سلطان شمس الدین ال تمش

sultan_shamsudin

سلطان قطب الدین کے ناگہانی انتقال پر لاہور کے فوجی سرداروں نے اس کے لے پالک بیٹے آرام شاہ کی بادشاہی کا اعلان کیا۔ (معتبر تاریخوں میں قطب الدین کی صرف تین بیٹیو ں کا ذکر آتا ہے۔ ان میں سے پہلی اور اس کے مرنے کے بعد دوسری والی سندھ سے بیاہی گئی تھی۔ راورٹی کی تحقیقات میں ہے کہ آرام شاہ قطب الدین کا متبنی بیٹا تھا۔ (طبقات ناصری)۔
آرام شاہ کی بادشاہی میں یہ مصلحت ہو سکتی ہے کہ پنجاب کو غزنی اور سندھ کے دعوے داروں سے بچایا جائے۔ لیکن بھارت خاص کے صوبہ داروں نے یہ انتخاب قبول نہیں کیا۔ علی بن مردان خلجی بنگال میں خود مختار ہو بیٹھا۔ امرائے دہلی کو بھارت کے مقبوضات بچانے کے لیے کسی تجربہ کار و موزوں سردار کی تلاش ہوئی اور سپہ سالار علی اسمعیل کی تحریک سے انہوں نے شمس الدین ال تمش کا انتخاب کیا جو سلطان قطب الدین کا داماد تھا اور ان دنوں بدائوں کا صوبہ دار تھا۔
یہ نامور بادشاہ جس نے بھارت کے اتنے بڑے رقبے پر حکومت کی کہ راجا اشوک کے سوا شاید اور کسی کو پہلے نصیب نہ ہوئی ہوگی۔ ایک ترک امیر زادہ تھا مگر سوتیلے بھائیوں نے اسے بچپن میں کسی سوداگر کے ہاتھ بیچ دیا اور بخارا کے ایک قاضی نے خرید کر اس کی پرورش کی جوان ہوا تو قطب الدین کے پاس لایا گیا اور وہ اس کے حسن صورت اور فراست سے اتنا خوش ہوا کہ منہ مانگی قیمت دے کر خرید لیا۔ پھر بتدریج ترقی دی اور اقطاع بداوں کا حاکم بنایا جو ان دنوں بہت باوقعت صوبہ تھا۔
شمس الدین کے بادشاہ منتخب ہونے کی آرام شاہ اور اس کے ساتھیوں نے مخالفت کی۔ لاہور سے دہلی پر فوج بھی لے کر آئے مگر آرام شاہ ایک معرکے میں مارا گیا۔ بھارت کے صوبہ داروں، سرداروں نے شمس الدین کے آگے گردن جھکا دی۔ بنگالہ کے سرکش خلجیوں کو زیر کرنے کے لیے زیادہ اہتمام کی ضرورت تھی لیکن ادھرتوجہ کرنے سے پہلے سلطان کو قدیم اور قریب تر حریفوں سے سابقہ پڑا ۔ سلطان قطب الدین ایبک نے پنجاب کو تدبر و شمشیر کے زور سے قبضے میں رکھا تھا ،ورنہ حق یہ ہے کہ ان دنوں غزنی کا اس پر حق فائق تھا اور شمس الدین کو ابتدا میں مصلحت یہی نظر آئی کہ تاج الدین یلدز سے دب کر صلح کر لے۔ رسم قدیم کے مطابق تاج دار غزنی کی طرف سے بھارت کی بادشاہی کا خلعت شمس الدین کو دہلی بھیجاگیا اور وہ شکر گزاری میں پنجاب سے سر دست دست بردار ہوگیا۔ لیکن چند سال میں جب دہلی میں اس کا اقتدار جم گیا اور ادھر یلدز خوارزمی لشکر کے مقابلے میں شکست کھا کر غزنی سےپنجاب آیا اور تخت بھارت کی ہوس میں ستلج سے پار اترا توشمس الدین نے آگے بڑھ کر ترائن کےقریب اسے شکست دی اور گرفتار کر کے بدائوں بھیج دیا۔ غزنی کا یہ آخری بادشاہ وہیں پیوند خاک ہوا۔
اب سلطان شمس الدین نے لاہور پر پیش قدمی کی اور پنجاب کے دوسرے مدعی قباچہ کو بیاس کے کنارے شکست دی۔ یہ صوبہ دوبارہ قبضے میں آگیا لیکن جہلم کے پار سلطان کا حکم نہ چلتا تھا اور جنوب مشرقی حدود موجودہ ضلع منت گمری سے آگے نہ جاتی تھیں۔ممالک بھارت کے دوسرے سرے یعنی بنگال میں بھی سلطان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ یہاں سلطان قطب الدین کے انتقال کی خبر سنتے ہی علی مردان خلجی نے اپنی آزاد بادشاہی کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن بادشاہ ہو کر خود پسند ی اور جبر و تعدی کی وہ حرکتیں کیں کہ خلجی امرا عاجز آگئے۔ انہوں نے ایکا کر کے علی مردان کو قتل کر دیا اور حسام الدین خلجی کو انتخاب کیا جو سلطان غیاث الدین کے لقب سےمشہور ہے۔ اس کے زمانے میں بنگال نے بڑی رونق پائی۔ اور لکھنوتی اہل علم و فن کا مرجع بن گیا۔ اس کی وفات کے پندرہ سولہ برس بعد صاحب طبقات ناصری ان علاقوں میں آیا تو غیاث الدین کے انتظام اور رفاع عامہ کے بہت سے آثار دیکھے اور اس کی سخاوت ورعایا پروری کے قصے سنے۔ وہ بنگال میں سلطان شمس الدین ال تمش کا خطبہ اور سکہ جاری کرنے اور غالباً بہار کو بھی چھوڑ دینے پر آمادہ تھا لیکن بعد میں اسی صوبے کے لیے سلطانی صوبہ داروں سے جھگڑا ہوگیا۔ال تمش کا بیٹا ناصرالدین ملک اودھ کا والی تھا۔ وہ باپ کی اجازت سے بنگال پر فوج لے گیا اور غیاث الدین کو کئی امیروں سمیت گرفتار کرلیا۔ اسی کے ساتھ بنگال کی پہلی آزاد بادشاہی کا صرف چند سال میں خاتمہ ہوگیا۔
بنگال بہت وسیع ، آباد وزرخیز ملک تھا ۔ یہاں کے صوبہ دار کو لازمی طور پر تمام اندرونی اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ پھر بھی کبھی مرکزی عمال کے تنگ کرنے سے اور کبھی بادشاہی کے شوق میں یہ صوبہ دار کامل آزادی کا دم بھرنے لگتے تھے اور پائے تخت سے ان کا فاصلہ ہی مدافعت کا کچھ کم مستحکم مورچہ نہ تھا۔ لیکن سلاطین دہلی کی جرات و مستعدی پر آفریں ہے کہ پہلے محمد تغلق کے زمانے تک اور پھر مغل بادشاہوں کے دور میں اس ملک پر سینکڑوں سال ان کا تسلط قائم رہا۔

فتوحات راج پوتانہ (الحاق سندھ)
اس اثنا میں سلطان ال تمش نے راج پوتانہ کے دو قلعے فتح کیے۔ دوآب و دہلی کے بہت سے غیرت مند را ج پوت ، مسلمانوں کی محکمومی سے بچ کر ان ریگستانی انظام میں آبسے تھے اور یہ پورا ملک بہترین بھارتی سپاہیوں کامسکن و مامن بن گیا تھا۔ گرمی کی شدت اور زمین کے دشوار گزارو کم حاصل ہونے کی وجہ سے بھی مسلمان حملہ آوروں کو یہاں کے صحرا و کوستان فتح کرنے کی ترغیب نہ ہو سکتی تھی لیکن انہی ریگستان کے ٹیلوں اور کوہ ارولی کی چوٹیوں کے پار گجرات و مالوہ کے سرسبز میدان تھے اور ان تک پہنچنے میں راج پوتانہ سے گزرنا پڑتاتھا۔ پس ان علاقوں کو قابو میں لانا ضروری ہوا اور اسی ضمنی ضرورت سے یہاں کے قلعو ں کےلیے بار بار خون بہانے کی نوبت آئی۔ زیر نظر زمانے میں رن تھنبور کا قلعہ مضبوطی میں ضرب المثل تھا۔ (طبقات ناصری میں یہ ہندی روایت نقل کی ہے کہ رن تھنبور پر گزشتہ زمانوں میں ستر سے زیادہ حملے ہوئے مگر کوئی حملہ آور اسے فتح نہ کر سکا تھا)۔ اس کے آثار دیکھ کر تسخیر کی دشواریوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہ ارولی پربت کی ایک شا خ پر واقع ہے جس کے نیچے کے میدان سے غنیم کا چڑھنا اور عقب میں پہاڑیوں سے قلعے والوں کی آمدو رفت روکنا بہت مشکل تھا لیکن سخت کوش ترکوں نے چند ہی ماہ میں محصوروں کو مایوس کر دیا اوریہ مستحکم قلعہ مسخر ہوگیا۔( 623ھ۔۔1226ء)
راج پوتانہ کے مغربی جانب مارواڑ کا صدر مقام اور پری ہار قوم کے راجپوتوں کا مرکز منڈور کئی قلعوں کا مجموعہ تھا۔ جودھ پور کے قریب اس کے کھنڈر سابقہ وسعت و سنگینی کی گواہی دیتے ہی لیکن معلوم ہوتا ہے یہاں اتنی مزاحمت بھی نہ ہوئی جتنی رن تھنبور میں ہوئی تھی اور سلطانی افواج نے اسے چند ہی حملوں میں چھین لیا۔
راج پوتانہ کی ان کامیابوں نے سلطنت دہلی کو محفوظ و مضبوط کر لیا تو سلطان شمس الدین کو اپنے ہم زلف کا سر نیچا کرنے کی فرصت مل گی۔ سندھ پر ان دنوں پہلے جلال الدین خوارزمی نے حملے کیے اور پھر چنگیزی طوفان کی موجوں نے تلاطم ڈال دیا تھا۔ اس فتنہ مغول کا حال ہم بیان کریں گے فی الحال زیر نظر مضمون کی جانب آتے ہیں۔
یہاں یہ لکھنا کافی ہے کہ خوارزم شاہ خود سندھ سے ایران واپس گیا تو قباچہ نے اس کے سرداروں کو مکران، بلوچستان کے اضلاع میں نہ ٹکنے دیا اور وہ وہاں سے دھکے دے کر نکالے گئے تو سلطان دہلی سے فریاد کی اور ال تمش کو سندھ پر حملہ کرنے کی ایک اور تحریک پیدا ہو گئی۔
625ھ کے آغاز میں افواج دہلی نے حرکت کی اور بھٹنڈہ پہنچ کر مغرب کی طرف مڑ گئیں۔ یہاں سے کوئی دو سو میل دور دریائے ستلج پر واقع تھا اور شہر کے باہر اسی دریا کے کنارے ناصر الدین قباچہ نے حملہ آوروں کو روکنے کی تیاریاں کی تھیں لیکن جب لاہور کے شمسی صوبہ دار نے شمال سے ملتان پر فوج کشی کی اور مدافعت کا یہ منصوبہ درہم برہم ہوگیا تو قباچہ کو دوطرفہ زد سے بچ کر بھکر میں ہٹنا پڑا۔ اچھ کی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔ قباچہ نے بیٹے کوسلطان شمس الدین کی خدمت میں بھیج کر صلح کی درخواست کی۔ اس نے شرط لگائی کہ وہ خود حاضر ہو ۔ بہادر قباچہ کو یہ عار گوارا نہ ہوا اور بھکر کی فصیل سے دریا میں کود کر جان دے دی۔ (یہ طبقات ناصری کی روایت ہے جس کا مولف ان دنوں سندھ میں موجود تھا ۔ بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ قباچہ کشتی میں بیٹھ کر نکل جانا چاہتا تھا کہ کشتی دریائے سندھ میں ڈوب گئی۔)
پورے ملک سندھ کا سیوستان و مکران تک دولت شمسی کے ساتھ الحاق کر لیا گیا۔
سنددربار خلافت اور فتح مالوہ:
اہل دہلی نے سندھی فتوحات کی بڑی خوشی منائی ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پاکستان اور شمالی بھارت میں صرف ناصر الدین قباچہ کو سلطان دہلی کی ہم سری کا دعویٰ رہ گیا تھا اورپنجاب کے شمسی عمال ہمیشہ اس مغربی رقیب کی طرف سے اندیشہ مند رہتے تھے۔ قباچہ کی موت اور سندھ کی خود مختاری ختم ہونے سے یہ خلش مٹ گئی۔ دوسرے اسی زمانے میں خلیفہ بغداد کے سفیر کشور ہند کی بادشاہی کی سند اور خلعت لے کر دہلی آئے جس نے جشن فتح کی دھوم دھام کو دوبالا کر دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دربار خلافت نے ممالک ہند کی جداگانہ بادشاہی تسلیم کی ورنہ پہلے وہ سلطنت غزنی کی تابع سمجھی جاتی تھی۔ خلیفہ بغداد کا سیاسی اقتدار اسلامی ممالک سے زائل ہوچکا تھا۔ لیکن رسمی احترام باقی تھا اور ہر جگہ خطبوں میں اول خلیفہ بغداد اور پھر مقامی فرما ں روا کا نام لے کر دعا کی جاتی تھی جو نیا ملک مسلمان فتح کرتے یا کوئی بادشاہ کہیں تخت نشین ہوتا اور خلافت بغداد کی جانب سے اسے سند بادشاہی مل جاتی تو وہ اسے اپنی عزت اور تقویت کا باعث سمجھتا تھا۔ یہی رسم تھی جو 626ھ میں بغداد کے سفیروں نے پائے تخت دہلی میں ادا کی۔سارے شہر کی بڑے تکلف سے آئینہ بندی ہوئی۔ کمال تجمل و احتشام سے عام دربار سجایا گیا جس میں خلیفۃ المسلمین کی سند پڑھ کر سنائی اورسلطان کو عبائے شاہی پہنائی گئی۔ بادشاہ کی طرف سے حضرت خلیفہ کے لیے گراں بہا تحائف نذر کیے گئے۔ امرائے دولت و خلعت اور عمال کو انعام اکرام سے نوازا گیا۔ ان رسمی تکلفات اور ہنگامی خو ش وقتیوں سے قطع نظر کچھ شک نہیں کہ اس بغدادی سفارت نے بھارت کا اسلامی ، عربی ملکوں سے اتباط قوی کیا۔ عراق و شام کے اہل علم اورتاجر زیادہ تعداد میں بھارت آنے جانے لگے۔ تیس برس بعد جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو نے دارالخلافت کو تاراج و خراب کیاتو دہلی بھی بغداد کے خاص ماتم گساروں میں تھی۔
اسی زمانے میں جب کہ قصر شاہی مسرت اور تہنیت کے نغموں سے گونج رہاتھا۔ شہزادہ ناصر الدین کے انتقال کی خبر آئی۔ سلطان کا یہ لائق بیٹا بنگال کی خود مختار کا خاتمہ کرنے کے بعد وہاں کا امیر و والی بنایا گیا تھا اس کی وفات سے بادشاہ کو دلی صدمہ ہوا اور مشرقی اقطاع میں پھر شورش کے آثار پیدا ہوئے۔ سلطان شمس الدین کو خود وہاں جانا اور از سر نو انتظام جمانا پڑا۔ واپس آنے کے بعد فتح مالوہ کے منصوبے کو عمل میں لانے کا موقع ملا۔ 629ھ میں افواج شاہی کو عمل میں لانے کا موقع ملا۔ 629ھ میں افواج شاہی نے دہلی سے کوچ کیا اور سب سے پہلے گوالیار کو جہاں کے راجا کی وفاداری مشکوک تھی، طویل محاصرے کے بعد خالی کرالیا ۔
آئندہ دو سالوں میں مالوہ کی فتح تکمیل کو پہنچی۔ بھیلسا اور اجین کی تسخیر سے سلطنت دہلی کی جنوبی حدو دریائے نربدا تک وسیع ہوگئیں۔ شاہان موریا کے بعد جن کی حدود سلطانت ایک حد تک ظنی ہیں تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ بھارت کے اتنے ممالک و اقطاع ایک مرکزی حکومت کے تحت میں آئے اور ہمالیہ سے بندھیا چل تک ایک ہی بادشاہ کا سکہ چلنے لگا کشمیر کے ہن دو راجا غزنویوں کے آخر عہد ہی میں آزاد اور اپنی مسکین رعایا کے حق میں فرعون بے سامان بن گئے تھے۔ جہلم کے پار موجودہ صوبہ سرحد میں ان دنوں چنگیزی مغول نے ہل چل ڈال دی تھی ورنہ مغربی اور مشرق پاکستان کے اکثر علاقے سلطان شمس الدین ال تمتش کے زیر نگین تھے اور جزیرہ ہائے گجرات و دکن کو چھوڑ کر پورا شمالی بھارت اللہ اکبر، یا اللہ کے شمسی علم کے زیر سایہ آگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
بھارتی وزیراعظم نے 21دن کیلئے لاک ڈائون لگا دیا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں لاک ڈائون لگا دیا ہے۔ اس کا اطلاق انڈیا میں رات 12بجے سے ہوگا ۔یہ کرفیو اور لاک ڈائون ہے ، رات کے 12بجے کے بعد کوئی گھر سے نہیں نکل سکے گا۔
انڈین بھر میں یہ لاک ڈائون 3 ہفتوں کاہوگا۔ 21دن کے اس لاک ڈائون میں انڈیا کے غریب عوام کیلئے نریندرا مودی نے ایک ریلیف پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔
انڈیا دنیا کی بڑی آبادی والا ملک ہے۔ اس میں غربت بھی اتنی ہی بڑی ہے جتنی معیشت اور آبادی بڑی ہے۔ ایک بڑی تعداد میں لوگ یہاں جھونپڑیوں اور کچے مکانات میں بھی رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر گنجان آباد ترین ہیں ۔ یہاں پر لاک ڈائون اور اس کے بعد عوام کو سنبھالنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا کیونکہ جتنی غربت انڈیا میں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے ساتھ جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے اس کے بعد اس لاک ڈائون پر عملدرآمد مشکل نظر آتا ہے۔
بحرکیف ہم دعا گو ہیں اس پر عمل درآمد ہو کیونکہ یہ وائرس ہندو ، مسلم، عیسائی، سکھ ، پارسی یا کسی اور مذہب کے ماننے والا کو دیکھ کر نہیں لگ رہا بلکہ یہ انسان سے انسان کو لگ رہا ہے اور یہ وائرس بالکل تمیز نہیں کرتا ہے کہ کس کی کیا ذات ہے یا کیا مذہب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے اہم ترین ملکوں کو بھی اس وائرس نے بے بس کر دیا ہے۔ایک دوسرے سے دور رہنے کے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ قرنطینہ سب کیلئے ہے وزیراعظم کیلئے بھی۔
گزشتہ دنوں انڈیا میں گائے کے پیشاب کو پینے کی بھی ایک کمپین چلی تھی جس میں لوگوں کا کہنا تھا کہ گائے کےپیشاب کو پینے سے کرونا وائرس نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں