سونے کا ہاتھی

gold-elephant

صدیوں پرانی بات ہے یمن میں ایک انصاف پسند بادشاہ کی حکومت تھی جو اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا۔ اس کی حکومت کے سبھی عہدیدار اچھے تھے۔ اس لئے بادشاہ ہر مسئلے سے بے فکر تھا۔
ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: ”اگر ہم ایسے ہی فارغ رہے تو بیمار ہو جائیں گے ہماری مصروفیت کے لئے کچھ کرو۔“
کچھ روز بعد وزیر نے بادشاہ سے کہا: ”آپ ملک میں اعلان کرادیں کہ اگر ہمیں کوئی ایسی بات سنائے گا جو ہم نے پہلے نہ سنی ہو تو اسے انعام دیا جائے گا۔ بس اس طرح آپ مصروف ہو جائیں گے ، بادشاہ کو وزیرکا مشورہ پسند آیا اور اس نے اعلان کرادیا کہ جو کوئی آکر ہمیں ایسی بات سنائے گا جو اس سے پہلے کسی نے نہ سنی ہو تو اسے سونے کاہاتھی انعام میں دیا جائے گا۔
اب بادشاہ کو روز نت نئی بات سنانے والے لوگ محل میں پہنچنے لگے۔ بادشاہ کہانی سنتا اور کہہ دیتا کہ میں نے یہ بات پہلے بھی سنی ہے۔ اگر کوئی بات اچھی لگتی تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا، مگر سونے کا ہاتھی نہ دیتا۔ اس کے دربا میںآنے والے ایسی عجیب باتیں گھڑتے تھے کہ بادشاہ دنگ رہ جاتا، مگر آخر میں کہتا: ”میں نے یہ بات پہلے سنی ہے۔“
اس بات کو کئی ماہ ہو گئے مگر کوئی بھی بات بادشاہ کو متاثر نہ کر سکی۔
یہ سب باتیں اس ملک کے رہنے والے ایک عقلمند نوجوان عصام معلوم ہوئیں ۔ یہ نوجوان انتہا درجے کا ذہین اور عقلمند تھا۔ اس نے اپنے دوست تاجر سے اس کاقیمتی لباس مانگا، جسے پہن کر وہ بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور عرض کیا: ”بادشاہ سلامت ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ جب آپ کے والد محترم کی شادی ہوئی تو آپ کے دادا حضور نے میرے دادا سے سونے کے کچھ برتن ادھار لئے، ان میں ایک درجن سونے کی پراتیں، سونے کے چمچ، گلاس اور سونے کا لوٹا وغیرہ تھے۔ اب ہمارے حالات ویسے نہیں رہے۔
شادی کے بعد آپ کے دادا حضور وہ برتن واپس کرنا بھول گئے۔ آپ مہربانی فرما کر وہ برتن واپس کردیں۔ آپ نے یقینا یہ بات اپنے دادا حضور سے یا والد صاحب سے سنی ہوگی۔
بادشاہ جلدی سے بولا: ”یہ بات میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی ۔ اس پر اعصام نے کہا: ”پھر مہربانی فرما کر مجھے سونے کا ہاتھی انعام میں دے دیں کیونکہ آپ نے یہ بات پہلے نہیں سنی۔
اس پر بادشاہ عصام کی عقلمندی پر بہت خوش ہوا اور عصام کو سونے کا ہاتھی اور بہت سا انعام بھی دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں