خواتین میں ہڈیوں کی بیماریاں

خواتین ردوں کی نسبت ہڈیوں کے امراض کا جلد شکار ہوجاتی ہیںاس کی وجہ یہ ہے کہ بلوغت میںمردوں کے جسم میں ہڈیو ں کا حجم عورتوں کے مقابلے میں 30فیصد زیادہ ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں کی ہڈیوں میں ٹوٹ پھوٹ بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ہڈیوں میں سلیکا نامی مادے کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ عورتوں کو ہڈیوں کی بیماری اس لئے بھی آسانی سے لاحق ہو جاتی ہیں کہ وہ ہر چند دن مخصوص کیفیت سے گزرتی ہیں اس دوران خون کے ساتھ کیلشیم کی بھی مقدار خارج ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ حمل کے دنوں میں بچے کی کیلشیم کی ضرورت ھی ماں کے جسم سے ہی حاصل ہوتی ہے اور پھر جب ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے تو دودھ پلانے کے دوران بھی اس کے جسم سے کیلشیم کی خاصی مقدار بچے کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ان سب باتوں کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورتوں کی ہڈیاں مردوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹی اور پتلی ہوتی ہیں، چنانچہ اگر وہ اپنی روزانہ غذا میں کیلشیم خاصی مقدار میں نہ لیں تو انہیں ہڈیوں کی شکایت جلد لاحق ہوتی ہے۔

دبے پاﺅں آنے والا مرض
ہڈیوں کا کھولا ہوجانا (اوسٹیو پوروسس ) بھی ایک ایسا ہی مرض ہے جس میں ہڈیاں کیلشیم سے محروم ہو جاتی ہیں۔ یہ مرض غیر متوان غذا اور ورزش کی کمی کے باعث ہوتی ہے یہ ایک خاموش قسم کی بیماری ہے جس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ہڈیاں کیلشیم کی کمی کے نتیجے میں بہت پتلی ہو جاتی ہیں اور کسی معمولی چوٹ سے کلائی یا کولہے کی ہڈی ٹوٹ پھوٹ (فریکچر) کا شکار ہو جاتی ہے۔
ذیل میں اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کہ کہیں آپ بھی ہڈیوں کے کسی مرض کا شکار تو نہیں ہو گئی ہیں کچھ سوالات درج کیے جارہے ہیں جن کی مدد سے آپ خود درست طور پر یہ معلوم کر سکیں گی کہ آپ ہڈیوں کے کسی مرض میں مبتلا تو نہیں ہو گئی ہیں۔
کیا آپ پہلے کے مقابلے میں اپنا قد کچھ چھوٹ محسوس کر رہی ہیں یا آپ آج کل قدرے جھک کر چل رہی ہیں؟ یہ شکایت اسی وقت لاحق ہوتی ہے جب ریڑھ کی ہڈی کے مہرے قدرے گھس جاتے ہیں یا ان میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے کمر سے لے کر کولہے تک کی لمبائی میں فرق آجاتا ہے۔
آپ کی جلد شفاف ہو گئی ہے ؟ جلد اس وقت شفاف محسوس ہوتی ہے جب یہ بہت پتلی ہو جاتی ہے اس کے نیچے موجود کولچن ہڈیوں کا بہت ضروری حصہ ہے۔ جلد کی دبازت کا ہڈی کی موٹائی سے بہت گہرا تعلق ہے۔
کیا آپ مسکوڑھوں کی بیماری میں مبتلا ہے ؟ جب جبڑے اور مسوڑھوں میں کوئی مرض لا حق ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے دانت اپنی جگہ پر مضبوطی سے جمے نہیں رہ سکتے۔

کیلشیم کا گودام
اگر مندرجہ بالا سوالات میں سے کسی ایک کا جواب ہاں میں ہے تواس بات کا امکان ہے کہ آپ کے خون میں کیلشیم کی مقدار کم ہو گئی ہے اور کیلشیم پیشاب کے راستے خارج ہو رہا ہے۔ ہڈیوں میں جسم کے کل کیلشیم کی سطح زیادہ ہوجاتی ہے تو اسے ہڈیاں جذب کر لیتی ہیں اور اگر کسی وقت خون میں کیلشیم کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہڈیوں میں ذخیرہ کیا ہوا کیلشیم خون میں شامل ہو جاتا ہے۔
بلوغت کی عمر سے قبل تک ہڈیوں کے حجم اور وزن میں مستقل تبدیلیاں ہوتی رہتی رہتی ہیں اس دوران جو کمی واقع ہوئی ہے وہ فوری طور پر پوری بھی ہوجاتی ہے لیکن 30سے 35 سال کی عمر کے بعد ہڈیاں کمزور پڑنے لگتی ہیں جبکہ عورتوں میں اس عمل کا آغاز 20سال کی عمر ہی سے ہو جاتا ہے۔
کیلشیم چور غذائیں
ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لئے ایسی غذاﺅں سے بچنا ضروری ہے جو ہمارے جسم سے کیلشیم خارج کرتی یا اسے نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان چیزوں میں الکحل آمیز مشروبات ، کیفین ، چائے، چاکلیٹ، کولا مشروبات، بھوسی نکالا ہوا سفید آٹا اور اس سے بنی ہوئی اشیاءکے علاوہ سفید چینی (جو کہ رفائن کر کے تیار ہوتی ہے)بھی شامل ہے۔ اعصابی تناﺅ اور ذہنی دباﺅ سے بھی ہڈیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ کیونکہ دباﺅ کے باعث خون کی کیمیائی حالت میں فرق آجاتا ہے جو پورے جسم کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں پر بھی اپنا اثر مرتب کرتا ہے۔ سگریٹ نوشی کی عادت بھی ہڈیوں کی صحت کی دشمن ہے۔ تمباکو میں کئی ایسے زہریلے مادے ہوتے ہیں جو خون میں شامل ہو کر ہڈیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

کیلشیم اور فاسفورس
یوں تو ہمارا جسم کئی چیزیں بعض غذاﺅں کیمدد سے خود تیار کر سکتا ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جو جسم نہیں بنا سکتا ان میں کیلشیم بھی شامل ہے۔ چنانچہ ہمیں اپنی غذا میں کیلشیم والی چیزیں شامل رکھنی چاہئیں۔ کیلشیم کے ساتھ فاسفورس بھی یکساں مقدار میں لینا ضروری ہے۔ اکثر اوقات ہم کیلشیم کے مقابلے میں فاسفورس اپنے جسم میں زیادہ داخل کر لیتے ہیں جو ہمارے لئے مضر ثابت ہو تا ہے چھنے ہوئے سفید آٹے، مصفی غذاﺅں اور بازاری اشیاءمیں فاسفورس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ سبزیوں میں یہ تناسب بالکل درست ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبزی استعمال کرنے والے افراد ہڈیوں کی کمزوری کا شکار نہیں ہوتے۔

کیلشیم والی غذائیں
جن غذاﺅں میں کیلشیم خاصی مقدار میں ہوتا ہے ان میں پھول گوبھی، سلاد کے ہرے پتے، ترش پھل، مغزیات اور بیچ شامل ہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے ورزش بھی ضروری ہے۔ پیرا کی، سائیکلنگ اور تیز قدموں سے چہل قدمی کا شمار بہترین ورزشوں میں ہوتا ہے سورج کی بالائے بنفشی شعاعیں جلد کے ذریعہ سے جسم میں جذب ہو کر حیاتین ”د‘ذ بناتی ہیں۔ یہ حیاتین بھی ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کر دار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ حیاتین جسم کو غذا میں سے زیادہ سے زیادہ کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

دودھ کا متبادل دہی
دودھ اور دودھ سے بنی اشیاءکیلشیم سے بھرپور ہوتی ہیں ۔ گائے کے دودھ میں خاص مقدارمیں کیلشیم ہوتا ہے۔ البتہ جن لوگوں کو دودھ ہضم نہ ہوتا ہو ان کے لئے دہی بہترین متبادل ہے دہی میں موجود کیلشیم تیزی سے جذب ہو جاتا ہے۔
چھوٹی آنت کی اہمیت
کیلشیم کا انجذاب چھوٹی آت کی پوری لمبائی میں ہوتا ہے۔ چھوٹی آنت میں موجود باریک باریک نالیاں جذب شدہ کیلشیم کو دوران خون میں شامل کردیتی ہیں۔ آپ جتنی کیلشیم والی غذائی کھاتے ہیں ان میں سے صرف کیلشیم کی کل مقدار کا صرف 10سے 5فیصد حصہ جذب ہوتا ہے اس انجذاب کا انحصار آپ کی سرعام، صحت اور طرز زندگی کے علاوہ آپ کی ذہنی کیفیت پر بھی ہے۔ فکر و تشویش اور اعصابی دباﺅ کے شکار افراد کی آنتیں زیادہ مقدار میں کیلشیم اور اعصابی دباﺅ کے شکار افراد کی آنتیں زیادہ مقدار میں کیلشیم جذب نہیں کر سکتیں۔
معدے میں غذا ہضم کرنے کے لئے تیزاب نمک مترشح ہوتا ہے۔ اس تیزاب کے بغیر غذا ہضم نہیں ہوسکتی۔ جن لوگوں کے معدے میں یہ تیزاب کم ہوتا ہے وہ کیلشیم سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ غذا سرے سے ہضم ہی نہیں ہوتی۔ غذا ہضم نہ ہونے کی صورت میں کھانا کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد بھی پیٹ بھرا ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ یا سینے میں جلن ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں علاج کرنے کے لئے ایک بہت آسان اور بے حد موثر ترکیب یہ ہے کہ ایک گلاس پانی میں آدھا لیموں نچوڑیں اور بغیر چینی ملائے یا چینی ملا کر پی جائیں۔ اس آسان ترکیب سے پورا نظام ہضم متوازن کیفیت میں آجاتا ہے اور معدے میں تیزابیت اور الکلی کی کمی بیشی بھی درست ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں