دل کے امراض میں غذائوں کا کیا کردار ہے، آئیے جانتے ہیں

کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جو آپ کے دل کے لیے بہت بہتر ہیں، یہ غذائیں دل کے مریضوں کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ان غذائوں کے استعمال سے دل کے امراض سے بھی بچا جا سکتا ہے اور بہت سی تحقیقات سے یہ ثابت بھی ہو چکا ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ ایسی کون سے غذائیں ہیں جو ہمیں صحت مند اور توانا ر کھتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک میں نوے فیصد امراض غذا کی کمی و خرابی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ دل کے اکثر امراض بھی اسی غذائی خرابی کا نتیجہ ہے۔ جیسے جیسے غذا میں چربی اور کولیسٹرول کا اضافہ ہوتا گیا اسی شرح سے امراض قلب میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ دنیا کے جن خطوں میں گوشت کی نسبت سبزیاں زیادہ استعمال کی جاتی ہیں ان میں گوشت کھانے والوں کی نسبت شرح امراض قلب ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔
جدید تحقیقات کے مطابق غذائوں میں پھلوں ، سبزیوں اور اناج کا استعمال امراض قلب سے نہ صرف محفوظ رکھتا ہے بلکہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو نارمل رکھتا ہے۔ خلیوں کی صحت کے لئے وٹامن سی اور وٹامن ای نہایت ضروری ہیں ان کا حصول پھلوں، سبزیوں اور اناج سے ہی ممکن ہے۔ یہ دونوں وٹامنز خلیوں میں آکسیجن کے شامل ہونے کا عمل چکنائی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے لیکن جب یہ عمل غیر معمولی صورت اختیار کر لیتا ہے تو شریانوں کے سکڑنے پر منتج ہو سکتا ہے شریانوں کی سختی سے پیدا ہونے والے دیگر امراض دل کی بیماریوں کا سبب ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک مرد کے لئے 65گرام اور ایک عورت کے لئے 55گرم وٹامنز روزانہ کی انتہائی مقدار ہے ۔ جس سے انسان کو ساڑھے پانچ گرام Amino Acidحاصل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مقدار کی نصف یعنی 35وٹامنز ایک ستر کلو گرام وزن رکھنے والے آدمی کے لئے روزانہ کافی ہوتے ہیں۔
اسی ہزار مریضوں پر ہونے والی جدید تحقیق اور مطالعہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ Folic Acidبکثرت استعمال کرنے سے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات 31فیصد کم ہو ئے۔ یہ ایسڈ خون میں Homsistineنامی امینو ایسڈ کی سطح کو کم کرتا ہے۔ جو زائدچربی اور کولیسٹرول والی غذائوں سے خون میں جمع ہوجاتا ہے۔ اس ایسڈ کی زیادتی سے دل کے امراض اور فالج کے خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔Folic Acidکی روزانہ درکار مقدار 400مائیکروگرام ہے اور یہ ایسڈ پالک، گوبھی ، کینو، سنگترہ کے رس اور لوبیا میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
وٹامن بی استعمال کرنے والوں میں بھی دل کے امراض کا خطرہ 33فیصد کم ہوتا ہے ،وٹامن بی امراض قلب کا باعث بننے والے Homsistineکی سطح میں کمی کرتا ہے۔ یہ وٹامن روزانہ تقریباً 3ملی گرام درکار ہوتا ہے، اس کا حصول مرغی، بند گوبھی، چاول، موٹا آٹا اور ثابت اناج کے ذریعے ممکن ہے۔
وٹامن ای 100سے800ملی گرام روزانہ استعمال کرنے سے امراض قلب کا خطرہ 40فیصد کم ہوتا جاتا ہے ،یہ وٹامن خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کر کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دیتا۔ یہ وٹامن نباتاتی تیلوں، مغزیات اور ثابت گندم میں پایا جاتا ہے۔
ایک تجرباتی تحقیق کے مطابق امراض قلب کے بعد جو مریض پھل اور سبزیاں زیادہ استعما ل کرتے ہیں وہ جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں تقریباً دو سو مریضوں کا مطالعہ کیا گیا اور انہیں400گرام پھل اور سبزیاں استعمال کرائی گئیں۔ان میں پپیتا، ترش پھل اور ہری مرچیں قابل ذکر ہیں ان میں وٹامن سی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق دل کے حملے سے خون میں شامل ہونے والے انزائم کی مقدار وٹامن سی والے پھلوں اور سبزیوں کے استعمال سے کم ہونے لگتی ہے جو دل کی صحت یابی کی واضح علامت ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے تین اونس چکنی مچھلی کا گوشت کافی ہوتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار اس کے استعمال سے ہارٹ اٹیک کے خطرے میں 50سے 70فیصد کمی ہو جاتی ہے۔
ایک اور تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ سرخی مائل انگور، تربوز اور پکے ہوئے ٹماٹروں میں دراصل ایک سرخ رنگ اہم بیٹا کیروٹین جسے لائکوپین کہتے ہیں پایا جاتا ہے یہ ایک کیمیائی جزو دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ان چیزوں کا دن میں ایک یا دو مرتبہ استعمال کافی ہوتا ہے اور اس کا سب سے اہم آسان ذریعہ ٹماٹر ہیں۔
ایک اور تحقیق کے مطابق انگور دل کے لئے بہت مفید ہے کیونکہ اس کے کھانے سے خون پتلا رہتا ہے۔ خاص طور پر سرخ اور سیاہ رنگ کے انگور کا رس پینے سے خون میں منجمد ہونے کی گھٹلی بننے کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہو جاتا ہے ۔ ان حقائق کی روشنی میں ہمیں اپنی غذائوں کا جائزہ لینا چاہئے اور مختلف اجزاء کی مقررہ مقدار معلوم کر نے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں