دنیا بھر میں کرونا وائرس کے 2لاکھ 19ہزار متاثر ین ہیں: ڈبلیو ایچ او

covid_19

کرونا وائرس دنیا کے 173 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اور یہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس خطرناک وائرس سے گزشتہ روز 786 افراد ہلاک ہوئے اور ان 786میں صرف 13چین میں ہلاک ہوئے باقی باہر کی دنیا میں ہلاکتیں سامنے آئیں۔ اورتقریبا 15123 نئے کیس درج کیے گئے ہیں۔ اس طرح اب تک ڈبلیو ایچ او کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 8593 ہو گئی ہے۔ اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس وائرس کے 15123نئے کیس درج کیے گئے ہیں۔ چین میں اب تک اس وائرس سے 3245 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں اس وقت 2لاکھ 19ہزر افراد کرونا وائرس کی زد میں ہیں۔
اٹلی جو یورپ میں اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے اس وائرس سے 455لوگ وہاں ہلاک ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صرف اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 978ہو گئی ہے۔ اٹلی کے علاقے لومبارڈے اور میلان کو وبا کا مرکز قرار دیا جارہا ہے ۔
اگر ایرا ن کی جانب دیکھا جائے تو اس ہلاکت خیز وبا نے وہاں پر 1135افراد کی جان لے لی ہے۔ سپین میں 638، فرانس 264، برطانیہ 104، جنوبی کوریا 91، نیدر لینڈز58، جاپان 32، سوئزر لینڈ 33، جرمنی 28، انڈونیشیا 19، بیلجیم میں14افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ۔
امریکہ میں جان لیوا کرونا وائرس کا پھیلاﺅ بڑھ رہا ہے اور اس وائرس کی زد میں آنے سے اب تک 143 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 8017 لوگوں کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز نے تقریباً 7038 لوگوں کے کرونا وائرس سے متاثر اور 97 کی موت کی رپورٹ جاری کی تھی۔ واشنگٹن کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے جہاں اب تک 74 افراداس وائرس کی زد میں آکر موت کی وادی میں چلے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو 11 مارچ کو عالمی وبا قرار دے دیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اس وائرس سے نبٹنے کیلئے جنگی حالات کے نفاذ کااعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کیخلاف لڑائی کو جنگ کی طرح لے رہے ہیں جبکہ امریکہ میں پناہ لینے والوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکہ میں ہسپتالوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ مخصوص آپریشن اور ڈینٹل سرجریز فی الحال ملتوی کردیں ۔ جبکہ متعلقہ حکام کو ہزاروں نئے وینٹی لیٹرز حاصل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
جب گزشتہ روز صدر ٹرمپ پریس کانفرنس کر رہے تھے تو ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس وائرس کو کو چائنہ وائرس کیوں کہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری چین سے آئی ہے اس لیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں