دو بھائیوں کی کہانی

two_brothers

خلیفہ ہارون الرشید کی اجازت پا کر وزیر جعفر نے داستان یوں شروع کی:
مدت ہوئی مصر پر ایک نیک دل اور انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ شجاعت میں بے مثال اور سخاوت میں بے نظیر۔ اس کا نام سنکر بڑے بڑے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ اس کا وزیراعظم بھی علم وفن میںلاثانی تھا۔ اس کے دوبیٹے تھے۔ دونوں زیور تعلیم سے آراستہ تھے۔بڑے بیٹے کا نام شمس الدین اور چھوٹے کا نور الدین تھا۔
جب وزیراعظم کا انتقال ہوا تو بادشاہ نے دونوں بھائیوں کو بلوایا اور کہا کہ میری تمنا ہے تم دونوں بھائی وزارت کا کام مل کر انجام دو اور اپنے باپ کی طرح خاندان کا نام روشن کرو۔
ایک مہینے تک ان دونوں بھائیوں نے اپنے باپ کی وفات کا سوگ منایا۔ اس کے بعد بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورسرکاری کام کرنے لگے۔
ایک روز بڑے بھائی نے چھوٹے سے کہا میرا خیال ہے ہم دونوں اب شادی کر لیں۔ دونوں کی شادی ایک ہی روز ہو اور ہماری بیویاں آپس میں سگی بہنیں ہوں۔ شادی کے بعد اگر میرے گھر لڑکی اور تمہارے گھر لڑکا پیدا ہو اتو جوان ہونے پر ان کی آپس میںشادی کر دی جائے ۔
چھوٹے بھائی نے جواب دیا آپ کی یہ تجویز نہایت اچھی اور معقول ہے۔ اس کے علاوہ بھی جو حکم ہوگا ،خوشی سے بجا لاﺅں گا۔ اس لیے کہ آپ میرے بڑے بھائی ہیںاور آپ کا کہا ماننا مجھ پر فرض ہے۔
اب بڑے بھائی شمس الدین نے ایک اور شرط پیش کی کہ جس دن نکاح ہو اسی روز تم اپنی بہو یعنی میری بیٹی کے نام تین ہزار ریال نقد، تین گاﺅں اور تین کنیزیں لکھ دینا۔
چھوٹے بھائی نور الدین نے جواب دیا کہ مجھے یہ شرط ہرگز قبول نہیں ہے۔ اگر آپ زیادہ اصرار کرتے ہیں تو میں مجبور ہوں۔ آپ کو لازم تھا کہ اپنی بیٹی کے لیے جہیز مقرر کرتے اور ہمارے درمیان معاملہ طے ہو جاتا کہ آپ اس قدر جہیز دیں گے۔ بیٹی والا جہیز دیتا ہے یا الٹا لڑکے والوں سے لیتا ہے؟۔ یہ آپ الٹی گنگا بہاتے ہیں، لڑکے والوں سے جہیز لکھواتے ہیں۔
نور الدین نے یہ بات مذاق سے کہی تھی لیکن اس کے بڑے بھائی کو سخت ناگوار گزری۔ اس نے جواب دیا اللہ اللہ ! تم اپنے بیٹے کو میری بیٹی سے حقیر سمجھتے ہو۔ میں سمجھتا تھا کہ تم اس کی عزت کرو گے مگر اب پتا چلا کہ تم اسے کم رتبہ اور حقیر جانتے ہو اور اپنے بیٹے کی بڑائی کا دم بھرتے ہو۔ اب میں اپنی لڑکی کی شادی تمہارے لڑکے سے نہ کروں گا۔
کافی دیر تک دونوں بھائیوں میں بحث ہوتی رہی۔ آہستہ آہستہ یہ بحث تکرار تک جاپہنچی حالانکہ کہ سوت نہ کپاس کولی سے لٹھم لٹھا۔ دونوں بھائیوں میں سے ایک کی بیوی نے بھی گھر میں قدم نہیں رکھا تھا بلکہ ابھی ان کانام و نشان تک نہ تھا اور یہاں ان دونوں میں لڑکا لڑکی کے نکاح اور جہیز کی بابت جھگڑا ہو رہا تھا۔ بھائی بھائی کا دشمن ہو رہا تھا۔ بات یہاں تک بڑھی ، عقل پر ایسے پتھر پڑے کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔بول چال بند کر دی ۔
صبح ہوئی تو بڑا بھائی شمس الدین بادشاہ کے ہمراہ اہرام مصر کی جانب روانہ ہو گیا۔ نور الدین نے ساری رات تارے گنتے گزار دی ۔ کسی کروٹ چین نہ پڑا۔ غصے کے مارے نیند ایک پل کو بھی نہ آئی۔ پہلو بدلتے بدلتے صبح ہو گئی۔ اس نے اٹھ کر صبح کی نماز ادا کی۔ پھر ایک نوجوان سائیس کو حکم دیا کہ خچر تیار کرے اور تھیلیوں کو روپے پیسوں سے بھر دے۔
پھر خادموں سے یہ کہہ کر سفر پر روانہ ہوا کہ صوبہ قلیوب کی جانب چلا ہوں، تین روز بعد لوٹوں گا۔ کچھ کباب اور شیر مال لے کر شہر سے باہر نکلا اور میدان کا راستہ لیا۔ دوپہر کو ایک قصبے میں پہنچا۔ وہاں خچر کو باندھا، ذرا سستایا اور کھانا کھایا۔ اس کے بعد چند ضروری چیزیں خریدیں۔ خچر کے لیے چارہ خریدا اور دوبارہ سفر شروع کیا۔ چلتے چلتے شہر بصرہ میں پہنچا۔ سرائے میںقیام کیا۔ خچر کوسرائے کے ایک ملازم کے سپرد کر کے حکم دیا کہ اس کوٹہلاﺅ پھر خچر سے چار جامہ اتارا اور جائے نماز بچھائی۔
ملازم خچر کو لے کر ایک سمت کو چلا۔ اتفاق سے بصرے کے وزیر نے خچر کو محل کے دریچے سے دیکھا۔ اس کے ذہن میں آیا کہ یہ ضرور کسی وزیر یا بادشاہ کا خچر ہے۔ پھر غور کر کے دیکھا تو شک کی جگہ یقین نے لے لی۔ ایک غلام سے کہا کہ اس آدمی کو بلا لاﺅ۔
غلام دوڑا گیا اور اس ملازم کو ساتھ لے آیا۔وزیر نے اس سے دریافت کیا کہ خچر کس کا ہے اور وہ شکل و صورت سے کس رتبے کا آدمی معلوم ہوتا ہے ۔
ملازم نے جواب دیا حضور! اس کا مالک حد درجہ خوب صورت، نوجوان ہے۔ بات چیت سے امیری ٹپکتی ہے۔ لگتا ہے کسی بڑے ہی دولت مند سوداگر کا صاحبزادہ ہے۔
وزیر نے دربان کی بات سنی تو اندازہ لگا لیا کہ خچر کا مالک یقینا کوئی امیر زادہ ہے۔ فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر سرائے میں پہنچا اور نور الدین سے ملاقات کی۔ نور الدین نے خوش آمدید کہی اور مصافحہ کر کے وزیر کو اپنے قریب بٹھا لیا۔
وزیر نے نور الدین سے پوچھا صاحبز ادے ! کہاں سے آئے اور کہاں جاتے ہو؟۔
نور الدین نے جواب دیا حضور! قاہرہ سے آیا ہوں۔ میرے والد مرحوم بادشاہ کے وزیراعظم تھے۔ ان کے بعد ہم دونوں بھائی وزارت کی کرسی پر بیٹھے۔ اس کے بعد ساری بات کہہ سنائی اور آخر میںکہنے لگا میں یہ ارادہ کر کے گھر سے نکلا ہوں کہ جب تک ساری دنیا کی سیر نہ کر لوں گا۔ ہرگز واپس نہ آﺅں گا۔
اس پر وزیراعظم نے کہا بیٹا! میری مانو! تو اس خطرناک ارادے سے باز آجاﺅ ورنہ پچھتاﺅ گے۔
یہ کہہ کر خادم کو حکم دیا کہ خچر کو کسو اور سارا سامان ہمارے محل کو لے چلو ۔ پھر نور الدین سے مخاطب ہوا۔
صاحبزادے ! ہمارے ساتھ چلو اور ہمارے مہمان بن کر رہو۔
نور الدین بخوشی وزیر کے ساتھ ہو لیا۔
چند روز اسی طرح گزر گئے تو ایک دن وزیر نے نور الدین سے کہا بیٹے ! خدا نے مجھے کوئی بیٹا عطا نہیں کیا۔ صرف ایک لڑکی ہی لڑکی ہے۔ تمہاری ہی طرح نیک اور بھلی مانس ہے۔ اگر تم رضا مند ہو تو اس کی شادی تم سے کر دوں ۔ پھر بصرے کے سلطان کو اطلاع دوں کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے۔ مہربانی فرما کر میری جگہ اس کو اپنا وزیر مقرر فرمائیے۔ اور مجھے اجازت دیجیے کہ بقیہ عمری اد الٰہی میں بسر کروں۔ دن رات نماز اور قرآن پڑھوں۔
نور الدین نے جو یہ سنا تو سر جھکا لیا اور کہا مجھے حضور کی پیش کش تہہ دل سے قبول ہے۔یہ میری خوشی نصیبی ہے کہ حضور نے مجھے اس قدر نوازا۔
وزیر اس جواب سے بہت خوش ہوا اوراسی وقت باورچی خانے میں جا کر داروغہ کو حکم دیا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا پکاﺅ۔ ہم اس دعوت میں تمام امیروں وزیوں سے اپنے بھتیجے کا تعارف کروائیں گے۔ داروغہ نے حکم کی تعمیل کی اور باورچیوں سے لذیذ ترین کھانے پکوائے۔ جب تمام امیر وزیر، دوست احباب جمع ہو گئے تو کھانے سے فراغت کے بعد وزیر نے انہیںنور الدین سے ملایا اور کہا۔
میرا بڑا بھائی مصر کے بادشاہ کا وزیر تھا ،عقل اوردانائی میں بے نظیر تھا۔کچھ عرصہ ہوا کہ اس کا انتقال ہوگیا۔ میرے دو بھتیجے ان کی نشانی ہیں۔ بڑے کا نام شمس الدین اور چھوٹے کا نور الدین ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ میری صرف ایک لڑکی ہی لڑکی ہے۔ میرے بھائی کی وصیت ہے کہ اس لڑکی کی شادی ان کے دونوں لڑکوں میں سے ایک کے ساتھ ہو جائے۔ تاکہ گھر کی لڑکی گھر ہی میں رہے۔ میرا چھوٹا بھتیجا یہیں میرے پاس آگیا ہے۔ لہٰذا میں نے آ پ صاحبان کو یہ تکلیف دی اور یہاں بلوایا کہ اس لڑکے کو آپ سب سے ملا دوں۔
سب نے مبارکباد دی اور نکاح کی تجویز پسند کی۔اس کے بعد مہمانوں نے شربت پیا اور خدمت گاروں نے گلاب پاش سے گلاب چھڑکا ۔ مہمان رخصت ہو گئے تو وزیر نے حمامیوں کو طلب کیا اور حکم دیا کہ نور الدین کو حمام میں لے جاﺅ اور نہایت قیمتی اور نفیس پوشاک پہناﺅ۔
نور الدین نے جب حمام سے فراغت پائی، کپڑے بدلے، عطر چھڑکا تو اور ہی صورت نکل آئی۔ معلوم ہوتا تھا کہ چاند نکل آیا۔ چند روز بعد نور الدین کی شادی وزیرزادی سے ہو گئی۔
اب سنیے کہ بڑے بھائی شمس الدین کے ساتھ کیا بیتی!
شمس الدین بادشاہ کے ہمراہ جب واپس آیا تو یہ دیکھ کربڑا حیران ہوا کہ نور الدین گھرسے غائب ہے۔ خادموں سے دریافت کیا توانہوں نے بتایا کہ جس روز حضور بادشاہ کے ہمراہ تشریف لے گئے تھے۔ وہ اسی روز خچر پر سوار ہوئے اور کہہ گئے کہ صوبہ قلیوب کو جاتا ہوں، تیسرے روز لوٹ آﺅں گا۔ یہ بھی کہا کہ تم لوگ کوئی میرے ساتھ نہ آﺅ، میرا دل ٹھکانے نہیں ہے ،تب سے آج تک ان کی خبر نہیں ملی۔
یہ خبر سن کر شمس الدین کا دل بھر آیا۔ بھائی کی جدائی نے دل چیر کر رکھ دیا۔ دل میں کہنے لگا کہ میری گفتگو سے نور الدین ناراض ہو گیا، کیسی بری ساعت تھی، کیسی منحوس گھڑی تھی کہ جب میں نے اپنے بھائی سے فضول بحث چھیڑی اور اس کاد ل توڑا۔ اب اس کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ نہ ملا تو میری زندگی بھی بے کار ہے۔ اسی وقت بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نور الدین کے چلے جانے کی خبر سنائی۔ بادشاہ نے اسی وقت فرمان لکھوائے اور صوبے داروں کے نام بھجوائے۔ مگر نور الدین کاکہیں پتا نہ پایا۔ شمس الدین بے حدرنجیدہ ہوا آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔
اب سنیے کہ چند روز بعد شمس الدین کی شادی قاہرہ کے ایک سوداگر کی بیٹی سے ہوگئی۔ اتفاق سے جس روز شمس الدین کی شادی ہوئی اسی روز نور الدین کی شادی بصرے کے وزیر کی بیٹی سے ہوئی اور یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ کچھ عرصے بعد ایک ہی دن شمس الدین کے گھر لڑکی پیدا ہوئی اور نور الدین کے گھر لڑکا۔ اس لڑکے کانام حسن بدر الدین رکھا گیا ۔
دوسرے روز وزیر نور الدین کو لے کر بادشاہ کے حضور میں گیا۔ نور الدین نے زمین بوس ہو کر بادشاہ کی تعظیم کی ۔ بادشاہ نے وزیر سے پوچھا یہ نوجوان کون ہے ؟ اسے ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
وزیر نے جواب دیا یہ نوجوان غلام کا بھتیجا اور داماد ہے۔ میرے بھائی نے وصیت کی تھی کہ میں اپنی لڑکی کی شادی اس سے کروں ۔ اب خدا کے فضل سے یہ ہوشیار اور اعلیٰ درجے کا تربیت یافتہ ہے۔ میں اب بہت بوڑھا ہوگیا ہوں۔ کاروبار سلطنت انجام دینے سے معذور ہوں، لہٰذا حضور کی خدمت میں درخواست گزار ہوں کہ وزارت کا عہدہ میرے بھتیجے کو عطا فرمائیے۔ انشاءاللہ حق نمک ادا کر ے گا۔
بادشاہ نے اس نوجوان کو دیکھ کر اور اس کی بات چیت سن کر اندازہ کر لیا کہ وزارت کا کام بخوبی کر سکتا ہے ۔ اسی روز وزارت کی سند عطا کی اور کئی پارچے کا قیمتی خلعت دیا۔
پانچویں برس وزیر کا انتقال ہوا تونور الدین اس کی جائیداد کا وارث قرار پایا۔ اس عرصے میں اس کا بیٹا حسن پانچ برس کا ہوا تو بسم اللہ کی تقریب ادا ہوئی۔ اپنے دور کے نامور عالم اسے پڑھانے کیلئے مقرر کیے گئے۔
کچھ عرصے بعد نور الدین ایک موذی مرض میں مبتلا ہوگیا۔ بہترین علاج کیا گیا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ ایک روز وہ زندگی سے اس قدر مایوس ہوگیا کہ اپنے لڑکے کو پاس بلا کر کہنے لگا جان بابا ! یہ دنیا آنی جانی ہے۔ انسان اس میں چند روز کا مہمان ہے۔ یہ کہہ کر بہت رویا اور بیٹے کو نصیحت کی بیٹا ! بری صحبت سے بچنا لالچ کبھی نہ کرنا، چھوٹے بڑے کا احترام کرنا کہ اسی میں انسان کی بڑائی ہے۔
اس کے بعد اپنے بڑے بھائی شمس الدین کا بھی ذکر کیا، جان بابا ! تمہارے ایک چچا بھی ہیں، نام ان کا شمس الدین ہے اور مصر کے بادشاہ کے وزیراعظم ہیں۔ بس اک ذرا چھوٹی سی بات نے ہم دونوں بھائیوں کو جدا کردیا۔
اس کے بعدقلم دوات منگوا کر سارا حال درج کیا۔ اول سے آخر تک ہر ایک بات لکھی اور تاکید کی کہ یہ کاغذ سنبھال کر رکھنا ۔ ضائع نہ کر دینا۔ جب چچا سے ملاقات ہو تو میرا سلام کہنا اور یہ کاغذ ان کے حوالے کر دینا۔ میری وصیت ہے کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو قاہرہ جا کر اپنے چچا سے ملاقات کرنا۔ چچا پوچھیں تو کہہ دینا کہ آپ کا بھائی دل میں یہی حسرت لیے چل بسا کہ آپ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ حسن بدر الدین نے وہ کاغذ اپنے باپ سے لے لیا اوروعدہ کیا کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس پر پورا پورا عمل کرے گا۔
دوسرے روز نور الدین کا انتقال ہوگیا۔ محل میں کہرام مچا، دور دور تک ماتم ہوا۔ حسن بدر الدین اس قدر افسردہ ہوگیا تھا کہ گھر سے باہر نکلنا بھی چھوڑ دیا۔ نہ کسی کام میں جی لگتا تھانہ فارغ بیٹھے طبیعت بہلتی تھی کئی روز تک بادشاہ کے دربار میں حاضر نہ ہو سکا۔
سلطان کو جو یہ خبر ہوئی تو انہوںنے نور الدین کی جگہ ایک نیا وزیر مقرر کر کے روانہ کیا اور اسے حکم دیا کہ نور الدین کی تمام جائیداد پر پہرے بٹھا دئیے اور اس کے بیٹے حسن کو گرفتار کر لائے۔ نئے وزیر نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی ۔ نور الدین کی تمام جائیداد پر بھاری بھاری قفل ڈالے، پہرے بٹھائے اور حسن کوگرفتار کرنے کی تیاری کی کہ اسے سلطان کے حضور میں لے جائے اور مرتبہ پائے۔
اب سنیے کہ وزیر نورالدین کی فوج میں ایک افسر اس کا بڑا خیر خواہ تھا، اس نے جو یہ ماجرا دیکھاتو فوراًاپنے آقا نور الدین کے بیٹے کے پاس گیا اور اسے آنے والے خطرے سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتا دیا کہ سلطان نے تمہارے باپ کی تمام جائیداد ضبط کر لی ہے۔
حسن بدر الدین نے یہ حال سنا تو سخت گھبرایا اور پوچھا کیا مجھے اتنی مہلت مل سکتی ہے کہ محل میں جا کر اس قدر ہیرے جواہرات ساتھ لے آﺅں کے جلا وطنی کی زندگی میں وہ میرے کام آسکیں؟۔
فوجی افسر نے مشوہ دیا کہ حضور فوراً کہیں بھاگ جائیں۔ جان ہے تو جہان ہے آپ زندہ رہے تو مال وزر پھر بھی ہاتھ لگ جائے گا۔ بس اب ا یک ثانیے کی دیر نہ کریں۔
حسن بدر الدین کو یہ مشورہ پسند آیا۔ بھیس بدل کر شہر سے بھاگ نکلا۔ جدھر سے گزرتا تھا۔ لوگ اسی کاتذکر ہ کرتے تھے۔ سبھی اس کی مصیبت پرآنسو بہاتے تھے۔ یہ سب باتیں سنتا ہواجدھر سینگ سماتا تھا،ادھر جاتاتھا۔ چلتے چلتے قبرستان میں آ پہنچا ۔ قبروں میں سے ہوتا ہوا اپنے باپ کے مزار پر آیا۔ بدلا ہوا بھیس اتارا اور دم لینے کو بیٹھ گیا۔
اتفاق سے بصرے کا ایک یہودی بھی وہیں آن پہنچا۔ فوراً پہچان گیا کہ نور الدین کا بیٹا حسن بدر الدین ہے۔ پوچھا حضور کی طبیعت کچھ ناساز تو نہیں ؟۔
حسن نے جواب دیا میں ابھی ابھی خواس سے بیدار ہوا ہوں۔ سوتے سوتے خواب میں اب حضور تشریف لائے اور گلہ کیا کہ کیوںبیٹے ! ہماری قبر پر کسی روز نہ آئے ؟۔ لہٰذا میں فوراً روانہ ہوا کہ ابا حضور کے مقبرے کی زیارت کر آﺅں اور کچھ پھول قبر پر چڑھا آﺅں۔
یہودی نے کہا حضور کے والد نے کچھ سوداگری جہاز بھیجے تھے۔ وہ یہاں آگئے ہیں۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہر جہاز کا مال تجارت ایک ہزار اشرفی میں خرید لوں گا اور رقم نقد ادا کر دوں گا۔ میں جہاز کے مال کی قیمت اسی وقت ادا کرتا ہوں۔ یہ تھیلی لیجیے اور مہربانی کر کے رسید لکھ دیجئے۔ حسن نے اشرفیاں لے کر مال فروخت کرنے کی رسید لکھ کر دے دی اور یہودی شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا۔
یہودی کے جانے کے بعد حسن بدرالدین کا دل مارے مصیبت کے بھر آیا اور وہ زار و قطار رونے لگا ۔ روتا جاتا تھا اور خدا سے فریاد کرتا جاتا تھا کہ بادشاہ نے ناحق اس پر ستم ڈھایا۔ کہتے ہیں کہ نیند سولی پر بھی آجاتی ہے۔ اسی طرح روتے روتے حسن کی آنکھ لگ گی اور وہ گہری نیند سو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں