دین الٰہی اکبر شاہی

akber badsha
EjazNews

اکبر کی پیدائش اور ابتدائی پرورش جن پریشانیوں میں ہوئی ۔ ان کی وجہ سے وہ کتابی تعلیم سے محروم رہا۔ 14سال کی عمر میں سلطنت کی وراثت اور 18ویں سال اختیار مطلق ہاتھ آگیا ۔ بیس برس تک جنگی فتوحات اس کی عمل داری کو برابر بڑھاتی رہیں۔مذہبی اعتبار سے یہ تمام زما نے ایسے اخلاص و خوش اعتقادی میں گزرا جس کی بڑے بادشاہوں میں نظیر ملنی دشوار ہے۔ خواجہ معین الدین اجمیریؒ سے خاص عقیدت تھی۔ آگرے سے ہر سال درگاہ شریف پر حاضر ہوتا اور بعض اوقات پورا سفر پیدل چل کر آتا تھا۔ روزے نماز کے ساتھ یا ہادی، یا معین کا وظیفہ پڑھتا۔ مہم بھیجتے وقت حضرت کی روحانیت سے برکت و نصرت کی دعا چاہتا تھا۔ جہاں کہیں کسی درویش با خدا کا حال سنتا، خود ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اخذ فیض کرتا تھا۔ شیخ سلیم چشتیؒ سے اتنی ارادت تھی کہ اپنی حاملہ بیوی کوشیخ کی درگاہ میں بھیج دیا اور ولادت فرزند کو انہی کی دعا کی برکت جانا انہی کے نام پر سلیم نام رکھا جو آگے چل کر جہاں گیر کے لقب سے سلطنت کا وارث ہوا۔ اسی طرح علمائے دین کی بڑی عزت حرمت کرتا تھا ۔شیخ عبد الغنی کا وہ احترام تھا کہ ادنیٰ درجے کے لو گ بھی استاد کی اتنی تعظیم نہ کرتے ہوں گے۔
علما سے بادشاہ کی کشیدگی اول اول ملکی مصالح کی بنا پر ہوئی پھر ان صاحبوں کی باہمی مخالفت نے اس کا دل کھٹا کر دیا۔ شیخ مبارک اور اس کے بیٹوں نے ان علما کے ہاتھ سے بڑی ایذا پائی تھی۔ اب شاہی خیر خواہی کے لباس میں اپنا انتقام لیا اور اکبر کو مذہبی علما کی تقلید سے اسی طرح منحرف کر دیا جس طرح ابتدا میں خود غرض حریفوںنے بیرم خاں کی اتالیقی سے آزادی دلا دی تھی ۔ پھر مولویوں کی طرح سے جتنی روک تھام ہوئی، اسی قدر بادشاہ کی ضد بڑھتی گئی۔ بہت سے علما اور قضاۃ اکبری سیاست کا شکار ہو ئے اور اسی جبر و قہر کا رد عمل یہ تھا کہ 990ھ میں بادشاہ نے تقلیدی مذہب کو خیر باد کہا اور اپنے نزدیک بالکل بے لاگ تحقیقات شروع کی ۔ عبادت خانے میں اسلامی فرقوں کے علاوہ ، عیسائی ، پارسی، ہندوغرض ہر مذہب کے علما کو شرکت کی دعوت دی اور ہر ایک کے عقائد و شعائر سیکھنے کی کوشش کی۔یہ بجائے خود قابل اعتراض بات نہ تھی لیکن اس کا اعلان ا یسے اعمال سے ہوا جو مسلمانوں سے اعلان جنگ کی شان رکھتے تھے ۔ سب سے پہلے ڈاڑھیوں پر آفت آئی۔پھر دربار میں سجدہ یا زمین بوس کی رسم لازمی قرار پائی۔ ریشمی لباس اور اعتدال سے شراب نوشی جائز کر دی گئی۔ تخت کے گرد کتے اور سور قیمتی جھولیں پنہا کر بٹھائے جانے لگے ۔ سرکاری مدارس میں عربی تعلیم موقوف ، علوم عقلی پڑھانے کا حکم ہوا۔ شمسی سال اور زر تشتی عیدیں رائج کی گئیں۔ سلام کی بجائے ’’اللہ اکبر‘‘جواب میں ’’جل جلالہ‘‘ کی رسم جاری ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ یہ حرکتیں بے لاگ تحقیق میں تو کیا مدد دیتیں۔ مسلمان علما کے جذبات کو ضرور چرکے لگاتی تھیں۔ وہ چوری چھپے کفر کے فتوے دیتے اور بادشاہ اور اس کے ندیموں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکاتے رہتے تھے۔ ملا عبد القادر بداونی تاریخ نویسی کی طرح تاریخ نکالنے میں مال رکھتے ہیں۔ ہر سن کے سوانح اور وقائع کے ساتھ ’’کفر شائع شد‘‘ فتنہ ہائے امت ، احداث بدعت کی تاریخیں لکھ کر دل کی بھڑکاس نکالتے تھے ۔ ملا تسیری (سیالکوٹی) نے ایک قطعہ لکھ کر بادشاہی بدعتوں کی تضحیک و تحمیق کی تھی ۔
یہی نئی آزادی اور جدید تجربات کا زمانہ ہے۔
یہی نئی آزادی اور جدید تجربات کا زمانہ ہے جبکہ اکبر سنیوں کی ضد میں اول اول شیعوں اور ایسے صوفیوں کی طرف مائل ہوا جو عقائد میں نسبتاً آزاد اور زبان لچلانے میں بے باک تھے۔ لیکن جب تعریض کی نوبت آئمہ اربعہ سے گزر کر آئمہ اثنا عشر اور انبیاء تک پہنچی تو یہ بھی گھبرا کر پیچھے ہٹے اور تقلید آبا کے کٹہرے میں کھڑے کر دئیے گئے۔ یہی حشر پنڈتوں، (نوساری کے) پارسی موبدوں، جنیوں اور پر تگیز پادریوں کا ہوا جنہیں باری باری سے یقین ہو گیا تھا کہ بادشاہ ان کا مذہب قبول کر لے گا۔ خصوصاً عیسائی مبلغ کئی سال تک مذہبی مباحثوں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیتے اور پائے پائے رومہ تک یہ اطلاعیں بھیجتے رہے کہ اکبر اسلام سے برگشتہ ہو گیا اور اب دین مسیحی کے سوا اسے کہیں ٹھکانا نہ ملے گا۔ لیکن یہ ان کا محض حسن ظن تھا۔ بادشاہ اور اس کے مشیر ہر مذہب کو اپنے علم و عقل کی کسوٹی پر کستے تھے اور جوچیز ان کی سمجھ میں نہ آتی (جیسے حشر و نشر ، وحی و رسالت یا الٰہیات کے دوسرے مسائل) اسے بے تکلف رد کر دیتے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ تحقیق کرنے والا اتنا بڑا صاحب و دولت و اقتدار بادشاہ تھا جس کے دامن سے سینکڑوں اشخاص کی اغراض وابستہ تھیں۔ اس کی خوشنودی، خوش حالی کی کفیل تھی۔ لہٰذا آخر میں خاص مشیر و محرم وہی لوگ رہ گئے جو کمال ذہانت سے اپنی ریکاری چھپاتے تھے اور در حقیقت محض بادشاہ کے میلان کے مطابق سخن سازی کر کے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے تھے۔ اسی قسم کے خوشامدیوں نے عجیب عجیب دلائل سے یہ بات خاطر نشین کی کہ سب پچھلے مذاہب میں تحریف ہوئی اور ایک ہزار سال کے دور ن اسلامی شریعت کی عمر پوری کر دی اب ایک نئے دین اور نئے شارع کی ضرورت ہے، اور اس بزرگ منصب کے سزا وارآپ ہیں! جھوٹی سچی پیش گوئیاں، پنڈتوں کی پوتھیاں، نجومیوں کے احکام، اولیاء اللہ کے اقوال و اشعار تصدیق میں جمع کئے گئے اور کچھ عجب نہیں کہ ان تدلیسات کے پے در پے جال میں یہ زیرک مگر کم عمل خود پسند بادشاہ پھنس گیا اور اپنے آپ کو مامور من اللہ سمجھنے لگاہو۔ بہر تقدیر ، خلفیہ اول علامی ابو الفضل کو حکم ہوا کہ نئی شریعت کا خاکہ اور چیلا (یا مرید) بننے کی ضرویر شرطیں مرتب کرے۔
غالباً یہ سن 991-92ھ (بمطابق 1583ء) کے واقعات ہیں۔ ان کی ترتیب اور تاریخ کچھ یقینی نہیں اور نہ ’’دین الٰہی ، اکبر شاہی‘‘ کے عقائد و عبادات صحت و وضاحت سے محفوظ رہے۔ ابو الفضل نے اجمال و ابہام سے کام لیا ہے۔ ملا عبد القادر کی تفصیل میں تضحیک اور پادریوں کے بیانات میں سماعی روایات اور ذاتی قیاسات شامل ہو گئے ہیں۔اصل میں اکثر مرید با اخلاص ہی جو حضور میں ہاں میں ہاں ملاتے تھے، جب باہر نکلتے تو نئی شریعت کو ہنسی دل لگی کہ پیرائے میں پیش کرتے تھے۔ تیس چالیس برس بعد ’’دبستان مذاہب‘‘ کے مولف نے بہت کوشش کی مگر بد اونی کی روایات سے کچھ زیادہ حالات فراہم نہ کر سکا اور دین الٰہی کا کوئی ماننے والا اسے نہ ملا۔ کہاں سے ملتا ؟ خود بانی کے زمانے میں اس کے چیلے (ابوالفضل کے بقول) کل 18تھے۔ اور ان میں بھی سچ پوچھئے تو شاید کسی کااعتقاد بے لوث و بے ریب نہ تھا۔ تاہم اتنا یقینی ہے کہ نئے مذہب میں خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا جاتا تھا۔ سورج کی عظمت ،زرتشتیوں سے اور اچک اچک کر یا الٹے لٹک کر یاد الٰہی کے طریقے جو گیوں سے اڑا ئے گئے تھے۔ ہر چیلے کو ’’اخلاص چار گانہ‘‘ یعنی ترک مال، ترک جان، ترک ناموس، ترک دین، کا اقرار کرنا پڑتا تھا۔ مگر دین سے دین تقلیدی مراد لی جاتی تھی۔
دین الٰہی کا کئی سال خاصا ہنگامہ برپا رہا۔ پھر بادشاہی سیاست کے خوف سے مخالفوں نے خاموشی اختیار کی۔ تو بحث مباحثے کا لطف بھیجتا رہا۔ جدید عقائد و اعمال چند ہی روز میں بے مزا معلوم ہونے لگے۔ زیادہ مایوسی اس لئے ہوئی کہ جا ں نثار و خدمت گزار ہندوئوں نے نئے مذہب کی طرف بالکل ر خ نہ کیا۔ 18چیلوں میں صرف ایک ہندو بیر بر کا نام آتا ہے۔ سووہ محض بادشاہ کا خوشامدہی مسخرا تھا۔ نئے دین کی ایجاد و ابداع کے اصل محرک شیخ مبارک اور ان کے دونوں بیٹے بتائے جاتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ 1001ھ میں شیخ اور 1004ہجری میں فیضی کے انتقال سے اس نو ساختہ قصر کے دوستوں گر پڑے۔ ابو الفضل پر اکبر کو نہایت اعتماد تھا اور ذاتی ملکی، مذہبی ہر اہم معاملے میں اس سے مشورہ لیتا تھا اور ذاتی ، ملکی ، مذہبی ہر اہم معاملے میں اس سے مشورہ لیتا تھا لیکن 1002ہجری میں خان اعظم مرزا عزیز کو کہ جو پہلے بادشاہ کی بد مذہبی سے خفا ہوکر حجاز چلا گیا تھا واپس آیا اور مریدان با اخلاص میں داخل ہوا ۔اکبراسے بھائیوں سے زیادہ چاہتا تھا۔ پچھلی نافرمانی ، ترش زبانی سب معاف کی اور وکیل مطلق بنا کر شاہی مہر اسی کے سپرد کر دی۔ انہی ایام (یعنی 3ہجری) میں سید مرتضی (المعروف بہ شیخ فرید) کہ دیانت و لیاقت میں فرد فرید تھے ، میر بخشی یعنی فوج کے وزیر مقر رہوئے۔ ایسے راسخ العقیدہ اور با خدا افراد کا تقرب پانا، کچھ تعجب نہیں کہ بادشاہ کے عقائد میں اعتدال کا وسیلہ بنا ہو ۔7ہجری میں دین الٰہی کا خا ص داعی ابوالفضل ، دربار سے دور، دکن کی مہمات پر بھیج دیا گیا۔ بادشاہ کی مذہبی لن ترانیاں دہیمی پڑ گئیں۔ اور زندگی کے آخری سنین میں وہ علانیہ تائب نہ ہوا ہو تو بھی ممکن ہے دل میں نادم ہو۔ جہاںگیر نے لکھا ہے کہ ابو الفضل کے خاتمے (1011ھ) کے ساتھ اکبر کی بد اعتقادی کا خاتمہ ہوا اور وہ ایک پاک عقیدہ مسلمان کی طرح دنیا سے خدا کے حضور میں گیا۔
ابوالفضل نے بادشاہ کی تائید کے پیرائے میں جہاں گیر پر اکبر نامے میں صاف صاف بغاوت اور نا اہلی کے الزام لگائے ہیں۔ ان باتوں نے جہانگیر کو اتنا مشتعل کیا کہ اس نے ابو الفضل کو جان سے مروا دیا ۔ لیکن دربا ر کے دوسرے مذہبی حلقوں میں مقتول کا نامقبول ہونا، اس مصرعہ تاریخ سے ظاہر ہے جسے خان اعظم سے منسوب کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں