سہیلیاں۔۔۔۔!

Friends
EjazNews

شبانہ کچھ پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ نہ جانے کیوں؟ اس کی امی بھی پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھیں ۔ مگر وہ بتانے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ بس سوچے جارہی تھی پھر سوچتے سوچتے نہ جانے کن یادوں میں کھو گئی۔
اسے وہ دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی صبح یاد آنے لگی۔ اس دن سردی کی وجہ سے کہر چھائی ہوئی تھی۔ ہر کوئی سی سی کر رہا تھا۔ وہ کلاس میں داخل ہوئی تو اس نے کلاس میں ایک نیا چہرہ دیکھا۔ پاکیزہ اور معصوم سا، لباس بھی ساد ہ اور پر وقار، نہ جانے کیوں اُسے دیکھتے ہی اس کا دل چاہا کہ اسے دوست بنا لے اور جب چھٹی ہوئی تو انجم اس کی سہیلی بن چکی تھی۔
ماہ و سال گزرتے گئے پھر وہ نویں جماعت میں آگئیں۔ مگر ان کی دوستی میں ذرا برابر بھی فرق نہ آیا تھا۔ بلکہ وہ تو ’’یک جان دو قالب‘‘ تھیں ۔ پورے سکول میں ان کی دوستی مشہور تھی ،اگر کوئی انجم کو یاد کرتا تو اس کو شبانہ کی بھی یاد آجاتی۔ اُستانیاں بھی دوسروں کو ان کی دوستی کی مثال دیا کرتی تھیں۔
ابھی ان کو نویں میں آئے ہوئے دو تین ماہ ہی گزرے تھے کہ انجم نے سکول آنا چھوڑ دیا۔ شبانہ نے سوچا کہ شاید بیمار ہو گئی ہو۔کیو نکہ ایک دفعہ پہلے بھی اسی طرح وہ دو ایک دن نہ آئی تھی۔ اگلے دن جب وہ نہ آئی اور نہ کوئی اس کی درخواست آئی تو شبانہ نے اس کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔
اس دن اس نے محلے کی ایک اور لڑکی کے ذریعے امی کوپیغام بھجوادیا کہ آج وہ دیر سے گھر آئے گی۔ کیوں کہ اس کو انجم کے گھر جانا ہے۔چھٹی کے وقت وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی انجم کے گھر روانہ ہوگئی۔
پندرہ منٹ کے بعد وہ انجم کے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔ مگر ایک موٹا سا تالا اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ شبانہ کو دکھ کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ کچھ بتائے بغیر انجم کہاں غائب ہوگئی۔ تھوڑی دیر سوچ کر وہ ساتھ والے مکان کی طرف بڑھی ۔ دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہو گئی۔ سامنے ہی ایک ادھیڑ عمر عورت بیٹھی پان دان سامنے رکھے پان لگا رہی تھی۔
السلام علیکم! خالہ جان!‘‘ شبانہ نے کہا۔
’’وعلیکم السلام!بیٹی، میں تمہیں کہیں پہلے بھی دیکھ چکی ہو۔‘‘
’’ہاں خالہ جان! آپ کے ساتھ میری سہیلی انجم کا گھر ہے۔ میں اس کے گھر ایک دفعہ آئی تھی تو آپ اس کی امی کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں۔‘‘
’’ہاں یاد آیا۔ تمہارا نام شبانہ تو نہیں؟‘‘
’’جی ہاں خالہ جان! میرا نام شبانہ ہی ہے۔ میں دراصل یہ پوچھنے آئی تھی کہ انجم کے گھر والے کہاں چلے گئے ہیں؟‘‘
’’ارے بیٹی، کیا بتائوں!ہم محلے والے تو خود حیران ہیں کہ اتنے اچھے لوگ ایک دم کیوں محلہ چھوڑ گئے؟ پرسوں ہی کی بات ہے۔ سارا سامان ٹرک پر لادا اور چلے گئے نہ کسی سے ملے اور نہ کوئی بات کی!‘‘
’’اچھا خالہ جان، اجازت دیں۔ بس یہی معلوم کرنا تھا۔‘‘
اس گفتگو کے بعد وہ گھر آگئی۔ پھر کئی دن گزر گئے۔ مگر انجم کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ استانیاں شبانہ سےپوچھتیں تو وہ کوئی جواب نہ دے پاتی۔ کچھ دن تک تو وہ افسر دہ رہی مگر آہستہ آہستہ بھولتی گئی۔
تھوڑے عرصے کے بعد اس کے ابو کا تبادلہ راولپنڈی سے ملتان ہوگیا تو وہ یہاں کے ایک گرلز سکول میں داخل ہوگئی۔ نویں کا امتحان پاس کر کے وہ دسویں آگئی ان کے سکول میں آج کل سماجی بہبود کا ہفتہ منایا جارہا تھا۔ اس سلسلے میں ان کو مختلف علاقوں کا دورہ کرنا پڑتا تھا ۔آج شبانہ اور اس کی سہیلیوں نے ایک نواحی بستی کا دورہ کیا تھا۔ وہاں اس نے اپنی پرانی سہیلی انجم کو دیکھا جو ایک بڑے سے مکان سے نکل رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی سہیلی کو پکارتی ، وہ تیزی سے ساتھ والی ایک گلی میں داخل ہو گئی اور شبانہ بے چاری آوازیں دیتی دیتی رہ گئی۔
اس کے بعد سےتوشبانہ کی حالت ہی بری ہو رہی تھی۔ اس کی سہیلیاں اوراستانی مس نعمانی پوچھ پوچھ کر رہ گئیں مگر شبانہ کو تو بس چپ ہی لگ گئی تھی ،تھوڑی دیر کے بعد وہ مس نعمانی سے معلوم کر رہی تھی کہ کیا کل بھی ہم اس بستی میں آئیں گے؟۔
تھوڑی دیر کےبعد وہ واپس شہر آرہی تھیں ،ساری لڑکیاں ہنس بول رہی تھیں اورشبانہ کو بھی ہنسانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ تو بس سوچے جارہی تھی اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ انجم ہی تھی۔ پھٹے پرانے کپڑے، سر پر میلی سی اوڑھنی، وہ تو چہرے سے ہی کمزور دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ انجم اس حال میں کیوں تھی۔ یہی سوچتے سوچتے وہ گھر پہنچ گئی وہ آج اسی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ تقریباً آدھ گھنٹے کے بعد اسے آوازآئی:
’’شبانہ بیٹی! کہاں ہو تم! آج تو تم نے سلام تک نہ کیا‘‘۔
’’اوہ! ابو آگئے‘‘ شبانہ بڑ بڑاتی ہوئی اٹھی اور ابو کو بے دلی سے سلام کیا۔
’’کیا بات ہے بیٹی ؟ مجھے دفتر سے آئے کافی دیر ہو گئی ہے۔ میں تم کو پریشان دیکھ رہا ہوں۔‘‘
’’اوہ ! ابو چھوڑیں۔ آپ ویسے ہی پریشان ہوں گے میں آپ کو کل بتائوں گی۔ ‘‘
’’جیسی تمہاری مرضی بیٹا ! ویسے اگر تم مجھے بتا دیتیں تو شاید میں تمہاری مدد کر سکتا‘‘ یہ کہہ کر اس کے ابو اپنے دوست سے ملنے باہر چلے گئے۔
اگلے دن شبانہ کی نگاہیں مس نعمانی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ آخر تھوڑی تلاش کے بعد مس نعمانی اسے ہیڈ مسٹریس کے کمرے سے نکلتی ہوئی دکھائی دیں۔ وہ جلدی سے ان کی جانب لپکی۔’’کیوں مس، کیا ہم آج پھر اس بستی میں جائیں گے۔؟‘‘
’’ہاں بھئی آج پھر ہم اسی نواحی بستی میں جائیں گے۔ تم تو تیار ہونا!‘‘
’’جی ہاں مس، میں تو تیار ہوں۔‘‘
’’اچھا، بس تھوڑی دیر بعد روانہ ہوتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر مس نعمانی سٹاف روم میں چلی گئیں اور شبانہ کو انجم کی یاد آنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد وہ اسی بستی میں تھیں ۔ وہ سماجی بہبود کا ہفتہ منارہی تھیں تو اس سلسلے میں ان کو غریب لوگوں کے گھروں میں جانا پڑتا تھا مگر آج شبانہ کی تجویز پر بستی کی سب سے بڑی عمارت میں جانے کا فیصلہ کیاگیا کہ حویلی کے مکینوں سے بستی کے نادار لوگوں کے متعلق معلومات لی جا سکیں۔
تھوڑی دیر بعد وہ حویلی میں داخل ہو رہی تھیں۔ نوکروں کے ذریعے جب بیگم صاحبہ کو معلوم ہوا کہ چند لڑکیا ں اس کی حویلی میں آئی ہیں تو وہ فوراً باہر آئیں اور ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد وہ اس کو اندر لے گئی اور ان کی تواضع کی۔
جب مس نعمانی اور دوسری لڑکیاں بیگم صاحبہ کوبتا رہی تھیں کہ سماجی بہبود کا یہ ہفتہ کیا ہوتا ہے تو شبانہ دبے پائوں کمرے سے نکل گئی۔ ا س کی نظریں انجم کوتلاش کر رہی تھیں کیوں کہ اس نے کل اسے اسی حویلی سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ ایک ہال کمرے میں پہنچی جہاں چند عورتیں صفائی کر رہی تھیں۔ وہ شبانہ دیکھنے لگیں لیکن شبانہ پروا کیے بغیر آگے بڑھ گئی۔ ذرا آگے پہنچی تو اسے برتن کھنکنے کی آواز سنائی دی۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ انجم بیٹھی برتن مٹی سے لیپ رہی ہے۔ وہ آگے بڑھی تو انجم اس کے قدموں کی آواز سن کر مڑی تو اچانک اس کے منہ سے نکلا۔ ’’شبانہ! تو ۔۔۔تو یہاں کیسے ؟‘‘
’’ہاں انجم! مگر تم اس حال میں۔ کیا بات ہے؟ ارے بھئی کچھ تو بولو۔ یہ خواہ مخواہ آنسو کیوں بہا ئے جارہی ہو۔‘‘
شبانہ نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ صاف کیے اور دوبارہ پوچھنے پر انجم نے اپنی داستان سنائی:
شبانہ یہ تو تم جانتی ہو گی کہ میرے والدسرکاری ملازم تھے۔ وہاں رشوت لیے بغیر کوئی کام نہیں چلتا تھا۔ میرے و الد جو ایک نہایت شریف آدمی تھے ،انہوں نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور رشوت خور افسروں کے متعلق حکام بالا کو مطلع کیا۔ اس اطلاع کی پاداش میں ان کو ان کے افسروں نے نوکری سے نکلوا دیا۔ ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی ان کو نوکری سے ہٹایا گیا تھا۔ ان دنوں وہ نوکری کی تلاش میں پھر رہے تھے۔ ان کے ایک دوست کی ریکروٹنگ ایجنسی تھی جو لوگوں کو دوسرے ملک بجھواتا تھا۔ابا جان ان کے ہاں بھی گئے کہ شاید کوئی کام بن جائے ۔وہاں وہ بیٹھے تھے کہ تھوڑی دیر بعد دو آدمی آئے اورایجنسی کے مالک قریشی صاحب کو پیسے دے گئے تاکہ ان کو قطر بھجوا سکیں۔ وہ دونوں ابا جان کو بھی جانتے تھے۔
تھوڑے دنوں بعد قریشی صاحب پیسہ لے کر ملک سے فرار ہو گئے اور لوگوں کا تو نہ جانے کیا حشر ہوا مگر وہ دوآدمی ہمارے گھر آدھمکے اور کہنے لگے کہ آپ بھی قریشی صاحب کی کمپنی کے حصے دار تھے۔ آپ ہمارے پیسے دیں، ورنہ ہم کوئی اور حربہ استعمال کریں گے۔ ابا جان نے ان کوبتایا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ میرا کمپنی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ مگر وہ نہ مانے اور اگلے دن وہ دو چار غنڈے لا کر الٹی سیدھی دھمکیاں دینے لگے۔
ابوکے دوست صدیقی صاحب نے رائے دی کہ آپ پولیس کو اطلاع دیں۔ مگر ابا جان بے چارے شریف آدمی ان چکروں میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے۔ آخر کار فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کیلئے دوسرے شہر چلا جائے جہاں تھوڑی سی زمین بھی ہے۔ اب وہاں نوکری تو ملتی نہیں ،شاید وہاں جا کر قسمت کھل جائے۔ یہاں آکر تھوڑی بہت جمع شدہ رقم سے دو کمرے ڈال لیے ۔ ابا جان نے کوئی سال بھر نوکری کی مگر اس کے بعد ایسے بیمار ہوئے کہ چار پائی سے اٹھ نہیں سکتے۔ دو ایک ماہ تو گھر کا خرچ چلتا رہا مگر کب تک ۔ آخر مجھے اور بوڑھی ماں کو نوکری کے لیے نکلنا پڑا۔ پڑھائی پہلے ہی چھوٹ چکی تھی ۔ رہی سہی بھی چھوٹ گئی۔ وہ دن اورآج کا دن میں اور ماں نوکری کرتے ہیں اور گھر کا خرچ چل جاتا ہے۔
اب میرے خدا! تم نے کتنی بڑی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے۔ خدا کسی پر برا وقت نہ لائے ۔
شبانہ کچھ دیرتک سوچتی رہی پھربولی’’اب میں چلتی ہوں۔ ہم یہاں سماجی بہبود کے سلسلے میں آئے تھے اور مس نعمانی یقیناً مجھے تلاش کر رہی ہوں گے۔ انشاء اللہ کل ملاقات ہوگی۔ اجاز ت دو، خدا حافظ۔
یہ کہہ کر شبانہ انجم کے زرد چہرے کو دیکھتے ہوئے باہر نکل آئی جہاں مس نعمانی اس کو ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ کچھ ناراض بھی نظر آتی تھی مگر جب شبانہ نے ان کو حقیقت حال بتائی تووہ بھی رنجیدہ ہو گئیں۔
چند لمحوں کے بعد وہ بستی سے نکل کرشہر کی جانب چلے گئے آج تو شبانہ کو اپنے ابو کا بے حد انتظار تھا ۔اس نے کھانا بھی نہیں کھایا کہ وہ اپنے ابو کے ساتھ کھائے گی۔ آخر کار ایک گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد اس کے ابو گھر میں داخل ہوئے تو ان کی طرف لپکی اور جا کر آداب کیا!
’’بیٹی! آج کوئی خاص بات ہے جو تم بہت خوش نظر آرہی ہو۔ کل تو تم سوچوں میں گم تھیں۔‘‘۔
’’ابا جان! آپ کہیں تو کھانا لگائوں۔کھانے پر بات کریں گے۔‘‘
ہاں ہاں! کیوں نہیں بھوک بڑی زور دار لگی ہوئی ہے۔‘‘
’’ہاں بیٹے ! اب بتائو، کیا بات ہے ؟‘‘ابا جان نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا کہ ابا جان یا آپ اس کی مدد کر سکتے ہیں؟
’’ہاں ، ہاں کیوں نہیں۔ مگر آج تو کچھ نہیں ہوسکتا۔ کل میں دفتر سے چھٹی لے کر تمہارے ساتھ چلوں گا۔ جہاں سے انجم کے بوڑھے باپ کو لا کر ہم ملتان کے سنٹرل ہسپتال میں داخل کرادیں گے۔ اس کی ماں اور دو چھوٹے بھائیوں کو یہاں لائیں گے۔ اس کی ماں کو تو اپنے باس کی کوٹھی میں ملازم رکھوادیںگے۔ انجم اور اس کے دونوں بھائیوں کو سکول میں داخل کروا دیں گے۔ کیوں بیٹے شبانہ تمہارا اس تجویز کے بارے میں کیاخیال ہے۔؟‘‘۔
’’میرے پیارے ابو!‘‘ یہ کہہ کر شبانہ اُن کے گلے لگ گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں