خلیفہ ہارون رشید

Death_barmaki

اگلی شب کو شہرزاد نے یوں لبوں سے قند گھولا:
ایک رات کو خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے وزیر جعفر سے کہا آو آج ہم بھیس بدل کر بغداد شہر کی گشت کریں اور دیکھیں کہ ہمارے افسر رعایا کی خوش حالی اور حکومت کی بہتری کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں۔ ہماری رعایا کس حال میں رہتی ہے۔ پہرے دار پہرا دیتے ہیں کہ سر شام ہی گھروں میں دبک جاتے ہیں۔
وزیر با تدبیر نے حکم کی تعمیل کی اور ان دونوں نے شہر کی راہ لی ۔ جاتے جاتے مختلف بازاروں اور گلی کوچوں میں گزرتے ہوئے ایک تنگ سی گلی میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی سر پر ٹوکری رکھے اور لکڑی ہاتھ میں لئے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ یہ دونوں اس کے پیچھے ہو لیے۔ کچھ دور جا کر بوڑھے نے اونچی آواز میں کہنا شروع کیا ، یا خدا ! کیا زمانہ آیا ہے ، سب امیروں کا محل چاہتے ہیں۔ قاضی ، مفتی اور حاکم سبھی دھن والوں کا دم بھرتے ہیں ۔ غریبوں کے لئے سب سے آرام کی جگہ قبر ہے کہ آنکھیں بند کرکے اس میں سوار ہیں اور جھنجٹ سے بچیں۔
خلیفہ نے بوڑھے کی یہ فریادسنی تو وزیر سے کہا کہ اس ضعیف کی فریاد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مظلوم ہے ۔آﺅ اس سے پوچھیں کہ اسے کیا دکھ ہے۔ یہ سوچ کر بادشاہ اس کے قریب آیا اورکہا بابا! تم کیا کرتے ہو؟۔
بوڑھے نے جواب دیا۔حضور میں مچھلیاں پکڑتا ہوں۔ بال بچے غیر سے کافی ہے۔ بڑی مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے۔ آج سارا دن دریا پر جال پھینکے بیٹھا رہا۔ شام تک کوئی مچھلی ہاتھ نہ آئی۔ اب پریشان ہو کر چلا آیا۔ سوچتا ہوں بیوی بچوںکو آج کیا کھلاوں گا !پھوٹی کوڑی پاس نہیں۔ کیا کروں ، کیا نہ کروں !“۔
خلیفہ نے کہا ، اچھا!ہمارے ساتھ دریائے دجلہ تک چلو۔ اس میں ہمارا نام لے کے جال ڈالو۔ ہم اپنی قسمت کی رسائی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ تمہارے جال میں آئے گا ہم سو دینار دے کر خرید لیں گے ۔
مچھیرے نے سو دینار کا نام سنا تو دل باغ باغ ہو گیا۔ کہا حضورحکم ضرور بجا لاﺅں گا ۔ چلیے غلام تیار ہے۔
تینوں دریا پر آئے۔ ماہی گیر نے اللہ کا نام لے کر جال پھینکا۔ تھوڑی دیر بعد کھینچا تو کافی وزنی معلوم ہوا۔ سمجھا کو ئی بھاری مچھلی پھنسی ہے لیکن جب جال کنارے لایا تو دیکھا کہ وہ ایک صندوق تھا۔ خلیفہ نے اٹھا کر دیکھا تو صندوق کافی دز نی تھا۔ بولا:
خیر! اس میں ہے جوہوقسمت ہماری ہے۔
ماہی گیر کے فوراً سو دینار دے کر رخصت کیا اور جعفر نے صندوق خود اٹھالیا۔ جب شاہی محل میں لے گئے تو شمع کی روشنی میں دونوں وزیروں جعفر اور مسرور نے صندوق کھولا تو اس میں کھجور کے پتوں کی ایک ڈبیا نکلی جوسرخ، دھاگے سے سلی ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایک دری نکلی جو ایک رسی سے بندھی ہوئی تھی ۔ رسی کو توڑا اور دری کو کھولا تو وزیر اور خلیفہ حیران رہ گئے۔
دری میں ایک عورت کی لاش تھی۔
خلیفہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ وہ وزیر جعفر کی طرف دیکھتے ہوئے، بولا اے غافل انسان !تیری وزارت کایہ حال ہے!۔
اگر اسی طرح میری رعایا کے لوگ قتل ہوتے رہے اور قتل کرتے رہے تو بہت جلد شہرکے شہر اجڑ جائیں گے۔ قیامت کے روز خدا کو کیا منہ دکھاو¿ں گا۔ کیا تو مجھے جہنم میں پہنچانا چاہتا ہے ۔خدا کی قسم میں اس عورت کے خون کا بدلہ لوں گا۔ اگر تو اس عورت کے قاتل کو تلاش نہ کر سکا تو تجھے اسی محل کے دروازے پر سولی چڑھایا جائے گا۔ تیرے ساتھ تیرے چالیس عزیزوں کی بھی جان لوں گا۔ ہر گز جیتا نہ چھوڑوں گا۔
وزیر جعفر نے ہمت باندھ کر عرض کی ”غلام کو تین دن کی مہلت عنایت فرمائیے۔ چوتھے روز قاتل آپ کے سامنے ہو گا۔
خلیفہ نے تین دن کی ملت دے دی اور جعفر رخصت ہوا۔ راستے میں سوچتا تھا کہ اس عورت کے قاتل کو کیوں کر گرفتار کر سکوں گا جب کہ میں اس کا اتا پتا ہی نہیں جانتا۔ اگر کسی بے گناہ کو قاتل ٹھہرا کر لے جاو¿ں گا تو حشرکے دن خدا کو کیا منہ دکھاو¿ں گا۔ کچھ کرتے دھرتے بن نہیں آتی۔ عقل بے کار ہوئی جاتی ہے۔ یا خدا تو ہی مدد کرنا نہیں تو میری اور میرے چالیس عزیزوں کی ناحق جان جائے گی۔
چوتھے روز وزیر جعفر خلیفہ ہارون الرشید کے سامنے پیش ہوا۔ بادشاہ نے پوچھا کہو! قاتل کہاں ہے؟۔
وزیر نے جواب دیا، حضور! بندہ غیب کا علم نہیں جانتا۔ میں کیا جانوں کہ ا س عورت کا قاتل کون ہے ؟۔
اس پر خلیفہ آگ بگولاہوگیا۔ فوراً حکم دیا جلاد کو بلاﺅ، اس غافل اور فرض ناشناس کو اسی دم سولی پر چڑھاﺅ اور شہر میں منادی کرادو کہ آج جعفر وزیر مع اپنے چالیس رشتہ داروں کے سولی پائے گا۔ جس کسی کو یہ عبرت ناک تماشا دیکھنا ہو چلا آئے اور دل بہلائے۔
ڈھنڈورے کی آواز سن کر لوگ جوق در جوق جمع ہو گئے مگر سب حیران تھے کہ اس کا سبب کیا ہے!جعفر وزیر کو پھانسی کیوں دی جارہی ہے ؟ خلیفہ وقت اس پر یہ ستم کیوں ڈھاتا ہے؟۔
خلیفہ نے حکم دیا کہ سولی لاﺅ۔ جب سولی لائی گئی تو جعفر اور اس کے چالیس رشتہ دار سولی کے نیچے کھڑے تھے اور جلاد منتظر تھا کہ اشارہ پاتے ہی ان سب کو سولی پر چڑھا دوں۔
عین اسی لمحے ایک نوجوان قیمتی لباس پہنے بھیڑ کو کاٹتا ہوا سیدھا وزیر جعفر کے پاس جا رکا اور بولا اے وزیراعظم! مبارک ہو! خدا نے تمہاری جان بچالی۔ اس عورت کا قاتل میں ہوں۔
اس کا خون کا بدلہ مجھ سے لیا جائے۔
اسی وقت ایک بوڑھا بھیڑ کاٹتا ہوا آگے بڑھا اور غل مچایا اے وزیر! اس نوجوان کی بات کا یقین نہ کرنا اس عورت کا قاتل میں ہوں یہ نوجوان مفت میں اپنی جان گنواتا ہے۔
اس پر نوجوان پھر بولا اے دانش مند وزیر! اس بزرگ کی باتوں میں نہ آنا۔ یہ مجھے بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرناچاہتا ہے۔ اصل مجرم میں ہوں۔ بدلہ مجھ سے لیا جائے۔ بوڑھا بے گناہ ہے۔
تب اس ضعیف نے کہا اے نوجوان! تیرے ابھی کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ میں اپنی عمر کھا چکا ہوں۔ کیوں اپنی جان گنواتا ہے۔
یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھ کر جعفر ان دونوں کوبادشاہ کے روبرو لے گیا اور تخت کو بوسہ دے کر کہا عالم پناہ! اس عورت کے قاتل حاضر ہیں۔
پھر جعفر نے بادشاہ کو بتایا کہ اصل میں قاتل ایک ہی ہے مگر یہ دونوں ایک دوسرے کو بچانا چاہتے ہیں۔ بوڑھا چاہتا ہے کہ وہ سولی پائے اور نوجوان چاہتا ہے کہ بدلہ اس سے لیا جائے۔
خلیفہ نے حکم دیا یہ بات ہے تو ان دونوں کو سولی پر لٹکا دو۔
وزیر بولا سلطان عالم ! ایک قتل کے عوض دو کو پھانسی دینا انصاف نہیں،جبکہ قاتل صرف ایک ہے۔
تب خلیفہ نے کہا تمہیں قسم ہے جو اصلی قاتل ہے وہ آگے آئے اورسارا ماجرا بیان کرے۔
اتنے میں پھر صبح ہو گئی اور کہانی ادھوری رہ گئی ۔ شہریار نے کہا اے ملکہ ! باقی کہانی رات کو سنیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں