ثاقب کی بہادری

spy-pakistan

بچوں یہ کہانی ایک ایسے واقع پر مبنی ہے جس سے ایک بچے نے اپنے پورے معاشرے کو آنے والی تباہی سے بچا لیا۔
پیارے بچو! ثاقب دسویں جماعت کا ایک ذہین طالب علم تھا۔ اسے اخبار پڑھنے ، خبریںسننے اور اچھے دوست بنانے کا شوق تھا۔ وہ روزانہ سکول کا کام ختم کرنے کے بعد اخبار پڑھتاتھا۔ آئے روز جب ایک ہی طرح کی خبریں اس کی نظروں سے گزرتیں کہ ”گزشتہ روز ملک کے فلاں حصے میںچند لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا یا فلاں علاقے میںبم دھماکے سے اتنے افراد زخمی اور جاں بحق ہو گئے تو وہ ایک گہری سوچ میں گم ہو جاتا ، بہت سے سوال اس کے ذہن میںجنم لیتے ، جو اسے بے چین کر دیتے کہ ”یہ دہشت گردی کا لفظ جو اخبار میںشائع ہوتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ اتنے لوگ روز کیوں مرتے ہیں ؟ اور میں ان کے لئے کیا کرسکتا ہوں؟“۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے استاد سے اس کا جواب پوچھے گا چنانچہ ایک روز ان سوالوں کاجواب معلوم کرنے کے لیے ثاقب اپنے دوست رامیش کے ساتھ استاد کے پاس گیا۔ استاد ، اس کے سوال سن کرچندلمحوں کے لئے گہری سوچ میں گم ہو گئے، پھر مسکراتے ہوئے کہنے گے
”مجھے آپ کی یہ بات سن کر خوشی ہوئی۔ آپ ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے محلے میں ہر نئے آنے والے شخص، غیر معمولی سرگرمیوں اور مشکوک چیزوں پر نظر رکھیں۔ اگرآپ کو کسی چیز پر شک ہو تو اپنے گھر والوں کو اطلاع دیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو خود بخود آپ کو اپنے سوالات کے جواب مل جائیں گے۔“
ایک دن ثاقب معمول کے مطابق سکول جانے کے لیے گھر سے نکلا تو اس کے قدم گلی کے کونے پر واقع ایک چھوٹے سے مکان کے قریب رک گئے۔ اس مکان کے دروازے پر ہمیشہ کی طرح آج بھی تالا لگا ہوا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ گھر کی کھڑکی سے روشنی نظر آرہی تھی۔ اسے یہ مکان ہمیشہ پراسرار لگتا تھا اس نے کئی بار اپنے دوستوں سے اس مکان کے بارے میں جاننا چاہا ، لیکن صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ مکان میں نئے کرایہ دار آئے ہیں، مگرمحلے کے کسی فرد نے انہیں نہیں دیکھا۔
ایک روز ثاقب اخبار خریدنے کے لیے گھر سے نکلا تو پر اسرار مکان کو دیکھنے لگے۔ اس کے ذہن میں عجیب خیالات پیدا ہورہے تھے۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ نئے کرایہ دار کسی سے ملتے کیوں نہیں ؟ وہ ابھی ان خیالات میں گم تھا کہ اچانک اسے ایک شخص محتاط انداز میں پر اسرار مکان کی جانب بڑھتا دکھائی دیا، جیسے اسے خدشہ ہو کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔ ثاقب دیوار کی آڑ میں کھڑا ہوگیا۔
اگلے دن پھر ایسا ہی ہوا۔ آج ثاقب جان بوجھ کر اپنے گھر کے دروازے کے قریب کھڑاہوا تھا۔ وہ ان کرائے داروں کے بارے میں کچھ زیادہ جاننا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے سوچا کہ وہ ان سے جا کر ملے۔ لیکن اچانک ٹھٹک گیا۔ کیونکہ کل یوں محسوس ہو رہا تھا کہ انہیں تھیلا اٹھانے میں دقت ہو رہی ہے۔ وہ دونوں جلدی جلدی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے تالا کھول کر مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ ثاقب نے محسوس کیا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ وہ سیدھا اپنے ابو کے پاس گیا ۔ وہ پہلے بھی انہیں اس پر اسرار مکان کے بارے میں بتا چکا تھا،لیکن انہوں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔ آج جب اس نے دو پر اسرار آدمیوں کے بارے میں بتایا تو وہ تھوڑا چونکے۔ پھر اچانک کہنے لگا آؤذرا چل کر دیکھتے ہیں۔
ثاقب اور اس کے ابو اس مکان کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دروازے پر تالا لگا ہوا ہے، لیکن کھڑکی سے روشنی آرہی ہے۔ وہ دونوں فوراً گھر واپس آگئے اور پولیس کو اطلاع دی۔ تقریباً پندرہ منٹ میں پولیس آگئی جو جدید اسلحہ سے لیس تھی۔ ثاقب کی نشاندہی کے بعد پولیس اس مکان کے دروازے توڑ کر تیزی سے اندرداخل ہو گئی۔ پولیس اہلکاروں نے پوری کارروائی اتنی تیزی سے کی کہ گھر میںموجود لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ اس گھر میں پانچ آدمی تھے۔ پولیس نے جگہ کی تلاشی لی تو اسلحے سے لیس کئی تھیلے برآمد ہوئے۔ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
اگلے دن جب ثاقب نے اخبار پڑھا تو س کی نظر سب سے پہلے جس خبر پر پڑی وہ تھی شہر میں دہشت گردی کی بڑی واردات ناکام بنا دی گئی۔ 5دہشت گرد گرفتار ۔خطرناک اسلحہ برآمد ،دہشت گرد کئی ہفتوں سے ایک مکان میں مقیم تھے ، ذمہ دار شہری کی اطلاع پر بروقت کارروائی کر کے گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ پانچوں افراد شہر میں کسی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ثاقب کے ابو نے خبر پڑھ کر اسے شاباشی دی۔ کیونکہ اس نے بڑی بہادری سے ایک بہت بڑے منصوبے کو ناکام بنادیا تھا۔
ننھے ساتھیو! اگر آپ کبھی بھی کوئی لاوارث کھلونا یا بیگ یا کوئی مشتبہ شخص دیکھیں تو فوراً اپنے امی، ابو کو بتائیں اور پولیس کو بھی اطلاع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں