دوسرے ہارٹ اٹیک سے کیسے بچا جائے؟

secon attack

ایک ہارٹ اٹیک کے بعد مریضوں کے جانبر ہونے کی شرح بڑھ رہی ہے۔25 سال پہلے 50 فیصد لوگ ہارٹ اٹیک کے بعد ایک ہفتہ کے اندر موت سے ہمکنار ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن اب ستر فیصد سے زیادہ مریض ہارٹ اٹیک کے بعد زندہ رہتے ہیں۔ صرف امریکہ میں ہر سال ہسپتالوں میں داخل ہونے والے ہارٹ اٹیک کے سات لاکھ مریضوں میں سے ساڑھے پانچ لاکھ زندہ رہتے ہیں اور ہسپتالوں سے فارغ کر دئیے جاتے ہیں۔ مرض کے بارے میں زیادہ آگاہی بہتر تشخیص اور بہتر طبی سہولتوں کی بدولت ہارٹ اٹیک کے بعد رہنے والے مریضوں کی تعداد میں ہیں سال پہلے سے دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
اگر چہ ہارٹ اٹیک آج بھی خوفناک مرض ہے لیکن آپ اپنے اردگرد آسانی کے ساتھ ایسے لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں پانچ سے پندرہ سال پہلے ہارٹ اٹیک ہوا تھا لیکن وہ اب ایک بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے بچپن میں ایک ڈاکٹر ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا کہ انہیں سال قبل ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ جب میں پہلی بار انہیں ملا ،اس کے بعد وہ بیس برس تک زندہ رہے۔ یعنی وہ ہارٹ اٹیک کے بعد کم از کم چالیس برس تک زندہ رہے۔ بہت سے لوگ جو انہیں بہت قریب سے جانتے تھے وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک پرامن اور دھیمے انداز کی زندگی بسر کی۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کا طرز زندگی بہت سارہ تھا۔ وہ سادہ سبزیوں پر مبنی خوراک اور غذائیں لیا کرتے تھے۔ روزانہ 5 سے 7 کلومیٹر روزانہ پیدل چلا کرتے تھے اور وہ کبھی اشتعال میں نہیں آیا کرتے تھے۔ اس مختصر کہانی میں ہمارے لیے بھی بہت کچھ ہے۔
سب سے پہلے تو سادی حقیقت یہ ہے کہ آپ ہارٹ اٹیک کے بعد بھی کئی برسوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ پھر یہ کہ آپ کا طرز زندگی آپ کی بقا کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بالخصوص ہارٹ اٹیک کے بعد تو یہ اہم ترین کردار ادا کر سکتا۔ ہارٹ اٹیک نہ ہونے کے باوجود عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کے دل کی شریانوں میں کولیسٹرول اور چکنائیاں جمنے سے شریانیں آہستہ آہستہ تنگ ہوتی رہتی ہیں۔ چنانچہ ضروری ہوتاہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو شریانوں کے سخت ہونے اور تنگ ہونے کے عمل کو نہ صرف روکیں بلکہ واپسی کا راستہ دکھا سکیں۔
یہ درست ہے کہ اگر آپ کو ایک ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے تو دوسرے اٹیک کے امکانات قوی ہیں لیکن یہ مت بھولئے کہ آپ کی عمر کے کئی اور فرد ایسے ہیں جن کے دل کی شریانوں کا مرض اتنا سنگین ہے کہ وہ پہلے ہارٹ اٹیک سے ہی جانبرنہ ہو سکیں گے۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ پہلے اٹیک سے بچ نکلے ہیں اور آپ کو موقعہ ملا ہے کہ ذرا رک کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور بہتر معیار کی صحت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلیاں لائیں۔
صحت کی حفاظت کے لیے دس اہم اقدامات:
جو افراد ایک ہارٹ اٹیک سے نکل چکے ہیں ان کے لیے ماہرین نے کچھ ایسے اقدامات تجویز کیے ہیں جو ان کی صحت محفوظ رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔
اپنی صحت کے بارے میں اپنا رویہ تبدیلی کریں :
بہت سے لوگ جنہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہوتا ہے وہ بھی صحت مند دل کے لیے بنیادی حقائق کو نظر انداز کیے رکھتے ہیں۔ سائنسی حقائق کی بنیاد پر آپ کا ڈاکٹر آپ کو بتا سکتا ہے کہ مزید ہارٹ اٹیک کا خطرہ کس قدر ہے۔ آپ شدید خطرے کی زد میں ہیں یا نہیں۔ ممکن ہے آپ نے پہلے ہارٹ اٹیک سے پہلے کے برسوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے زیادہ توجہ نہ دی ہو۔ لیکن اب بھی صورت حال سنبھل سکتی ہے۔ یاد رکھئے آپ اتنے بوڑھے نہیں ہوئے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کا آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو۔ ورزش نہ شروع کر سکتے ہوں یا درست خوراک نہ لے سکتے ہوں۔ ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے بہت سے افراد اور ان کے گھر کے افراد بد قسمتی سے بھول جاتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک کے بعد بھی کئی برس تک زندہ رہا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں اور غلط طور پر سمجھنے لگتے ہیں کہ ایک اور ہارٹ اٹیک اور موت زیادہ دور نہیں۔ یہ رویہ محض لاعلمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک مناسب اور ہوش مندی پر مبنی طرز زندگی کے ساتھ آپ توقع کر سکتے ہیں کہ ایک طویل عمرسے لطف اندوز ہوں اور اپنے پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔ یہ مت سمجھیں کہ دو سراہارٹ اٹیک اور قبل از وقت موت ناگزیر ہے۔ ایک مثبت رویہ اپنائیں اور خود کو باور کرائیں کہ ماضی میں صحت مند زندگی کے لیے مسلمہ اصولوں کو بھول گیا تھا۔ اب میں ایسا نہیں کروں گا اور دوسرے ہارٹ اٹیک کا نشانہ نہیں بنوں گا۔ زندگی کے لیے ایک نئی سوچ کے ساتھ میں زندہ رہنے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔
تمباکو نوشی چھوڑ دیئے :
اگر آپ ابھی تک تمباکو نوشی کر رہے ہیں تو اسے فوراً چھوڑ دیں۔ پہلے ہارٹ اٹیک کے موقعہ پر آپ کے ڈاکٹرنے یقینا آپ کو تمباکو نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیا ہو گا اور اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا ہو گا۔ اگر آپ نے ڈاکٹر کی نصیحت پر کان نہیں دھرا تو سنگین غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تمباکو نوشی آپ کے دوسرے ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا رہی ہے۔اسے فوراً ترک کردیجئے۔
غذا میں مناسب تبدیلی لائے :
میں جب اپنے کسی عزیز کو قبل ازوقت ہارٹ اٹیک یا اس کی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے ان کی غذا یاد آجاتی ہے جس میں تلی ہوئی چیزیں کثرت سے ہوتی تھیں۔ ان کے کھانے اضافی کیلوریز اور دیسی گھی سے لبریز ہوتے تھے۔ بلاشبہ ان کا جسمانی وزن بھی زیادہ تھا۔ برصغیر میں کھانے کا یہ انداز اور موٹاپا عام سی بات ہے۔ آپ دوسرے ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے سادہ خوراک اپنائیں۔ ایسی غذائیں استعمال کریں جن میں کیلوریز کم ہوں۔ترچکنائیاں نہ ہوں اور کولیسٹرول نہ رکھتی ہوں۔
جسمانی وزن پر قابو پایئے :
اپنا جسمانی وزن قد اور عمر کے مطابق معیاری سطح پر رکھے۔ زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپا آپ کے دوسرے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ یہ ایک ملین مسئلہ ہے جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔
ورزش میں باقاعدگی :
سائنسی شواہد نے تصدیق کی ہے کہ ہارٹ اٹیک کے بعد بھی اگر باقاعدگی سے ورزش شروع کی جائے تو زندگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور ان افراد کے مقابلے میں 25 سے 32 فیصد بڑھ جاتے ہیں جو ورزش نہیں کرتے۔ ایک سروے کے مطابق فارغ وقت میں سرانجام دی جانے والی سرگرمیوں کے ذریعے ہونے والی معتدل ورزش دوسرے ہارٹ اٹیک کا امکان 30 فیصد کم کر دیتی ہے۔ یہ سرگرمیاں یا مشاغل باغبانی گھر کی چھوٹی موٹی مرمت جیسے کاموں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اگرچہ عام لوگوں کو ہفتے میں 3 یا 4 دن 30 سے 40 منٹ کی ورزش سے عمومی صحت اور دل کو فائدہ پہنچتا ہے لیکن ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو روزانہ ورزش کرنی چاہیے۔
ذہنی دباو کم کیجئے :
اضافی ذہنی دباو جسم میں کیمیائی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جو آپ کے دل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ دباو¿ سے آپ کا بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے اور کولیسٹرول بھی۔ ٹاپ کی شخصیت رکھنے والے افراد زندگی دھیمے انداز میں گزارتے ہیں۔ انہیں ٹاپ ”اے“ کی شخصیت رکھنے والے افراد کے برعکس دل کی باری کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ معمولی باتوں پر پریشان ہونا اور مشتعل ہونا چھوڑدیجئے۔ ایساکرنا بالکل ممکن ہے۔
بیک وقت موجود دوسری بیماریوں پر بھی مناسب توجہ دیجئے :
ہارٹ اٹیک کے متعدد مریضوں کو ایک یا ایک سے زیادہ کچھ اور بیماریاں بھی لاحق ہوتی ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ہائی کولیسٹرول شامل ہیں۔ ان کے علاج پر بھی مناسب اور مسلسل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلڈ پریشر، بلڈ شوگر یا بلڈ کولیسٹرول پر پوری طرح قابو نہ پایا جائے تو یہ بھی دوسرے ہارٹ اٹیک کو قریب لے آتی ہیں۔
اپنی ادویات کو اچھی طرح سمجھئے :
بہت سے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ہسپتال سے فارغ کرنے کے بعد مختلف قسم کی ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں۔ تمام ادویات کے سنگین ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ چنانچہ ادویات کا بے قاعدہ اور بے محل استعمال خطرات بڑھا دیتا ہے۔ ادویات کی درست خوراک کی فہرست بنائے۔ ان کے استعمال کا مقصد اور منفی اثرات اس فہرست میں درج کیجئے۔ اگر آپ کو کسی ضمنی اثرات کاشبہ پیدا ہوا ہو تو فورا ًاپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے۔ اسپرین کے بارے میں ماہرین کا دعوی ہے کہ یہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ 50 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ اگر آپ اسپرین استعمال نہیں کر رہے تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے۔
شراب کا استعمال :
اگر آپ ماضی میں شراب پیتے رہے ہیں تو ہارٹ اٹیک کے بعد ابتدائی چند ہفتوں میں اس کا دوبارہ استعمال بہت خطرناک ثابت ہوگا۔ ہارٹ اٹیک سے دل کا متاثرہ پٹھہ بحالی کے لیے کئی ہفتے لیتا ہے۔ زیادہ شراب نوشی ویسے بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
وظیفہ زوجیت کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے :
بہت سے مریض ہارٹ اٹیک کے بعد چار سے چھ ہفتوں کے درمیان جنسی سرگرمی شروع کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن کچھ مریضوں میں بے قاعدہ دھڑکنوں یا ہارٹ فیلیور کی علامتیں ابھر آتی ہیں۔ ان کے لیے ادویات کے ذریعے علاج بہت ضروری ہوتا ہے۔ جنسی عمل کے نتیجہ میں اچانک ہارٹ اٹیک کا خدشہ محض ایک وہم ہے۔ لیکن ڈاکٹر سے مشورہ لینا مناسب رہتا ہے۔
گزشتہ تیس پنتیس برسوں کے دوران پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد بحالی کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ 1958 میں جب میرے چچا کوبتیس سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک ہوا تو ڈاکٹروں نے انہیں تین ماہ تک مکمل بیڈ ریسٹ کا پابند کیا تھا۔ آج کل ہارٹ اٹیک کے مریضوں کا علاج ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ مریضوں کو ایک کے بعد دوسرے یا تیسرے دن چلنے پھرنے کے لیے کہا جا تا ہے۔ زیادہ تر مریضوں کو سات سے دس دنوں کے اندر ہسپتال سے فارغ کر دیا جا تا ہے۔ اس حوالے سے ہماری سوچ اور رویہ بالکل بدل چکا ہے۔ اب تو ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو چند ہفتوں کے بعد اپنے کام کاج پر جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ہارٹ اٹیک کے مریض اٹیک کے بعد کئی عشروں تک نارمل زندگی گزارتے ہیں۔چاہے آپ کو ایک ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے اس کے باوجود آپ کو یہ سوچنے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ آپ مزید ایک طویل زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ایک ہی شرط ہے کہ آپ کو اپنی غذا اور روز مرہ زندگی میں ضروری تبدیلیاں لانے پر تیار ہو نا ہو گا۔
