سلطان شہریار

سلطان_شہریار

صدیوں پہلے کی بات ہے ملک سمر قند پر ایک بادشاہ شہریار حکومت کرتا تھا۔ انصاف میں نوشیرواں، شجاعت میں رستم اور سخاوت میں حاتم طائی سے کم نہ تھا۔ اس کے راج میںشیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے، چھوٹے بڑے چین کرتے تھے۔ محتاج کانام نہ تھا۔ ادنی و اعلیٰ اس کی بادشاہی کا دم بھرتے تھے۔
شہریار کو تخت نشین ہوئے چند ہی برس گزرے تھے کہ ایک صدمے نے اس کے ہوش و حواس چھین لیے وہ ملکہ جسے وہ بہت عزیز جانتا تھا، دھوکے باز نکلی، غصے میںآکر اس نے ملکہ کو اندھے کنوئیں میں ڈلوا دیا۔ اس کے بعد اس نے عہد کیا کہ عورت ذات پر کبھی بھروسا نہ کرے گا۔ وہ روز ایک لڑکی سے شادی کرتا اور پھر صبح ہوتے ہی اسے اندھے کنوئیں میں ڈلوا دیتا۔
شہریار کے اس ظلم نے رعایا پر خوف وہراس طاری کر دیا اور لوگ ایک ایک کر کے دوسرے ملکوں کی طرف کوچ کرنے لگے۔ بادشاہ بھی یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا کہ رعایا ڈر کے مارے ملک چھوڑ کر بھاگنے لگی ہے۔ اگریہی عالم رہا تو ملک خالی ہو جائے گا۔ پھر میں کس پرحکومت کروںگا ، جنگلوں اور ویرانوں پر؟۔
یہ سوچ کر اس نے فوج کو حکم دیا کہ ہمارے ملک کاکوئی بھی آدمی باہر نہ جانے دیا جائے۔ پھر اس نے وزیراعظم کو حکم دیا کہ شام تک کسی اور لڑکی کو ملکہ بنانے کے لیے تلاش کرو۔ یاد رکھو، اگر شام تک ہمارے حکم کی تعمیل نہ ہوئی تو تمہارا زن بچہ کو لہو میں پلوا دیا جائے گا۔
سلطان شہریار کا یہ حکم سن کر وزیر کے ہوش اڑ گئے۔ خدا سے فریاد کی ،یاد الٰہی یہ کیسی مصیبت آئی ہے۔ نہ قصور نہ خطا اور موت کی سزا! سارا شہر گھوما، چوں طرف سراغ لگایا مگر بادشاہ کے حکم کی تعمیل سے ناکام رہا حیران پریشان گھر کی راہ لی اور شک کی جگہ یقین ہوگیا کہ آج بچنا محال ہے۔
اس وزیر کی دوبیٹیاں تھیں۔ بڑی کا نام شہر زاد اور چھوٹی کا دنیا زاد تھا۔ بڑی وزیر زادی علم و فضل میں طاق، ہر فن میں استاد اور بلا کی ذہین تھی۔ اس نے اپنے باپ کو مغموم پایا تو دل بھر آیا۔ پوچھا، ابا جان! آج آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟۔ اس اداسی کا سبب کیا ہے؟۔
اس سوال کے جواب میں وزیر نے اپنی بیٹی سے کل ماجرا کہہ سنایا۔
وزیر زادی نے چھوٹتے ہی کہا ،ابا جان! یہ تو معمولی بات ہے۔ اس کام کے لیے میں حاضر ہوں۔ بادشاہ مجھے اپنے نکاح میں لائیں۔ اگر خدا نے چاہا تو میں بادشاہ کو راہ ر است پر لے آئوں گا۔
اس پر وزیر نے کہا بیٹی! اپنی ننھی سی جان کی دشمن نہ بنو اور اس خیال کو دل سے نکال دو۔
مگر لڑکی نے ایک نہ مانی اوردل میں یہی ٹھانی کہ میں اس وادی ہولناک میں ضرور قدم دھروں گی۔
وزیر نے پھر سمجھایا،جان بابا!تمہارا کدھر خیال ہے؟۔ یہ تم کس خبط میں گرفتار ہو؟ ناتجربہ کاری اور ضد کے ہاتھوں کہیں تمہارابھی وہی حال نہ ہو جو خچر، بیل اور کسان کا ہوا تھا ۔
اس پر شہرزاد نے پوچھا ’’یہ کہانی کیسی ہے؟ ذرا میں بھی تو سنوں۔
تب وزیر خوش تقریر نے یہ سبق آموز کہانی یوں بیان کی:
جان بابا! یہ سچی کہانی تجھے اس غرض سے سناتا ہوں کہ تو عبرت پکڑے ۔ کسی ملک میں ایک بہت دولت مند سوداگر رہتا تھا۔ اس کی دیانت داری اور دولت مندی کا دور دور تک شہر تھا۔ زر و جواہر کے علاوہ اسے جانور پالنے کا بھی بہت شوق تھا اور سب سے بڑھ کر اس کمال میں مشہور تھا کہ سب حیوانوں کی بولیاں سمجھ لیتا تھا۔ ملک کے رواج کے مطابق مویشی بھی مکان کے قریب ہی بندھے رہتے تھے۔ ایک روز اتفاق سے بیل کہیں خچر کے طویلے کے قریب آیا تو اس کو بہت ہی صاف ستھرا پایا۔ تھان خاصا جھاڑا بھارا، ہری ہری گھاس ،چنا ہوا دانہ، خدمت کو سائیس، پینے کو ٹھنڈا ٹھنڈا پانی، خچر مزے سے گھاس کھاتا اور دن بھر بے فکری سے منہ چلاتا جاتا تھا ۔ جب کبھی سوار کا جی چاہا سوار ہوا، ورنہ تمام دن گھاس، دانہ اور آرام۔ سواری سے غرض نہ بے چینی سے کام۔
خچر کی یہ حالت دیکھ کر بیل نے ایک ٹھنڈی سانس کھینچی اور بولا یار ! خدا تجھے اس سے بھی زیادہ آرام اور سکھ دے۔ واللہ تو بڑا خوش نصیب ہے۔ مجھ میں اور تجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تیری قسمت میں آرام سے رہنا ہے اور یہاں ہر دم آفت میں جان ہے۔ سائیس کھریرا کرتا ہے، چاکر پانی بھرتا ہے ، دانہ دلتا ہے۔ سواری ہفتے میں کبھی ایک کبھی دوبار اور یہاں روزانہ آفت میں مبتلا ۔ ہل جوتتے جوتتے دانتوں پسینہ آتا ہے، کلیجا پھٹا جاتا ہے اور جو کسی نے کولھو میں جوتا تو میں کم بخت دن رات آٹھ آٹھ آنسو روتا ہوں۔ نہ دن کو چین ملتا ہے نہ رات کو ۔ اس زندگی سے تو موت اچھی ۔
خچر نے جو بیل کی زبانی اپنی راحت و آسائش بھرے انداز میں بولا !یار تم بھی عجب نادان ہو۔ تمہاری مشکل آسان کرنا تو یاروں کے بائیں ہاتھ کا کرتب اور ذرا سی بات ہے۔ دل میں غور کرو، عقل سے کام لو۔ خدا نے چاہا تو راحت و آرام پائو گے۔
بس جو ہم کہیں کرو۔ جو کہیں اس کے مطابق چلو ۔ اب کی جب تم کو کھیت جو تنے کو لے جائیں اور جوا تمہاری گردن میں پہنائیں تو فوراً گر پڑو۔ اپنی جگہ سے جنبش نہ کرو، جہاں ہو وہیں بیٹھے رہو۔ اگر اٹھو یا جنبش کرو تو پھر جان بوجھ کر گر پڑو ۔ کوئی لاکھ تم کو مارے، ڈنڈے لگائے ، برا بھلا کہے، بوٹیاں نوچ کھائے، تم ہلو نہ ٹلو، جہاں ہو وہیں بیٹھے رہو۔اور زمین ایسی پکڑ لو کہ اٹھنے کا نام نہ لو۔ وہ تمہیں پکڑ دھکڑ کے لے جائیں اور سائیں بھوسا کھلائیں تو منہ نہ مارو، چپ چاپ کھڑے رہو۔ کھانے پینے کی طرف رغبت نہ کرو۔ سمجھیں گے بیل بیمار ہے۔ بیماری اور کمزوری نے اس قدر توڑ دیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بس اسی بہانے سے چین کرو گے، کھیت میں برسوں قدم نہ دھرو گے۔ دن رات کے عذاب سے چھوٹ جائو گے ۔ بس مزے مزے چارہ بھوسا کھائو اور عیش کرو۔ اگر خدا نے عقل دی ہے تو ہمارا کہنا مانو۔ ورنہ کھیت جوتتے جوتتے جان جائے گی اور موت جلد مہمانی کو آئے گی۔
بیل نے خوش ہو کر کہا یار! تمہارا شکریہ۔ میں انشاء اللہ تمہارے مشورے پر پورا پورا عمل کرو ں گا۔
جب اس روز آدمی بھوسا کھلانے آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بیل سر جھکائے اداس کھڑا ہے۔ نہ منہ چلاتا ہے نہ چارہ کھاتا ہے۔ دوسرے روز بیل کو پھر اسی حالت میں پایا تو اپنے آقا سے جا کر عرض کیا حضور! آپ کا بیل بیمار ہے۔ نہ کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے۔ کمزوری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ آج اس سے کھیت نہ جوتا جائے گا۔
سوداگر نے جواب دیا، بیل ہرگز پریشان نہ کرو۔ اگر بیمار ہے تو اس کی جان نہ لو۔ بہتر یہ ہے کہ آج بیل کی بجائے خچر کو لے جائو اور جب تک بیل بیمار ہے اس کو جوتتے جائو۔ اگر یہ شرارت کرے تو مار مار کر چمڑی ادھیڑ دو۔
خچر نے اپنے آقا سے نمک حرامی کی سزا پائی۔ نوکر نے اسے جوتا اور کھیت میں لے آیا۔ دن بھر کھیتو ں میں ہل چلاتا رہا۔ خچر کے پسینے چھوٹ گئے۔ شام کو مر پٹ کے گھر کا راستہ لیا۔ قد م قدم پر افسوس کرتا کہ بڑی حماقت ہوئی۔ بیل تو مزے سے دندناتا ہے۔کھیت کے قریب بھی نہیں جاتا ہے اور یہاں کھیت جوتتے جوتتے کلیجا منہ کو آیا۔ یاری نبھانے کا اچھا پھل پایا۔ نہ گھاس نہ تھان۔ بیٹھے بٹھائے اچھی مصیبت اپنے اوپر لے لی۔
بیل نے جو خچر کو اس حالت زار میں دیکھا تو تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور چلتے چلاتے چرکا دیا ۔ بھائی جان! تم نے ہمیں بچا لیا اور ہمارے اوپر بڑا احسان کیا کہ پرائی مصیبت اپنے ذمہ لے لی۔ واقعی تم بڑے مخلص دوست ہو خدا تمہیں اس کا اجر ضرور دے گا۔
خچر بے چارہ دن بھر کا تھکا ماندہ ، سخت بدحواس تھا مگر طویلہ چوں کہ پاس تھا، چپ چپاتے چل دیا۔ بیل کے شکریے کا جواب دینے کی بھی سکت نہ رہی تھی۔
صبح کو پھر خچر کی شامت آئی۔ مالک نے کھیت کی راہ دکھائی۔ گرتا پڑتا چلا۔ مگر ایک ایک قدم چلنا دشوار تھا۔ سویرے سے شام تک ہزار چکر کھائے، جان پر بن گئی۔ کئی بار قدم ڈگ مگائے۔ مار بھی کھائی اور سختی بھی اٹھائی۔ مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ کھیت جوتتا رہا۔
شام کو جب واپس آیا تو نہایت کمزور و ناتواں تھا۔ ہل جوتتے جوتتے ا دھ مرا ہوگیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اس کی حالت دیکھ کر بیل نے پھر دل و جان سے شکریہ ادا کیا۔ بھائی جان! تم نے دوستی کا حق ادا کر دیا۔ دوست ہو تو ایسا ہی ہو۔ آفرین ہے تمہاری ہمت اور خلوص پر ! کہ دوست کی خاطرتم مرے جاتے ہو اور اف تک نہیں کرتے۔
خچر نے سوچا کہ یہ بڑی ٹھہری کہاں دن بھر آرام تھا اور کہاں اب کہ صبح جاتے ہیں، شام کو آتے ہیں۔ پچھلے دن کی تھکاوٹ ابھی دور نہیں ہوتی کہ اگلے روز پھر کھیت میں لے جاتے ہیں۔ کچھ دن اور یہی حالت رہی تو موت یقینی ہے۔ ہم باز آئے ایسی دوستی اور ہمدردی سے کہ جس سے جان کے لالے پڑ جائیں ۔ لہٰذا اب کوئی تدبیر اس مصیبت سے بچنے کی کرنی چاہیے اور بیل کا کام بیل کو سونپنا چاہیے۔
آخر سوچتے سوچتے ایک بات ذہن میں آئی ۔ وہ بیل سے کہنے لگا یار ! آج تو ہمارے آقا نے بڑی بے ڈھب بات سنائی ہے کہ اگر کل تڑکے بیل اپنی جگہ سے نہ ہلے تو فوراً قصاب کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ وہ بندھے بندھے مفت میں کھاتا ہے اور مزے اڑاتا ہے۔ بے کار بیل کو کھانا پلانا فضول ہے۔ میں نے یہ خبر سنی تو بڑا پریشان ہوا کہ میرے پیارے دوست کی جان لینے کا مشورہ ہو رہا ہے ۔ لہٰذا اب ہمارا دوستانہ مشورہ ہے کہ تم بیماری کا بہانہ فوراً چھوڑ دو۔ ہنسی خوشی کھیت کو جائو۔ جان ہے تو جہان ہے۔
بیل نے جب یہ بات سنی تو اپنے دوست کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تم نے ایک بار پھر دوستی کا حق ادا کر دیا ہے۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے۔ اسی روز سے بیل نے خوشی سے بھوسا کھایا۔ پانی پیاا ور خوب اچھلا پھاندا۔
دوسرے روز صبح کو سوداگر اپنی بیٹی کے ہمراہ بیل کو دیکھنے گیا تو اسے چاق و چوبند پایا۔ بیل نے مالک کو دیکھ کر دم ہلائی کہ میں اب بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ نوکر نے اسے کھولا تو وہ خوب اچھلا پھاندا۔ سوداگر یہ حال دیکھ کر بہت ہنسا۔ اس کی بیٹی نے حیران ہو کر پوچھا کیا بات ہے ؟۔ آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟۔
سوداگر نے جواب دیا میں نے کچھ ایسی ہی بات دیکھی اور سنی ہے کہ ہنسی کو روکنا محال ہے۔
بیٹی نے پوچھا کیسی بات ہے ،ابا جان! مجھے بھی تو کچھ بتائیے؟۔
مگر سوداگر نے جواب دیا یہ راز کی بات ہے اگر میں تمہیں بتا دی تو خطرہ ہے کہ میری جان نہ چلی جائے۔
بیٹی سوداگر کی بہت چہیتی اور منہ چڑھی تھی اس نے اصرار کیا کہ چاہے کچھ ہو یہ راز جانے بغیر مجھے چین نہ آئے گا۔۔
غرض بیٹی نے اس درجہ تنگ کیا کہ سوداگر عاجز آگیا۔
اب سنیے کہ اس سوداگر کے گھر میں ایک مرغ تھا اور پچاس مرغیاں، ان کے علاوہ ایک کتا بھی گھر میں پاس رکھا تھا۔ کتے نے مرغ سے جا کر کہا یار ! تم بڑے نمک حرام ہو۔
مرغ نے حیرت سے پوچھا کیوں ؟۔ میں نے کون سی نمک حرامی کی ہے؟۔
اس پر کتے نے کہا ، ہمارے آقا اب صرف چند گھڑیوں کے مہمان ہیں۔ کوئی دم میں قضا انہیں ہم سے چھین کے لے جائے گی۔
مرغ نے اور بھی حیرت کا اظہار کیا ،یہ کیا کہہ رہے ہو؟ صاف صاف کہو ، کیا ماجرا ہے؟۔
جواب میں کتے نے ساری بات سنا دی۔ مرغ نے جب یہ قصہ سنا تو بڑا ملال ہوا۔ کہنے لگا ہمارے آقا ناتجربہ کار ہیں۔ حیرت ہے کہ ذرا سی لڑکی سر پر چڑھی جاتی ہے، ہم تو ایسی بیٹی کو وہ سزا دیں کہ عمر بھر یاد کرے۔ وہ بیٹی کیا جو باپ کو مار ڈالے اور گھر برباد کرے ۔ مگر ہمارے مالک کی عقل گدی میں معلوم ہوتی ہے کہ بیٹی کے اصرار پر جان گنوائے دیتا ہے۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ شہتوت کی ایک ٹہنی توڑ کر کمرے میں گھس جائے اور اس لڑکی کو ایسی سخت مار دے کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔ ضد اور اصرار بھول جائے۔
سوداگر نے جو مرغ کی تقریر سنی تو سوچا کہ یہ گوٹکے کا جانور ہے لیکن بات پکی کہتا ہے ۔ نہ جانے میری عقل کو کیا ہوگیا تھا کہ میں جان دینے پر تیارتھا۔ لہٰذا سوداگر نے ٹھان لی کہ اس ضدی لڑکی کو ایسی سزا دے گا کہ عمر بھر یاد رکھے گی۔ اس نے شہتوت کے درخت سے کچھ شاخیں توڑیں اور ایک کمرے میں چھپا رکھیں۔ اپنی بیٹی سے کہا کہ یہاں آئو کہ تمہیں وہ راز بتائوں ۔ بیٹی خوش خوش کمرے میں گئی۔ سوداگر نے دروازہ بند کر لیا اور شہتوت کی چھڑی سے دھکایا تو وہ چلا چلا کر منت سماجت کرنے لگی کہ آئندہ ایسی گستاخی نہ کرو ں گی۔ ہاتھ جوڑتی ہوں ، اب کے معاف کرو۔
سوداگر نے بیٹی کو معاف کیا اور کہا یاد رکھ پھر کبھی ایسی ضد کی تو مار مار کر قیمہ بنا ڈالوں گا۔
وزیر کی بیٹی نے یہ قصہ سن کر کہا ابا جان! میں ابھی تک اپنی بات پر قائم ہوں۔ جو کہا ہے کر کے دکھائوں گی۔
وزیر نے جب دیکھا کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو بیٹی کی بات مان لی۔ سارے ملک میں منادی کرا دی گئی کہ شہر زاد کی شا دی سلطان شہریار سے ہوگی۔ ادھر شہرزاد نے اپنی چھوٹی بہن دنیا زاد کو سمجھا دیا کہ میں جب بادشاہ کے پاس جائوں گی تو وہاں سے تجھ کو ضرور بلوائوں گی۔تو موقع وقت دیکھ کر اصرار کرنا کہ باجی جان! رات ٹالے نہیں ٹلتی، ذرا دل بہلائو کوئی کہانی سنائو۔ خدا نے چاہا تو وہی کہانی ہماری تمہاری جان بچائے گی اور ملک کی باقی لڑکیاں بھی محفوظ رہیں گی۔
شہر زاد دلھن بن کر محل میں پہنچی۔ سلطان شہریار خوش خوش اس کے پاس آیا مگر وہ اسے دیکھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بادشاہ حیران رہ گیا! پھر پوچھا۔
تم اس قدر آٹھ آٹھ آنسو کیوں روتی ہو؟ اگر کوئی تکلیف ہو تو بتائو کہ علاج کیا جائے۔
تب شہر زاد نے جواب دیا اے شاہ عالم ! کنیز کو اس وقت اپنی چھوٹی بہن یاد آئی ہے۔ اگر آداب شاہی کے خلا ف نہ ہو تو اسے بلوا دیجئے۔
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ شہر زاد کی چھوٹی بہن کو لائو، تاخیر نہ ہو، ابھی جائو۔
جب شہر زاد کی چھوٹی بہن آئی تو اس نے اسے گلے لگالیا۔ دنیا زاد نے کہا باجی جان! اس وقت کوئی کہانی سنائیے۔ اپنا بھی غم غلط کیجئے اور با دشاہ سلامت کا دل بھی بہلائیے۔
شہر زاد نے کہا ، کہانی تو ہم بڑی خوشی سے سنائیں مگر بادشاہ سلامت کے حکم کا انتظار ہے۔
تب شہر یار نے کہا ،بسم اللہ ! ضرور سنائو۔ ہمیں کیا انکار ہے ۔ شہر زاد نے خدا کا نام لے کر کہانی شروع کی اور اس طرح الف لیلہ کی داستان کی بنیاد ڈالی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں