خزانے سمیت زمین میں دھنسنے والا مغرور

پیارے بچو! آپ نے خزانہ کے نام تو سنا ہی ہوگا۔اور آپ کو اچھی طرح معلوم بھی ہوگا کہ خزانہ ہوتا کیا ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں ایک شخص ایسا بھی گزرا ہے جس کا خزانہ اٹھانے کیلئے طاقتور مزدور تعینات تھے۔ تو بچو! میں آپ کو بتاتا ہوں آج ایسے شخص کے بارے میں ۔
بچو! بہت سال پہلے کی بات ہے۔ مصر میں ایک قوم بنی اسرائیل رہتی تھی۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہی ایک شخص قارون تھا یہ بھی بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا۔
قارون مصر کے بادشاہ فرعون کا وزیر تھااور بادشاہ اس پر بڑا اعتماد کرتا تھا۔
پیارے بچو! اللہ تعالیٰ نے اسے اتنی دولت دے رکھی تھی لیکن وہ اپنی دولت سے کسی غریب و مسکین کی مدد نہیں کرتا تھا ، اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا تھا، وہ خود کو اعلیٰ درجے کا انسان سمجھتا اور باقی سب کو حقیر و فقیر سمجھتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اسے سمجھایا کہ اللہ نے تجھ پر ا حسان کیا ہے تو اللہ کے بندوں پر احسان کر ، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر، غریبو ں کی مدد کر۔لیکن وہ سمجھنے کی بجائے اپنی دولت و حشمت کی اور نمائش کرنے لگ پڑا۔ اس کے غرور کا عالم یہاں تک پہنچ گیا کہ وہ یہ کہنا شروع ہو گیا کہ یہ مال و دولت میری عقل و دانش کا نتیجہ ہے۔
بچو! جانتے ہو اس کا غرور اور بڑھنے لگا اور وہ لوگوں کے سامنے اپنی دولت کی زیادہ نمائش کرنا شروع ہو گیا تاکہ موسیٰ علیہ السلام کے گردو نواح رہنے والے اس کی دولت سے مرغوب ہو جائیں ۔
جانتے ہو بچو! اس مغرو ر شخص کا انجام کیا ہوا۔ اللہ نے اُسے مال و دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا۔
قارون کا یہ انجام دیکھ کر لوگو ں نے عبرت پکڑی۔
پیارے بچو!اس سے یہ بات سیکھنے کو ملتی ہے کہ کبھی کسی کو غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے،کبھی بھی کسی کو حقیر نہیں جاننا چاہیے۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں