خیال کی قوت

Vital_force

ماہر نفسیات اور سائنس دانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خیال ایک عظیم قوت ہے۔ خیال میں بے پناہ قوت اور طاقت پائی جاتی ہے۔ لیکن اس بات کو عام آدمی کیلئے شاید سمجھنا یا اس کا ادراک کرنا اتنا آسان نہ ہو۔ خیال کی قوت سے مرادیہ ہے کہ جس خیال کو ہم بار بار دہراتے ہیں وہ خیال بالآخر ’’وائٹل فورس‘‘ (Vital Force) بن جاتا ہے۔ اب یہ انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کسی خیال کو مثبت یا منفی وائٹل فورس بناتا ہے دونوں صورتوں میں خیال کی قوت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔
فرض کیجئے آپ کے پاس لکڑی کا ایک تختہ ہے اس کی لمبائی پندرہ فٹ اور چوڑائی ایک فٹ ہے۔ آپ نے اس تختے کو زمین پر رکھ دیا ہے اور آپ اس کے اوپر بلا خطرچلے جارہے ہیں۔ کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ بغیر کسی رکاوٹ کے لکڑی کے اس تختے پر چل سکتے ہیں اور آپ کے گرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن اگر اس تختے کو زمین سے دس پندرہ فٹ کی بلندی پر باندھ دیا جائے اور آپ کو اس پر چلنے کو کہا جائے تو کیا اب آپ کے لئے اس پر چلنا اتنا آسان ہوگا؟ شاید نہیں۔ کیونکہ آپ نے سمجھ لیا ہے کہ ایسا کرنا آپ کے لئے آسان نہیں ۔ دونو ں صورتوں میں آپ کا خیال ہی آپ پر غالب ہے۔ لیکن شاید آپ نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہو کہ کچھ لوگ اتنی بلندی پر بھی آسانی سے چل سکتے ہیں۔ خاص طور پر سر کس میں کام کرنے والے لوگوں کیلئے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔
اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بلکہ انہیں خود پر یقین کامل ہوتا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ آپ نے کسی شخص کو موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ کیا آپ یہ کام نہیں کر سکتے۔ شاید نہیں۔ کیونکہ آپ نے پہلے ہی سے یہ سوچ رکھا ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر آپ سوچ لیں کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں۔اور اس کے لئے آپ ضروری تربیت بھی حاصل کر لیں تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کی سوچ مثبت ہوگی تو آپ کا عمل بھی مثبت ہوجائے گا۔
فرض کیجئے ایک شخص نشہ کا عادی ہے کہ وہ یہ بری عادت نہیں چھوڑ سکتا۔ ایسا سوچنا ہی اس کی سب سے بڑی مشکل ہے۔ لیکن یقین کیجئے دنیا میں کوئی عادت ایسی نہیں جسے چھوڑا نہ جاسکے اور کوئی نئی عادت ایسی نہیں جسے اختیار نہ کیا جاسکے۔
ایک شخص کہتا ہے ۔مجھے رات بھر نیند نہیں آتی ،اگر وہ یہ جملہ بار بار دہراتا ہے تو یہ جملہ اس کیلئے وائٹل فورس بن جاتا ہے۔ اور اس طرح اس کی مشکل میں اضافہ ہو جاتا ہے اس طرح کی مشکلات ہم پر باہر سے وارد نہیں ہوتیں بلکہ ان کا مرکز خود ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔ ہاںاور نہیں کی جنگ ہمارے اپنے اندر ہی جاری رہتی ہے۔ کامیابی اور ناکامی کی لہریں ہمارے اپنے اندر سے جنم لیتی ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اس کی وجہ ہماری سوچ (خیال) ہی ہوتی ہے۔ ایک ننھا سا خیال ننھی منی کو نیل کی طرح آپ کے ذہن کی شاخ پر پھوٹتا ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے آپ اس خیال و تقویت دے کر اسے عمل کا حصہ بناتے ہیں یا اسے مسترد کر دیتے ہیں آپ کی خود کلامی، خیال کی اس ٹمٹماتی لو کیلئے تیل کا کام دیتی ہیں۔ آپ جسے ارادہ کہتے ہیں وہ اسی خیال کو دہرانے کا نام ہے ۔ میں یہ کر سکتا ہوں۔
میں کل صبح وقت پر اٹھوں گا۔ میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ میں صحافی بنوں گا۔ میں ڈاکٹر بنوں گا۔ میں سائنس دان بنوں گا۔
ابتداءمیں یہ سب ننھے منے خیال ہوتے ہیں۔ انہیں دہراتے رہنے سے ان میں قوت آتی ہے اور یہ ایک عزم اور یقین کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جب کوئی خیال یقین کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو وہ وائٹل فورس بن جاتا ہے۔
قرآن پاک میں ’’یوقنون‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ ایقان سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے یقین کامل ۔ ایسا غیر متزلزل یقین جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ یعنی اپنی ذات پر پختہ یقین کرنا۔ کبھی کام کو کرنے سے قبل جب آپ کو یہ یقین ہو جائے کہ آپ اس کام کو ضرور تکمیل تک پہنچا لیں گے تو اس میں ناکامی کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔ کسے یقین تھا کہ ہم بجلی کی صورت میں مصنوعی روشنی پیدا کرلیں گے، کسے علم تھا کہ انسان کے ہوا میں اڑنے کا خواب بھی پورا ہو سکے گا۔ لیکن آخر یہ سب کچھ یقین اور محنت کی بدولت ہوگیا۔
جب انسان کسی خیال کو عملی شکل دینے کا مصمم ارادہ کر لیتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی مدد بھی انسان کے شامل حال ہوجاتی ہے۔
لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم جن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں کے خیالات کی تقلید بھی کرتے ہیں۔ ہمیں قدم قدم پہ ایسے لوگوں سے واسطہ رہتا ہے جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا ۔تم یہ کام نہیں کر سکتے ۔ اور ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔ اور بات ختم ہو جاتی ہے، ہم نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں کی بات مان لیتے ہیںاور ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔
مجرم جرم کرتے وقت اپنے خیال کا اسیر ہوتا ہے۔ یہ ایک منفی قوت ہے۔ منفی قوت بھی اتنی ہی شدید ہوتی ہے جتنی مثبت قوت۔ سمجھدار انسان اپنے نفس کے گھوڑے کو بے لگام نہیں ہونے دیتا۔ عقل مند شخص خیال کی منفی قوت سے ہمیشہ بچتا ہے۔ اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کا غلام ہے۔ انسان وہی کچھ ہے جو وہ سوچتا ہے۔ اس کی مثبت سوچ اسے تعمیری اور منفی سوچ اسے تخریبی بناتی ہے۔ تعمیری سوچ نہ صرف فرد کی اپنی ذات کیلئے مفید ہوتی ہے بلکہ اس سے پورے معاشرے میں تیزی کے آثار پیدا ہوتے ہیں۔ تعمیری سوچ ہمیں حقوق اللہ اور قوق العباد کا ادراک دیتی ہے اور تخریبی فکر نہ صرف انسان کی اپنی ذات کیلئے مضر ہوتی ہے بلکہ اس سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
حضور اکرمﷺ نے اچھے مسلمان کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اچھامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
اگر ہم مسلمان خود سے یہ عہد کر لیں کہ وہ کم از کم حضور ﷺ کے اس ایک ارشاد پر ہی عمل کر یں گے تو ہم سب نہ صرف امن کی فضا میں سانس لیں گے بلکہ یہ دنیا ہی جنت بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں