دہشت گردی ایکٹ کے تحت حافظ محمد سعید کو سزا سنادی گئی

Hafiz saeed

پروفیسر حافظ محمد سعید کیخلاف6فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے پروفیسر حافظ محمد سعید کو 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی ہے اس کے ساتھ ہی 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11-F/2 اور 11N کے تحت سزا سنائی گئی ہے، جس میں ساڑھے پانچ، ساڑھے پانچ سال قید اور 15، 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
حافظ محمد سعید کی پیدائش سرگودھا میں ہوئی۔ہجرت کے بعد وہ خاندان کے پہلے بچے تھے کیونکہ دوران ہجرت ان کے خاندان کے 36افراد کو شہید کر دیا گیا تھا اور کوئی بچہ اب ان کے خاندان میں نہ تھا۔ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید نے قرآن پاک اپنی والدہ سے حفظ کیا اور گاؤں کے سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ اپنے ماموں حافظ عبد اللہ بہاولپوری کے پاس بہاولپور میں آگئے جہاں انہوں نے مزید تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر پڑھایا ، وہ سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے اور گولڈ میڈلسٹ بن کر لوٹے۔تعلیم میں ہمیشہ سے حافظ محمد سعید ایک لائق سٹوڈنٹ تھے جبکہ ان کے شاگردوں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ایک بہترین پروفیسر بھی تھے۔ جنرل ضیاءالحق نے انہیں اسلامی آئیڈیالوجی کونسل میں تعینات کیا تھا۔ حافظ محمد سعید دو ماسٹر ڈگریوں کے حامل ہیں ۔1994ءمیں حافظ محمد سعید امریکہ کادورئہ بھی کر چکے ہیں ۔

پاکستان میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں کی بات کی جائے تو ان کی رفاعی تنظیم فلاح انسانیت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جہاں پر کوئی نہیں پہنچ سکتا تھا وہاں پر حافظ سعید کی تنظیم کے کارکن خوراک اور بنیادی انسانی ضروریات کی چیزیں لے کر لوگوں تک پہنچے ان کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے کئی فلاحی پراجیکٹس ہیں جن میں سکول، ہسپتال اور مدرسے سرفہرست ہیں۔
حافظ سعید نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی تھی جس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انہوں نے جماعت دعوت کے نام سے اپنی تنظیم قائم کی۔ عالمی پابندیوں کے بعد انہوں نے فلاح انسانیت کے نام سے نئی تنظیم کام کی اور اسی تنظیم کے تحت بے تحاشا فلاحی کام کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں