سپریم کورٹ نے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا

Suprem court
EjazNews

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ نے ہائی کورٹس کی جانب سے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔
عدالتی فیصلے کے تحت جن افراد کورہائی دی جاسکتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
ایسے قیدی جنہیں جسمانی یا ذہنی امراض لاحق ہوں۔
زیر سماعت وہ قیدی جن کی عمر 55 سال سے زائد ہو۔
خواتین اور کم عمر قیدی۔
وہ مرد قیدی جن کا ماضی میںکوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔
قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے خلاف دائر درخواست کو دفعہ 184(3) کے تحت قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سنگین جرائم، نیب اور منشیات کے مقدموں میں دی گئی ضمانتیں بھی منسوخ کردیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک میں کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر 408 قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
مذکورہ فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات سے 829 قیدیوں میں سے 519 رہا ہوچکے ہیں۔
ہائی کورٹس سے ضمانت پر قیدیوں کی رہائی کے خلاف درخواست کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس قاضی امین احمد نے تحریر کیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ قیدیوں کی سزا معطلی کے لیے قانون میں طریقہ کار واضح ہے، ہائی کورٹ ہیلتھ ایمرجنسی کی بنیاد پر اجتماعی ضمانتیں نہیں دے سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ قانون میں خواتین، کم عمر ملزمان یا بیمار اور ذہنی مسائل کے شکار افراد کی رہائی کا طریقہ کار موجود ہے اسی طرح مجرمان کی بھی سزا معطل کر کے انہیں رہا کرنے کا میکانزم موجود ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اعلان کردہ ہیلتھ ایمرجنسی کی بنیاد پر قیدیوں کی رہائی کا کوئی تصور موجود نہیں کیوں کہ عالمی تنظیموں کی جانب سے رکن ممالک کو جاری کی گئی ہدایات میں ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئی کہ جس میں رکن ممالک کو اپنی جیلیں خالی کرنے کا کہا گیا ہو، لہٰذا نافذ کردہ حکم ایک غلط سمت کے احاطے پر قائم کیا گیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں، حالات کیسے بھی ہوں قانون کا قتل نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کالعدم قرار دی اور نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں قیدیوں کی رہائی کا کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ اس صورت میں ملزم کو رہا کرسکتی ہیں کہ اگر اسے وارنٹ کے بغیر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہو اور اس نے کوئی سنگین جرم نہ کیا ہو اور اس کے لیے بھی پہلے پراسکیوشن کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔عدالت نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کے جواب میں کہا کہ دنیا میں سوائے چند ممالک جہاں جرائم کی شرح خاصی کم ہے زیادہ تر جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں اور متاثرہ شخص کی غیر موجودگی میں جیلیں محفوظ ہیں۔اس لیے بجائے قیدیوں کو رہا کرنے کے نئے آنے والے قیدیوں کی سکریننگ کرنا زیادہ بہتر ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو بادشاہ کی طرح تخت پر نہیں بٹھایا جاتا کہ جو اس کی خواہش ہو وہ کرے بلکہ ہر لحاظ سے وہ آئین و قانون کی پاسداری کا پابند ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک مجرمانہ متفرقہ درخواست پر دائرہ اختیار سے بڑھ کر ایسے فیصلے دینے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں کہ جس کا اثر سماجی زندگی کے ہر پہلو پر پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں