سوداگر اور جن

sudagar_Jinah

شہر زاد نے لبوں سے قند گھولا اور اس کے منہ سے یوں پھول جڑھنے لگے:
کسی ملک میں ایک بہت بڑا سوداگر رہتا تھا۔ بڑا عالی خاندان اورنیک نام ۔ جا بجا تجارت کی کوٹھیاں سجی سجائی۔ تمام دنیا کی بیش قیمت اشیاءچنی چنائی۔ دور دور تک اس کی ساکھ اورنام تھا۔
ایک روز حسب معمول گھوڑے پر سوار ہو کر حساب کتاب کرنے اور گماشتوں کا کام جانچنے باہر روانہ ہوا۔ اس روز اتفاق سے گرمی کی یہ شدت تھی کہ چپل انڈا چھوڑتی تھی۔ انسان اور حیوان بلبلاتے تھے، لو اور تپش سے پھنکے جاتے تھے۔ دھوپ کی تاب نہلا کر سوداگر ایک سایہ دار پیڑ کے نیچے بیٹھ گیا۔ قریب ہی پانی کی نہربھی رواں تھی۔ادھرسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے تو مردہ جسموں میں جان سی پڑ جاتی۔
تھوڑی دیر بعد سوداگرنے اپنی خورجی سے شیر مال اور چھوہارے نکالے۔ شیر مال کا ٹکڑا نوش جان کیا، چھوہارے کھائے، جب چھوہارے کھاتا تھا تو گٹھلیاں ادھر ادھر پھینکتاجاتا تھا۔ کھا پی کر بسم اللہ کہہ کر نہر کا ٹھنڈا پانی پیا۔ ابھی اچھی طرح دم بھی نہیں لیا تھا کہ سامنے سے ایک جن نمودار ہوا۔ جن نے وہ ڈانٹ بتائی کہ زمین تک تھر تھرائی ۔ سوداگر کے ہوش و حواس غائب ہو ئے کہ یا الٰہی یہ دیو بر سر پیکار ہے یا شیطان ہوا پہ سوار ہے۔
جن نے گرج کر کہا اے آدم زاد! اٹھ ! تیرے سر پر قضا کھیلتی ہے۔ میں تجھے قتل کیے بغیر چین نہ پاﺅں گا۔
سوداگر ہکا بکا رہ گیا۔ یہ کیا ماجرا ہے ! پھر جن سے پوچھا میری کون سی ایسی خطا ہے کہ مجھے قتل کیے بنا نہ چھوڑو گے ؟ میں ایک غریب الوطن سوداگر ہوں۔ کسی بدی سے سروکار نہیں کسی دیویا جن کو میں نے آج تک دیکھا تک نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ میرے قتل کی ٹھانی ہے ؟ اگر بے قصور ہی مارنا چاہتے ہو تو یہ جان ناتواں حاضر ہے۔ قبول فرمائیے اور اگر کوئی قصور ہوا ہے تو بتائیے،بے شک سزا پاﺅں گا۔
جن نےجواب دیا اے بد نصیب آدم زاد! تیرے ہاتھوں میرا بیٹا ابھی ابھی قتل ہوا ہے۔ میں تجھ سے انتقال لیے بغیر نہ ٹلوں گا۔ اس جرم کے عوض تجھے جہنم رسید کروں گا۔
سوداگر نے کہا واہ ، حضرت واہ! آپ اتنے خوفناک جن ہو کر مجھ کمزور انسان کو خواہ مخواہ قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر آپ کے صاحبزادے کو کبھی آنکھوں بھی دیکھا ہو توآنکھیں پھوٹیں، پھول کی چھڑی کبھی ماری ہو تو ہاتھ ٹوٹیں۔
جن نے کہا انسان کی کیا مجال کہ وہ جنوں کو دیکھ سکے۔ اس وقت تو نے چھوہارے کھائے، ادھر ادھر پھینکے تو میرے لڑکے کے سینے پر لگے۔ اس صدمے سے اس کی جان گئی۔ اب اس کے عوض تجھے جیتا نہ چھوڑوں گا۔
سوداگر نے دیکھا کہ اس موذی سے بچنا محال ہے تو کہنے لگا اے جنوں کے سردار! میں نے یہ جرم جان بوجھ کر نہیں کیا ۔ اگر خدانخواستہ میں جان بوجھ کر آپ کے صاحبزادے کو قتل کرتا تو حسب آیات قرآنی جان کے عوض جان، ناک کے عوض ناک اور کان کے عوض کان دینے کی سزا پاتا۔ بلاشبہ مارا جاتا۔ مگر میں نے تو آپ کے لڑکے کو دیکھا تک نہیں۔ لہٰذا میں بے قصور ہوں۔جن غصے میں چلایا اونابکار! تیری چاپلوسی تجھے بچا نہیں سکتی۔ میں تجھے ابھی جہنم رسید کرتا ہوں۔
یہ کہہ کر جن نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، فوراً سوداگر کو اٹھایا اور بڑے زور سے زمین پر دے ٹپکا۔ سوداگر کی ہڈیاں تک چٹخ گئیں ، پھر جن نے تلوار لہرائی کہ سوداگر کا سر تن سے جدا کر دے کہ وہ زار زار رونے لگا اور کہنا شروع کیا۔ اے جن! میرا تیرا حشر کے دن انصاف ہوگا۔
جن نے تلوار میان میں کی اور جھلا کر گھر کی دی۔ زمانہ سازی کی باتیں نہ کر۔ خدا سے ڈر۔ تیری چالاکی ہم سے پیش نہ جائے گی۔ میں تجھے قتل کیے بنا نہ چھوڑں گا۔ پہلے کیوں نہ سمجھ بوجھ کے چھوہارے کھائے؟۔
اتنے میں پو پھٹنے لگی۔ سارے آسمان پر ایک ملگجا سا اجالا پھیلنے لگا۔شہرزاد یہ سمجھ کرخاموش ہو گئی کہ سلطان شہریار اب نماز پڑھنے جائے گا۔ اس کی بہن دنیا زاد نے کہا باجی! خاتون جنت کی قسم ایسی کہانی تمہاری زبانی سننے میں آئی گویا روح نے غذا پائی۔
شہر زاد بولی بہن آگے اس سے بھی زیادہ پر لطف اور حیرت انگیز کہانی ہے مگر افسوس ہے کہ کہانی پوری نہ ہونے پائی کہ صبح نمودار ہو گئی۔ اب کوئی دم میں ہم اندھے کنوئیں میں ہوں گے۔ اگر بادشاہ نے میری جان بخشی کر دی تو باقی حصہ رات کو سناﺅں گی۔ ورنہ ہماری ملاقات اب قیامت کے روز ہی ہوگی۔
شہر زاد کے انداز بیان نے بادشاہ پر جادو سا کردیا تھا۔ اس نے دونوں بہنوں کو بلوایا۔ تپاک کے ساتھ بٹھا کر فرمایا ۔ مابدولت کو اس قصے کے سننے کابہت اشتیاق ہے معلوم ہوتا ہے ملکہ شہر زاد داستان گوئی کے فن میں طاق ہے۔ جب تک ہم پوری کہانی نہ سن لیں گے تمہارے خلاف کوئی حکم نہ دیں گے۔
اس کے بعد جب وقت نماز قریب آیا تو بادشاہ نے وضو کیا، نماز پڑھی، دیوان خاص میں بیٹھا، رات کو نماز عشا کے بعد دستر خوان چنا گیا۔ تینوں نے مل کر کھانا نوش جان فرمایا۔ پھر بادشاہ اور دنیا زاد کی فرمائش پر شہر زاد نے کہانی یوں شروع کی:
جب سوداگر کو یقین ہوگیا کہ جن کم بخت کسی طرح پیچھا نہیں چھوڑتا تو اس سے کہنے لگا اے جنوں کے سردار ! اگر مجھ ناتواں کے قتل ہی کی ٹھانی ہے تو اتنی فرصت دے کہ جس کسی کا دینا ہے اس کو دے دوں ۔ اور جس کسی سے لینا ہے لے لوں۔ کسی کی کوڑی میری طرف نہ جائے کہ حشر کے دن دامن پکڑے، بھری محل میں رسوا کرے۔ بیوی بچوں سے مل لوں۔دوست احباب سے رخصت ہو لوں۔ اس کے بعد فوراً آجاﺅں گا۔ پھر چاہے مجھے قتل کرنا یا چھوڑ دینا۔ تمہاری مرضی۔ خدا کے درمیان میں لاتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ وعدے کا سچا نکلوں گا اور جہاں تم کہوگے وہیں پہنچوں گا۔
جن بولا تیری قسم پر اعتبار کرتاہوں ۔ لیکن یاد رکھ اگر تو واپس نہ آیا تو بھی میں تجھے ڈھونڈ لوں گا۔ اور پھر تو میرے انتقام سے بچ نہ سکے گا۔
جب سوداگر نے پھر قسم کھائی اور قول و اقرار کیا کہ ضرور واپس آﺅں گا تو جن نے اسے ایک سال کی مہلت دے دی اورسوداگر وطن روانہ ہو ا۔
سوداگر اپنے وطن کو لوٹا۔ بیوی اور لڑکوں کو پاس بلایا ، عزیز رشتہ دار ملاقات کے لیے آئے۔ پاس پڑوس کی بوڑھی عورتیں بلائیں لینے لگیں۔ جو منتیں نذر مانی تھیں دینے لگیں۔
سوداگر نے کچھ دیر کے بعد کہا یارو! تم سب میرے واپس گھر آنے کی خوشیاں مناتے ہو۔ مگر تم نے مجھ سے میرے دل کا حال نہیں پوچھا۔ اصل بات نہیں جانی کہ صرف ایک سال کا مہمان ہوں یہ کہہ کر سب کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔
گھر میں کہرام مچ گیا۔ ماتم ہونے لگا، جس کسی نے بھی سنا زار زار رونے لگا کہ ایک برس کا زمانہ بات کرتے جاتا ہے۔ دوسرا سال چٹکی بجاتے آتا ہے جس جس کو ، جس قدر مال دینا تھا انہیں تقسیم کیا ۔ بچوں کی تعلیم کے لیے ایک ولی مقرر کر دیا۔ جس کسی سے جو لینا تھا، وہ لیااور جودینا تھا دیا۔
ایک برس بات کرتے ختم ہوگیا۔ سوداگر سب سے رخصت ہو کر وہاں سے سدھارا۔ لوگوں نے سمجھایا، بیوی بچوں نے کہرام مچایا کہ موت سے دو چار ہونے جانا دانش مندوں کا کام نہیں، پھر جن کیا جانے کہ تم کہاں ہو۔ وہ کوئی عالم الغیب نہیں مگر سوداگر نے جواب دیا میں وعدہ خلافی ہرگز نہ کروں گا۔ یہ کہہ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
جب اس باغ میں داخل ہوا تو ٹھیک اسی جگہ بیٹھا جہاں چھوہارے کھائے تھے۔ جن کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ ارد گرد کی ہر شے پر حسرت کی نظر ڈالتا اور پھر دل ہی دل میں کہتا کہ یہ دنیائے سرائے فانی ہے ۔ اس لیے دھوکا دینا بے کار ہے۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہے کہ سامنے سے ایک مرد بزرگ نمودار ہوا۔ آدمی صورت دیکھ کر سوداگر کی جان میں جان آئی۔ مرد بزرگ کےساتھ ایک خوبصورت ہرنی بھی تھی جس کی گردن میں لوہے کی زنجیر پڑی تھی۔ بوڑھے نے قریب آکر السلام علیکم کہا۔ سوداگر نے اٹھ کر تعظیم سے سلام کا جواب دیا۔
بوڑھے نے پوچھا اے مرد خدا ! یہ مقام کہ دہشت ناک ہے، انسان کا یہاں گزر نہیں، یہاں آکر بیٹھنا عقل مندی نہیں ہے۔ مجھے بتا تو سہی کہ تیرے یہاں آکر بیٹھنے کا سبب کیا ہے؟۔
سوداگر کی آنکھیں ڈب ڈبا آئی، سارا ماجرا بیان کیا۔ بوڑھا یہ قصہ سن کر بے حد حیران ہوا۔ بولا تو بڑا سچا انسان ہے۔ وعدے کا ایسا سچا آدمی دیکھا نہ سنا۔ اس وقت تیری حالت زار دیکھ کر دل بھر آیا۔ خدا گواہ ہے کہ میں بھی تیرے پاس بیٹھوں گا اور جب تک سارا حال نہ دیکھوں گا ، ہر گز یہاں سے جنبش نہ کروں گا۔ دیکھوں جن کیوں کر پیش آتا ہے۔ مار ڈالتا ہے یا چھوڑ دیتا ہے۔
اتنے میں ایک اور مرد بزرگ جس کے پاس دوکالے کتے تھے، ادھر سے گزرا۔ ان کو دیکھا تو بہت بدحواس ہوا۔ علیک سلیک کے بعد پوچھا۔ تم دونوں ، یہاں کس غرض سے وارد ہوئے؟۔یہ تو دیوﺅں اور جنوں کامسکن ہے۔ انسان کو یہاں آنے سے باز رہنا چاہیے۔ کیا تم دونوں کوموت سے ڈر نہیں لگتا جو یہاں اطمینان سے بیٹھے ہو؟۔
تب پہلے مرد بزرگ نے دوسرے بوڑھے کو ساری سرگزشت سنائی تو اس کو بھی تعجب ہوا۔ پھر بولا میں بھی اب یہاں سے نہ جاﺅں گا۔ دیکھوں تو آگے کیا ہوتا ہے۔
یہ گفتگو ہورہی تھی کہ صحرا کی جانب سے ایک تندو تیز آندھی نمودار ہوئی اور ساری خدائی اس کے گردو غبار سے سیاہ رات میں بدل گئی۔ تھوڑی دیر میں ایک ستون سا سامنے آشکار ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان تینوں کے سامنے ایک بھیانک صورت جن، ہاتھ میں ننگی تلوار لیے کھڑا تھا۔ یہ تینوں اسے دیکھتے ہی کانپنے لگے، جیسے سردی کا بخار زور دے کر چڑھتا ہے۔
جن نے ، سوداگر کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب گھسیٹ کر تلوار تولی تو سوداگر نے اس زور سے چیخ ماری کہ سننے والوں کے کلیجے دہل گئے۔ دونوں بوڑھے بھی تھر تھر کانپنے لگے۔ پھر فوراً ہی پہلا بوڑھا ، جی کڑا کر کے آگے بڑھااور جن کے قدموں پر گر پڑا، ہاتھ باندھ کر منت سماجت کرنے لگا۔ اے جنوں کے سردار ! اس سے پہلے کہ تمہاری تلوار سوداگر کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے میں تمہیں اس ہرنی کا قصہ سناتا ہوں۔ یہ قصہ اتنا عبرت ناک اور حیرت انگیز ہے کہ تم نے کبھی نہ سنا ہوگا۔ اور ہاں ! اگر تمہیں یہ قصہ پسند آیا تو سوداگر کا آدھا قصور معاف کر دینا۔ ورنہ تمہیں اختیار ہوگا کہ سوداگر کے ساتھ میری جان بھی لے لو۔
جن نے تلوار پیچھے ہٹا لی اور بولا اے آدم زاد! اگر واقعی تیری کہانی اس سوداگر سے زیادہ عجیب اور عبرت ناک ہے تو سنا! جو مانگے گا ، وہی پائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں