دادا جان کی احمد کو نصیحت

Grandparents

احمد ایک لاپرواہ عادت کا لڑکا تھا۔دادا ابو اسے اکثر نصیحت کیا کرتے تھے جسے وہ سنی ان سنی کر دیتا تھا اور یہی لاپرواہی اس کیلئے اکثر پریشانی کا باعث بنتی تھی۔ اسے دادا ابو نصیحت کرتے رہتے تھے۔

دادا ابو کی آواز آئی ،بیٹا نماز کا وقت ہوگیا ہے پہلے نماز پڑھ لو پھر ٹی وی دیکھ لینا۔ پڑھ لوں گا دادا ابو، احمد نے لاپرواہی سے کہا اور دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں مگن ہو گیا۔ دادا ابو نے اسے سرسری نگاہ سے دیکھا اور مسجد کی جانب قدم بڑھا دئیے۔ وہ نماز پڑھ کر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ احمد ابھی تک بیٹھا ہے، انہوں نے کچھ کہنا مناسب نا سمجھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ عشاء کی نماز سے کچھ دیر پہلے انہوں نے احمد کو اپنے کمرے میں بلوایا۔
جب احمد آیا تو انہوں نے احمد کو اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ احمد کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دادا ابو نے اُسے کیوں بلایا ہے کیونکہ یہ اتفاق پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ دادا ابو نے اسے اپنے کمرے میں بلایا ہو۔ خیر وہ بیٹھ گیا اور سوالیہ نظروں سے دادا ابو کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی پھر اس خاموشی کو دادا جان کی آواز نے توڑا ۔
دیکھو بیٹا، ’’نماز بھی اسلام کا اہم رکن ہے، جس طرح اگر کوئی ہماری بات نہ مانے تو ہم ناراض ہو تے ہیں اسی طرح اگر ہم نماز نہیں پڑھیں گے تو اللہ بھی ہم سے ناراض ہوگا کیونکہ اللہ صرف ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی عبادت کریں اور ہر وقت اس کے اذکار میں مصروف رہیں‘‘ ۔
احمد بیٹا جو لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے وہ اپنی آخرت خراب کرتے ہیں اور بیٹا! میں چاہتا ہوں کہ تم ان جیسے بنوں جو اللہ کے نیک بندے ہیں۔ دادا ابو بولتے جارہے تھے اور احمد کا سر ندامت سے جھکتا جارہا تھا۔ اچانک فضا میں اذان کی آواز گونجی ۔ دادا ابو اٹھے اور وضو خانے کی طرف بڑھ گئے۔ ان کے ساتھ ہی احمد بھی ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہوا اور اس کے قدم بے ساختہ مسجد کی طرف اٹھنے لگے۔
تو پیارے بچو!بڑے آپ کو صرف آپ ہی کی اصلاح کیلئے سمجھاتے ہیں اس میں ان کا مقصد آپ کی بہتری کرنا ہوتا ہے ان کی ہر بات آپ کے کل کو بہتر بنانے کیلئے کی جاتی ہے، اس لیے بزرگوں کی باتیں غور سے سنا کریں اور ان پر عمل کیا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں