سرکہ۔۔۔۔حیرت انگیز فوائد کا حامل

Vinegar

سرکہ ہمارے دستر خوان کا ایک قدیم ترین جزو ہے۔ سرکہ تاریخ کے ہر دور میںغذا اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ انسان سرکے کا استعمال کب سے کر رہا ہے مگر زمانہ قدیم سے اس کا ذکر کتابوں میںموجود ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ روایت فرماتے ہیں ”نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے گھروالوں سے سالن کا پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے طلب کیا اور فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے، سرکہ بہترین سالن ہے۔“ حضرت اُم سعد رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ” میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھی اور انہوں نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس روٹی کھجور اورسرکہ ہے۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”بہترین سالن سرکہ ہے۔ اے اللہ تو سرکہ میں برکت ڈال کہ یہ مجھ سے پہلے نبیوں کا سالن تھا اور وہ گھر غریب نہ ہوگا جس میں سرکہ موجود ہوگا یعنی اس گھر میں کبھی فاقہ نہ ہوگا جس میں سرکہ ہوگا۔ “
سرکہ جسے عربی میں ”النحل“ اور انگریزی میں ”Vinegar“ کہتے ہیں۔ بقراط نے متعدد بیماریوں کے علاج کیلئے سرکہ استعمال کیا ہے۔ سرکہ ان چیزوں میں سے ہے جوز مین میں پیدا نہیں ہوتیں اور ان کو مختلف صورتوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ مگر انسان زمانہ قدیم سے سرکہ بنانے کے فن سے آشنا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہزاروں برس گزرنے کے باوجود سرکہ بنانے کی ترکیب میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔
سرکہ خمیر بنانے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایسے محلول کو جس میں 18فیصد سے کم الکحل ہوتی ہے، ہوا میں رکھا جاتا ہے زیادہ تر ممالک خود اپنے قسم کا سرکہ تیار کرتے ہیں۔ عام طور پر اسے اچار اور چٹنیوں کو محفوظ کرنے نیز سلاد کو مزیدار بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایک دو چمچ معیاری سرکہ ڈالنے سے کھانوں کا بھی ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنی کٹھاس اور مخصوص ذائقہ کی بدولت ان میں ترشی پیدا کرتا ہے اور انہیں خراب ہونے سے روکتا ہے۔
سرکہ ہر اس چیز سے تیار کیا جاتا ہے جس میں مٹھاس یا نشاستہ موجود ہو ۔ سرکہ عام طور پرگنے، انگور اور جامن کا بنایا جاتا ہے تاہم چقندر ، منقہ ، کھجور، گندم ، جو اور دیگر پھلوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں صوبہ سرحد اورپنجاب میں گنے سے سرکہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں انگور سے سرکہ بنایا جاتا ہے جبکہ سندھ میں کھجورکا سرکہ عام ہے۔ آج کل سرکہ بازار میں تین اقسام میں دستیاب ہے پہلی قسم وہ ہے جو پھلوں وغیرہ سے قدرتی طریقہ پر تیار کی جاتی ہے اور دوسری قسم جو کہ مالٹ سے بنائی جاتی ہے اور تیسری قسم وہ ہے جو تیزاب سے مصنوعی طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔
سرکہ اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے اس کے استعمال سے بھوک کھل کر لگتی ہے اور غذا ہضم ہونے لگتی ہے سرکہ چونکہ خود تیزاب ہے اس لئے معدہ کی شدید بد ہضمی کو دور کرتا ہے۔ معدہ میں موجود تیزابیت کی کمی کو دورکرتا ہے اور غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سرکہ ہیضے کے جراثیم کو براہ راست ختم کر دیتا ہے سرکہ کی موجودگی کی وجہ سے معدے اورآنتوں میں ہیضہ کے جراثیم پرورش نہیں پاسکتے اگر شدید بد ہضمی ہو جائے اور قے اور دست آرہے ہوں تو ایک چائے کا چمچ سرکہ نصف لیموں کے رس کے ساتھ گلاس پانی میں ملا کر اور شکر ملا کرپینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ دانتوں میں اگر گرمی کی وجہ سے درد ہو یا مسوڑھوں سے خون آتا ہو تو سرکہ سے کلیاں کرنی چاہئیں۔ سرکہ ٹھنڈک اور حرارت کا حسین امتزاج ہے یہ جسم سے غلط یا مضر مادوں کو نکالتا ہے اور طبیعت کوفرحت بخشتا ہے۔ پتہ سے صفرا کے نکلنے کی رفتار کو اعتدال پر لاتا ہے۔ جسم کے کسی حصے میں اگر خون کو انجماد ہو جائے تو یہ اسے حل کر کے پھر سے سیال بنا دیتا ہے۔ سرکہ پیاس کوبجھاتا ہے اور پیٹ کو چھوٹا کرتا ہے۔ تلی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ جسم میں ورم کی پیدائش کو روکتا ہے۔ خوراک کو ہضم کرتا ہے ۔ زود ہضم غذاﺅں کو بوجھ سے نجات دلاتا ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور پھوڑے پھنسیوں کو دورکرتا ہے۔ گرم پانی کے ساتھ اس کے غرارے دانت کے درد کیلئے مفید ہیں۔
سرکہ کھانے کے بعد معدہ کا فعل قوی ہو جاتا ہے۔ پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ وہ غذائیں جو آسانی سے ہضم نہیں ہوتیں اگر ان کے ساتھ سرکہ شامل کرلیا جائے تو ہضم ہو جاتی ہیں۔ پیٹ سے مسد ے نکالتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تلی میں سرکہ کیلئے خصوصیت رغبت ہے، اس لئے سرکہ کی جو بھی مقدار پیٹ میں جاتی ہے وہ فوراً تلی میں داخل ہو جاتی ہے اس لئے وہ ادویہ جو تلی کے علاج میں دی جائیں اگر ان کے ساتھ سرکہ بھی شامل کر دیا جائے تو اثر جلد ہوتا ہے۔ سرکہ بیک وقت ٹھنڈا بھی ہے اور گرم بھی۔ پیاس کی شدت میں سرکہ کے ساتھ پانی اور نمک ملا کر دینے سے تسکین زیادہ اچھی طرح ہوتی ہے اور یہ نسخہ ”سن اسٹروک“ سے بچاﺅ کیلئے بھی مفید ہے۔
سرکہ غذا کے طور پر یا سنت نبوی ﷺ کے مطابق سالن کی صورت میں تو مدتوں سے مستعمل ہے لیکن اب اس کے دافع تحضن اور جراثیم کش فائدے کو نئی افادیت میسر آگئی ہے۔اس کا کمال یہ ہے کہ اگر اس کو کسی چیز میں ڈالیں تو مرچ کا ذائقہ برا نہیں لگتا ۔ سرخ مرچوں کو پیس کر سرکہ میں پکا کر چائینز چٹنی بنتی ہے جو بے حد مزیدار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انڈا اور زیتون ملا کر سرکہ سے مزیدار Mayonnaiseچٹنی بنتی ہے اسے تلے ہوئے گوشت کے قتلوں پر لگا کر کھائیں تو ذائقہ لاجواب ہوجاتا ہے۔ چینی کھانوں کی اکثریت میں سرکہ لازمی جز ہے۔
سرکہ پھلوں کے رس سے تیار کیا جاتاہے، اس کی رنگت عموماً کتھئی یا براﺅن ہوتی ہے۔یہ بات طے ہے کہ سفید سرکہ نام کی کوئی چیز قدرتی ذریعہ سے تیار نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی سفید سرکہ فروخت ہو تا ہے وہ مصنوعی طور پر سرکہ کے تیزاب سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ قدرتی اجزاءسے تیار ہونے والے سرکہ کا رنگ بھورایا گہرا براﺅن ہوگا اسے سفید نہیں کہا جاسکتا۔پاکستان میں ملنے والا سرکہ مصنوعی ہوتا ہے۔ صرف دوا کے طور پر ہی نہیں بلکہ غذا کے طور پر بھی سرکہ ہماری غذا کا حصہ ہے۔ چاہے وہ قدرتی اجزاءسے تیار کردہ ہو یا مصنوعی اجزاءسے۔ سرکہ کی بوتل کے لیبل پر واضح الفاظ میں ”مصنوعی بنا ہوا“ یعنی Syntheticہمیشہ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ قدرتی اجزاءسے بنا ہوا سرکہ زیادہ استعمال کیا جائے۔ چونکہ سرکہ کا مزاج ٹھنڈا ہے اس لئے جن لوگوں کے معدے میں تیزابیت ہو جاتی ہے وہ سرکہ ہرگز استعمال نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں