دانت صرف خوبصورتی نہیں صحت کے بھی ضامن ہیں

tooth-brush
EjazNews

انسان کی مسکراہٹ کی جان دراصل چمکدار خوبصورت دانت ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب غذا منہ میں جاتی ہے اور دانتوں کا کام شروع ہوتا ہے تو اگر دانت کمزور اور بیمار ہوں تو اپنا کام آسانی سے سے نہیں کر سکیں گے یوں غذا جب پیٹ میں جائے گی تو معدے کو زیادہ کام کرنا پڑے گا اس وجہ سے جب معدہ پر بوجھ بڑھے گا اور وہ اپنا کام سست کرے گا تو بیماریا ں جنم لیں گی یوں ایک صحت مند انسان کمزور اور بیمار دانتوں کی وجہ سے بیمار پڑ جائے گا، یعنی تمام بیماریوں کی جڑدانت ہی ہیں۔
خوبصورت موتی جیسے چمکدار دانت ہر انسان کی خواہش ہوتے ہیں خوبصورت مسکراہٹ بھی خدا کا عطیہ ہے اور اگر آپ ہنسیں اور آپ کے دانت پیلے اور بدنما ہوں تو آپ کی شخصیت کا سارا تاثر ایک سیکنڈ میں ہی ریت کا ڈھیر ثابت ہوگا۔
دانت کی صفائی ایک ایسا عمل ہے جو بچے کو بچپن میں ہی سکھایا جاتا ہے۔ ماں باپ چھوٹے چھوٹے برش سے بچوں کو دانت صاف کرنے کی عادت ڈالتے ہیں۔ صحت مند دانت آپ کو مختلف بیماریوں سے بچائیں گے۔ دانتوں کی صفائی کیلئے یہاں پر ہم جو ٹپس دے رہے ہیں وہ تمام بچوں بڑوں کے لئے ہیں۔اس لئے کوشش کریں کہ اس پر عمل کریں بڑے بھی اور بچوں کو بھی عمل کروائیں۔
ٹوتھ برش کس طرح کا استعمال کریں؟:
یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ کون سی شیپ کا برش آپ کے دانتو ں اور مسوڑھوں کے لئے نقصان دہ ہے ہم یہ تو ضرور کہہ دیتے ہیں کہ ٹوتھ برش استعمال کریں مگر کس سٹائل کا یہ بتانا بہت ضروری ہے اس لئے ہم یہاں آپ کو بتا رہے ہیں کہ برش کس طرح کا استعمال کرنا چاہیے۔
ٹوتھ برش لیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس کے بالوں والا سرا اتنا بڑا ہو کہ اس سے ایک وقت میں ایک یا دو دانتوں کی صفائی ہو سکے یعنی اس کا سائز چھوٹا ہو۔
ٹوتھ برش کی تمام اطراف گول ہونی چاہیے تاکہ وہ آپ کے گال اور مسوڑھوں کو نقصان نہ پہنچائے۔
جب برش خریدیں تو دیکھ لیں کہ اس کے ریشے سخت نہ ہوں کیونکہ اس سے آپ کے مسوڑھے متاثر ہو سکتے ہیں۔
جب ریشے سڑنے لگیں تو اس برش کو دوبارہ استعمال نہ کریں۔
دانتوں کی صفائی کس طرح کی جائے؟:
دانتوں کی صفائی ایک ایسا مسئلہ ہے۔ انسان برش کر کے سمجھ جاتا ہے کہ وہ دانت صاف کر چکا ہے مگر اس کو کس انداز سے کر رہا ہے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ منہ کی صفائی مکمل طور پر کرنی چاہیے تاکہ برش کے الٹے سیدھے ہاتھ مار کر آپ سمجھ لیں کہ آپ نے برش کر لیا اور دانت صاف ہو گئے اوپری کی صحت درست نہیں رہے کیونکہ اندر تک دانتوں کی صفائی نہ ہو تو بیماریاں جنم لیں گی۔ اس لئے اب ہم آپ کوبتارہے ہیں کہ کس طرح برش کیا جانا چاہیے۔
برش سے دانت یوں صاف کریں کہ اوپری جبڑے سے آغاز کریں۔
سب سے پہلے اوپر اندر کی جانب بائیں سمت برش کریں اور برش کو اوپر سے نیچے کی سمت لے کر آئیں۔
اندرونی جانب برش کو درمیانی میں لے آئیں۔
اندرونی جانب برش کی مدد سے دائیں جانب کی صفائی کریں ،اب بائیں جانب کے دانتوں کے ان حصوں میں برش پھیریں جو چبانے کے کام آتے ہیں۔
اب دانتو ں کے بیرونی جانب برش پھیریں سب سے پہلے اوپر دائیں جانب صفائی کریں۔
اب اوپری درمیان میں برش لے آئیں۔
آخر میں اوپر بائیں جانب صفائی کرتے ہوئے بائیں جانب دانتوں کے چبانے والے حصوں کو صاف کریں۔
اب نچلے جبڑے کی صفائی کی طرف متوجہ ہو جائیں۔
پہلے اندرونی جانب دائیں سمت میں صفائی کریں۔
برش کو حرکت دیتے ہوئے اندرونی جانب صفائی کریں اوربائیں طرف کے دانتوں کی چبانے والے سطح صاف کریں۔
برش کو دانتوں کی بیرونی سمت لے آئیں اور پہلے بائیں جانب برش کریں۔
آخر میں سامنے کی سمت دائیں سمت کے دانتوں کو صاف کرتے ہوئے دائیں جانب کے نچلے دانتوں کے چبانے والی سطح کو صاف کریں۔
جب برش سے دانت صاف کریں تو آگے پیچھے حرکت دینے کی بجائے گول گول حرکت دیں۔
ٹوتھ برش کرتے وقت پانچ منٹ سے زیادہ اور دو منٹ سے کم وقت نہ لگائیں ہر تین مہینے بعد برش تبدیل کر لیں۔
دانتوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے کچھ آزمودہ مشورے:
دانتوں پر برش کرنے کے بعد اگر تھوڑا سا میٹھا سوڈا لگا دیا جائے تو دانت اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔
دانت مضبوط کرنے کے لئے شہد کو سرکہ میں حل کر ے، اس کی کلیاں کریں دانت مضبوط ہو جائیں گے۔
اگر دانتوں کی بیماری پائیریا ہو جائے تو لیموں کا رس اور پانی برابر مقدار میں لیکر اس سے کلیاں کریں ۔دانت تندرست ہو جائیں گے۔
بادام اور اخروٹ کے جلے ہوئے چھلکے نمک اور کالی مرچ میں ملا کر پیس کر دانتوں پر لگائیں دانت لچکدار ہو جائیں گے۔
اگر دانت گندے ہوں تو ان پر باریک نمک (پسا ہوا) سرسوں کے تیل میں ملا کرملیں دانت سفید ہو جائیں گے۔
اگر دانت درد کریں تو لیموں کے چھلکے سے دانت صاف کریں درد دور ہو جائے گا۔
دانت چمکدار کرنے کیلئے پھٹکری ، نوشادر، کالا نمک اور کالی مرچ کو ملا کر پیس لیں اور دانتوں پر ملیں یہ بہترین منجن ہے۔
اگر آپ کا دانت درد کر رہا ہو تو لہسن کو پیس کر دانتوں کے سورا خ میں بھر دیں درد دور ہو جائے گا۔
اپنے بچوں کے دانتوں کی حفاظت کریں:
بچوں کے دانتوں کو اگر آپ دن میں دو دفعہ صاف کرنے کی عادت نہ ڈالیں تو آگے چل کر بچوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ بچے لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں سب سے بڑی بات اگر آپ بچوں کے دانتوں کا خیال نہیں رکھیں گے تو آپ کا بچہ اپنی پوری شخصیت متاثر کرلے گا کیونکہ خراب اور ٹیڑھے میڑھے دانتوں سے جو شکل و صورت سامنے آتی ہے وہ اس کی شخصیت اور اس کی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا بچوں کو بچپن سے ہی دانتوں کی صفائی کی عادت ڈالیں۔
بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لئے فلورائیڈ کا استعمال ضرور کریں۔ ایسا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں جس میں فلورائیڈ موجود ہو۔
بچے کے رات سونے سے قبل دودھ یا غذا نہ دیں اور اگر بچہ منہ میں بوتل لیے بغیر نہیں سو سکتا تو اس کے منہ میں پانی کی بوتل دے دیں۔
بچے کے دانت نکل آئیں اسے برش کرنے کی عادت ڈالیں۔
دانتوں کامعائنہ ہر چھ مہینے بعد کسی بہتر معالج سے کروائیں۔
صبح اور رات برش ضرور کروائیں تاکہ منہ میں موجود گندگی جو آگے جا کر پیلاک میں تبدیل ہو جاتی ہے وہ عمل نہ ہو۔
بچوں کو انگوٹھا چوسنے کی عادت نہ ڈالیں ورنہ دانت سیدھے نہیں نکلیں گے۔
بچوں کو انگوٹھا چوسنے کی عادت نہ ڈالیں ورنہ دانت سیدھے نہیں نکلیں گے۔
بچوں کو کٹھی میٹھی چھا لیا اور ٹافی وغیرہ بالکل کھانے نہ دی جائیں۔
اگر آپ اپنے بچوں کو ایک صحت مند زندگی دینا چاہتے ہیں تو ان کو صحت مند اور چمکدار خوبصورت دانت دیں کیونکہ بچوں میں بیماریوں کا اصل سبب منہ کی بیماریاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے پیٹ کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اپنے بچوں کو خوبصورت زندگی دیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں