سری لنکا، دنیا میں انسان کا پہلا مسکن

skiy montain-sri lanka
EjazNews

1505ء میں پرتگال نے اس سری لنکا پرقبضہ کیا، تو اسے سائی لون کا نام دیا۔ کچھ عرصے یہاں ولندیزی حکمرانوں کا تسلّط رہا۔ بعدازاں، جب 1815ء میں برطانوی قبضہ ہوا، تو یہ سیلون کہلانے لگا۔ 1948ء میں برطانیہ تو یہاں سے چلا گیا، مگر ملک کا نام 1972ء تک سیلون ہی رہا،لیکن پھر ملک کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریڈیو سیلون، سری لنکا براڈ کاسٹنگ بن گیا۔ سیلون چائے کے باغات کو پانچ صدیوں پر محیط یورپی نوآبادیاتی عہد کی یادگار قرار دیا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کی چائے اب بھی دنیا بھر میں اس کی پہچان ہے۔ نو آبادیاتی عہد کے اثرات یہاں ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔ قدیم طرزتعمیر کی بِنا پر یہاں کی عمارات عہدِ رفتہ کی کہانی سناتی ہیں۔
زمانہ قدیم، ایرانی، عرب، پرتگالی، ولندیزی، برطانوی اور زمانہ جدید، ہندو مذہب کے ماننے والے سری لنکا کو ’’بھگوان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ نقشے میں سری لنکا کا جغرافیہ دیکھنے سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات جنہیں ’’پالی اصول‘‘ کہتے ہیں، پہلی مرتبہ یہیں سے کتابی شکل میں مرتب ہوکر سامنے آئیں۔ کولمبو سے دو گھنٹے کی مسافت پر حضرت آدمؑ کی جائے نزول ہے، جسے ADAM’S PEAK کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی مذہب کے پیروکاروں کابھی یہ عقیدہ ہے کہ اسی چوٹی پر حضرت آدم علیہ السلام اترے تھے اور یہیں ان کے پائوں کے نشان ثبت ہیں۔ تاہم، بدھ بھکشو، اسے بدھا کے پائوں کا نشان قرار دیتے ہیں۔ سری لنکا کی دستاویزی تاریخ تو تین ہزار سال پرانی کہی جاتی ہے، مگر ماہرین آثارِ قدیمہ کے نزدیک اس زمین کی تاریخ ایک لاکھ پچیس ہزار سال پرانی ہے اوریہی انسان کا پہلا مسکن اور زمین پر اس کا اولین پڑائو بھی ہے۔

چاروں طرف سمندروں میں گھرا یہ ملک اپنے اندر دنیا کی تاریخ سموئے ہوئے ہے

سری لنکا میں بدھ مت کی ابتدا کے بارے میں مشہور ہے کہ اشوک اعظم نے اپنے دور حکومت میں بدھ مت کے پرچار کی غرض سے اپنے حقیقی بیٹے کو بدھا کا پیغام دے کر سری لنکا بھیجا، تو لنکا کے راج دربار نے مہاتما بدھ کی تعلیمات کو پسند کیا اور بدھ مت اختیار کرلیا۔ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان میں روز اول سے ہندو مذہب اکثریت میں ہے، مگر آج تک کوئی ایک نامور ہندو حکمران نہیں گزرا۔ تاہم، مورخین چھ بادشاہوں پر متفق ہیں کہ وہ سب سے طاقتور گزرے ہیں۔ ان میں چندرگپت موریا، جین مت کا پیروکار تھا۔ اس کے بعد اشوکا، عظیم سلطنت کا بانی اور حکمران، جوکہ بدھ مت کا ماننے والا تھا، جبکہ باقی چار بادشاہوں اکبرِ اعظم، شاہ جہاں، جہانگیر اور اورنگزیب کا شمار مسلمان مغل فرماں روائوں میں ہوتا ہے۔
تاج برطانیہ نے اپنی اس نوآبادی میں مختلف زبانوں میں ریڈیو سروس شروع کی، تو چین، جاپان، بھارت سمیت کہیں بھی کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا۔ گو یورپ میں 1920ء سے ریڈیو نشریات شروع ہوچکی تھیں۔
خودکش حملہ آوروں کی تاریخ یوں تو زمانہ قبل از مسیح جتنی پرانی ہے، مگر عہد جدید میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی ہوا بازوں نے، جنہیں ’’کھامی کھازی‘‘ جس کا ترجمہ ’’باد خدا‘‘ یا پھر ’’ملکوتی ہوا‘‘ کیا جانا چاہیے، اس کی بنیاد رکھی۔ پھر تامل ٹائیگرز نے اسے شدت اور جدت سے ہمکنار کیا۔ یہ خودکش بمبار اگر اپنے مشن میں ناکام ہوجاتے، تو اپنے گلے میں پہنا ہوا زہر کا کیپسول نگل جاتے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے کسی سرکاری ادارے کے ہاتھ نہ آجائیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں، جب گرفتار ہونے والے جنگجوئوں نے زہر کا کیپسول نگل کر جان دے دی۔ ان خودکش جنگجوئوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔
سری لنکاکا نام سنتے ہی ہم پاکستانیوں کے ذہن میں کرکٹ، چائے یا پھر تامل ٹائیگرز کا خیال آتا ہے۔ کسی بھی ملک کی عالمی شناخت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں، مگر حقیقت میں ہر ملک متنوع مزاج رکھتا ہے۔ 25ہزار مربع میل کے اس سرسبز و شاداب ملک کی زمینی سرحدیں نہیں، فقط سمندری حدود ہیںجو بھارت اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں۔اس ملک کو دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ یہ ملک پہلی نظر میں بے حد مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ فی مربع میٹر عبادت گاہوں کی اتنی زیادہ تعداد دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں شاید نہیںہے۔ 70فیصد آبادی بدھ مت کی پیروکارہے ،13فیصد ہندو ہیں۔ 10فیصد مسلمان فیصد ہیں، لیکن مساجد اور درگاہوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ شمار مشکل ہے۔مسلمان ’’مور‘‘ اور ’’ملایا‘‘ نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ 7فیصد عیسائی ہیں،لیکن اس کے باوجود کولمبو میں جتنے گرجا گھر ہیں، اتنے شاید کسی عیسائی اکثریت والے ملک میں بھی نظر نہ آئیں۔ سنہالی کے بعد تامل یہاں کی دوسری بڑی زبان ہے۔
شمالی کوریا اور کیوبا کی طرح معیشت پر حکومتی قبضہ نہیں ہے۔ 30سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سری لنکا تیزی سے معاشی ترقی کرتا نظر آرہا ہے۔ تامل ٹائیگرز کو شکست دینے میں پاکستانی فوجی کا کردار ناقابل تردید ہے۔ تامل نسل یہاں کی کل آبادی کا 15-10 فیصد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں