دنیا بھر میں تقریباً 5ہزار بچوں میں سے ایک ہیموفیلیا کا شکار ہے

Hemophilia

ایک محتاط اندازے کے مطابق دُنیا بھر میں ہر پانچ ہزار بچّوں میں سے ایک ہیموفیلیا کا شکار ہے۔ یہ دراصل خون کا ایک ایسا عارضہ ہے، جس میں خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔ عمومی طور پر اگر کوئی خراش آئے یا معمولی نوعیت کی چوٹ لگ جائے، تو خون کارسائو محض چند سیکنڈز میں آپ ہی آپ بند ہوجاتا ہے، جبکہ اگر کوئی زخم یا چوٹ گہری ہو، تو اس مقام پر خون کا ایک لوتھڑا سا بن جاتا ہے، جو خون کے مزید بہائو کو روک دیتا ہے، لیکن اس مرض میں مبتلا مریضوں کا خون نہ صرف بیرونی چوٹوں اور زخموں کی صورت بہتا رہتا ہے، بلکہ جسم کے اندر بھی خون بہنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ایسے مریضوں کا اگر کسی سبب آپریشن ہو، تو خون روکنا دشوار گزار ترین کام ہوتا ہے۔ قدرتی طورپر ہمارے خون میں کلوٹنگ فیکٹرز (Clotting Factors) پائے جاتے ہیں، جن کی تعداد بارہ ہے۔ اگر ان فیکٹرز میں سے کوئی ایک خصوصاً فیکٹر 8یا 9کم ہو، تو خون جمنے کا عمل نامکمل رہ جاتا ہے اور معمولی سا حادثہ بھی، محض خون بہنے کے سبب جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس مرض کو دو اقسام میں منقسم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم ہیموفیلیا اے کہلاتی ہے، جو خون جمانے والے عنصر8کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے، جبکہ فیکٹر9کی کمی ہیموفیلیا بی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک صحت مند فرد میں فیکٹر 8اور 9کی نارمل مقدار 50تا 200آئی یو/ایم ایل ہوتی ہے اور اگر کوئی فرد ہیموفیلیا کا شکار ہو تو اس مقدار ہی کی بنیاد پر مرض کی شدت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر خون میں کلوٹنگ فیکٹر کی مقدار ایک فیصد سے کم ہوگی تو یہ شدید ہیموفیلیا (severe hemophilia) کہلائے گا۔ مقدار کی ایک تا پانچ فیصد کمی درمیانہ درجہ شمار کی جاتی ہے، جبکہ پانچ فیصد سے زائد مقدار کم درجے کے ہیموفیلیاکو ظاہر کرتی ہے۔
ہیموفیلیا ایک موروثی مرض ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے اور تاحیات لاحق رہتا ہے۔ قدرتی طور پر خواتین ہیموفیلیا سے زیادہ متاثر نہیں ہوتیں۔ موروثی مرض کے اگلی نسل تک منتقل ہونے کا بھی ایک مخصوص طریقہ کار ہے، جس کے مطابق ماں بیٹے میں اور باپ بیٹی میں مرض منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ چونکہ مرض کی واضح علامت خون کا مسلسل بہنا ہے، تو عموماً مرض کی ابتدائی تشخیص اُسی وقت ہوجاتی ہے، جب پیدائش کے وقت نومولود کی ناف کاٹنے یا ختنے کے بعد خون کافی دیر بہتا رہے۔ اس عارضے کے شکار مریضوں کے جوڑ یا پٹھے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور جوڑوں یا پٹھوں کے اندر اگر خون کا یہ رساؤ جاری رہے تو وہ متورم ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً مریض کو چلنے پھرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہیموفیلیا کی حتمی تشخیص کے لیے خون کا معائنہ، مرض کی قسم اور شدّت کا تعین کیا جاتا ہے اور علاج کی بات کی جائے، تو ترقّی یافتہ ممالک میں فوری طورپر خون جمانے والے وہ فیکٹرز انجیکشن کی صورت دیئے جاتے ہیں، جن کی مریض کے جسم میں کمی واقع ہو۔ یہ ایک محفوظ اور مؤثر طریقۂ علاج ہے، لیکن بے حد مہنگا بھی ہے۔ اس لیے “Fresh Frozen Plasma”یا “Cryoprecipitate”کا طریقۂ علاج مستعمل ہے۔ یہ دونوں طریقۂ علاج مؤثر ہیں، مگر اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ کہیں مریض انتقال خون سے ہونے والے عوارض مثلاً ہیپاٹائٹس بی، سی یا پھر ایڈز وغیرہ کا شکار نہ ہوجائے۔ اگر خاندان میں یہ مرض پایا جاتا ہے، تو خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ مرض تشخیص ہونے کے بعد صرف ماہرامراض خون ہی سے علاج کروایا جائے۔ مریض کے بازو یا گلے میں ایسا بیج یا کارڈ پہنا دیں، جس پرمرض اور اس کی شدت سےمتعلق تمام معلومات درج ہوں، تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر فوری طبّی امداد مہیا کی جاسکے۔ مریض ایسے کھیل کھیلنے یا مشاغل اختیار کرنے سے گریز کریں، جن میں چوٹ لگنے کا خطرہ ہو۔ مثلاً کشتی، گھڑ سواری وغیرہ۔ اگر کبھی معمولی نوعیت کی سرجری کی بھی ضرورت پیش آئے۔ مثلاً دانت نکلواناہو، تو اپنے معالج کو مرض سے لازماً آگاہ کیا جائے۔ نیز، مریض کے اہلِ خانہ پر بھی یہ ذمّے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ہیمو فیلک مریض کا خاص خیال رکھیں اور اسے بہت ہمّت اور حوصلے سے مرض کا مقابلہ کرنا سکھائیں۔

بشکریہ میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں