حضرت شمول علیہ السلام

hazrat_shamoil_as
EjazNews

حضرت یوشع علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل جب سرزمین فلسطین میں داخل ہو گئے تو انہوں نے خدا کے حکم سے ان کے درمیان اس علاقہ کو تقسیم کر دیا تاکہ وہ امن و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کریں اور دین حق کے لیے سرگرم عمل رہیں۔ تورا میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔
حضرت یوشع علیہ السلام آخر عمر تک ان کی نگرانی اور اصلاح حال میں مصروف رہے اوران کے معاملات اور باہمی مناقشات کے فیصلوں کے لیے قاضیوں کو مقرر کیا تاکہ وہ آئندہ بھی اسی طرح اپنا نظام قائم رکھیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے تقریباً ساڑھے تین سو سال تک یہ نظام یوں ہی قائم رہا کہ خاندانوں اورقبیلوں میں ’’سردار‘‘ حکومت کرتے اور ان کے مناقشات و معاملات کے فیصلے ’’قاضی‘‘ انجام دیتے تھے اور ’’نبی‘‘ ان تمام امور کی نگرانی کے ساتھ ساتھ دین کی دعوت و تبلیغ اور اس کی نشرو اشاعت کی خدمت سرانجام دیتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بضل ایزدی ان ہی میں سے کسی قاضی کو منصب نبوت عطا ہو جاتا اور اس تمام عرصہ میں بنی اسرائیل کا نہ کوئی بادشاہ تھا اور نہ تمام قوم کا ایک حکمراں اور اسی لیے ہمسایہ قومیں اکثر ان پر حملہ آور ہوتی رہتی تھیں اور بنی اسرائیل ان کا نشانہ بنتے رہتے تھے۔
کبھی عمالقہ چڑھ آتے اور کبھی فلسطینی ، کبھی مدیانی حملہ آور ہوتے تو کبھی آرامی اور ان میں سے اگر کسی حملہ آور کو ہزیمت بھی ہو جاتی تو بھی وہ آئے دن چھاپے مارتے اور لوٹ مار کرتے رہتے اور یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا کہ کبھی یہ فتح پا جاتے اور کبھی وہ غالب آجاتے۔
چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں غیلی کاہن کے زمانہ میں اشد و د حوالی غزہ کی فلسطینی قوم نے ان پر زبردست حملہ کیا اور شکست دے کر متبرک صندوق ’’تابوت سکینہ ‘‘ بھی چھین کر لے گئے۔ اس متبرک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے عصا اور پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے۔ فلسطینیوں نے اس کو اپنے مشہور مندر ’’بیت دجون‘‘ میں رکھ دیا۔ یہ مندر ان کے سب سے بڑ دیوتا ’’دجون‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ دجون کا جسم انسانی چہرہ اور مچھلی کے دھڑ سے مرکب بنایا گیا تھا اور اسی مندر میں نصب تھا۔ نجار مصری کہتے ہیں کہ فلسطین کے مشہور رملہ کےقریب آج بھی ایک بستی بیت دجون کے نام سے پائی جاتی ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ تورات میں دجون کے جس مندر کا ذکر ہے و ہ یہیں واقع ہوگا اور اسی نسبت سے بستی کانام بھی بیت دجون رکھا گیا۔ (قصص الانبیاء)
نام و نسب:
عیلی کاہن کا زمانہ ختم ہو چکا تھا کہ قضا ۃ میں ایک قاضی شمویل کو منجانب اللہ منصب نبوت عطا ہوا اور وہ بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے مامور ہوئے۔
بعض آثار میں مذکور ہے کہ جب حضرت الیسع علیہ السلام کی وفات ہوگئی تو مصر و فلسطین کے درمیان بحر روم پر آباد عمالقہ میں سے جالوت نامی جابر و ظالم حکمراں نے بنی اسرائیل کو مغلوب کر کے ان کی آبادیوں پر قبضہ کر لیا اور ان کے بہت سے سردار وں اور قبیلہ کے معزز لوگوں کو گرفتار کر کے ساتھ لے گیا اور باقی کو مقہور و مغلوب کر کے ان پر خراج مقرر کر دیا اور تورات کو بھی فنا کر دیا ۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ ایسا نازک دور تھا کہ نہ کوئی نبی و رسول ان میں موجد تھا اور نہ سردار و ا میر اور خاندان نبوت میں ایک حاملہ عورت کے علاوہ کوئی باقی نہ تھا مگر اس نکبت و ادبار کی حالت میں خدائے تعالیٰ نے ان پر فضل و کرم فرمایا اور اس عورت کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوا اس کا نام شمویل رکھا گیا اور اس کی تربیت کا بار بنی اسرائیل کے ایک بزرگ نے اپنے ذمہ لیا۔ شمویل نے ان سے تورات حفظ کی اور دینی تعلیم کے مدارج طے کیے اور جب سند رشد کو پہنچے تو تمام بنی اسرائیل میں ممتاز اور نمایاں نظر آنے لگے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا اور بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت پر مامور کیا۔(روح المعانی جلد ۲)
مورخین کہتے ہیں کہ شمویل حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہی اور ان کا نسب نامہ یہ ہے۔
شمویل بن حنہ بن عاقر، عاقر سے اوپر کی کڑیاں مذکور نہیں ہیں اور مقاتل کی روایت کے مطابق یہ اضافہ ہے شمویل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہوبن تہوبن صوف بن علقہ بن ماحث بن عموص بن عزایا۔
اشمویل عبرانی ہے اور عربی میں اس کا ترجمہ اسمٰعیل ہوتا ہے اور کثرت استعما ل سے اشمویل شمویل رہ گیا۔
بہر حال جب شمویل علیہ السلام کے زمانہ میں بھی عمالقہ کی دست برداور ظالمانہ شرارتیں اسی طرح جاری رہیں تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ وہ ہم پر ایک بادشاہ (حاکم) مقرر کردیں جس کی قیادت میں ہم ظالموں کا مقابلہ کریں اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ دشمنوں کی لائی ہوئی مصیبت کاخاتمہ کر دیں۔ تورات میں بنی اسرائیل کے اس مطالبہ کی کہ ’’ہم پر ایک سلطان مقرر کر دیئے ‘‘ وجہ یہ بیان کی ہے:
’’اور یسا ہوا کہ جب سموئیل بوڑھا ہوگیا تو اس نے اپنےبیٹوں کو مقرر کیا کہ اسرائیل کی عدالت کریں اور اس کے پہلوٹے کا نام یو ایل تھا اور اس کے دوسرے بیٹے نام ابیاہ۔ وہ دونوں بیرسبع میں قاضی تھے پر اس کے بیٹے اس کی راہ پر نہ چلے بلکہ نفع کی پیروی کرتے اور رشوت لیتے اور عدالت میں طرفداری کرتے تھے۔ تب سارے اسرائیلی بزرگ جمع ہو کے راستہ میں سموئیل کے پاس آئے اور اسے کہا دیکھ تو بوڑھا ہوا اور تیرے بیٹے تیری راہ پر نہیں چلتے اب کسی کو ہمارا بادشاہ مقرر کر جو ہم پر حکومت کیا کرے جیسا کہ سب قوموں میں ہے۔‘‘
اور آگے چل کر لکھا کہ سموئیل کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور انہوں نے فرمایا کہ اگر تم پر بادشاہ مقرر ہو یا تو وہ سب کو اپنا خادم اور غلام بنا لے گا ۔ لیکن بنی اسرائیل کا اصرار بڑھتا ہی رہا اور آخر سموئیل نے خدا سے دعا مانگ کر بنیامین کی نسل میں سے سائول (طالوت) نامی ایک شخص کو بادشاہ مقرر کر دیا جو نہایت وجیہ و شکیل اور قوی ہیکل تھا۔
ثعلبی نے طالوت کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ ساول بن قیش بن افیل بن صادرو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامین بن یعقوب بن ابراہیم۔
لیکن قرآن عزیز نے بنی اسرائیل کے اس مطالبہ پر حضرت سموئیل علیہ السلام کا جو جواب نقل کیا ہے وہ اس سے جدا اور بنی اسرائیل کی عادات و خصائل کے عین مطابق ہے۔
قرآن عزیز میں ہے کہ جب بنی اسرائیل نے حضرت سموئیل علیہ السلام سے بادشاہ کے تقرر کا مطالبہ کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا:
’’مجھے یہ خوف ہے کہ ایسا نہ ہو جب تم پر کوئی بادشاہ مقرر کر دیا جائے اور وہ تم کو دشمنوں کے مقابلہ کے لیے ’’جہاد‘‘ کا حکم دے تو تم بزدل ثابت ہو اور جہاد سے انکار کر جائو‘‘۔
بنی اسرائیل نے بڑی قوت کے ساتھ جوا ب دیا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم جہاد سے انکار کر دیں جبکہ ہم یہ خوب جانتے ہیں کہ ہم کو دشمنوں نے بہت زیادہ ذلیل کر دیا ہے انہوں نے ہم کو ہمارے گھر وں سے نکالا اور ہماری اولاد کوقید کیا۔
جب حضرت سموئیل علیہ السلام نے اتمام حجت کرلیا تو اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کیا حق تعالیٰ نے ان کو مطلع فرمایا کہ بنی اسرائیل کی درخواست منظور ہوئی اور ہم نے طالوت کو جو علمی اور جسمانی دونوں لحاظ سے تم میں نمایاں ہے تم پر بادشاہ مقرر کر دیا۔ بنی اسرائیل نے جب یہ سنا تو منہ بنانے لگے اور ناگواری سے کہنے لگے یہ شخص تو غریب ہے مالدار تک نہیں ہے یہ کس طرح ہمارا بادشاہ ہو سکتا ہے اور دراصل بادشاہت کے لائق تو ہم ہیں، ہم میں سے کسی کو مقرر کیجئے۔
مورخین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک عرصہ سے نبوت کا سلسلہ سبط لادی میں اور حکومت و سرداری کا سلسلہ سبط یہودا میں چلا آتا تھا تو اب جبکہ سموئیل علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق یہ شرف بنیامین کی نسل میں منتقل ہونے لگا تو بنی اسرائیل کے ان سرداروں کو حسد پیدا ہوا اورو ہ ان کو برداشت نہ کر سکے۔
شروع میں کسی بات کے اقرار کر لینے اور وقت پر انکار کر دینے کی یہ ادا بنی اسرائیل کی زندگی کا طغرائے امتیاز بن چکی تھی اس لیے یہاں بھی کار فرما رہی کیونکہ وہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ سموئیل علیہ السلام کی نظر انتخاب بہر حال ہم ہی میں سے کسی پر پڑیگی ۔ اس لیے جب انہوں نے خلاف توقع بنیامین کے گھرانے میں سے ایک غریب مگر قوی اور عالم انسان کو اس منصب پر مامور دیکھا تو حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور ردو کد شروع کر دی۔
حضرت سموئیل نے بنی اسرائیل کے معترضین اور نکتہ چین سرداروں کی نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
میں پہلے ہی جانتا تھا کہ تمہاری پستی اور بزدلی تمہارے وقتی جوش اور ولولہ کو کبھی پائیدار اور مستقل نہیں رہنے دیگی اور وقت آنے پر تمہاری یہ گرم جوشی برف کی طرح سرد ہو کر رہ جائیگی۔ چنانچہ تم نے اب اسی لیے حیلہ جوئی شروع کر دی تم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی کا جو معیار تم نے سمجھ لیا ہے یعنی وسعت مال اور کثرت دولت تو یہ قطعاً غلط اور سر تا سر باطل ہے۔
خدائے تعالیٰ کے نزدیک حکمراں کے ذاتی اوصاف میں قوت علم اور طاقت جسم ضروری ہیں اس لیے کہ یہی ہر دو وصف حسن تدبیر، صحت فکر اور جرأت و شجاعت کے کفیل ہیں اور ان اوصاف میں طالوت (شاول) تم سب میں ممتاز اور نمایاں ہے۔
قرآن عزیز کی آیات ذیل اس تفصیل کی شاہد ہیں:
ترجمہ:کیا تم کو بنی اسرائیل کی اس جماعت کا حال معلوم نہیں جس نے موسیٰ کے بعد اپنے زمانے کے نبی سے درخواست کی تھی کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرینگے ہمارے لیے ایک حکمراں مقرر کر دیجئے، نبی نے کہا کچھ بعید نہیں ہے کہ اگر تم کو لڑائی کا حکم دیا گیا تو تم لڑنے سے انکار کر دو! سرداروں نے کہا ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں جبکہ ہم اپنے گھروں سے جا چکے اور اپنی اولاد سے علیحدہ کیے جا چکے ہیں ؟ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم دیا گیاتو تھوڑے سے آدمیوں کے سوا باقی سب نے پیٹھ دکھلا دیا اور اللہ بے انصافوں سے خوف واقف ہے ۔ پھر ایسا ہوا کہ ان کے نبی نے کہا اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو مقرر کر دیا ہے جب انہوں نے یہ بات سنی تو کہنے لگے وہ ہم پر کیسے حکمراں بن سکتا ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ ہم حکمراں بننے کے حقدار ہیں، علاوہ بریں اس کو مال و دولت کی وسعت بھی حاصل نہیں ہے۔ نبی نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حکمرانی کی قابلیت و استعداد میں تم پر اس کو برگزیدہ اور فائق کیا ہے اور علم کی فراوانی اور جسم کی طاقت دونوں میں اس کووسعت عطا فرمائی ہے اور حکمرانی و قیادت تمہارے دینے سے نہیں ملتی بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی زمین کی حکمرانی بخش دیتا ہے اور وہ بڑی وسعت رکھنے والا اورسب کچھ جاننے والا ہے۔ (بقرہ)
ان آیات میں جس نبی کا ذکر ہے وہ یہی سموئیل علیہ السلام ہیں۔
تابوت سکینہ:
بنی اسرائیل کی اس ردو کد نے یہاں تک طول کھینچا کہ انہوں نے سموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کیا کہ اگر طالوت کا تقرر منجانب اللہ ہے تو اس کے لیے خدا کا کوئی ’’نشان‘‘ دکھائیے۔ حضرت سموئیل نے فرمایا کہ تم کو خدا کے اس فیصلہ کی تصدیق مطلوب ہے تو اتمام حجت کے لیے وہ بھی تم کو عطا کی جارہی ہے اور وہ یہ کہ جو متبرک صندوق (تابوت سکینہ) تمہارے ہاتھوں سے چھن گیا ہےا ور جس میں ’’تورات‘‘ اور حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے تبرکات محفوظ ہیں وہ طالوت کی بدولت تمہارے پاس واپس آجائیگا اور حکمت الٰہی سے ایسا ہوگا کہ تمہاری دیکھتی آنکھوں فرشتے اسے اٹھا لائینگے اور وہ دوبارہ تمہارے قبضہ میں آجائے گا۔
ترجمہ: اور ان کے نبی نے ان سے کہا ’’طالوت کی اہلیت حکومت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت تمہارے پاس واپس آجائے گااور فرشتے اس کو اٹھا لائینگے اس تابوت میں تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے لیے (فتح و نصرت) کی طمانیت ہے اور موسیٰ و ہارون کے گھرانوں کا بقیہ ہے، بے شبہ اس واقعہ میں تمہارے خدا کا بہت بڑا نشان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ (بقرہ)
حضرت سموئیل علیہ السلام کی یہ بشارت آخر بر روئے کار آئی اور بنی اسرائیل کے سامنے ’’ملائکۃ اللہ ‘‘ نے ’’تابوت سکینہ‘‘ طالوت کو پیش کر دیا اور اس طرح ان پر یہ ظاہر ہو گیا کہ اگر وہ حضرت سموئیل کے اس الہامی فیصلہ کو قبول کرلیں تو کامیابی و کامرانی یقینی اور حتمی ہے۔
توراۃ میں ’’تابوت سکینہ‘‘‘ کی واپسی کی داستان جس پیرایہ میں بیان کی گی ہے وہ بہت دلچسپ ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے:
’’سفرسموئیل میں ہے کہ جب سے ’’بیت دجون‘‘ میں ’’تابوت سکینہ‘‘ رکھا گیا اس وقت سے فلسطینیوں نے روزانہ یہ منظر دیکھا کہ جب صبح کو وہ اپنے معبود دجون کی عبادت کے لیے جاتے ہیں تو اس کو منہ کے بل اوندھا پڑا پاتے ہیں اور صبح کو جب وہ اس کو دوبارہ اپنی جگہ پر قائم کر دیتے ہیں تو شب گزرنے پر پھر اسی طرح اوندھا گرا ہوا پاتے ہیں پھر ایک نئی بات ہوئی کہ اس شہر میں اتنی کثرت سے چوہے پیدا ہوگئے کہ انہوں نے ان کے تمام حاصلات کو خراب اورتباہ کر دیا اور ایک خاص قسم کی گلٹوں کی وبا نے وہاں گھر کر لیا جس سے سخت نقصان جان ہونے لگا۔ فلسطینیوں نے جب کسی طرح ان باتوں سے نجات نہ پائی تو غورو فکر کے بعد کہنے لگے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ہم پر یہ تمام نحوست اس صندوق کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اس کو یہاں سے نکالو۔
یہ سوچ کر فلسطینیو ں نے اپنے کاہنوں اور نجومیوں کو جمع کیا اور ان سے تمام واقعات بیان کر کے علاج کا مطالبہ کیا۔ کاہنوں اور نجومیوں نے کہا کہ اس کا صرف یہی علاج ہے کہ جس طرح ممکن ہو جلد اس تابوت کو یہا ں سے خارج کر دو اور اس کی صورت یہ ہے کہ سونے کے سات چوہے بنائے جائیں اور سا ت گلٹیاں اور ان کو ایک گاڑی میں تابوت کے ساتھ رکھ دیا جائے اور گاڑی میں دوایسی گائیں جوڑی جائیں جو دودھ دے رہی ہوں اوران کو بستی کے بار لے جا کر سڑک پر چھوڑ دیا جائے کہ جس جانب ان کا رخ ہو اس صندوق کو لے جائیں۔
چنانچہ فلسطینیوں نے ایسا ہی کیا ۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ وہ گائیں خود بخود ایسے رخ پر چل پڑیں کہ جو بنی اسرائیل کی بستیوں کی جانب تھا اور آخر چلتے چلتے ایک ایسے کھیت پر جا کھڑی ہوئیں جہاں اسرائیل اپنا کھیت کاٹ رہے تھے، اسرائیلیوں نے جب صندوق کو دیکھا تو مسرت و خوشی سے مدہوش ہوگئے اور دوڑے دوڑے شہر بیت شمس میں جا کر خبر کی اور اس کے بعدبیت یعریم کے یہودی آکر اس کو بڑے احترام سے لے گئے اور اینداب کے گھر میں جو ٹیلہ پر واقع تھا حفاظت کے ساتھ اس کو رکھ ۔ (سموئیل باب۶)
عبد الوہاب نجار نے اس واقعہ سے یہ استنباط کیا ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کے متعلق قرآن عزیز میں جو یہ کہا گیا ہے کہ تحملہ الملکۃ اس سے یہ مراد ہے کہ ملائکۃ اللہ کی راہنمائی میں اس طرح یہ گائیں صندوق کی گاڑی کو بغیر کسی قائد و سائق کے منزل مقصود پر لے آئینگی۔ لیکن قرآن اور بائبل کے مضامین کی تطبیق میں یہ تاویل اگرچہ بہت خوشنما معلوم ہوتی ہے تاہم تاویل باطل ہے اور نظم قرآنی اس کا انکار کر تی ہے۔
اس لیے کہ قرآن عزیز کے بیان کا حاصل تو یہ ہے کہ تابوت سکینہ کی واپسی طالوت کی حکمرانی کے لیے خدا ایک نشان ہے جو سموئیل علیہ السلام کے ہاتھوں پر اس طرح ظاہر کیا گیا ہے کہ ملائکۃ اللہ نے بنی اسرائیل کی آنکھوں دیکھتے اس کو لا کر طالوت کے سامنے پیش کر دیا۔ مگر توراۃ کی عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی میں جو تی گئی گائیں ’’بیت شمس‘‘ کی سڑک پر لے جا کر چھوڑی گئی تھیں۔ البتہ انہوں نے دائیں بائیں رخ نہ کیا سیدھی چلتی رہیں ۔ حتیٰ کہ بیت شمس کے سامنے کھیتوں میں جا کھڑی ہوئیں جو فلسطینیوں کے حدود کے بعدپہلی سرحدی اسرائیلی بستی تھی اور اس میں یہ بھی تصریح ہے کہ فلسطینی ا س گاڑی کے پیچھے پیچھے شمس کی سرحد تک گئے اور جب گاڑی بیت شمس کے کھیتوں میں چلی گئی تب واپس ہو ئے۔
’’ سو ان گایوں نے بیت شمس کی سڑک سیدھی راہ لی اور اس شاہراہ پر چلیں اور چلتے ہوئے ڈکارتی تھیں اور داہنے یا بائیں ہاتھ نہ مڑیں اور فلسطینی قطب ان کے پیچھے بیت شمس کے سوانے تک گئے اور بیت شمس کے لوگ وادی میں گیہوں کی فصل کاٹ رہے تھے ، انہوں نے جو آنکھیں اوپر کیں تو صندوق دیکھا۔ (صموئیل ۱)
اور ’’تابوت‘‘ کے حاصل ہونے کا یہ طریقہ بے شبہ ’’معجزہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتا خصوصاً جبکہ تورات میں یہ بھی تصریح ہے کہ بیت دجون کے کاہن اس کے پیچھے پیچھے اسرائیلی کھیتوں کے قریب تک آئے نیز قرآن عزیز ہرگز اس کے لیے زور دار جملہ نہ کہتا۔
ترجمہ: بلاشبہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑا نشان ہے۔
علاوہ ازیں قرآن عزیز کے طرز بیان اور اس کے نظم کلام سمجھنے کا جس کو معمولی سا بھی ذوق ہے وہ بہت آسانی کے ساتھ یہ جان سکتا ہے کہ اگر تابوت سکینہ بائبل کے بیان کر دہ واقعہ کے مطابق حاصل ہوا تھا تو قرآن عزیز اس کو تحملہ الملٰئکۃ سے تعبیر نہ کرتا بلکہ تھدی بہ الملائکۃ یا اسی قسم کا کوئی ایسا جملہ کہتا جس سے یہ معلوم ہوتا کہ تابوت سکینہ فرشتوں کی راہنمائی میں پہنچ جائے گا ۔
اور اگر بالفرض توراۃ کی اس تفصیل کو صحیح مان لیا جائے تب بھی اس کا حاصل یہ نکلے گا کہ جبکہ بیت دجون میں صنم دجون تابوت سکینہ کی موجودگی میںر وزانہ اوندھ منہ گر جاتا تھا اور اس واقعہ کی بدولت تابوت کو سرزمین دجون سے نکالا گیا تو یہ بھی بہر حال اسی قسم کا معجزہ اور نشان ہے جو ظاہری اسباب کے بغیر دجون کے مندر میں ظاہر ہوتا رہا۔ لہٰذا جو شخص اس واقعہ کی پوری تفصیل کو صحیح تسلیم کرنے پرآمادہ ہو سکتا ہے اس کو تحملہ الملٰئکۃ کے اس صاف اور سادہ معنی کےقبول کرلینے میں کیا اشکال ہو سکتا ہے کہ خدا کے فرشتے آنکھوں دیکھتے اس کو اٹھاکر لے آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں