سیاحتی انڈسٹری حکومت کی مزید توجہ سے پھل پھول سکتی ہے

tourism_pakistan
EjazNews

قدرت نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل، خوبصورت، دل کش مقامات سے نوازا ہے اور اگر اس حوالے سے اچھی منصوبہ بندی، بہترحکمت عملی اختیار کی جائے، تو بہت حد تک ملک کے معاشی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ قدرتی مناظر میں ساحل سمندر سے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش چوٹیوں، حسین آبشاروں، چشموں، جھرنوں، سرسبز گھنے جنگلات، وادیوں، جھیلوں اور صحرائوں سمیت بہت کچھ شامل ہے، جو دنیا کے دیگر ممالک کو میسر نہیں۔ یہاں قدیم مذہبی مقامات، بدھ مت کی تاریخی نشانیاں، ٹیکسلا اور گندھارا کی تہذیبوں کے کھنڈرات بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا سوئٹرز لینڈ کہلانے والی وادی، ’’سوات‘‘ کے علاوہ رومان پرور وادی کاغان، گلیات، وادئ کیلاش، وادئ ہنزہ اور شنگریلا جیسے دل کش مقامات کی بھرمار ہے جو ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ پھر پاکستان کے سبزہ زاروں، ریگ زاروں میں سال کے چاروں موسم اپنی بھرپور چھب دکھلاتے ہیں۔
ملک میں سیاحتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ 1970ء کی دہائی میں سیاحت کو سب سے زیادہ فروغ حاصل ہوا، جب ملک تیزی سے ترقی کررہا تھا اور دیگر صنعتوں کی طرح سیاحت بھی اپنے عروج پر تھی۔ بیرون ممالک سے لاکھوں سیاح پاکستان آتے تھے۔ اس وقت پاکستان کے مقبول سیاحتی مقامات میں درہ خیبر، پشاورکے علاوہ کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی کے کچھ حسین مقامات شامل تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر کئی خوبصورت علاقےبھی دنیا بھر میں متعارف ہوئے، تو سیاحتی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھیں ۔1970ء کے بعد آج شمالی علاقہ جات میں سیاحت اپنے عروج پر ہے۔جن میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور شمال مغربی پنجاب کے علاقے شامل ہیں۔ان علاقوں میں بے شمار دل فریب قدرتی نظاروں کے ساتھ مختلف قلعے، تاریخی مقامات، آثارقدیمہ اور جنگلات وغیرہ بھی موجود ہیں۔
پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بھی سیاحوں کے لیے کم پُرکشش نہیں۔ بلوچستان کے خُوبصورت پہاڑ، زیارت، کوئٹہ اور گوادر اپنی مثال آپ ہیں۔ کراچی کا ساحل سمندر، مکلی کا قبرستان اور گورکھ ہل اسٹیشن، دادو سمیت بہت سے شہر اور دیہات اپنی خوبصورتی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا تاریخی شہر ملتان، بہاول پور کا صحرائے چولستان اور ضلع ڈیرہ غازی خان کا خوبصورت علاقہ فورٹ منرو بھی سیاحتی اہمیت کے حامل ہیں۔
دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں، جن کی معیشت کو سیاحت نے سہارا دے رکھا ہے، جبکہ کئی ممالک اور خطوں کی معیشت کا تو زیادہ تر انحصار ہی سیاحت پر ہے۔
پاکستان کی سیاحت میں 70فیصد حصّہ خیبر پختونخوا کا ہے۔ جہاں قدرتی حسن سے مالامال ان گنت پُرفضا سیاحتی مقامات موجود ہیں۔لیکن ہم صحیح معنوں میں اب تک ان کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس اہم صنعتی شعبے پر سرکاری کی توجہ اس طرح مبذول ہو ہی نہیں سکی جس کا یہ حقدار ہے۔ ضلع سوات میں سیاحوں کے لیے حسین وادیاں مرغزار، جمبل، مالم جبہ، مدین، میاندم، بحرین، کالام، مانکیال، مٹلتان، شرنگرو آب شار، لیکو گبرال، گوالرئی، اوشو، اترو، مہوڈھنڈ، پری جھیل، کنڈول جھیل، بشیگرام جھیل، اسپین خواڑ جھیل، درال جھیل، سیداگئی ڈنڈجھیل، ازمیز ڈنڈ جھیل، نیل سر جھیل، گودر جھیل، چیل ،یخ تنگی، گبین جبہ، جاروگو آب شار، سلاتنڑ اور فضا گٹ جیسے حسین مقامات موجود ہیں۔ صحیح اعداد و شمار کا تو نہیں پتہ البتہ ایک اندازے کے مطابق سوات میں 100 سے زائد جھیلیں ہیں اور ضلع سوات کا شمار دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔اگر حکومت خصوصی توجہ دے، تو جہاں ان مقامات کی سیاحت سے مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں گے، وہیں ملکی معاشی حالات بہتر ہوں گے اور حکومتی خزانے میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ یہ نہیں کہ حکومت توجہ نہیں کر رہی لیکن حکومت کو اس سے زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔وادئ میدان کے علاقے میں نیا دریافت ہونے والا سیاحتی مقام’’شین غر‘‘ بھی دل فریب و دل کش نظاروں کی بدولت سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، اسی طرح دیربالا میں جنت نظیر وادیاں کمراٹ، بن شاہی، جاز بانڈہ جھیل اور چترال میں منفرد ثقافت کی حامل مشہور وادی کیلاش، گولین شندور ،گرم چشمہ اور بعض دیگر مقامات اپنے قدرتی حسن کی بدولت منفرد مقام رکھتے ہیں، پھر چترال کے علاقے گرم چشمہ کے ہمالیہ کے پہاڑ، نایاب جانور کشمیر مارخور اور ہمالیہ ایبکس کے لیے پوری دنیامیں مشہور ہیں،جہاں ہرسال محکمہ جنگلی حیات، خیبر پختونخوااور ضلع چترال، کوہستان کی مقامی آبادی کی اجازت سے کشمیر مارخور اور ہمالیہ ایبکس کا شکار کیا جاتا ہے، جس سے ہزاروں ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ہزارہ ڈویژن کی بات کی جائے، تو گلیات، وادئ کاغان، ٹھنڈیانی اور کوہستان کا حسن بھی کسی سےکم نہیں۔ پاکستان کا پُرفضا مقام گلیات خوش گوار موسم اور قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور ہے۔ ایبٹ آباد سے نتھیاگلی کی طرف بل کھاتی سڑک کے ارد گردحسین جنگل اور قدرتی نظارے سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے کے سفر میں جنگل میں منگل کا سا سماں رہتاہے،تو یہاںکے مشہور مقامات نتھیاگلی، ڈونگا گلی، ایوبیہ، خانس پور، چھانگا گلی اور ٹھنڈیانی سیّاحوں کی خصوصی توجّہ کا مرکز ہیں۔گزشتہ دورِحکومت میں گلیات میں کافی ترقیاتی کام کروائے گئے، جس کے بعد یہ علاقہ سیاحوں کے لیے مزید پُرکشش بن گیا ہے۔
برف پوش پہاڑوں اور گلیشیئرز، آب شاروں کا مسکن، وادئ کاغان بھی انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے، جبکہ مانسہرہ، بالا کوٹ اور بفہ کا شمار تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ وادئ کاغان کا نام آتے ہی ذہن فوری طور پر قدرتی حسن سے مالا مال جھیل سیف الملوک، آنسو جھیل، شوگران، ناران اور لالہ زار کی برف پوش پہاڑیوں و دیگر خوبصورت و دل فریب مناظر پر مشتمل علاقوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ وادئ کاغان کو اگر سیّاحوں کی جنت کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ جہاں 9 خوبصورت جھیلیں، جس طرح اپنی رعنائی دکھاتی ہیں، الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جھیل سیف الملوک، لولو پت سر، دودی پت سر اور لالہ زار جیسے مقامات کی سیر کے لیے ملک بھر سے سیاح، وادئ کاغان اور ناران کا رُخ کرتے ہیں، لیکن یہاں بھی انفرااسٹرکچر کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ اگرچہ ناران تک سڑک کی حالت کافی بہتر ہے۔ تاہم، جھیل سیف الملوک،لالہ زار، آنسو جھیل کا راستہ انتہائی دشوار گزارہے اور لنکس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیاح ان علاقوں کے حسین نظاروں اور بہترین موسم سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔موجودہ حکومت اور اس سے پہلی حکومت سے سنتے آئے ہیں کہ یہاں پر کیبل کار نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔تاہم کیبل کار یا چیئرلفٹ نصب کرنے کا منصوبہ التوا ہی کا شکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں