خیبرپختونخوا میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی تاریخ

kpk-history

راجہ رسالو پورن بھگت کاسوتیلا بھائی رانی لوناں کے بطن سے راجہ سالبا ہنکابیٹا اورپنجاب کے مشہور شہر سیالکوٹ کا باشندہ تھا۔ راجہ رسالو کی پیدائش بعد از مسیح دوسری صدی کے وسط میں بتائی جاتی ہے۔ اس کو شکار کا شوق ابتدا ہی سے تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد جب گدی پربیٹھا تو کچھ عرصہ بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف رخ کیا۔ پہلے پہل زیریں حصہ ہزارہ میںداخل ہوا۔ دریائے اٹک کے کنارے گھنے جنگلوںمیںتمام دن شکارکرتا۔
کہتے ہیں کہ ایک دن دور اکشش اس کے مقابل آئے۔ ایک کو تو اسی جگہ تیر سے سرد کر دیا مگر دوسرا اس کی ز د سے نکل گیا اورپہاڑ کی غار میں جا گھسا ۔ راجہ رسالو نے غار کا منہ بند کر ادیا۔ بیان کرتے ہیں کہ وہ راکشش بہت عرصہ تک اندر زندہ رہا اور اس کی چنگھاڑ سے تمام پہاڑ گونجتا رہا۔ اسی گرج کی وجہ سے پہاڑ کا نام گن گرج مشہور ہوا ہے جس کو کثرت استعمال سے اب گنگز کہتے ہیں۔
اس زمانہ میں تمام علاقہ راجہ سری کپ کے زیر تصرف ہوتا تھا، جب اس کو معلوم ہوا کہ راجہ رسالو اس کی شکار گاہ میں جو مقام بھیور اور سری کوٹ کے درمیان تھی شکار کھیلتا ہے تو اس کو راجہ رسالو کے نکالنے کی فکرپڑی راجہ سری کپ نے راجہ رسالو کے بہت سے آدمی گرفتار کر کے قید خانہ میں ڈال دئیے او راجہ رسالو کے گرفتار کرنے کے درپے ہوا لیکن راجہ رسالو اس تھوڑے ہی عرصے میں اس ملک سے دل لگا چکا تھا اور اس کے قیام گاہ سری کوٹ پر قبضہ کر بیٹھا تھا۔
راجہ رسالو نے راجہ سری کپ کوشطرنج کھیلنے کی دعوت دی اور بازی کی ہار جیت پر طرفین کی فتح و شکست قرار پائی۔ غرض دونوںراجے شطرنج کھیلنے بیٹھ گئے۔ راجہ رسالو نے بازی جیت لی۔ راجہ سری کپ امن کی درخواست کی ۔ راجہ رسالونے تین شرطوں پر معافی دینی منظور کر لی۔
۱۔ راجہ سری کپ سب قیدیوں کو رہا کرے۔
۲۔ آئندہ شطرنج کھیلنا اور کھیلنے کا دعویٰ کرنا چھوڑ دے۔
۳۔ سلگتے ہوئے انگار پر ناک رگڑے۔
راجہ سری کپ نے تیسری شرط ماننے سے انکار کیا اور جھٹ گھوڑے پر سوار ہو کر نظروں سے غائب ہوگیا۔ راجہ رسالو نے اس کے تمام علاقہ پر قبضہ کر کے راجہ سری کپ کی لڑکی کو کلاں سے شادی کرلی اور مقام سلسلہ کوہ کھیری علاقہ تربیلہ میں رہنے لگے جس کا نام مورتی محل یا رسالو گڈھ مشہورہوا۔
اسی زمانے میں اٹک سے پار تمام کنارہ دریا پر راجہ ہوڈی کا راج تھا جب اس نے راجہ رسالو کے اس طرح پر غلبہ حاصل کرنے کا حال سنا تو اس کو راجہ رسالو کے ساتھ مقابلے کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ موضع ڈل موہٹ پر جو کہ ایک مشہور گزر ہے۔ (پتن دریائے اٹک کا ہے)دونوں کا مقابلہ ہوا جس میں راجہ ہوڈی مارا گیا۔ اس کے بعد راجہ رسالو بھی بہت عرصہ تک زندہ نہ رہ سکا۔ جلدہی راجہ ہوڈی کے متعلقین نے راجہ رسالو کو بھی قتل کر دیا۔ جب رانی کو کلاں کو اس کی یہ خبر پہنچی تو وہ بھی زندگی سے بیزار ہو گئی۔ سنتے ہی فوراً محل پر سے کود کر جان دے دی۔
راجہ رسالو ضلع ہزارہ کے زیریں حصہ میں اکثر گشت لگاتا رہا تھا۔ ہزارہ میں راجہ رسالو کو اچھے تیر اندازو ں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔ کھیتو ں میں بعض جگہ لمبے پتھر گڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ یہ راجہ رسالو کے تیر ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزارہ میں راجہ رسالو کی دھاک ہر حصہ میں تھی۔

خطے کی بے شمار لڑائیوں اور رزم خیزیوں کے باوجود بچہ ہوا اثاثہ

مہاتما بدھ کا اثر صوبہ خیبرپختونخوا میں:
اس نیک نہاد شخص کا جاری کیا ہوا مذہب سیدھا سادھا ہونے کی وجہ سے جلد تر صوبہ خیبرپختونخوا ،پشاو وکابل اور ترکستان تک پھیل چکا تھا۔ چار سدہ و پٹرانگ علاقہ پشاور کے مقام پر اس زمانہ میں پشکلوائی مندر مشہور تھا۔ جہاں بدھ جی مہاراج نے اپنی آنکھیں نذر کی تھیں۔راجہ کنشک اور راجہ اشوک دونوں بدھ مذہب کے سچے معتقد اور دلدادہ راجے تھے۔
سکندر اعظم کا قدم صوبہ خیبرپختونخوا میں:
سکندر اعظم نے جب ایران کے بادشاہ داراگشتا سب پر فتح پائی تو آگے ہندوستان میں بڑھنے کا ارادہ کیا ۔ اس نے فوج کے دو حصے کر کے ایک کو تو کابل سے ہو کر خیبر کے راستہ دریائے سندھ پر جا کر ٹھہرنے کا حکم دیا اور دوسرے حصے کو اپنے ہمراہ لے کر کوہ ہندوکش سے اتر کر بدخشاں و چترال کے دروں سے نکل کر اپر سوات میں داخل ہوا۔ دریائے سوات کو عبور کر کے مقام منگلور میں جس کو آج کل منگورہ کہتے ہیں ڈیرہ کیا۔ یہاں سے اوپر ہی اوپر جا کر قلعہ ارنونس کو فتح کیا۔ اس جگہ کو آج کل رانی گٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
یہاں سے سکندر علاقہ یوسف زئی سے ہوتا ہوا دریائے لنڈا کے کنارے پہنچا۔ لنڈہ کو عبور کے اپنی پہلی فوج کے ساتھ جا ملا اور 327برس قبل از مسیح اٹک کو عبور کر کے آگے بڑھا۔ سکندر اعظم صوبہ سرحد میں سے صرف گزرا قدر تھا۔ اپنی حکومت کا اثر اس نے ملک پر کچھ نہیں ڈالا۔
چند ر گپت:
اس کی حکومت کا اثر بنگال سے لے کر کابل اور کوہ ہندوکش تک تھا جب یہ مر گیا تو اس کی جگہ بندو ساریا متھرا گپت راجہ ہوا۔ جس نے 29سے 272قبل مسیح تک راج کیا۔ سرحدی علاقے برائے نام اس راجہ کے زیر اثر رہے۔ اپنے بعد ایک لائق بیٹا اشوک چھوڑ گیا۔ جو بعد میں اشوک اعظم کے نام سے مشہور ہوا۔
راجہ اشوک:
راجہ اشوک متھرا گپت کا بیٹا اور چندر گپت کا پوتا تھا۔ راجہ اشوک نے اپنی حکومت کابل و قندھار تک بڑھائی ہوئی تھی۔ صوبہ سرحد کی وحشی قوموں پر بڑی بردباری سے حکومت کرتا رہا۔ مردان کے متصل شمال جانب بمقام شہبار گڑہ پہاڑ میں ایک مینار جس پر پالی زبان کے حرف کندہ ہیں۔ اسی راجہ کی یادگار ہے۔ 1906ءمیں انگریز سرکارنے اس کی حفاظت کیلئے گردا گرد جنگلا بنوا دیا تھا۔
راجہ اشوک نے اپنا نام پریادرشی بھی مشہور کیا ہوا تھا۔ اس کا زمانہ نہایت امن اور خدا پرستی کا زمانہ تھا۔ شاہی مذہب گو بدھ تھا مگر بت پرستی بھی بدستور رائج تھی۔
چالیس سال تک بڑے اقتدار سے حکومت کرتا رہا۔ مرتے وقت اپنا تمام خزانہ و راج دھرم بدھوںکے نام پنڈ کر دیا۔ راجہ اشوک کے آخری کلمات یہ تھے۔
”میں اندر کے بہشت یا برہما کے لوک (علاقہ) میں رہنا نہیں چاہتا اور نہ ہی میں ایسی جاہ و حشمت کا خواہاں ہوں ۔ جو دریا کی لہر کی طرح آتی اور جھٹ گزر جاتی ہے۔ مجھے وہ بہبودی درکار ہے کہ جس میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔“
راجہ اشوک کے بعد 125سال تک حکومت اسی خاندان میں رہی مگر نامور راجہ اشوک کی طرح صوبہ سرحد ان کے زیر نگین نہ رہا۔ بہت سے علاقوں پر غیروں کی حکومت ہوگئی۔
پارتھین و با ختر خاندان:
اشوک اعظم کے بعد جب اس کے جانشین سرحدی علاقوں کو نہ سنبھال سکے تو دریائے سندھ کے مغربی علاقوں پر یونانی اور پارتھیا نسل کے لوگ حکومت کرنے لگ گئے۔
پارتھیا یا پیریڈیا (قوم ایفرڈیا):
یہ جنگی قوم بحیرہ کیپین کے نوا ح میں آباد تھی۔ اپنی بہادری اور قومی غلبہ سے ملک کابل و مشرقی حصہ کابل (علاقہ پشاور) اور علاقہ سندھ پرآکر قابض ہو گئی۔ اس قوم کے صحیح صحیح حالات کسی مورخ نے قلمبند نہیں کیے۔
لفظ پریڈیا سے معلوم ہوتا ہے کہ بہادر آفریدی جو آج کل خیبر کے پہاڑوں میں آباد ہیں۔ وہ اسی قوم سے ہیں۔

خطے کی بے شمار لڑائیوں اور رزم خیزیوں کے باوجود بچہ ہوا اثاثہ

راجہ کنشک اور پشاور راجدھانی:
راجہ کنشک خاندان کوشان یا ستھین میں سے ایک مشہور راجہ گزرا ہے۔ 45ءکے قریب قریب اس خاندان نے ملک پر قبضہ جمایا۔ راجہ کنشک کی حکومت کاشغر وبخارا تک پھیلی ہوئی تھی۔ ہندو راجاﺅں سے یہ پہلا رنے پرش پور(پشاور) کو پہلے پہلے اپنی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ پرش پور اس زمانہ میں علاقہ گندھارا کا بڑا مشہور شہر تھا۔
راجہ کنشک بدھ مذہب کا بڑا حامی تھا۔ اگر اس کے عہد میں شاہی مذہب بدھ تھا مگر ت پرستی بھی بدستور جاری تھی۔ راجہ کنشک نے اپنے ہادی گوتم جی کی ہڈیاں تبرک کے در پر پشاور اپنی راجدھانی کے نزدیک ایک مندر میں ڈبے کے اندر دفن کرائی تھی۔ جن کو آثار قدیمہ کے ملازموں نے 1909ءمیں بڑی احتیاط سے کھودتے وقت نکلا۔ اس نامور راجہ کے 2سو برس بعد گپتا خاندان ظاہر ہوا جس میں سے سمندر گپت اور چند گپت ثانی جس کا دوسرا نام بکر ماجیت تھا۔ برائے نام صوبہ خیبرپختونخوا ،پشاور پر فرمانروا رہے۔ اسی زمانے میں ایک گڈ ریا قوم نے جس کو ہن قوم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ وسط ایشیا سے سر اٹھایااور 450ءمیں صوبہ خیبرپختونخوا میں وارد ہوئی۔
صوبہ خیبرپختونخوا سے قوم ہن کا گزر:
شمالی پہاڑوں کے راستہ سے گزر کر پنجاب و ہندوستان کی طرف چلی گئی۔ چونکہ ایک لٹیری قوم تھی۔ آندھی کی طرح آئی اور بگولے کی طرح صوبہ خیبرپختونخوا سے گزر گئی۔
راجپوتوں کا زمانہ:
650ءمیں شمال مغربی جانب سے آئے۔ کشتری خاندان کے لوگ تھے۔ چونکہ علم سے بالکل بے بہرہ اور فن حکمرانی سے ناواقف تھے۔ برہمنوں کے ہاتھ چڑھ گئے۔ جنہوں نے موقع پا کر ان کو اپنی ہی خانہ جنگیوں میں لگائے رکھا۔ آخر کار ایسے کمزور ہوئے کہ جب مسلمانوں نے ایران وغیرہ فتح کر کے اس طرف رخ کیا تو راجپوت لوگ ان کامقابلہ نہ کر سکے کیونکہ صوبہ سرحد پر برائے نام راجپوت حکمران تھے۔
مولوی میراحمد

اپنا تبصرہ بھیجیں