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ایسا الجھتے تھے کہ گویا دین ایمان کا انحصار ہی ان جزئیت پر ہے۔ عبادت خانے کے کے مباحثوں میں یہی صورت پیش آئی۔ مخدوم الملک اور صدر صدور ایک ایک دوسرے سے لڑے اور بقول بداونی ’’اذا تعارضا ، تسا قطا‘‘ آپس میں کٹ مرے ۔ شیخ مبارک اور اس کے بیٹوں کو انتقام کا موقع ملا۔ مخدوم اور صدر دونوں کو بادشاہ کی نظر سے گرادیا۔ ایک محضر تیار کیا کہ اختلافی مسائل میں بادشاہ عادل خود مجتہد کا رتبہ رکھتا ہے اور اس کی رائے، بشرطیکہ نقص (قرآن) کے خلاف نہ ہو، قول فیصل مانی جائے گی۔ مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ اسی کے مطابق عمل کریں‘‘ (تحریر ماہ رجب 987ھ بمطابق 1579ء)۔
مخدوم الملک اور صدر الصدور سے جبراً و قہراً محضر پر دستخط لے گئے تھے مگر مخدوم نے سرکار دربار میں آنا چھوڑ دیا۔ بادشاہ نے بگڑ کر دونوں صاحبوں کو حجاز روانہ کیا وہاں سے چار سال بعد بغیر اجازت یہ واپس ہندوستان آئے تھے کہ گجرات میں گرفتاری کا حکم پہنچا ۔ مخدوم الملک ضعیف العمر بزرگ تھے ۔ قید کا صدمہ نہ برداشت کر سکے۔ احمد آباد ہی میں مر گئے۔ نعش و طن میں لائی گئی۔ ساتھ ہی کوتوالی کے فرشتے گھر میں گھسے اور سارا مال و اسباب بحق سرکار ضبط کر لیا۔ کہتے ہیں ان کے قبرستان میں بعض فرضی قبریں بنی ہوئی تھیں۔ مخبروں نے انہیں کھدوایا تو سونے کی اینٹیں گڑی ہوئی برآمد ہوئیں۔ ان واقعات سے مرحوم کا اب کچھ نہ بگڑ سکتا تھا۔ مگر طبقہ علما کی اور مٹی خراب ہوئی۔
شیخ عبدالنبی صدر الصدور:
مخدوم الملک مرحوم کے حریف شیخ عبد النبی ، شیخ عبد القدوس گنگوہی قدس مترہ کے بیٹے تھے۔ شیخ عبد القدوس (صاحب انوار العیون) دسویں صدی ہجری کے مشہور فاضل اورصاحب ارشاد بزرگ ہوئے ہیں جن کے انوار کے چشمے دہلی سے دوآب تک جاری تھے۔ انہیں سماع سے رغبت تھی اور اس کے جواز میں ایک رسالہ لکھا تھا۔ شیخ عبدالنبی نے جوانی میں کئی حج کئے، علمائے حجاز سے دین کی تعلیم پائی اور واپس آکر والد کا رد تحریر کیا۔ والد نہایت ناراض ہوئے مگر یہی تصنیف ان کے گھر تقشف کی دستاویز اور دربار اکبری میں داخلے کی سند بنی۔ آگرے پہنچے تو نوجوان بادشاہ زہد و تقویٰ کا ایسا گرویدہ ہوا کہ ان کی مسجد میں خود اذان دیتا اور جاردب کشی کو مباہات کا سرمایہ سمجھتا تھا کبھی کبھی ان کی جوتیاں سیدھی کرتاتھاا یک مرتبہ زعفرانی جوڑا پہن کر آیا تو شیخ نے مارنے کو عصا اٹھایا!۔
صدارت کے تخت پر بیٹھ کر شیخ نے شاہانہ داد و دہش سے کام لیا۔ مدارس و مساجد کے اہل استحقاق کو مدد معاش، وظائف، معافیات سے خوب نوازا اور دس گیارہ برس بڑی شان سے یہ خدمت انجام دی۔ معلوم ہوتا ہے عدالتی اختیارات بھی مخدوم الملک سے لے کر انہیں دئیے گئے تھے اور اہل بدعت سے محاسبہ کرنے میں کچھ کم تشدد نہ کرتے تھے۔ اسی میں بادشاہ سے ناگواری پیدا ہوئی ۔ آخری قضیہ یہ پیش آیا کہ متھرا کے مہنت نے مسجد کے ملبے پر تصرف کیا اور مسلمانوں سے بڑی بد زبانی بلکہ بزرگان دین کی جناب میں گستاخیاں کیں۔
وہ اکبر کی رانی جودھا بائی کا پروہت تھا۔ اور مقامی قاضی کےقبضے میں نہ آتا تھا۔ شیخ نے بہ مشکل بلا کر آگرے میں قید کیا اور اس کے جرائم پر قتل کا فتویٰ دے کر بادشاہ سے اجازت مانگی ۔ اکبر بہت دن ٹالتا رہا۔ آخر کہا، دین کے مقدمات میں آپ کو اختیار ہے۔ شیخ نے مہنت جی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بادشاہ کو محل میں رانیوں نے اور باہر ابوالفضل وغیرہ نے شیخ کے خلاف مشتعل کیا کہ جب فقہا کا اس باب میں اختلاف ہے۔ایسی انتہائی سزا ہر گز مناسب نہ تھی اسی سلسلے میں بادشاہ کے امام عادل و مجتہد ہونے کا وہ محضر مرتب ہوا تھا جس کا ذکر آچکا ہے۔ شیخ عبد النبی کا انجام عبرت کی غم ناک تمثیل ہے کہ جب گجرات سے قید ہو کر آئے تو مرید قدیم یعنی حضرت بادشاہ نے گفتگو کرتے کرتے، منہ پر مکا مارا۔ شیخ نے کہا صاحب ، مکا کیا چھری چلائیے! پھر اسی کچہری کی کوٹھڑیوں میں بند کئے گئے جہاں صدارت کا دربار لگا کر بیٹھتے تھے۔ ان کا حساب پاک تھا مگر بادشاہ کا دل دل صاف نہ تھا۔ اقبال نامہ جہاں گیری کے قول کے مطابق اکبر کے اشارے سے ابو الفضل نے گلا گھونٹ کر مروایا۔ لاش تیسرے پہر تک بے گورو کفن میدان میں پڑی رہی۔(992ھ ۔1584ء)
تورانی منطق اور ایرانی شیعیت:
ہندوستان کے اسلامی مدارس میں ان دنوں معقولات کا زور تھا ۔دسویں صدی ہجری (سولھویں عیسوی) کے بالکل آغاز میں ایران پر صفوی خاندان کا علم بلندہوا۔ اسمٰعیل صفوی نے شیبانی خاں ازبک کو سخت شکست دی۔ مقتول حریف کے کاسہ سر پر سونے کا خول چڑھا کر پیالہ بنوایا۔ سنیوں سے اسے سخت تعصب ہو گیا تھا۔ (اسمٰعیل ایک صوفی بزرگ شاہ صفی الدین کی اولاد میں تھا۔ ابتدائی فتوحات نے اسے ولی، وارث علیؓ مشہور کر دیا تھا۔ مگر عثمانی سلطان سلیم فاتح کے مقابلے میں ولایت و شجاعت کچھ کام نہ آئی اور ایسی شکست ہوئی کہ کہتے ہیں پھر اسمٰعیل جیتے جی کبھی نہ مسکرایا)۔
اس دہشت کے دور میں بہت لوگ وطن چھوڑ کر بھاگے۔ خانہ برباد اساتذہ کا ایک گروہ جان بچا کر ترکستان چلا آیا۔ زیادہ تر انہی پناہ گزینوں نے یہاں منطق و فلسفہ کی تعلیم پھیلائی اور یہ نئی چیز یہاں کے اہل مدرسہ کو بہت پسند آئی ۔ پرانے مولویوں کو طرح طرح کے مغالطے دیتے اور خوب مذاق اڑا تے تھے۔ حتیٰ کہ قدیم علما اور مشائخ نے فتویٰ لکھ کر عبد اللہ خاں ازبک کے سامنے پیش کیا۔ منطق کی تعلیم حکما موقوف کرائی اور کئی معلم، ملحدبنا کے شہر بدر کئے گئے۔ یہ جلا وطن ہندوستان میں پناہ لینے آئے۔ ان میں تین استاد، ملا عصام، ملا مرزا جان اور قاضی ابو المعانی، ممتاز ہیں۔ انہی قاضی صاحب سے فیضی ، ابوالفضل اور ملا عبدالقادر نے درس لیا تھا یہ تعلیم عقل کی قینچی کی دھاڑ بٹھاتی تھی، جوکاٹ میں اپنے پرائے کا کچھ فرق نہیں کرتی۔
قدیم عقائد میں نئی شیعیت نے الگ اختلال ڈال دیا تھا۔ جب چنگیز خانی مغلوں نے باطنی حکومت کا قلعہ ایران میں مسمار کیا اور ترکوں نے مصر و شام میں ان کی ظاہری ریاست خاک میں ملائی تو اصلی تحریک ایک محدود غیر سیاسی جماعت بن کے رہ گئی۔ لیکن زیادہ پر جوش رفیق، صوفیوں اور شیعوں میں شامل ہو گئے اور اہل اسلام کے خلاف لڑائی جاری ر کھی۔ پہلے بھی یہ لوگ ہمیشہ چھپ کر لڑتے اور بے خبری میں وار کرتے تھے۔ صوفی بن کر وحدت وجود کی آڑ لی اور اشعار و اقوال کے شربت میں غیر اسلامی عقائد کا زہر گھول دیا۔ شیعان علی کے حلقے میں آئے تو سب صحابہ کو اولاد فاطمہ کی محبت کا معیار قرار دیا اور ایک جذباتی اختلاف کو اشتعال خصومت بنا دیا۔ اس آگ پر ایران کی وطنی حمیت تیل کا کام کرتی تھی۔ اسی کی لپٹیں ہندوستان تک پہنچ جاتی تھیں۔ جلا وطن ہمایوں کو صفویوں کی مدد قندھار لائی۔ اور وہ دوبارہ پاکستان و ہند میں داخل ہواتو صدہا شیعہ سردار و سپاہی ہم رکاب تھے۔ اکبر کی ترقی دولت نے ایرانیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھا دیا۔ بہت سے اہل علم و فن ہندوستان آتے اور ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے تھے۔ ان میں جو لوگ مذہبی غلو رکھتے تھے، انہیں صحابہ رسول ؐ ہی کا پاس مراتب نہ تھا۔ بعد کے فقہا اور علماء کی کیا حقیقت سمجھتے تھے۔ غرض، مذہبی خیالات میں تصادم و تلاطم کا یہ ایک اور عنصر انہی دنوں آگرے پہنچ گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں