دہلی جل رہا ہے اور انڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کی خوشیاں منارہا ہے

indian_hittar

دہلی میں متنازع شہریت بل کو لے کر ایک عرصے سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ لیکن گزشتہ روز سے بھارتی دارالحکومت دہلی میں پر تشدد مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ اور ان مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دئیے۔ دہلی کی پولیس امیت شاہ کے ماتحت ہے ۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس والے بھی ہندو مظاہرین کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہو رہی ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی بے بسی ان کی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو کے ذریعے سامنے آرہی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جہاں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ وہاں کے عوامی نمائندے شکایات کررہے ہیں کہ پولیس نہیں ہے اگر کہیں پر ہے تو اس کی تعداد بہت کم ہے۔

انڈین میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد7ہو گئی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ہلاکت منظر عام پر آئی ہے بہت سے ایسے ہوں گے جو ابھی رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئے ہوں گے یا کسی ہسپتال تک پہنچنے نہیں ہوں گے ۔
دکانوں میں آگ لگی ہے، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جلی پڑی ہیں۔دہلی کے حالات کب کنٹرول میں آئیں گے یہ تو امیت شاہ یا نریندرا مودی کو ہی پتہ ہوگا لیکن اس دوران کتنے بے گناہ مریں گے اور ان سب کے قتل کا ذمہ دار کون ہوگا یہ بڑا سوال ہوگا؟۔
اگر دہلی پولیس کی بات کی جائے تو وہ پر تشدد مظاہروں کا الزام متنازع قانون کیخلاف احتجاج کرنے والوں پر عائد کر رہی ہے۔ جن علاقوں میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے وہ ظفر آباد ، موج پور ، سلیم پور اور چاند باغ ہیں۔
جبکہ اسد الدین اویسی نے بی جے پی کے کپل مشرا پر ہنگامے کرانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کے بی جے پی رہنما یہ دنگے فساد کروا رہے ہیں انہیں فوراً گرفتار کر لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں