رشتے داروں کے حقوق

islam_sharm_o_hia
EjazNews

تخلیق ِحضرت آدمؑ کے بعد اللہ نے امّاں حوّا کو پیدا کیا اور پھر ان کی رفاقت سے نسل ِانسانی کی ابتدا ہوئی،جس سے پھر مختلف رشتے، یعنی ماں باپ، بہن بھائی، نانا نانی، دادا دادی، خالہ خالو، ماموں ممانی، چاچا چاچی سمیت درجہ بہ درجہ تمام رشتے وجود میں آئے۔ یہ وہ خوب صورت اور حسین رشتے ہیں کہ جن کا احساس ہی انسانوں کو ان کی محبت سے سرشار کردیتا ہے۔ ان ہی رشتوں سے خاندانوں کی تشکیل ہوئی۔ خاندانوں سے معاشرہ ظہور پزیر ہوا اور یوں بستیاں، شہر اور ملک آباد ہوتے چلے گئے۔ پھر اللہ نے ان کے درمیان آپس میں محبت، پیار اور خلوص کا تعلّق قائم رکھنے کے لیے سب کے حقوق و فرائض متعیّن فرمادیئے۔ سرورِ کونین، رسولِ ثقلین، خاتم النبیّین، رحمتِ دوجہاں، سرورِ کائنات، حضور نبی کریم ﷺ جب مسندِ رسالتؐ پر فائز ہوئے، تو آپ نے رشتوں کے تقدّس و احترام پر خصوصی توجّہ فرماتے ہوئے اللہ کے حکم سے مختلف احکامات نافذ فرمائے اور ان پر کاربند رہنے کی سختی سے تنبیہ بھی فرمائی۔
رشتے داروں سے مراد وہ اعزّہ ہیں، جن کا انسان سے نسب کے واسطے سے تعلّق ہوتا ہے، چاہے انہیں ترکے میں حصّہ ملے یا نہ ملے۔ اسلام نے رشتوں کو معزز واعلیٰ مقام عطا فرماکر ان کی اہمیت و عظمت کو احترام کی ان بلندیوں پر پہنچایا کہ کوئی مذہب، نظریہ اور تہذیب پہنچنے کا تصوّر بھی نہیں کرسکتی۔ مثلاً باپ کے بھائیوں کو باپ کا درجہ، ماں کی بہنوں کو ماں کا درجہ دے کر انہیں عظمت و توقیر کی معراج تک پہنچادیا۔ رشتے داری کو ’’صلۂ رحمی‘‘ کے نام سے تعبیر کیا اور اہلِ قرابت کے ساتھ اچھے تعلّقات رکھنے، ان کی عزت و احترام کو باعثِ ثواب و نیکی قرار دیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’رشتے داری رحمان کی شاخ ہے، پس، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جو تجھے جوڑے گا، میں اس سے جڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں اس سے کٹ جائوں گا۔‘‘(صحیح بخاری) قرآن کریم میں بہت سی آیات مبارکہ ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے رشتے داروں کے مقام و اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلّقات جوڑنے، اچھا برتائو کرنے اور صلۂ رحمی کرنے کے احکامات فرمائے ہیں۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور رشتے داروں کو (خرچ میں مدد) دینے کا۔‘‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ’’اللہ کے رسولؐ! مجھے کوئی ایسا عمل بتایئے، جس سے میں جنّت میں داخل ہوجائوں۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘ (صحیح بخاری، مسلم)
رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک:
اللہ تبارک وتعالیٰ کو اپنی عبادت اور والدین کی خدمت کے بعد رشتے داروں سے حسنِ سلوک بے حد پسند ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اور تم اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، رشتے داروں، ہم سایوں اور اجنبی ہم سایوں، پہلو کے ساتھی، مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں (نوکر، ملازم) سب کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو۔ اللہ تکبّر اور بڑائی جتانے والے کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ (سورۃ النساء) اس آیتِ مبارکہ میں اللہ نے درجہ بہ درجہ معاشرے کے تمام افراد کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرماتے ہوئے رشتے داروں اور قرابت داروں کا درجہ والدین کے فوراً بعد رکھا ہے اور پھر اسی مناسبت سے دیگر لوگوں کی درجہ بندی کرتے ہوئے سب کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان کا معاملہ کرنے کے احکامات فرمائے۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں ’’میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ ہو اور اس کی عمر لمبی ہو، اسے چاہیے کہ رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔‘‘ (صحیح بخاری)۔ اس حدیث سے واضح ہوا کہ رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک نہ صرف آخرت میں اجروثواب اور جنّت کے حصول کا باعث ہے، بلکہ دنیاوی فوائد یعنی رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافے کا سبب بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے نبیؐ!آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، البتہ یہ چاہتا ہوں کہ تم رشتے داری کی محبت کو قائم رکھو۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ)۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اور ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتے داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا۔‘‘ (البقرہ) اسی آیت میں اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ’’صرف چند لوگوں کے علاوہ باقی سب نے ان احکامات سے منہ موڑ لیا اور اس پر عمل پیرا نہ ہوئے، لہٰذا اللہ نے ایسی بہت سی قوموں پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔‘‘
رشتے داروں سے قطع تعلقی:
قرآنِ کریم کی سورۃ النساء میں اللہ فرماتا ہے ’’لوگو!اس اللہ سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتے داروں، قرابت داروں سے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔‘‘ (سورۃ النساء) نبی کریمؐ نے فرمایا ’’اس قوم پر اللہ کی رحمت نہیں ہوتی، جس میں کوئی قطع تعلقی کرنے والا موجود ہو۔‘‘ (الادب المفرد)۔ آج ذرا ذرا سی بات پر سگے بہن، بھائیوں، یہاں تک کہ ماں باپ کے ساتھ بھی قطع تعلق کرلیا جاتا ہے۔ ذاتی اَنا، تکبّر اور غلط فہمیوں نے اچھے اچھے گھرانوں کو قطع رحمی میں مبتلا کر رکھا ہے، جب کہ خوفِ خدا رکھنے والا مسلمان اس کے ارتکاب کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اللہ کے رسولؐ کا فرمان ہے ’’قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں، جو اس لائق ہو کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو اللہ آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دے۔‘‘ (ترمذی، ابنِ ماجہ) جبیربن مطعمؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ’’رسولؐ اللہ نے فرمایا، رشتے داروں سے تعلق توڑنے اور ان سے بدسلوکی کرنے والا جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (ترمذی) رشتے داروں سے قطع تعلق کرنے والوں کی بدقسمتی، بدبختی اور محرومی کے لیے نبی کریمؐ کی یہ حدیثِ مبارکہ ؐ ہی کافی ہے۔ مسندِاحمد میں روایت ہے ’’انسانوں کے اعمال ہرجمعرات کوپیش کیے جاتے ہیں، مگر قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔‘‘
رشتے داروں سے تعلق قائم رکھو:
قرآن کریم کی سورۃ الّروم میں اللہ حکم دیتا ہے کہ ’’تم اپنے رشتے داروں، مساکین اور مسافروں کو ان کا حق دو اور یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے، جو اللہ کی خوش نودی چاہتے ہیں۔‘‘ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے کچھ رشتے دار ہیں، جن سے میں تعلق قائم کرتا ہوں، مگر وہ میرے ساتھ لاتعلقی کا رویّہ رکھتے ہیں، میں ان کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں، لیکن وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں، میں ان کی خطائوں کو درگزر اوربرداشت کرتا ہوں، مگروہ جہالت پر اتر آتے ہیں۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا’’اگر یہی بات ہے، جو تم نے بیان کی ہے، تو گویا تم نے ان کے چہروں کو خاک آلود کردیا اور جب تک تم اس طریقۂ کار پر کاربند رہو گے، اللہ تمہاری برابر مدد فرماتا رہے گا۔‘‘ (صحیح مسلم) ترمذی کی روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا’’تم ان لوگوں میں سے نہ بنو، جو یہ کہتے ہیں کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے، تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر وہ ہم پر زیادتی کریں گے،تو ہم بھی زیادتی کریں گے، بلکہ اس کے برعکس، تم اس بات کے عادی بنو کہ لوگ تمہارے ساتھ برائی کریں، تو تم بھلائی کرو اور اگر وہ زیادتی کریں، تو تم زیادتی نہ کرو۔‘‘ (ترمذی) ایک اور موقعے پر اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ’’قطع تعلق کرنے والوں سے صلۂ رحمی کر، محروم کرنے والے کو عطا کر اور جس نے تجھے گالیاں دیں، ان سے درگزر کر۔‘‘ (طبرانی) ترمذی کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’جو مسلمان، لوگوں کےساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف برداشت کرتا ہے، وہ اس شخص سے کہیں بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ کٹ کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر برداشتۂ خاطر ہوتا ہے۔‘‘ یادرکھیے! نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ ’’اپنے بھائی کے لیےمسکرا دینا بھی صدقہ ہے۔‘‘ آج کے اس مادہ پرست دور میں رشتے داروں، عزیزوں اور قرابت داروں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے بڑے حوصلے، حکمت، عفودرگزر اور صبرو تحمّل کی ضرورت ہے۔ ورنہ عدم برداشت اور غلط فہمیوں نے تعلقات کو اس نہج پر پہنچادیا ہے کہ ذرا سی بدگمانی یا ذرا سی ٹھیس، رشتوں کے ان نازک آب گینوں کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیتی ہے اور خون کے رشتوں میں اتنی دوری پیدا ہوجاتی ہے کہ اکثرلوگ قرابت داروں کے سفرِ آخرت میں بھی شرکت نہیں کرتے۔ بعض اوقات آپس کی غلط فہمیاں، سگے رشتوں کے درمیان دراڑیں ڈالنے کا سبب بن جاتی ہیں، اور اس کے بعد بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ’’اب اس سے میرا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم۔‘‘ حالاں کہ اگر ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں، تو محسوس ہوگا کہ غیرارادی طور پر ہونے والی کوئی حرکت، بے خیالی میں نکلنے والا کوئی جملہ اور اپنوں ہی کی لگائی بجھائی، تعلقات کی اس خرابی کا باعث بنتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، آپس میں صلح صفائی اور غلطی پر معافی مانگنا، بڑائی کی علامت اورباعثِ ثواب ہے ۔
رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرتے رہو:
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صلۂ رحمی بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ صرف غریب قرابت داروں پر مال خرچ کر دینا ہی صلۂ رحمی نہیں، بلکہ رشتے داروں کے ساتھ بناکسی غرض اور لالچ کے، مضبوط اور پائیدار تعلقات قائم رکھنا، ان کے ساتھ خیر خواہی، بھلائی، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آنا، ان کے دکھ درد غمی اور خوشی میں شامل ہونا۔ ان کی خیریت معلوم کرتے رہنا اور ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم رکھنا بھی صلۂ رحمی کے زمرے میں آتا ہے۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا’’ اپنے رشتوں کو ترو تازہ رکھو، خواہ سلام ہی کے ذریعے۔‘‘ (صحیح بخاری) حضرت ابنِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ’’صلۂ رحمی کرنے والا وہ نہیں، جو احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرے،بلکہ دراصل صلۂ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری) طبرانی کی روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا ’’لوگو! میں تم کو دنیا اور آخرت کی بہترین عادات بتلاتا ہوں۔ تم تعلقات قطع کرنے والے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرتے رہو، جو تمہیں محروم رکھے، اسے دیتے رہو اور جو زیادتی کرے اسے معاف کرتے رہو۔‘‘ (طبرانی)۔بلاشبہ، ایک نیک اور باشعور مسلمان ہر حال میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرتا ہے۔ وہ ان منفی اور تلخ باتوں پر قطعی توجّہ نہیں دیتا، جن سے اس کے تعلقات خراب ہوں۔
غریب رشتے داروں کی مالی معاونت:
اسلامی تعلیمات صاحب ِحیثیت اور مال دار رشتے داروں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ اپنے غریب اور نادار عزیز رشتے داروں کا خیال رکھیں۔ ان کے ساتھ اچھا برتائو کریں، ان کے دکھ، درد خوشی و غمی میں شریک ہوں اور ان کی مالی معاونت کریں۔ انہیں معاشرے میں بے یار و مدد گار نہ چھوڑیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ کاارشاد ہے ’’اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتے داروں کو (اپنے مال سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ (سورۃ النحل) سورۃ البقرہ میں اللہ فرماتا ہے ’’سچّے اور پرہیزگار، اپنے مال سے محبت رکھنے کے باوجود اسے اپنے رشتے داروں پرخرچ کرتے ہیں۔‘‘ عزت اور دولت اللہ کی وہ نعمتیں ہیں، جن سے اللہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، مگریہ ان کے لیے آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو تاکید فرماتا ہے کہ ’’اپنی دولت کو اللہ کی خوش نودی کی خاطر اپنے غریب، نادار رشتے داروں اور غریب غرباء میں تقسیم کرو اور افضل یہ ہے کہ اس طرح تقسیم کرو کہ دوسروں کو اس کا علم نہ ہو۔ اور رازداری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ ان کی مدد کرو۔‘‘ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’(اے محمدؐ) لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ ؐ کہہ دیجیے، جو مال خرچ کرو، وہ ماں باپ کے لیے ہے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کےلیے ہے، اور تم جو کچھ بھلائی کروگے، اللہ تعالیٰ کو اس کا بہ خوبی علم ہے۔‘‘ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ’’مسلمان کو رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتائو کرنے اور ان کی مالی معاونت کرنے میں دواجر ہیں، ایک رشتے دار کا اجر اور دوسرا صدقے کا۔ غیررشتے دار مسکین کو صدقہ دینا، تو صرف صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینے پر دہرا ثواب ہے۔‘‘ (ترمذی) چناں چہ جب ایک نیک، متقّی اور باشعور مسلمان صلۂ رحمی کرتا ہے، تو سب سے پہلے وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز رشتے داروں کی خبر گیری کرتا ہے، ان کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے، اپنے جائز اور حلال مال سے ان کی مالی مدد کرتا ہے، ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ اس طرح وہ ان کی دعائوں کا حق دار ہوتا ہے، جو اس کی عزت، دولت اور عمر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ سورئہ آل عمران میں اللہ کا ارشادہے ’’تم (اس وقت تک) نیکی حاصل نہیں کر سکتے، جب تک کہ اپنی عزیز چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔‘‘ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو طلحہؓ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ’’اے اللہ کے رسولؐ ! میرے نزدیک میرا سب سے محبوب میرا یہ باغ ’’بئرحاء‘‘ (بئرحاء کھجور کے باغ کا نام تھا) ہے، میں اسے اللہ کی راہ میں خیرات کرتا ہوں۔ آپؐ اسے جیسے مناسب سمجھیں، خرچ فرما دیں۔‘‘ حضور ؐ، ابو طلحہ ؓ کے باغ صدقہ کرنے پر بڑے خوش ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا’’ اے ابو طلحہ ؓ! میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتے داروں پر صدقہ کردو۔‘‘ حضرت ابو طلحہؓ نے عرض کیا ’’یارسول اللہ ؐ میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ اور پھر انہوں نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ (صحیح بخاری/ مسلم) ایک مسلمان پر لازم ہے کہ جب وہ زکوٰۃ تقسیم کرے، تو سب سے پہلے اپنے رشتے داروں کا خیال کرے، اس کے علاوہ بھی مالی امداد کی کئی صورتیں ہیں۔ اگر کسی رشتے دار کا کوئی ذریعۂ معاش نہیں ہے، تو اس کے معاش کا معقول بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ کسی رشتے دار کی بیٹی کی شادی میں مالی مدد کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی قرابت دار کی طویل بیماری یا بچّوں کے تعلیمی اخراجات کے ضمن میں مالی مدد کرکے ثواب کمایا جاسکتا ہے۔ غریب اور نادار رشتے داروں کی باقاعدگی سے ماہانہ مالی معاونت اللہ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ یاد رکھیے، اللہ نے آپ کو جو مال و دولت دیا ہے، اس پر آپ کے رشتے داروں کا بھی حق ہے، اگر آج آپ اس حق کو ادا نہیں کریں گے، تو روزِ قیامت یہ قرابت دار آپ کا دامن پکڑیں گے۔ آئیے، ہم سب اپنے رشتے داروں میں ایسے عزیزوں کو تلاش کریں کہ جو اس کے مستحق ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اور رشتے داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑائو۔‘‘ (سورئہ بنی اسرائیل)
غیرمسلم رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی:
سرکارِ دو جہاں، سرورِ کونین، حضور نبی اکرم، رحمۃ الّلعالمین ہیں۔ آپﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت اور محسنِ انسانیت بناکر بھیجے گئے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ:’’(اے محمدﷺ)ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘ لہٰذا آپ کی دعوتِ حق تمام جہانوں کے لیے ہے۔ آپ نے غیرمسلم اور مشرک رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی، حسنِ سلوک اور احسان کا حکم فرمایا۔ حضرت اسماء بنت ِابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں میری والدہ، جو مشرکہ تھیں، میرے پاس تشریف لائیں۔ مَیں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں، وہ ضرورت مند ہیں، کیا میں ان سے بھی صلۂ رحمی کروں۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)۔ امّ المومنین حضرت صفیہؓ خانوادئہ ہارون ؑو موسیٰ ؑسے تعلق رکھتی تھیں، آپ کے والد حئی بن اخطب یہودی قبیلے، بنو نضیر کے سردار، خیبر کے رئیس اور یہودیوں کے بڑے مذہبی عالم تھے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت صفیہؓ کی ایک کنیز نے حضرت عمرفاروقؓ سے شکایت کی کہ ’’صفیہؓ ہفتے کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور اپنے یہودی رشتے داروں کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ امیر المومنینؓ اس بات کی تحقیق کے لیے خود امّ المومنین حضرت صفیہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت صفیہؓ نے فرمایا ’’جب سے اللہ نے مجھے جمعہ عطا فرمایا ہے، مجھے (سبت) ہفتہ کی قدر نہیں رہی، ہاں، یہودیوں میں میرے قرابت دار ہیں اور مجھے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ حضرت عمرفاروقؓ یہ جواب سن کر بے حد خوش ہوئے۔ اس کے بعد حضرت صفیہؓ نے اس کنیز کو آزاد کردیا۔ (الاصابہ)جب حضرت صفیہؓ کی وفات ہوئی، تو آپ کے ترکے میں ایک لاکھ درہم کی رقم تھی، جس کا تیسرا حصّہ آپ نے اپنے یہودی بھانجے کو دینے کی وصیّت کی۔ لوگوں نے اس وصیّت پر عمل کرنے میں پس و پیش کیا۔ امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جب اس بات کا علم ہوا، تو آپ ؓ نے فوراً پیغام بھیجا،’’ لوگو! اللہ سے ڈرو اور ہر صورت میں صفیہؓ کی وصیّت کو پورا کرو۔‘‘ چناں چہ انؓ کے ارشاد کے مطابق، فوری طور پر وصیت پر عمل کیا گیا۔ (طبقاتِ ابنِ سعد) ایک نیک مسلمان اپنے والدین کی اطاعت کے بعد بلاتخصیصِ مذہب اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے اور یہی اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ جس میں ہر ایک کے ساتھ صلۂ رحمی اور حسنِ سلوک کا درس دیا جاتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم۔
حقِ وراثت میں رشتے داروں کا حصّہ:
اسلام نے وراثت میں رشتے داروں کا حصّہ مقرر کردیا ہے۔ اب یہ ورثا کی ذمّے داری ہے کہ وہ شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق، عزیز رشتے داروں کو ان کا حصّہ دیں۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے ’’جو مال، ماں باپ اور رشتے دار چھوڑ کر فوت ہوجائیں، تھوڑا یا بہت، اس میں مردوں اور عورتوں دونوں کا حصّہ ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ (سورۃ النساء) اس سے آگے اللہ فرماتا ہے ’’اگر میراث کی تقسیم کے وقت (غیروارث) رشتے دار اور یتیم اور محتاج آجائیں، تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو، اور ان کے ساتھ شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔‘‘ (سورۃالنساء)

اپنا تبصرہ بھیجیں