دہلی فسادات:اقوام عالم اپنا فرض نبھائیں اور بھارتی بربریت کا فوری نوٹس لیں:وزیراعظم عمران خان

dehli

انڈیا میں متنازع شہریت بل کو لے کر پورے انڈیا میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ دہلی میں اس متنازع بل کیخلاف احتجاج کرنے والوں کی بازگشت بی جے پی کی دہلی الیکشن مہم میں بھی دیکھے گئے۔ دہلی میں حالیہ ہونے والے الیکشن میں بی جے پی کو بری طرح شکست ہوئی ۔ اس شکست کے کچھ دنوں بعد ہی وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو اس سے پہلے گجرات میں ہو چکا ہے۔
انڈین میڈیا جو رپورٹس دکھا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر جوویڈیو شیئر ہو رہی ہیں ان میں یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے پولیس متشدد ہندوئوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور مسلمانوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ زبانی احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ پولیس ان کے اختیار سے باہر ہے ۔ دہلی پولیس وفاقی حکومت کے انڈر ہوتی ہے یعنی اس وقت دہلی پولیس امیت شاہ کے انڈر ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے سوشل اکائونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ جب وہ موسیقار،کہ جنہوں نے فروغِ امن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے رکھا، بھی ہندوستان میں جاری قتل و غارت گری پر آواز بلند کرنے لگ جائیں تو دنیا پر بیداری واجب ہوجاتی ہے۔اقوام عالم اپنا فرض نبھائیں اور بھارتی بربریت کا فوری نوٹس لیں۔ تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑا ہونے کا یہی وقت ہے۔
اس کھلی جارحیت پر اروند کیجریوال بھی خاموش نہیں رہے انہوں نے انڈین میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ تشدد کو بھڑکا رہے ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔ یعنی ایک وزیراعلیٰ کس قدر بے بس ہے اس کا اندازہ ان کی گفتگو سننے کے دوران کیا جاسکتا ہے۔

ترک صدر طیب اردگان نے بھی انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام معمول بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ بھارت دنیا میں امن کی حمایت کی بات کرتا ہے جبکہ ان کے ملک میں ایسا ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت میں قتل عام کی مذمت کرتے ہیںاور بھارتی حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ٹھیک طریقہ نہیں ہے۔
اب تک دہلی سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20سے زائد ہو چکی ہے او رزخمیو ں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مسلمانوں کی مسجد ، درگاہ کو جلایا جارہا ہےاور ایسا کرنے والوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔
گزشتہ روز ایک بی بی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انڈیا کی ایک خاتون صحافی کا انٹرویو تھا ۔ جو ڈھکے چھپے الفاظ میں یہی دھرا رہی تھیں کہ مودی گجرات والا کام دہلی میں بھی دہرا رہے ہیں اور یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں