دو بہنوں کی کہانی

two-sisters

بچو یہ کہانی صدیوں پر محیط ہے لیک۔ آج بھی سبق آموز ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص کی دو بیٹیاں تھیں۔ جب اس کی بیوی مر گئی تو اس نے کچھ ہی عرصہ بعد دوسری شادی کرلی۔ وہ عورت اپنی سوتیلی بیٹیوں کوبالکل پسند نہیں کرتی تھی اور ہر وقت انہیں گھر سے نکالنے کی ترکیبیں سوچتی رہتی ۔
ایک روز سوتیلی ماں اپنے خاوند کے گھر پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ٹوٹی ہوئی چارپائی پر جالیٹی۔ جب اس کا خاوند گھر پہنچا تو اسے ٹوٹی ہوئی چار پائی پر لیٹا ہوا دیکھ کر بولا۔
”کیا ہوگیا ہے، جوتم اس طرح ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹی ہوئی ہو؟“
بیوی نے جواب دیا،”اپنی بیٹیوں کو اس گھر سے نکالوورنہ میں یہ گھر چھوڑ کر اپنے میکے چلی جاﺅں گی!“ پھر اس عورت نے اس کی بیٹیوں کی اتنی برائیاں کیں کہ اس شخص نے اپنی بیوی کی خوش کی خاطر بیٹیوں کو گھر سے نکال دیا۔
گھر سے نکل کر وہ دونوں لڑکیاں روتی ہوئی اپنی ماں کی قبر پر چلی گئیں اور پھر وہیں رہنے لگیں۔ خدا کو ان پر بڑا ترس آیا کہ خدا بے سہاروں ،مکسینوں ، یتیموں کا ہمیشہ خیال رکھتا ہے۔جب لڑکیوں کو بھوک لگتی تو ان کے کھانے کا وسیلہ خود بخود بن جاتا کوئی خدا ترس انہیں کھانا دے دیتا۔

سوتیلی ماں کو بھی کسی طرح معلوم ہوگیا کہ وہ دونوں لڑکیاں اپنی ماں کی قبر پر رہ رہی ہیں ۔ ایک روز اس نے اپنی بلی کو قبرستان میں بھیجا تاکہ وہ یہ بات معلوم کر کے آئے کہ وہ وہاں کھاتی کیا ہیں؟
بلی جب قبرستان پہنچی تو ان لڑکیوں کے قریب ہی بیٹھ کر میائوں میائوں کرنے لگی۔ اسے یوں میائوں میائوں کرتے دیکھ کر چھوٹی بہن نے بڑی بہن سے کہا،
’’لگتا ہے بلی کو بھوک لگی ہوئی ہے ۔ اسے ہم تھوڑے سے چاول نہ دے دیں؟‘‘
بڑی بہن نے جب بلی کی طرف چاول پھینکے تو اس نے کچھ چاول تو خود کھالیے اور کچھ اپنے کان میں چھپا کر ان کی سوتیلی ماں کے پاس لے گئی۔
چاول کے دانوں کو دیکھ کر سوتیلی ماں کو بہت غصہ آیا اور وہ پھر اپنے خاوند کے گھر پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ٹوٹی ہوئی چار پائی پر جالیٹی۔ واپسی پر خاوند نے جب اسے دوبارہ یوں ٹوٹی ہوئی چار پائی پر لیٹے دیکھا تو کہا، ’’اب تجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ بیوی بولی ، ’’ میں نے خواب میں تیری پہلی بیوی کو دیکھا ہے وہ کہہ رہی تھی کہ میری بیٹیاں قبر پر آبیٹھی ہیں جس کی وجہ سے مجھے چین نہیں آرہا۔ تم انہیں میری قبر سے کہیں اوربھیج دو۔ اب تم اپنی بیٹیوں کو ماں کی قبر سے لے جا کر کہیں دور چھوڑ آئو ورنہ میں اپنے میکے چلی جائوں گی ۔‘‘
بیوی کی بات سن کر وہ آدمی پہلے تو پریشان ہوا پھر کچھ سوچ کر قبرستان چلا گیا۔ وہاں جا کر اس نے اپنی بیٹیوں سے کہا، ’’چلو جنگل میں پھول توڑ نے چلیں۔ ’’لڑکیاں باپ کے ساتھ جنگل میں چلی گئیں۔
جنگل میں پہنچ کر باپ نے کہا، ’’تم یہاں پھول چنوں میں ذرا نہر پر جا کر اپنی پگڑی دھو لائوں۔‘‘
لڑکیاں پھول چننے میں مصروف ہو گئیں اور ان کا باپ اپنی پگڑی کو ایک کیلے کے درخت پر لٹکا کر وہاں سے چلا گیا۔
لڑکیاں باپ کا انتظار کرتی رہیں مگر اسے نہ تو واپس آنا تھا اور نہ ہی وہ آیا۔ انتظار کرتے کرتے جب جنگل میں اندھیرا چھانے لگا تو انہیں دور کہیں روشنی نظر آئی۔ روشنی کو دیکھ کر بڑی بہن نے چھوٹی بہن سے کہ،’ابو تو نجانے کب آئیں، آئو چل کر دیکھتے ہیں کہ وہاں کون رہتا ہے۔‘‘
جب وہ روشنی کے قریب پہنچیں تو انہیں وہاں ایک جھونپڑی نظر آئی۔انہوں نے اس جھونپڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
تھوڑی دیر بعد ایک بڑھیا نے دروازہ کھولا تو انہوں نے اس سے رات جھونپڑی میں گزارنے کی اجازت مانگی۔
بڑھیا نے ان سے کہا،’’اس جھونپڑی میں ایک دیو رہتاہے ۔ اس نے اگر آپ کو یہاں دیکھ لیا تو وہ دونوں ہی کو کھا جائے گا!‘‘
لڑکیو ں نے بڑھیا کو بتایا کہ وہ بے سہارا ہیں۔ بڑھیا کو ان پر ترس آگیا اور اس نے انہیں اندر بلا لیا۔ جب دیو کے گھر آنے کا وقت قریب پہنچا تو بڑھیا نے ان دونوں کو لکڑی کی بڑی پیٹی میں چھپا دیا۔
رات کے پچھلے پہر جب دیو جھونپڑی میں داخل ہوا تو اسے وہاں انسانوں کی مہک آئی۔ وہ بڑھیا سے کہنے لگا، ’’آدم بو۔۔۔آدم بو!‘‘
دیو کو بڑھیاکی باتوں پر یقین نہیں آیا اور اس نے جھونپڑی کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ جلد ہی وہ لکڑی کی پیٹی تک جا پہنچا۔ اس نے پیٹی کھولی تو اندر دو سہمی ہوئی بچیاں بیٹھی تھیں۔ لڑکیوں کو لے کر وہ باہر آیا اور درخت کے ساتھ دونوں کو باندھ دیا۔
اس کے بعد دیو نے جھونپڑی کے باہر ایک الائو جلایا جس پر ایک بہت بڑی کڑاہی تیل ڈال دیا۔ اس تیل میں وہ انسانوں کو تل کر کھاتا تھا۔
تیل جب کھولنے لگا تو لڑکیوں کو پکڑ کر وہ کڑاہی کے پاس لے آیا اور کہنے لگا ’’کڑاہی کے گرد چکر لگائو!‘‘
اس کی بات سن کر چھوٹی بہن نے کہا،’’ہمیں تو کڑاہی کے گرد چکر لگانا آتا ہی نہیں۔ اس لیے پہلے تم ہمیں اس کے گرد چکر لگا کر دکھائو پھر ہم لگائیں گی۔‘‘
دیو نے جب اس کڑاہی کے رد چکر لگانا شوع کیا تو دونوں بہنوں نے موقع دیکھ کر دیو کو ایسے دھکا دیا کہ وہ دھڑام سے کھولتے ہوئے تیل میں جاگرا۔
دیو کے مرنے کے بعد وہ لڑکیاں اس بڑھیا کی جھونپڑی میں رہنے لگیں۔ ایک روز بڑی بہن اپنے بال کھولے جھونپڑی کے باہر بیٹھی تھی کہ ایک بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ اسے دیکھتے ہی بادشاہ کا دل اس سے شادی رچانے کے لیے مچل اٹھا اور اس نے فوراً ہی بڑی بہن کو نکاح کرکے اپنے ساتھ چلنے کا کہہ دیا ۔ بڑی بہن راضی ہو گئی۔
اس وقت چھوٹی بہن جنگل میں پھول چننے کے لیے گئی ہوئی تھی۔ بڑی بہن جب بادشاہ کے ساتھ رخصت ہونے گی تو اس نے بڑھیا سے کہا کہ وہ اپنے ساتھ سرسوں کے بیج لیے جارہی ہے جو وہ راستے میں پھینکتی جائے گی ۔ جب چھوٹی آئے تو اسے کہنا کہ اگر وہ میرے پاس آنا چاہے تو اس بیجوں کے پیچھے چلی آئی۔
جب چھوٹی بہن پھول چننے کے بعد جھونپڑی میں واپس آئی تو بڑھیا نے اسے بڑی بہن کا پیغام دیا۔ بڑھیا کی بات سنتے ہی چھوٹی بہن نے بھی اسے الوداع کہا اور سرسوں کے بیجوں کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔
چھوٹی بہن چلتے چلتے ایک محل کے سامنے جا پہنچی۔
دربان نے اسے اندر جانے سے روک لیا۔ اس نے بتایا ’’بادشاہ کی نئی بیوی اس کی بڑی بہن ہے۔ جسے بادشاہ کچھ دن پہلے بیاہ کر لایا ہے۔‘‘
دربان نے پوچھا ، ’’وہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ س کی بہن ہی بادشا ہ کی بیوی ہے۔ ‘‘ چھوٹی بہن بولی، ‘‘ وہ یوں کہ میری بہن جب بادشاہ کے ساتھ بیاہ کر محل تک آئی تھی تو اس نے ایک گھٹڑی میں سرسوں کےبیج بھر لیے تھے اور راستے میں وہ بیج گراتی آئی تھی ۔ انہی بیجوں کو دیکھتے دیکھتے میں یہاں تک پہنچ گئی ہوں۔ تم جا کر میری بہن سے پوچھو تو وہ تم کو بتا دے گی!‘‘
اتنی دیر میں اس کی بڑی بہن نے محل کی بالکونی سے اسے دیکھ لیا اور خادمہ کو بھجوایا جو اس کی بہن کو لے کر اندر چلی آئی۔ محل میں پہنچنے کے بعد اس نے اپنی چھوٹی بہن کو طرح طرح کے خوشبوئوں سے نہلایا دھلایا اور نیا لباس پہنایا۔
چھوٹی کو پھول چنتے چنتے اتنی مہارت ہو چکی تھی کہ اس نے کئی خوشبوئیں ایجاد کر لیں تھیں۔ اس کی انہی خوبیوں کی وجہ سے بادشاہ اسے بے حد پسند کرنے لگا اس نے اپنے محل کی آرائش اور شہزادیوں کو تیار کرنے لیے چھوٹی بہن کو ذمہ داری سونپ دی۔ دونوں بہنوں کی زندگی سکھوں سے بھر گئی۔ دونوں بہنوں نے خود غربت دیکھی تھی۔ انہوں نے بادشاہ سے کہہ کر محل کے باہر ایک بڑے لنگر خانے کا بندوبست کیا۔ یہ لنگر صبح شام چلتا تھا۔ قریب میں جھونپڑیاں بھی بنوادیں کہ اگر کسی کا گھر نہ ہو تو وہاں رہ لے اس لنگر کی وجہ سے پورے علاقہ میں بادشاہ کی تعریفیں ہونے لگیں۔ اس بات پر بھی بادشاہ دونوں بہنوں سے بہت خوش تھا۔ کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ان کے والد کے علاقے میں قحط اور کوڑھ پھیل گیا۔ بہت سے لوگ مارے گئے جو بچ گئے۔ انہوں نے وہاں سے بھاگنے میں عافیت جانی۔ جن لوگوں نے وہ علاقہ چھوڑا ان میں لڑکیوں کا باپ اور سوتیلی ماں بھی شامل تھے۔
نہیں پتہ چلا کہ دور دیس کی ایک ملکہ بہت رحم دل اور نیک ہے اور غریبوں میں مفت غلہ بانٹتی ہے ملکہ نے اپنے محل کے ارد گرد غریب غربا کے رہنے کے لیے بہت اچھی جھونپڑیاں بھی بنا رکھی ہیں تو وہ بھی وہاں ہی چلے آئے۔ یہاں اور بھی بہت لوگ جھونپڑیوں میں موجود تھے۔ ایک روز جب دونوں بہنیں غریبوں میں کھانا بانٹ رہی تھیں تو انہوں نے اپنے والد اور سوتیلی ماں کو پہچان لیا۔ والد اور سوتیلی ما ں نے بھی اپنی بیٹیوں کو پہچان لیا۔ وہ ان سے بے حد شرمندہ تھے۔ سوتیلی ماں ان سے معافی مانگنے کے لیے ان کی منت سماجت کرنے لگی۔
دونوں بیٹیوں نے انہیں معاف کر دیا اور بادشاہ سے پوچھ کر انہیں بھی اپنے محل کے قریب ہی ایک گھر بنا کر دے دیا۔ یوں سب لوگ ہنسی خوش رہنے لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں