خاندان تغلق کی ابتدا

Firoze_Shah_Delhi
EjazNews

سلطان غیاث الدین تغلق اول کے اخلاق واوصاف کی تعریف میں ہم عصر مورخ (برنی ) نے ورق کے ورق تحریر کیے ہیں ہم انتظامی قابلیت کو دیکھتے ہیں کہ صرف چارپانچ سال کی حکومت میںنظم و نسق کی کلیں درست کر دیں۔ دیوانی اورفوجی عمال کوٹھیک وقت پر نقد تنخواہیں ملنے لگیں جس میں پہلے بہت بے قاعدگی آگئی تھی۔ امن واطمینان کی بدولت ملک میں عام خوش حالی کے آثار پیدا ہو ئے۔ بہت سے ویران علاقے آباد اور بنجر زمینیں مزروعہ ہو گئیں اور برنی کے بیان کے مطابق آب پاشی کے لیے نہر کاوی کا طریقہ سب سے پہلے اسی بیدار مغز بادشاہ کے عہد میں یہاں جاری ہوا۔
جنوبی ہند میں انہی دنوں مسلمانوں کے خلاف ہندو راجاﺅں کا ایک جتھا بنا اور ورنگل کا لدر دیو بھی اس میں شریک ہوگیا۔ دہلی یہ خبریں پہنچیں تو ولی عہد سلطنت ملک فخر الدین جونا جسے الغ خاں کا خطاب ملا تھا، بڑے سازو سامان کے ساتھ ورنگل پر بھیجا گیا۔ مالوہ اور شمالی دکن کے امدادی لشکر راستے میں آملے اور تلنگا میں بازار قتال گرم ہوا ۔راجا نے قلعہ بند ہو کر قصور کی معافی چاہی اور حسب سابق خراج ادا کرنے کی پیش کش کی ۔ جونا رضامند نہ ہوا اور محاصرہ جاری رکھا۔ قلعے میں سامان خوردو نوش کی کمی نہ تھی اور لشکر شاہی میں قلعہ شکن آلات نہ تھے۔ خود محاصرین محاصرے کی طوالت سے تنگ آگئے۔ تلنگا کی مرطوب آب و ہوا نے بہتوں کو بیمار کر ڈالا۔ ایک بڑی پریشانی یہ ہوئی کہ دہلی کی ڈاک جو ہفتے میں دو، ورنہ ایک بار ضرور پہنچ جاتی تھی۔ چار ہفتے تک نہ آئی۔ فاصلہ ہزار میل سے زیادہ اور راستے میں غیر آباد جنگل پہاڑ کھڑے تھے ڈاک چوکی کے زنجیرے کی ایک کڑی کہیں سے نکل گئی تو پورا سلسلہ معطل ہو گیا۔ سوئے اتفاق سے الغ خاں کے دوتین مصاحب دہلی سے آئے تھے۔ ان میں ایک شخص عبید نامی نجوم ورمل میں مہارت کا دعوی رکھتا تھا، اس نے زائچہ کھینچ کر فتح کی تاریخ لگا دی تھی۔ وہ قریب آئی اورفتح کا کوئی قرینہ نظر نہ آیا تو اس فریبی نجومی نے فوج کے سرداروں میںیہ افواہ اڑا دی کہ بادشاہ کا دہلی میں انتقال ہوگیا۔ الغ خاں نے خبر چھپانے کے لیے ڈاک روک لی ہے۔ چند ترک امیروںکو اس بات کا یقین آگیا اوروہ اپنی فوجیں لے کر ورنگل سے چل دئیے۔ سارے لشکر میں افرا تفری پھیل گئی۔ الغ خاں کو مجبوراً محاصرہ اٹھا کر دیو گری واپس آنا پڑا۔ یہاں پہنچتے پہنچتے ڈاک کا سلسلہ درست ہو گیا اور دہلی کے مراسلات آنے لگے۔ ادھر دیو گری کے صوبہ دار نے نافرمان امیوں کو پکڑوا لیا بعض مارے گئے۔ اکثر سپاہی اور سردار واپس آگئے۔ الغ خاں دوبارہ اپنا لشکر مرتب کر کے تلنگا پر چڑھا اور اس مرتبہ ورنگل فتح ہوگیا، راجا اعوان و انصار سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ الغ خاں نے یہاں اور بیدر، کوہیر وغیرہ کئی قلعوں میں اپنی فوجیں تعینات کیں۔ جابہ جا دہلی کے حکام اور عمال مقرر ہوئے ورنگل کا نام بدل کر سلطان پور تجویز کیا اور مہاراشٹر کی طرح تلنگا بھی دہلی کی اسلامی سلطنت کا صوبہ بنا لیا گیا۔
انہی ایام میں بادشاہ کو بنگال میں فساد کی اطلاع ملی ۔ یہاں بغرا خاں (فرزند بلبن) کے وقت سے صوبہ داری مورثی ہو گئی تھی۔ یہ حکمران سلطنت دہلی کی سیادت کو تسلیم کرتے تھے۔ خطبہ اورسکہ بادشاہ دہلی ہی کا چلتا تھا کبھی کبھی خراج کے طور پر قیمتی تحفے دربار دہلی کو ارسال ہوتے تھے لیکن اپنے صوبے کے معاملات میں وہ قریب قریب آزاد ہو گئے تھے۔ سبب یہ کہ بنگال پائے تخت دہلی سے دو مہینے کی مسافت پر تھا۔ دوسرے ابتدائی فتح کے وقت سے مسلمانوں کی خاصی تعدادبنگال میں آباد ہو گئی تھی۔ معلوم ہوتا ہے یہاں بودھ مت والوں میں دین اسلام کی خوب اشاعت ہوئی، جس طرح سندھ میں ہوئی تھی۔ شہروں کی رونق اور فوجوں کی کثرت سے قیاس ہوتا ہے کہ زیر نظر زمانے میں کل اسلامی آبادی کا شمار دس لاکھ سے کم نہ ہوگا۔ ان سب کا وطن بنگال بن گیا تھا۔ وہ اپنی مملکت میں بیرونی مداخلت کو ضرور ناپسند کرتے ہوں گے اور خوددہلی کے مسلمان بادشاہوں کو ان پر جبر کرنا پسند نہ ہوگا۔ اس موقع پر بھی فوج کشی کی تحریک اصلی وارث شہاب الدین کی طرف سے کی گئی تھی جسے ایک باغی بھائی بہادرشاہ نے عاجز کر دیا تھا۔ بادشاہی لشکر پہلے لکھنوتی آیا۔ پھر سپہ سالار بہرام خاں مشرقی پاکستان پر بھیجاگیا جہاں بہادر نے سنارگاوں سے نکل کر شاہی فوج پر حملہ کیااور شکست کھائی ۔ فراری کے وقت ایک کنیز کو جس کا والہ و شیدا تھا، ساتھ لے جانا چاہتا تھا کہ کسی ندی کی دلدل میں پھنس گیا اور اپنی محبوبہ سمیت اسیر ہوا۔ تغلق نے شہاب الدین کو حکومت بنگال پر بحال رکھااور بہادر شہ کو اپنے ہمراہ دہلی لے آیا۔
آئندہ تیس پینتیس برس تک بنگال سلاطین دہلی کی سیادت کو مانتا رہا۔ مگر محمد تغلق کے آخری ایام حکومت میں یہاں کے والی اعلانیہ منحرف ہو گئے اور فیروز شاہ تغلق کو طوعاً کرہا ان کی آزادی ماننی پڑی۔ (757ھ، 1356ئ)۔
بنگال سے واپسی میں غیاث الدین تغلق نے ریاست تر ہٹ کو فتح کیا جس کا علاقہ موجودہ دربھنگا اور مظفر پور کے اضلاع پر مشتمل اور سرحد نیپال تک وسیع تھا۔ راجا کا مرکزی قلعہ ایسے گھنے جنگلوں میں واقع تھاکہ ان میں سے بڑی فوج بہ مشکل گزر سکتی تھی۔ بادشاہ دہلی نے خود ہاتھ میں تبر سنبھالا اور اس قدر فصیل کو کاٹنا شروع کیا پھر تو ساری فوج پل پڑی اور چند روز میں ہزاروں درخت گرا دئیے۔ راجا گرفتارہوا ۔ ترہٹ میں بادشاہی عامل مقرر کر دئیے گئے۔
سلطان محمد تغلق:
غیاث الدین تغلق بنگال کی مہم سے واپس آیا تو شہر سے ایک منزل آگے شاہانہ استقبال کا انتظام کیا گیا ۔ ولی عہد جسے وہ دہلی میںنائب بنا گیا تھا اورتمام عمائد و امرا پیشوائی کو آئے اور بہ خبر و سلامت واپس آنے پر دھوم کاجشن منایا۔ استقبالی دربار کے لیے ایک عارضی کو شک بنوائی تھی اوریہیں بادشاہ کی پر مکلف ضیافت کی گئی ۔ کھانے کے بعد اکثر حاضرین باہر آگئے مگر بادشاہ اندر بیٹھا تھا کہ ہاتھیوں کی دوڑ سے یہ نئی عمارت جس کے ستون چوبی تھے، لرزنے لگی۔ ملا عبدالقادر لکھتے ہیں کہ اسے لرزتے دیکھ کر ہی اکثر حاضرین باہر نکل آئے تھے کہ اتنے میں چھت گری اوربادشاہ مع چند حاضر باشوں کے د ب کر مرگیا۔ اس افسوس ناک حادثے نے جشن مسرت کو مجلس ماتم بنا دیا اور تین دن تک تمام اہل شہر اشک بار و سوگوار رہے۔ (725ھ۔ 1325ئ) آئندہ محمد تغلق سے ناراضی پھیلی تو لوگوں نے عام طور پر کہنا شروع کیا کہ اس نے عمداً باپ کی ہلاکت کا منصوبہ بنایا تھا۔ (مورخ برنی لکھتا ہے کہ جس وقت دستر خوان بچھایا گیا ، اسی وقت نو تعمیر قصر پر بجلی گری اور اس کے ٹوٹنے سے سلطان اور شہزادہ محمود چھت کے نیچے دب گئے۔ باقی اکثر حاضرین ہاتھ دھونے کے لیے باہر آئے تھے وہ بچ رہے۔ مگر اس ناگہانی بجلی گرنے کی روایت سے بھی لوگوں کا شک دور نہیں ہوتا اور کئی تاریخوں میں لکھا ہے کہ محمد تغلق نے عمداً یہ قصر ایسا بنوایا تھا کہ گر پڑے اوربادشاہ ہلاک ہو جائے۔ ابن بطوطہ نے یہی روایت لکھی ہے اور عصامی نے بطور قیاس یہی شبہہ کیا ہے۔)