آپریشن کے بعد احتیاط :
برصغیر میں ہر ماہ سینکڑوں بائی پاس آپریشن کیے جاتے ہیں۔ لیکن دل کی بیماری کا حتمی حل آپریشن نہیں ہے۔ 45 فیصد کے قریب بائی پاس میں پیوند شدہ خون کی نالیاں ایک سال میں بند ہو سکتی ہیں۔ چالیس سے پچاس فیصد پیوند پانچ سال میں اور بری طرح متاثر ہونے والی شریانیں سات سال میں بند ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ زندگی کا طرز عمل بد لنا ان مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے جو بائی پاس آپریشن سے گزر چکے ہیں۔
مثلاً اگر کوئی مریض آپریشن کے بعد بھی تمباکو نوشی جاری رکھتا ہے تو نئی پیوند شدہ خون کی نالی بھی 3 سے 5 سال کے دوران بند ہو سکتی ہے اور پھر ایک نئے آپریشن کی ضرورت پڑے گی۔ بہت سے سرجن تو ایسے مریضوں کا آپریشن کرنے پر تیار نہیں ہوتے جو تمباکو نوشی چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں۔ غذائی ردو بدل اس مرض میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ متعدد تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کم کولیسٹرول اور کم چکنائی والی غذائیں شریانوں کے دوبارہ سکڑنے یا تنگ ہونے کے عمل کو روکنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ خصوصاً پیوند کی جانے والی شریانوں کو صحت مند رکھنے لیے بہت مددگار ہیں۔
تیزی سے کولیسٹرول کم کرنا بائی پاس آپریشن کی طویل عرصہ تک کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔ ایک مطالعہ کے دوران 162 مریضوں کا ریکارڈ مرتب کیا گیا۔ وہ سب بائی پاس آپریشن کرا چکے تھے۔ ان سب کا کولیسٹرول لیول تیزی سے کم کرنے کے لیے ادویات اور سادہ غذا سے علاج کیا گیا۔ ان کی غذائیں کم چکنائی اور کم کولیسٹرول پر مبنی تھیں۔ نتیجتاً ان کے مجموعی کولیسٹرول میں 25 فیصد کی LDL میں 43 فیصد کمی اور HDLمیں 37 فیصد اضافہ ہوا۔ 16 فیصد سے زیادہ مریضوں میں انجیو گرافی پر دیکھنے میں آیا کہ ان کا شریانیں سکڑنے کا عمل واپسی کی سمت اختیار کر چکا ہے۔ 3.6 فیصد مریض جن کا علاج صرف غذا سے کیا گیا تھا ان میں بھی شریانوں کی بہتری پائی گئی۔ مجموی طور پر 61 فیصد مریض دوا اور غذا پر رکھے گئے تھے۔ ان کی کیفیت صرف غذا سے علاج کرانے والے مریضوں سے بہتریا محکم رہی۔ یوں ماہرین اس نتیجہ پر پہنچے کہ کولیسٹرول کم کر کے شریانوں کے تنگ ہونے کے عمل کو روکا جاسکتاہے۔
اینجو پلاسٹی کے بعد بھی مسلسل کولیسٹرول کم رکھنا مفید رہتا ہے۔ واشنگٹن میں ایک تجربے کے دوران 16 مریضوں کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ گروپ اے کو کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات دی گئیں۔ گروپ بی کو بھی صرف ادویات دی گئیں ۔تیسرے گروپ کو کوئی دوانہ دی گئی۔ اڑھائی سال کے بعد دیکھا گیا کہ ادویات استعمال کرنے والے گروپوں میں شریانوں کا دوبارہ سکڑنا اس گروپ کے برعکس بہت کم تھا جسے کوئی دوا نہیں دی گئی تھی۔ جس گروپ کو ادویات نہیں دی گئی تھیں ان میں صورت حال بہت سنگین ہو چکی تھی۔ اس گروپ کے متعدد مریضوں کو دوبارہ انجیو پلاسٹی کے عمل سے گزرنا پڑا۔
مذکورہ بالا اقدامات نہ صرف ان مریضوں کے لیے اہم اور سودمند ہیں جو ہارٹ اٹیک کا شکار ہو چکے ہیں بلکہ ان مریضوں کے لیے بھی اتنے ہی ضروری ہیں جن کا بائی پاس آپریشن ہو چکا ہے۔ تمباکو نوشی چھوڑنا باقاعدہ ورزش کرنا ذہنی دباو¿ میں کمی لانا اور کم چکنائی اور کم کولیسٹرول والی غذائیں استعمال کرا نجیو پلاسٹی اور بائی پاس آپریشن کے بعد بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ صحت مند دل کے ساتھ اپنے معیار کی زندگی بسر کی جا سکے۔ آپریشن کی تکنیک بلاشبہ دل کے مریضوں کو ایک اچھی زندگی مہیا کرتی ہے۔ لیکن آپریشن بہرحال دل کی شریانوں کا حتمی علاج نہیں ہے۔ مستقل علاج مذکورہ اقدامات کو مسلسل اپنانے سے ہی میسر آتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں