سلاطین شمسی اور فتنہ مغول

mongolia

خاندان شمسیہ کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیںجس میں سلطان شمس الدین کی اولاد کے ساتھ اس کے مملوک بلبن (اور کے قباد) کا زمانہ بھی محسوب ہوتا ہے۔
سلطان شمس الدین ال تمش نے 26برس حکومت کرکے شعبان (633ھ۔ 236ئ) میں انتقال کیا۔ یہ ایسا دین دار و درویش دوست بادشاہ تھا کہ معتبر تذکروں نے اس کا شمار اولیاءاللہ میں کیا اور کئی کرامتیں نقل کی ہیں۔ (اخبارالاخیار، تذکرة الصالحین وغیرہ)
محض دنیاوی اعتبارسے اس کی یہ کامیابی ہی کچھ کم غیر معمولی نہ تھی کہ غلامی سے اتنی بڑی بادشاہی کے درجے تک پہنچا اور بہت سے طاقت ور ہم چشموں نے اس کا انتخاب کیا اور غالباً کبھی اس انتخاب پر پشیمان نہیں ہوئے۔ پھر وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اپنے آقا سے کہیں بڑی سلطنت میراث میں اور ملکی انتظامات سنبھالنے کےلئے ایک تربیت یافتہ جماعت مرتب کر گیا جس کے افراد ”ترکان چہل گانی “کہلاتے ہیں۔ مگر سلطان کی صلبی اولاد میں کوئی ایسا خلف رشید نہ نکلا کہ ان وسیع ممالک کی بادشاہی کے دشوار فرائض سے عہدہ برآ ہوتا۔ بڑا اور سب سے لائق فرزند بنگال میں فوت ہو چکا تھا۔ دوسرے سات بیٹوں سے وہ اپنی بیٹی رضیہ کو قابل ترجیح سمجھتا تھا اور ایک دفعہ اسی کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا۔ لیکن شاید آخری بیماری میں منجھلے بیٹے رکن الدین سے رضا مند ہوگیا تھا کہ امرا نے پہلے اسی کو وارث تاج و تخت بنایا۔ چھ ہی مہینے میں اس نے اپنی نااہلی ثابت کر دی۔ امرائے دہلی نے تنگ آکر اسے معزول اور سلطانہ رضیہ کوبادشاہ قبول کر لیا۔یہ شہزادی امورجہاں داری سے خوب واقفیت رکھتی تھی اور اس کی شجاعت و فراست میںبھی کلام نہ تھا لیکن وہ دور جس میں بادشاہ کی شخصیت پر تمام نظام حکومت کا مدار ہو، ایک عورت کی حکومت کے لیے سازگار نہ ہوسکتا تھا۔خصوصاً جبکہ رضیہ کے کئی جوان بھائی موجود اور مختلف اقطاع میں حکومت پر فائز تھے۔ ترک امیروں کی ناگواری کا ایک سبب یہ ہوا کہ ملکہ نے یاقوت حبشی کو اصطبل کی داروغائی سے امیر الامرائی کے منصب پر تقرری دی۔ اور جب بڑے بڑے امیر اپنے صوبوں پر گئے تو یاقوت کا ستارہ ایسا چمکا کہ باقی درباری ماند پڑ گئے۔ اول اول جن امیروں نے سرکشی کی تھی انہیں بہادر ملکہ نے تلوار سے سیدھا کیا لیکن آخر میںخود فوج شاہی کے ترک سردار منحرف ہو گئے۔ وہ بھٹنڈہ کے صوبہ دار التونیہ پر لشکر لے جارہی تھی کہ راستے میں اہل سازش نے شب خون مار کر یاقوت کو ہلاک اور سلطانہ کو قید کر لیا۔ دہلی میں اس کے بھائی معز الدین بہرام شاہ کی بادشاہی کا اعلان ہوگیا۔ رضیہ نے التونیہ سے شادی کر کے دوبارہ دہلی پر چڑھائی کی مگر بہت کم لوگوںنے اس کا ساتھ دیا ۔ رہتک کے قریب وہ اس کا شوہر شکست کھا کر مارے گئے ۔ (ربیع الاول 637ھ۔۔ 1239ئ)
فتنہ مغول:
اسی بہرام شاہ کے عہد حکومت میں کفار مغول نے پہلی مرتبہ دریائے سندھ کو عبور کیا اور پنجاب کو تہہ و بالا کر ڈالا۔ یہ خوفناک حملہ آور قریبی سنین میں مغولستان (منگولیہ) کے پہاڑی بیابانوں سے اٹھ کر ٹڈی دل کی طرح ایشیا کے اسلامی ملکوں پر پھیل گئے تھے اور افغانستان پر قبضہ جمانے کے بعد پاکستان و بھارت کے زرخیز علاقوں پر ان کا دانت تھا۔ شمالی و سط ایشیا کے وحشی اقوام کے سیلاب تاریخ میں نئی بات نہ تھے۔ قرون ماضیہ میں وہ بارہا یورپ و ایشیا میں امنڈتے رہے۔ لیکن تفصیلی واقعات کے اعتبار سے وہ فتنہ مغول یہی ہے جس کے صحیح حالات محفوظ رہے۔ (ساتویںصدی ہجری اور بعد کی کئی عربی فارسی تاریخوں میں چنگیز خانی یورش اور بلاد اسلامی کی تباہی کے واقعات نہایت صحت وصراحت سے قلم بند کئے گئے ہیں۔ ہمارے لیے ایک بہت اچھا ماخذ طبقات ناصری ہے جس کا مولف ان یورشوں کے وقت بعض لڑائیوں میں موجود تھا۔دوسرے معتبر ذرائع سے بھی اس نے ”فتنہ مغلو ں“ کے حالات فراہم اور اپنی تاریخ کے آخر میں تحریر کیے ہیں۔ )
مغولستان کا علاقہ چین کے شمال میں بہت دور تک پھیلا ہوا ہے لیکن پہاڑی زمین اور سخت سردی کی وجہ سے پیداوار نہیں ہوتی ۔ انہی ویران قطعات میں صحرائی مغلوں کے قبیلے اپنے اونٹ اور گھوڑے چراتے پھرتے تھے۔ چھٹی صدی ہجری کے آخر میں ان کے ایک سردار تمورچین نے رفتہ رفتہ بہت سے قبیلوں کا جتھا بنایا اور ہمسایہ ملکوں سے لڑائی میں کامیابی پا کر چنگیز خان یعنی سردار اعظم کے لقب سے مشہور ہوا۔ اسلامی سلاطین میں اس کی پہلی ٹکر خوارزم (خیوا) کے سلطان علاءالدین سے ہوئی۔ (614ھ ، 1217ئ) کہتے ہیں اسی بادشاہ کے اشارے سے مغلوں کے سفیر اور سوداگر کے ایک قافلے کو کسی خوارزمی حاکم نے لوٹ کر مار ڈالا۔ صرف ایک شخص بچ کر نکل گیا تھا جس نے چنگیز خان کو اس حادثے کی خبر پہنچائی اور وہ علاﺅ الدین خوارزم شاہ سے بدلہ لینے پر تل گیا ۔چنگیز خانی قاصد مغولستان کے ہر گوشے اور قبیلے میں دوڑ گئے اور چندماہ کے اندر چھ لاکھ جنگ جو سواروں کا لشکرجمع ہو گیا۔ (تعداد میں اختلاف ہے۔ بعض مشرقی تاریخیں زیادہ اور یورپی کتابیں کم تر بتاتی ہیں۔ ہم نے طبقات ناصری کی پیروی کی ہے)۔
جب کوچ کیا گیا اس وقت دس دس سواروںکی ٹولیاں بنا دی گئیں۔ ہر ٹولی کے پاس ایک دیگچہ اور ایک مشک تھی کہ مل کر پکائیںاور پانی کے کام میں لائیں۔ گھوڑوں کے بہت سے گلے فوج کے ساتھ تھے کہ راستے میں رسد نہ ملے تو ان کے گوشت اورگھوڑیوں کے دودھ سے شکم پری کی جائے۔ عام سپاہیوں کی وردی (ایک موٹے تہمد اورچمڑے کے سینہ بند) کے سوا کچھ نہ تھی اور صدہا سوار ایسے تھے کہ لگام کے سوا گھوڑے کا زین تک انہیں میسر نہ تھا۔ البتہ ہر شخص نیزہ و شمشیر سے مسلح اور تیروں کا کافی ذخیرہ لے کر چلا تھا۔
616ھ میں یہ بے پناہ لشکرشاہ خوارزم کی فوجوں کو شکست دے کر سمر قند و بخارا کے علاقوں میں پھیل گیا۔ راستے میں جو شہر و قریہ ملا وہاں کے زن و مرد کو بے دریغ تہ تیغ کیا اور جگہ جگہ آگ لگا کر آبادی کانام و نشان مٹا دیا۔ ان خوف ناک تاراجیوں سے نہ وہ شہر بچے جنہو ں نے مغلوں کا مقابلہ کیا تھا نہ وہ جنہوں نے رحم و کرم کی امید پر اطاعت قبول کر لی تھی۔ شہر سمر قند کی فتح کے بعد مغلوں کا ایک لشکر شاہ خوارزم کے تعاقب میںبحر خزر کی طرف گیا۔ دوسرے نے خراسان کے شاداب خطوں کو غارت کیا۔ 617ھ میں علاءالدین خوارزم شاہ نے وفات پائی۔ مگر اس کابڑا بیٹا جلال الدین (منک برنی) مغلوں سے بچتا ہوا غزنی آگیا اور وہاں کے حاکم تاج الدین یلدز کو آگے پنجاب کی طرف دھکیل دیا۔ یلدز کا لاہور آنا، سلطان شمس الدین سے لڑائی اور شکست کا حال ہم گزشتہ آرٹیکل میں پڑھ چکے ہیں ۔ لیکن اس عرصے میں خود چنگیز خاں اور خراسانی لشکر جلا ل الدین کے تعاقب میں افغانستان پہنچ گیا اور خوارزمیوں کو بھی غزنی چھوڑ کر پاکستان کی پناہ ڈھونڈنی پڑی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں