دوسرے قلندر کی آپ بیتی

badsha_samandar_two_qalandar
EjazNews

دوسرے قلندر نے خلیفہ ہارون الرشید سے اپنا قصہ یوں بیان کیا کہ اے امیر المومنین ! میرا باپ صاحب تاج و تخت تھا۔ اکثر بادشاہ اس کے باج گزارتھے۔ باپ کے انتقال کے بعد میں تخت نشین ہوا اور حکمرانی کرنے لگا۔ میرانام ملک عجیب ہے اور میرا ملک نادار و غریب ہے۔ سمندر کے کنارے پر واقع ہے اور کئی جزیرے میرے قبضے میں تھے۔
ایک مرتبہ ایک جہاز پر سوار ہوا کہ جزیروں کی سیر کروں اور سمندر وں کی ہوا کھائوں۔ دو ماہ کے سفر کا سامان ساتھ لیا اور دس جہازوں کوہمراہ چلنے کا حکم دیا۔
چالیس روز تک مزے مزے سے سفر کیا۔ جہاز کو کوئی آفت نہ پہنچی۔ اکتالیسویں روز کو باد مخالف نے ستم ڈھایا۔ جہاز کی روش میں فرق آیا۔ ہر فرد بشر پریشان تھا۔ کوئی مناجات پڑھتا تھا کوئی دعائیں مانگتا تھا کہ الٰہی اس آفت سے بچا! یا خدا اس قیامت سے بچا!الحمد للہ کہ دعائیں قبول ہوئیں ، موافق ہوا چلنے لگی۔ جان میں جان آئی۔ خدا نے کشتی حیات سے بچائی۔
خدا خدا کر کے ایک ا ور ٹاپو پر پہنچے۔ صبح کو جہاز سے اتر کر وہاں گئے ۔ جا کے لطف اٹھایا خوب سیر کی، مزہ اٹھایا۔ دودن آرام کیا، تیسرے روز سوار ہوئے۔ دس دن تک مزے مزے سے جاتے تھے۔ سمندر کی سیر کا لطف اٹھاتے تھے۔ گیارھویں روز دیکھا تو جہاز خشکی سے دور ہوا جاتا تھا اور ساحل بہت فاصلے پر نظر آتا تھا۔ کپتان سے کہا کہ مستول پر جا کر دیکھے تو معاملہ کیا ہے ؟۔ جہاز کی حرکت میں اس اختلاف کا سبب کیا ہے اور خشکی سے دور کیوں ہوا ہے ؟۔
اس نے مستول پر بیٹھ کر تھوڑی دیر دیکھااور اتر کے کہا اور تو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ مگر ہاں دائیں جانب سے بادل گھر کے آرہا ہے اوراندھیرا بڑھتا جاتا ہے۔
یہ سنتے ہی میرا رنگ فق ہوگیا اور اہل جہاز کا کلیجا شق ہو گیا۔ میں منہ پیٹنے لگا کہ اب جہاز ضرور تباہ ہو جائے گا ۔ ہم سب مر جائیں گے اور سمندر کی مخلوق کی غذا بنیں گے۔ سوچنے لگا کہ کل دوپہر کو سنگ مقناطیس کے پہا ڑ پر پہنچیں گے۔ اللہ نے اس پہاڑ کو یہ قوت دی ہے کہ لوہے کو اپنی سمت کھینچتا ہے۔ جب جہاز وہاں پہنچے تو لوہے کی کل چیزوں اور پرزوں کو وہ پہاڑ اپنی طرف کھینچ لے گا۔ تختے سب کے سب الگ ہو جائیں گے اور ہم وہیں ڈوب جائیں گے۔
صبح کو سنگ مقناطیس کا پہاڑ نظر آیا اور دوپہر ہونے تک جہاز کی سب میخیں نکل کر پہاڑ سے جا لگیں۔ جہاز کا تختہ تختہ جدا ہو گیا۔ جہاز غرقاب ہوا ، ہر فرد بشر کا خانہ خراب ہوا۔ سمندر ہی میں سب کی قبر بنی۔ ایک کی بھی جان نہ بچی اور جتنے جہاز تھے ان کا بھی یہی حال ہوا ۔ ہاں خدا نے مجھے البتہ بچایا ایک تختہ تیرتا ہوا میرے قریب آیا اور میں اس پر بیٹھ کر شکر باری تعالیٰ بجا لایا۔
تختہ تیرتا ہوا جاتا تھا اور مجھے سوائے سمندر اور آسمان کے اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ تختہ بہتے بہتے ایک پہاڑ کے نیچے جا لگا۔ میں اتر کر پہاڑ پر پہنچا تو پیتل کا ایک گنبد دکھائی دیا۔ یہ گنبد دس ستونوں پر کھڑاپایا۔ میں نے وضو کر کے نماز پڑھی اور خدا کا شکر ا دا کیا کہ زندہ سلامت یہاں پہنچا۔ چونکہ تختے پر پڑے پڑے تھک گیا تھااس لیے گنبد کے ایک کونے میں پڑکر سو رہا۔
خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ کہہ رہے ہیں کہ اے عجیب! جب سو کے اٹھے تو اپنی پائوں کی جگہ کو کھود۔ وہاں سے پیتل کی ایک کمان تیرے ہاتھ آئے گی اور شیشے کے تین تیر بھی ملیں گے۔ ایک ہی مقام سے یہ سب ملیں گے۔ ایک ہی مقام سے یہ سب نکلیں گے۔ یہ تیر اس سوار پر جو گنبد میں کھڑا ہے، چلانا، سوار تیرکے کھاتے ہی گھوڑے سے گرے گا اور گھوڑا تیرے پاس پہنچے گا ۔ گھوڑے کو تو اسی مقام پر دفنا دینا، جہاں سے تیر کمان نکالے گا جب تو یہ کارروائی کرچکے تو سمندر بہت بڑھے گا اور بڑھتے بڑھتے گنبد کے برابر آجائے گا۔ پھر ایک کشتی سامنے سے نظر آئے گی۔ اس میں تجھے پیتل کا آدمی دکھائی دے گا۔ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہوگا۔ اس کشتی میں تو فوراً بے جھجک سوار ہو جانا مگر اتنا یاد رکھ کہ بسم اللہ کالفظ زبان سے نہ نکلنے پائے ۔ دس دن میں تیرا بیڑا پار ہوگا۔ وہ پیتل کا آدمی کشتی کھینچتا ہوا تجھے بحر سلامت میں پہنچا دے گا اور وہاں سے تو اپنے وطن کو پہنچ جائے گا۔ اگر بھولے سے بھی بسم اللہ کا لفظ زبان پر لائے تو نقصان اٹھائے گا۔
یہ خواب دیکھ کر آنکھ کھل گئی۔ مگر خواب کی کیفیت خوب یاد رہی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس جگہ کو کھودا جہاں کہ کچھ دیر پہلے میں سو رہا تھا۔ واقعی ایک کمان اور تین تیر نکلے۔ اب تو خواب کی تعبیر کی صداقت کایقین ہوگیا۔ فوراً تیر چلایا اور سوار کو گرایا ۔ سوار سمندر میں جا گرا اور گھوڑا میرے پاس آرہا۔ میں نے اس کو اسی جگہ دفنا دیا جو جگہ کھودی تھی اور جہاں سے تیر اور کمان نکلی تھی۔
اس کے ساتھ ہی سمندر بڑھنے لگا حتیٰ کہ گنبد کے قریب آگیا۔ اس کے بعد ایک کشتی سامنے سے نظر آئی۔ جب قریب پہنچتی تو دیکھا اس پر پیتل کا ایک آدمی سوار ہے، ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہے۔ اس نے کشتی لا کے میرے قریب لگا دی۔ میں فوراً کشتی میں بیٹھ گیا۔ مگر یہ مجھے خوب یاد تھا کہی یہ وہ کفرستان ہے جہاں بسم اللہ کہنا خلاف ایمان اور باعث خطرہ جان ہے۔ لہٰذا خاموش بیٹھا رہا۔ وہ برابر کشتی کھینچتا تھا۔ دیکھا تو کشتی میرے وطن کے رخ جاتی ہے۔ دل کی کلی مارے خوشی کے کھل جاتی ہے۔
نودن اور نو راتیں میں اس کشتی پر سوار رہااور وہ خاموشی کے ساتھ کشتی کھیتا گیا۔ ایک دن دور سے میرے ملک کے آثار دکھائی دئیے۔ شکر ادا کیا کہ خدا نے یہ دن دکھایا ،زبان سے بے اختیار کلمہ شکر نکل گیا۔ الحمد للہ رب العالمین کہہ اٹھا۔
بس غضب ہوگیا۔ وہ کشتی فوراً نظر سے غائب ہو گئی اور ملاح بھی خدا جانے کہاں چلا گیا۔ میں سمندر میں غوطے کھانے لگا۔
نو دن تک بزرگوں کی نصیحت یاد رکھی۔ بسم اللہ کا لفظ منہ سے نہ نکالا ۔ خاموشی اختیار کی مگر اس روز شامت اعمال نے یہ گردش دکھائی ۔ آخر مسلمان ہوں خدا کی یاد آئی۔ تیرتے ڈوبتے خدا خدا کر کے ایک ٹاپو پایا۔ جان میں جان آئی کہ اللہ نے مصیبت سے بچایا۔ شب کو کپڑے خشک ہونے کو ڈالے اور خود سو رہا۔ صبح کو آنکھ کھلی، کپڑے پہن کر اس جزیرے کی سیر کرنے لگا ۔ ادھرا دھر چلتے چلتے ایک جنگل میں وارد ہوا۔ تھوڑی دور جا کر دیکھا تو نہریں جا بجا جاری ہیں، درخت گنجان ہیں ۔ پھل اور پھول بکثرت ہیں۔ اس کے قریب ایک اور ٹاپو نظر آیا ۔ میں سمجھتا تھا کہ تمام جنگل ہی جنگل ہے مگر اس کے آگے ایک اور جزیرہ دکھائی دیتا تھا۔
اتنے میں ایک اور کشتی نظر آئی۔ میں خوشی سے جامے میں پھولا نہ سمایا کہ مصیبت کے وقت یہ کشتی آڑے آئی۔ کئی آدمی اس پر سوار تھے۔ جب وہ کشتی کنارے لگی تو دس آدمی اس پر سے اترے۔ ہاتھوں میں یہ کچھ لیے ہوئے تھے میں حقیقت حال جاننے کے لیے ایک پیڑ پر چڑھ گیا وہ آدمی اس درخت کے نیچے آئے اور وہاں کی مٹی ہٹائی تو ایک دروازہ نمودار ہوا۔ یہ لوگ پھر اس کشتی پر گئے اور وہاں سے کباب، کلچے، روٹیاں ، آٹے کا ایک بورا اورگھی کا ایک کپا اور اس طرح کا ضرور ی سامان لے کر آئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی ایک نوجوان کو لے کر اس دروازے کی طرف چلا اور اس کو ساتھ لے کر تہہ خانے میں اتر گیا۔ کچھ دیر کے بعد سب لوگ باہر آگئے اور لڑکے کو وہیں چھوڑ آئے۔ دروازہ بند کر کے اس پر مٹی ڈال کر چھپا دیا۔ جیسا پہلے تھا، ویسا ہی بنا دیا اور کشتی پرسوار ہو کر اپنی راہ لی۔
جب کشتی دور نکل گئی تو میں درخت سے نیچے فوراًوہاں کی مٹی ہٹائی تو وہی چوکھٹ نظر آئی۔جی کڑا کر کے دروازہ کھولا ۔ ایک زینہ دکھائی دیا۔ اندر گیا تو مکان سجا سجایا۔ فرش آراستہ پایا، دیکھا تو وہی لڑکا ایک عمدہ بستر پر پڑا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی اس کا رنگ زرد ہو گیا ۔ میں نے خود ہی صاحب سلامت کی اور کہا:
گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں بھی شہزاد ہ ہوں جہاز کی تباہی مجھے یہاں لے آئی۔
جب اس لڑکے کو یقین ہو گیا کہ میں شریف زادہ ہوں اور کوئی بھوت پریت نہیں تو اپنا حال من و عن یوں بیان کیا ۔ میں اصل میں جوہری بچہ ہوں۔ ایک نامی گرامی جوہری کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔ اپنا حال زار کیا عرض کروں۔ والد بزرگوار جوہریوں کے سردار تھے۔ بڑے بڑے شہروں میں کانیں، گماشتے اور کوٹھیاں تھیں ۔تجارت کے جہاز بھی چلتے تھے ، مگر دل کا شبستان بے چراغ تھا بے اولاد ہونے کا بڑا داغ تھا۔
ایک دن خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ نورانی صورت آئے اور کہا گھبرائو نہیں تمہارے گھر میں بھی فرزند ضرور پیدا ہو گا۔ مگر اس کی عمر زیادہ نہ ہوگی۔ جلد ہی تم سے جدا ہو جائے گا۔
جب میںپیدا ہوا تو والد مجھے دیکھ کر پہلے تو بہت خوش ہوئے مگر جب خواب یاد آتا تھا تو گھنٹوں روتے رہتے تھے۔ میری چھٹی کی رسم پر آنکھ بند کر کے لاکھوں روپے خرچ کیے۔ مشہور نجومی بلائے گئے۔ ان سب نے غور کرکے حساب لگا کے بتایا کہ چودھواں برس اس نونہال پر بہت بھاری ہے۔ اگر یہ برس خیریت سے نکل گیا تو پھر اس کا بال تک بیکا نہ ہوگا۔ کل سے میرا چودھواں برس شروع ہوا ہے۔ چنانچہ میرے والد مجھے اس تہہ خانے میں بند کر گئے ہیں تاکہ ہر آفت سے محفوظ رہوں۔ ایک سال بعد وہ مجھے یہاں سے نکال کر لے جائیں گے۔
لڑکے کی یہ کہانی سن کر میرے دل پر بہت گہرا اثر ہوا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرائو نہیں، خدا بہتر کرے گا۔ اس تہہ خانے میں تمہیں کون مارنے آئے گا۔ کھانے پینے کا ہر سامان یہاں میسر ہے۔ بس جی کڑا کر کے ایک سال گزار دو۔ پھر باقی عمر خیریت سے گزارو گے۔
لڑکے پر میری تسلیوں کا اچھا اثر ہوا اور اس کا مرجھایا ہوا چہرہ پھول کی طرح کھل اٹھا کچھ دیر ہم باتیں کرتے رہے۔ پھر لڑکے کو نیند آئی اور وہ پلنگ پر لیٹ کر سو گیا۔ اچانک میرا دل پھل کھانے کو چاہا تو میں نے ادھر ادھر چھری کی تلاش کی ۔ دیکھا تو چھری لڑکے پلنگ کے اوپر ایک طاق میں رکھی ہے میں نے ہاتھ بڑھا کر چھری اٹھائی تو اچانک چھری میرے ہاتھ سے گر گئی اور گرتے ہی سیدھی سوئے ہوئے نوجوان کے دل میں اتر گئی۔ وہ تین بار تڑپا اور پھر ٹھنڈا ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر میرے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی اپنے اوپر لعنت بھیجنے لگا کہ نا حق میں نے چھری اٹھائی کہ اس معصوم کی قضا آئی۔
افسوس کرتا اور آنسو بہاتا تہہ خانے سے باہر آیا۔ دروازہ بند کیا، مٹی ڈالی جیسا تھا ویسا ہی بنا دیا۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ جو کشتی لڑکے کو پہنچا کے گئی تھی، تیزی کے ساتھ پھر اس کنارے کی طر ف آرہی ہے۔ ڈرا کہ جس وقت یہ سب کشتی پر سے اتر کے اندر جائیں گے تومجھ کو اس کا قاتل ٹھہرائیں گے۔ اس خوف سے درخت کے اوپر چڑھ کے پتوں میں چھپ رہا۔
وہ سب کشتی سے اتر کر تہہ خانے کی طرف چلے ،وہاں جا کے مٹی ہٹائی۔ دروازہ کھول کے اندر گئے، دیکھا کہ لڑکا سفید کپڑے پہن کے پڑا سوتا ہے۔ پہلے پکارا جب اس نے کوئی جواب نہ دیا تو ہاتھ پکڑ کے جگایا وہ مردہ۔ کیا جواب دیتا ؟ یہ جگر پاش منظر دیکھ کر اس کاباپ زمین پر گر پڑا اور پچھاڑیں کھانے لگا۔ بہت رویا پیٹا۔ حاضر ین کو بھی رونا آیا سب کا برا حال تھا۔
کچھ دیر بعد وہ لڑکے کی لاش کو لے کر باہر آئے اور کشتی میں ڈال کے واپس چل دئیے۔ میں یہ حال چپکا دیکھتا تھا اور دل میں کہتا تھا کہ ہائے ! اگر میں یہ جانتا کہ وہ میرے ہاتھ سے یوں مارا جائے گا تو میں اس کے پاس نہ جاتا۔
جب رات ہوئی تو میں اس درخت سے نیچے اترا اور سہما سہما سا ایک طرف کو چل دیا۔ جدھر جاتا تھا پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔ نہ کوئی کشتی نظر آئی نہ جہاز دیکھا۔
دومہینے تک یہی حال رہا۔دن میں سفر کرتا رہتا اور شب کو کسی درخت پر پرندوں کی طرح بسیرا کر لیتا۔
اچانک ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سمت آگ روشن ہے۔ دل کو ڈھارس ہوئی کہ کسی انسان سے ملاقات ضرور ہو گی۔ ساری تکلیف دور ہوگی۔ اگرچہ بہت تھک چکا تھا مگر آگ دیکھ کر ہمت بندھی اور تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں