شرارت کی سزا

clever children

مئی کا مہینہ تھا۔ سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں میٹھی نیند سو رہے تھے ،لیکن شریر نوین نیند سے کوسوں دور اپنے کمرے میں بیٹھی کسی نئی شرارت کا منصوبہ بنا رہی تھی ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ رات ابا جان مٹھائی لائے تھے۔ کیوں نہ وہ ٹھائی ہضم کی جائے۔ لیکن مٹھائی تو امی کی الماری میں ہے۔ ایک لمحے کے لیے نوین یہ سوچ کر ٹھٹکی۔ لیکن پھر یہ سوچ کر کہ بہادر لوگ ایسی چھوٹی باتوں سے نہیں ڈرا کرتے، وہ امی کے کمرے کی طرف چل دی۔
کسی نے سچ کہا ہے شامت آواز دے کر نہیں آتی، یہی نوین کے ساتھ بھی ہوا۔ جیسے ہی اس نے امی کے کمرے کا کواڑ کھولا تو دروازہ کھلنے کی آواز سے امی کے کمرے میں لیٹے ہوئے ننھے بلال کی آنکھ کھل گئی، لیکن نوین کو آتے دیکھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ کیونکہ وہ میسنا اس کی شرارت دیکھنا چاہتا تھا۔
نوین اس کے جاگ اٹھنے سے بے خبر تھی، اس نے چپکے سے امی کے سرہانے رکھا ہوا چابیوں کا گچھا اٹھایا اور آہستہ سے الماری کا تالا کھولا ،لیکن یہ کیا؟مٹھائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں تھی جہاں امی کا ہاتھ بھی مشکل سے پہنچتا تھا۔ نوین سوچنے لگی کہ اب ایسے میں کیا کرنا چاہیے۔
اتنے میں بلال نے کھڑے ہو کر کہا ’’باجی میں بتائوں ‘‘ اور نوین، حیرت سے اپنے بھائی کی طرف دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کی شامت ہی اسے وہاں لائی ہے۔۔۔اس سے پیشترکہ وہ کچھ کہتی، بلال بول پڑا۔۔۔ آدھی مٹھائی مجھے دینی ہوگی ورنہ ابھی امی کو اٹھادوں گا۔ ایسے نازک موقع پر وہ بلال کو ناراض کرنا مناسب نہیں سمجھتی تھی۔ اس لیے اس نے جلدی سے کہا:مجھے منظور ہے۔ میں تمہیں مٹھائی دوں گی لیکن بتائو مٹھائی نکالیں کیسے۔‘‘
بلال نے کہا’’اُوپر کے خانے تک تو ہاتھ پہنچنا مشکل ہے ہم دونوں الماری کو پیچھے سے آگے کو جھکاتے ہیں۔
مٹھائی کا ڈبہ جب آگے آجائے گی تو پھر کسی چیز سے اسے نیچے لے آئیںگے۔
یہ تجویز نوین کو پسند آئی اور دونوں نے الماری کو جھکانا شروع کر دیا۔۔۔لیکن یہ کیا؟
الماری مٹھائی سمیت فرش پر آرہی ہے۔
امی گھبرا کر اٹھیں ۔ گھر کے دیگر افراد بھی الماری کے کمرے میں جمع ہو گئے۔
اس کے بعد کیا ہوا، شاید وہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔
رحمہٰ یونس

اپنا تبصرہ بھیجیں