رشتے داروں سے مضبوط تعلقات

رشتہ_داروں_سے_اچھا_سلوک
EjazNews

آج کے بھولے بسرے دور میں رشتہ داریاں ختم ہو تی جارہی ہیں۔ رشتوں کے تقدس کے ساتھ ساتھ رشتوں کی مٹھاس بھی پھیکی ہوتی جارہی ہے۔ اس محبت کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ ایک سے دوسرے نسل کو کئی دفعہ اپنے سارے رشتہ داروں کے متعلق پتہ ہی نہیں ہوتا۔ شادی بیاہ کے مواقعوں پر پتہ چلتا ہے کہ یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میںدیکھا جائے تورشتہ داری کی بڑی اہمیت ہے۔صرف غریب قرابت داروں پر مال خرچ کر دینے سے صلہ رحمی نہیںہو جاتی، بلکہ رشتے داروں کے ساتھ بناکسی غرض اور لالچ کے، مضبوط اور پائیدار تعلقات قائم رکھنا، ان کے ساتھ خیر خواہی، بھلائی، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آنا، ان کے دکھ درد غمی اور خوشی میں شامل ہونا۔ ان کی خیریت معلوم کرتے رہنا اور ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم رکھنا بھی صلہرحمی کے زمرے میں آتا ہے۔اور اس صلہ رحمی کی ہمارے معاشرے کو آج بڑی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ آئیے ہم آپ کو رشتہ داری سے متعلق چند احادیث پاک کا بتاتے ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’ اپنے رشتوں کو ترو تازہ رکھو، خواہ سلام ہی کے ذریعے۔‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں، جو احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرے،بلکہ دراصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
طبرانی کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’لوگو! میں تم کو دنیا اور آخرت کی بہترین عادات بتلاتا ہوں۔ تم تعلقات قطع کرنے والے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرتے رہو، جو تمہیں محروم رکھے، اسے دیتے رہو اور جو زیادتی کرے اسے معاف کرتے رہو۔‘‘ (طبرانی)
بلاشبہ، ایک نیک اور باشعور مسلمان ہر حال میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے۔ وہ ان منفی اور تلخ باتوں پر قطعی توجہ نہیں دیتا، جن سے اس کے تعلقات خراب ہوں۔
اسلام ایک ایسا مذہب جو نہ صرف مسلمان رشتہ داروں سے صلہ رحمی اچھے سلوک کا حکم دیتا بلکہ وہ غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔
سرکارِ دو جہاں، سرورِ کونین، حضور نبی اکرم، رحمۃ الّلعالمین ہیں۔ آپﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت اور محسن انسانیت بناکر بھیجے گئے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ:’’(اے محمدﷺ)ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘
لہٰذا آپ کی دعوتِ حق تمام جہانوں کے لیے ہے۔ آپ نے غیرمسلم اور مشرک رشتے داروں کے ساتھ بھی صلہ رحمی، حسنِ سلوک اور احسان کا حکم فرمایا۔
حضرت اسماء بنت ِابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں میری والدہ، جو مشرکہ تھیں، میرے پاس تشریف لائیں۔ مَیں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں، وہ ضرورت مند ہیں، کیا میں ان سے بھی صلہ رحمی کروں۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)۔
ام المومنین حضرت صفیہؓ خانوادئہ ہارون ؑو موسیٰ ؑسے تعلق رکھتی تھیں، آپ کے والد حئی بن اخطب یہودی قبیلے، بنو نضیر کے سردار، خیبر کے رئیس اور یہودیوں کے بڑے مذہبی عالم تھے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت صفیہؓ کی ایک کنیز نے حضرت عمرفاروقؓ سے شکایت کی کہ ’’صفیہؓ ہفتے کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور اپنے یہودی رشتے داروں کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ امیر المومنینؓ اس بات کی تحقیق کے لیے خود امّ المومنین حضرت صفیہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت صفیہؓ نے فرمایا ’’جب سے اللہ نے مجھے جمعہ عطا فرمایا ہے، مجھے (سبت) ہفتہ کی قدر نہیں رہی، ہاں، یہودیوں میں میرے قرابت دار ہیں اور مجھے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ حضرت عمرفاروقؓ یہ جواب سن کر بے حد خوش ہوئے۔ اس کے بعد حضرت صفیہؓ نے اس کنیز کو آزاد کردیا۔ (الاصابہ)
جب حضرت صفیہؓ کی وفات ہوئی، تو آپ کے ترکے میں ایک لاکھ درہم کی رقم تھی، جس کا تیسرا حصّہ آپ نے اپنے یہودی بھانجے کو دینے کی وصیت کی۔ لوگوں نے اس وصیت پر عمل کرنے میں پس و پیش کیا۔ امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جب اس بات کا علم ہوا، تو آپ ؓ نے فوراً پیغام بھیجا،’’ لوگو! اللہ سے ڈرو اور ہر صورت میں صفیہؓ کی وصیت کو پورا کرو۔‘‘ چنانچہ انؓ کے ارشاد کے مطابق، فوری طور پر وصیت پر عمل کیا گیا۔ (طبقاتِ ابن سعد)
ایک نیک مسلمان اپنے والدین کی اطاعت کے بعد بلاتخصیصِ مذہب اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے اور یہی اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ جس میں ہر ایک کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا درس دیا جاتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم۔
غریب رشتے داروں کی مالی معاونت:
اسلامی تعلیمات صاحب حیثیت اور مال دار رشتے داروں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ اپنے غریب اور نادار عزیز رشتے داروں کا خیال رکھیں۔ ان کے ساتھ اچھا برتائو کریں، ان کے دکھ، درد خوشی و غمی میں شریک ہوں اور ان کی مالی معاونت کریں۔ انہیں معاشرے میں بے یار و مدد گار نہ چھوڑیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ کاارشاد ہے ’’اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتے داروں کو (اپنے مال سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ (سورۃ النحل) سورۃ البقرہ میں اللہ فرماتا ہے ’’سچّے اور پرہیزگار، اپنے مال سے محبت رکھنے کے باوجود اسے اپنے رشتے داروں پرخرچ کرتے ہیں۔‘‘ عزت اور دولت اللہ کی وہ نعمتیں ہیں، جن سے اللہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، مگریہ ان کے لیے آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو تاکید فرماتا ہے کہ ’’اپنی دولت کو اللہ کی خوش نودی کی خاطر اپنے غریب، نادار رشتے داروں اور غریب غرباء میں تقسیم کرو اور افضل یہ ہے کہ اس طرح تقسیم کرو کہ دوسروں کو اس کا علم نہ ہو۔ اور رازداری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ ان کی مدد کرو۔‘‘ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’(اے محمدؐ ؐ) لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ ؐ کہہ دیجیے، جو مال خرچ کرو، وہ ماں باپ کے لیے ہے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کےلیے ہے، اور تم جو کچھ بھلائی کروگے، اللہ تعالیٰ کو اس کا بہ خوبی علم ہے۔‘‘ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ’’مسلمان کو رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتائو کرنے اور ان کی مالی معاونت کرنے میں دواجر ہیں، ایک رشتے دار کا اجر اور دوسرا صدقے کا۔ غیررشتے دار مسکین کو صدقہ دینا، تو صرف صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینے پر دہرا ثواب ہے۔‘‘ (ترمذی) چناں چہ جب ایک نیک، متقّی اور باشعور مسلمان صلۂ رحمی کرتا ہے، تو سب سے پہلے وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز رشتے داروں کی خبر گیری کرتا ہے، ان کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے، اپنے جائز اور حلال مال سے ان کی مالی مدد کرتا ہے، ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ اس طرح وہ ان کی دعائوں کا حق دار ہوتا ہے، جو اس کی عزت، دولت اور عمر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ سورئہ آل عمران میں اللہ کا ارشادہے ’’تم (اس وقت تک) نیکی حاصل نہیں کر سکتے، جب تک کہ اپنی عزیز چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔‘‘ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو طلحہؓ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ’’اے اللہ کے رسولؐ ! میرے نزدیک میرا سب سے محبوب میرا یہ باغ ’’بئرحاء‘‘ (بئرحاء کھجور کے باغ کا نام تھا) ہے، میں اسے اللہ کی راہ میں خیرات کرتا ہوں۔ آپؐ اسے جیسے مناسب سمجھیں، خرچ فرما دیں۔‘‘ حضور ؐ، ابو طلحہ ؓ کے باغ صدقہ کرنے پر بڑے خوش ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا’’ اے ابو طلحہ ؓ! میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتے داروں پر صدقہ کردو۔‘‘ حضرت ابو طلحہؓ نے عرض کیا ’’یارسول اللہ ؐ میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ اور پھر انہوں نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ (صحیح بخاری/ مسلم) ایک مسلمان پر لازم ہے کہ جب وہ زکوٰۃ تقسیم کرے، تو سب سے پہلے اپنے رشتے داروں کا خیال کرے، اس کے علاوہ بھی مالی امداد کی کئی صورتیں ہیں۔ اگر کسی رشتے دار کا کوئی ذریعۂ معاش نہیں ہے، تو اس کے معاش کا معقول بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ کسی رشتے دار کی بیٹی کی شادی میں مالی مدد کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی قرابت دار کی طویل بیماری یا بچّوں کے تعلیمی اخراجات کے ضمن میں مالی مدد کرکے ثواب کمایا جاسکتا ہے۔ غریب اور نادار رشتے داروں کی باقاعدگی سے ماہانہ مالی معاونت اللہ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ یاد رکھیے، اللہ نے آپ کو جو مال و دولت دیا ہے، اس پر آپ کے رشتے داروں کا بھی حق ہے، اگر آج آپ اس حق کو ادا نہیں کریں گے، تو روزِ قیامت یہ قرابت دار آپ کا دامن پکڑیں گے۔ آئیے، ہم سب اپنے رشتے داروں میں ایسے عزیزوں کو تلاش کریں کہ جو اس کے مستحق ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اور رشتے داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑائو۔‘‘ (سورئہ بنی اسرائیل)
غیرمسلم رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی:
سرکارِ دو جہاں، سرورِ کونین، حضور نبی اکرم، رحمۃ الّلعالمین ہیں۔ آپﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت اور محسنِ انسانیت بناکر بھیجے گئے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ:’’(اے محمدﷺ)ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘ لہٰذا آپ کی دعوتِ حق تمام جہانوں کے لیے ہے۔ آپ نے غیرمسلم اور مشرک رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی، حسنِ سلوک اور احسان کا حکم فرمایا۔ حضرت اسماء بنت ِابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں میری والدہ، جو مشرکہ تھیں، میرے پاس تشریف لائیں۔ مَیں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں، وہ ضرورت مند ہیں، کیا میں ان سے بھی صلۂ رحمی کروں۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)۔ امّ المومنین حضرت صفیہؓ خانوادئہ ہارون ؑو موسیٰ ؑسے تعلق رکھتی تھیں، آپ کے والد حئی بن اخطب یہودی قبیلے، بنو نضیر کے سردار، خیبر کے رئیس اور یہودیوں کے بڑے مذہبی عالم تھے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت صفیہؓ کی ایک کنیز نے حضرت عمرفاروقؓ سے شکایت کی کہ ’’صفیہؓ ہفتے کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور اپنے یہودی رشتے داروں کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ امیر المومنینؓ اس بات کی تحقیق کے لیے خود امّ المومنین حضرت صفیہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت صفیہؓ نے فرمایا ’’جب سے اللہ نے مجھے جمعہ عطا فرمایا ہے، مجھے (سبت) ہفتہ کی قدر نہیں رہی، ہاں، یہودیوں میں میرے قرابت دار ہیں اور مجھے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ حضرت عمرفاروقؓ یہ جواب سن کر بے حد خوش ہوئے۔ اس کے بعد حضرت صفیہؓ نے اس کنیز کو آزاد کردیا۔ (الاصابہ)جب حضرت صفیہؓ کی وفات ہوئی، تو آپ کے ترکے میں ایک لاکھ درہم کی رقم تھی، جس کا تیسرا حصّہ آپ نے اپنے یہودی بھانجے کو دینے کی وصیّت کی۔ لوگوں نے اس وصیّت پر عمل کرنے میں پس و پیش کیا۔ امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جب اس بات کا علم ہوا، تو آپ ؓ نے فوراً پیغام بھیجا،’’ لوگو! اللہ سے ڈرو اور ہر صورت میں صفیہؓ کی وصیّت کو پورا کرو۔‘‘ چناں چہ انؓ کے ارشاد کے مطابق، فوری طور پر وصیت پر عمل کیا گیا۔ (طبقاتِ ابنِ سعد) ایک نیک مسلمان اپنے والدین کی اطاعت کے بعد بلاتخصیصِ مذہب اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے اور یہی اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ جس میں ہر ایک کے ساتھ صلۂ رحمی اور حسنِ سلوک کا درس دیا جاتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم۔
حق وراثت میں رشتے داروں کا حصّہ:
اسلام نے وراثت میں رشتے داروں کا حصّہ مقرر کردیا ہے۔ اب یہ ورثا کی ذمّے داری ہے کہ وہ شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق، عزیز رشتے داروں کو ان کا حصّہ دیں۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے ’’جو مال، ماں باپ اور رشتے دار چھوڑ کر فوت ہوجائیں، تھوڑا یا بہت، اس میں مردوں اور عورتوں دونوں کا حصّہ ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ (سورۃ النساء) اس سے آگے اللہ فرماتا ہے ’’اگر میراث کی تقسیم کے وقت (غیروارث) رشتے دار اور یتیم اور محتاج آجائیں، تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو، اور ان کے ساتھ شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔‘‘ (سورۃالنساء)
فرمائین الٰہی:
رشتے داری رحمٰن کی ایک شاخ ہے، اللہ فرماتا ہے اے رشتے داری،جو تجھے جوڑےگا، میں اس سےجڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں اس سے کٹ جائوں گا۔ (صحیح بخاری)
رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی سے محبت بڑھتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور عمر لمبی ہوتی ہے۔ (ترمذی)
اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت پہلے اپنے رشتے داروں کا خیال کرو۔ (ابودائود)
رشتے دار کو صدقہ دینا دہرا ثواب ہے، ایک صدقے کا، دوسرا صلۂ رحمی کا۔(ترمذی)
خرچ کی ابتدا اپنے اہل و عیال سے کرو، پھر اپنے عزیز و اقارب پر خرچ کرو۔(نسائی)
قطع تعلق کرنے والے رشتے داروں کو جوڑو، نہ دینے والوں کو دو، اور ظالم کے قصور معاف کردو۔ (ترغیب و ترہیب)
رشتے داروں سے تعلق توڑنے اور ان سے بدسلوکی کرنے والا جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔ (ترمذی)
جورشتے دار تم سے پیٹھ پھرلیں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔ (طبرانی)
والدین، رشتے داروں، ہم سایوں، مساکین اور یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئو۔ (صحیح بخاری)
اس قوم پر اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی، جس میں کوئی رشتے داروں سے قطع رحمی کرنے والا موجود ہو۔ (بیہقی)
قطع رحمی کرنے والوں کو آخرت میں بھی سزا ملتی ہے اور دنیا میں بھی۔ (ابنِ ماجہ)
انسانوں کے اعمال ہر جمعرات کو اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، مگر قطع رحمی کرنےوالے کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ (مسند احمد)
جس کو یہ پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ اور عمر لمبی ہو،اسے چاہیے رشتے داروں سے حسنِ سلوک کرے۔ (صحیح بخاری)
بدلہ چکانا صلۂ رحمی نہیں، صلۂ رحمی وہ ہے کہ جب اس سے رشتے داری توڑی جائے، تب بھی صلۂ رحمی کرے۔ (طبرانی)
احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرنا صلۂ رحمی نہیں بلکہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
والدہ کی بہنوں کے ساتھ ہمیشہ بھلائی سے پیش آئو، خالہ کا درجہ ماں کے درجے میں ہے۔(ترمذی)
آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہے، اس کی اسی طرح اطاعت و تعظیم کرو، جیسی باپ کی کرتے ہو۔ (ابودائود)
بڑے بھائی کا اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسا حق ہے، جیسے باپ کا بیٹوں پر۔(ترمذی)
جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
غریب رشتے داروں، قرابت داروں کا خیال رکھو، اللہ تمہارا خیال رکھے گا۔(مسندِ احمد)
تین طرح کے لوگ جنّت میں نہیں جائیں گے، شرابی، قطع رحمی کرنے والا اور جادوگر۔(ابنِ حبّان)
غیرمسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کرو۔ (صحیح بخاری)
اپنے رشتوں کو تر و تازہ رکھو، خواہ سلام ہی کے ذریعےسے۔ (مروی حضرت ابنِ عباس)
اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے کا ۔(سورۃ النحل)
اللہ کی خوش نودی چاہتے ہو، تو رشتے داروں کو ان کا حق دیتے رہو۔(سورۃ الروم)
سچّے اور اللہ سے ڈرنے والے اپنے مال سے محبت کے باوجود اسے اپنے رشتے داروں پر خرچ کرتےہیں۔ (سورۃ البقرہ)
اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا۔ (سورۃ البقرہ)
اپنے مال کو اپنے والدین، رشتے داروں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ (سورۃ البقرہ)
رشتے داروں سے تعلقات توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (سورۃ النساء)
(اللہ کی جانب سے) مقرر کردہ حصّوں کے مطابق، وراثت میں سے رشتے داروں کو ان کا حصّہ دو۔ (سورۃ النساء)
اگر میراث کی تقسیم کےوقت (غیروارث) رشتے دار، یتیم اور مسکین آجائیں، تو انہیں بھی کچھ دو۔ (سورۃ النساء)
ماں باپ، قرابت داروں، ہم سایوں اور غریب غربا کے ساتھ احسان کرو۔ (سورۃ النساء)
رشتے داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو اور فضول خرچی نہ کرو۔ (سورہ بنی اسرائیل)
’’اے نبیﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، البتہ یہ چاہتا ہوں کہ تم رشتے داری کی محبت کو قائم رکھو۔‘‘ (سورئہ شوریٰ)
تم سے بعید نہیں کہ اگر تم حاکم بن جائو، تو زمین پر فساد پیدا کرو اور رشتہ ناتے توڑ ڈالو، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے۔ (سورئہ محمد)
(ناراض ہونے پر) صاحبِ ثروت اپنے رشتے داروں، مسکینوں اور مہاجروں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں، بلکہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورئہ نور )
تم (اس وقت تک) نیکی حاصل نہیں کرسکتے، جب تک اپنی عزیز چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ (سورئہ آلِ عمران)

اپنا تبصرہ بھیجیں