بہر تقدیر،غیاث الدین کی وفات کے بعد فخر الدین جونا، سلطان محمد تغلق کے نام سے بادشاہ ہوا۔ جس کی عجب صفات نے از منہ وسطی کی تاریخ میں اسے انگشت نما کر دیا ۔ ضیاءالدین برنی اس کا ہم عصر دہم جلیس تھاوہ اوصاف سے زیادہ سلطان کے عیوب بیان کرتا ہے۔ اسی طرح عصامی بادشاہ سے نہایت ناراض ہے اور فتوح السلاطین میں دل کھول کر اس کی برائیاں لکھتا ہے۔ افریقی سیاح ابن بطوطہ اسی عہد میں ہندوستان آیا اور بہت دن دہلی میں بادشاہ کا مہمان بلکہ قاضی کے عہدے پر ممتاز رہا۔ اسے بھی محمد تغلق کے ذاتی اعمال و عادات میں بہت سی برائیاں نظر آئیں۔ بادشاہ کے کئی بڑے بڑے منصوبے نقصان اور ناکامی پر منتج ہوئے اوران سے اس کی بدنامی میں اضافہ ہوگیا۔ معاصرین کے ان تعصبات کو ملحوظ رکھ کر ہمیں تاریخی واقعات کا مطالعہ کرناچا ہیے۔
برنی گواہی دیتا ہے کہ بادشاہ ہوتے ہی محمد تغلق کی سخت نگرانی کی وجہ سے سلطنت کے قریب اور بعید صوبوں کا فرق مٹ گیا جس وضاحت سے نواح دہلی کی جمع بندی اور سرکاری آمد و خرچ کے نقشے دیوان وزارت میں موجود رہتے تھے اسی طرح بنگال و دکن کے ایک ایک پرگنے کے کاغذات مرتب اور مہیا ہو گئے ۔ قصر ہزار ستون میں شاہی دفتر قائم ہوا۔ جس باریک بینی سے مضافات دہلی کے عالموں، اہل کاروں کے حسابات کی جانچ پڑتال ہوتی اور فاضلات یا بقایا میں چند پیسے کی بھول چوک بھی ناممکن تھی، اسی طرح بعید اقطاع اور اضلاع کے والیوں اور متصرفوں سے پیسے پیسے کا حساب لیا جاتاتھا۔ ہر روز سو سو ، دو دو سوشاہی فرمان مختلف حکام کے نا م نافذ ہوتے۔ ایک نیا محکمہ (دیوان ) محض شاہی فرامین کی تحریر و اجرا اور جوابات کی وصولی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
اس نگرانی اور مستعدی نے سرکاری آمدنی میں بڑا اضافہ کیا۔شاہی خزانہ معمور ہوگیا۔ اسی نسبت سے سلطان کی داد و دہش ایسی بڑھی کہ بقول فرشتہ، حاتم و معن کی سخاوت گرد ہو گئی۔ تاتار خاں بادشاہ کا منہ بولا بھائی تھا۔ اسے سنا ر گاوں(مشرقی پاکستان) کا حاکم بنا کر بھیجا تو چترو دور باش کے ساتھ ، ایک سو ہاتھی ایک ہزار گھوڑے ، ایک لاکھ اشرفیاں انعام دیں۔ ملک سنجر پار خشانی کو اسی لاکھ، عماد الدین ریحانی کوستر لاکھ اور اپنے استاد مولانا عقد الدین کو چالیس لاکھ تنکے یک مشت عطا کیے۔ علما اور طلبہ ، مستحقین و مساکین کو رو زانہ ہزارہا روپیہ دلوایا جاتاتھا۔بیرونی ممالک سے جتنے اشخاص محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہلی آئے کبھی نہ آئے تھے۔ وہ خود اعلیٰ درجے کافاضل ، معقول و منقول کا عالم شاعر و سخن سنج ، طبیب و مورخ، انشا پرواز و خوش نویس تھا۔ اہل علم وہنر کی دل کھول کرقدر دانی کرتا تھا۔ بعض ہم عصر مورخوں نے لکھا ہے کہ قدرتی ذہانت کے علاوہ قیافہ شناسی میں بھی خاصہ ملکہ رکھتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں