دنیا بڑی تبدیلیوں کی جانب چل رہی ہے، دنیا بھر میں پابندیاں نرم ہو رہی ہیں

covid_19
EjazNews

دنیا بھر میں لاک ڈائون میں نرمیاں کی جارہی ہیں۔ کہیں پر پارک اور سیاحتی مراکز کھولے جارہے ہیں تو کہیں پر سینما گھروں کو بھی کھولنے کی تیاریاں شروع کی جارہی ہیں۔ کیونکہ دنیا بھر کی معیشتیں اس وائر سے متاثر ہو ئی ہیں۔ وائرس نے نہ صرف دنیا بھر کے انسانوں کی زندگی بدل دی ہے بلکہ معیشتوں کا تعین بھی بدل رہا ہے۔ اہم ترین نقطے بدل رہے ہیں اور اہم ترین تبدیلیاں ہوتی نظرآرہی ہیں۔ بہت کچھ تب معلوم ہو گا جب سفری پابندیاں بالکل ختم ہو ں گی۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد جہاں 47 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے وہیں چند حصوں میں حکومتیں بڑے معاشی نقصانات کو کم کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی لارہی ہیں۔
تاہم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ بغیر ویکسین کے اتنی جلدی لاک ڈاؤن ختم کرنے سے وائرس کی دوسری لہر پھیل سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے رواں ہفتے اس بحران سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔
دنیا میں وائرس سے سب سے بری طرح متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں جہاں کاروبار اور گرجا گھروں کو دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
پوپ فرانس نے آن لائن دعا میں کہا کہ میں ان برادری کی خوشیوں میں شریک ہوں جو بالآخر اکٹھے ہوسکتے ہیں، یہ معاشرے کے لیے امید کی کرن ہے۔ویٹیکن سٹی میں ریسٹورنٹس، بارز، کیفے، ہیئر سیلون اور دیگر اسٹورز کھول دئیے گئے جبکہ سینما اور تھیٹرز کو 25 مئی سے کھلنے کی اجازت دی جائے گی۔
سپین بھی اپنے لاک ڈاؤن کے اقدامات میں نرمی لانے کے لیے تیار ہے جبکہ جرمنی نے پہلے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے چند اقدامات کیے ہیں جن میں فٹبال لیگ کی بحالی شامل ہے، تاہم یہ خالی اسٹیڈیمز میں ہوگی۔
تاہم برازیل کے صدر جیئر بولسونارو نے لاک ڈاؤن کی مخافت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ غیر ضروری طور پر معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
یورپی عوام کے لیے اس ہفتے ایک اور ریلیف فرانس، گریس اور اٹلی کے ساحلوں کا کھلا ہے جبکہ برطانیہ کی عوام کے لیے پارکس کھول دئیے گئے ہیں۔
یورپ کے چند حصوں میں امید ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک وبا اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے دنیا بھر میں 3 لاکھ 15 ہزار جانیں لے لی ہیں۔
بھارت نے ایک روز میں انفیکشنز کے ایک روز میں سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ ہونے پر دنیا کے سب سے بڑے لاک ڈاؤن میں مئی کے آخر تک کی توسیع کردیا۔
وبا سے عالمی معیشت گریٹ ڈپریشن کے بعد بری طرح متاثر ہوئی ہے اور حکومتیں اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن اور ویکسین کے نہ ہونے کے ساتھ کتنے عرصے تک اپنے پیروں پر کھڑی رہ سکتی ہیں۔
جاپان 2015 کے بعد اپنے پہلے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ چند تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سے بھی بدتر صورتحال ہونی ابھی باقی ہے۔
دنیا بھر میں تبدیلیاں آرہی ہیں لیکن جب لاک ڈائون مکمل طورپر کھلے گا تب کیا ہوگا یہ ایک اہم صورتحال ہے ۔ کیا جب سفری پابندیاں ختم ہو ں گی تو ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرنے والے لوگوں کو کس طرح چیک کیا جائے گا کہ یہ وائرس زدہ ہیں یا نہیں۔ اس ساری صورتحال بہت سے آنے والی خطرناک کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں