حضرت داﺅد علیہ السلام (۴)

hazrat dawood as-4
EjazNews

لیکن اس سے قبل کہ ہم حضرت داﺅد علیہ السلام کی معصوم ہستی پر لگائے ہوئے اس بہتان کی مدلل تردید کریں خود توراة ہی کی زبانی یہ سنانا چاہتے ہیں کہ دوسرے مقام پر اس نے حضرت داﺅد کی نسبت کیا کہا ہے اوران کی پاکدامنی اور خدا کی رسی کا کس انداز میں ذکر کیا ہے ؟۔
توراة کے صحیفہ سموئیل میں ہے:
تب ناتن (نبی) نے بادشاہ داﺅد سے کہا جا جو کچھ تیرے دل میں ہے کر کیونکہ خداوند تیرے ساتھ ہے۔
اور اسی رات کو ایسا ہوا کہ خداوند کا کلام ناتن کو پہنچا جا اور میرے بندہ داﺅد سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے۔۔۔۔۔
سواب تو میرے بندے داﺅد سے کہہ کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں نے تجھے بھیڑ سالہ سے جہاں تو بھیڑ بکریوں کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا، لیا تاکہ تو میری قوم اسرائیل کا پیشوا ہو۔۔۔
اس نے میرے زور آور دشمن اور میرے عداوت رکھنے والوں سے مجھے چھڑا لیا کیونکہ وہ میرے لیے نہایت زبردست تھے، وہ میری مصیبت کے دن مجھ پر آپڑے ، پر خداوند میرا سہارا تھا۔ وہ مجھے کشادہ جگہ میںنکال لایا، اس نے مجھے چھڑایا اس لیے کہ وہ مجھ سے خوش تھا، خداوند نے میری راستی کے موافق مجھے جزا دی اور میرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے مطابق مجھے بدلہ دیا، کیونکہ میں خداوند کی راہوں پر چلتا رہا اور شرارت سے اپنے خداوند سے الگ نہ ہوا کیونکہ اس کے سارے فیصلے میرے سامنے تھے اور میںا س کے آئین سے برشتہ نہ ہوا۔ میں اس کے حضور کامل بھی رہا، اور اپنی بدکاری سے باز رہا، اس لیے خداوند نے مجھے میری راستی کے موافق بلکہ میری اس پاکیزگی کے مطابق جو اس کی نظر کے سامنے تھی بدلہ دیا ۔
داﺅد بن یسی کہتا ہے۔ یعنی یہ اس شخص کا کلام ہے جو سرفراز کیا گیا اور یعقوب کے خدا کا ممسوح اوراسرائیل کا شیریں نغمہ ساز ہے۔ خداوند کی روح نے میری معرفت کلام کیا اور اس کا سخن میری زبان پرتھا۔۔۔
سلیمان نے کہا تو اپنے خادم میرے باپ داﺅد پر بڑا احسان کیا اس لیے کہ وہ تیرے حضور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سیدھے دل سے چلتا رہا۔۔۔۔سو اس (سلیمان) نے کہا خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے منہ سے میرے باپ داﺅد سے کلام کیا۔۔۔اور داﺅد کو چنا تاکہ وہ میری قوم اسرائیل پر حاکم ہو۔
اب اے خداوند اسرائیل کے خدا اپنے بندے میرے باپ داﺅد کے ساتھ اس قول کو بھی پورا کر جو تو نے اسے سے کیا تھا کہ تیرے پاس میرے حضور اسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیے آدمی کی کمی نہ ہو گی، بشرطیکہ تیری اولاد جیسے تو میرے حضور چلاتا ہے ویسے ہی میری شریعت پر عمل کر نے کے لیے اپنی راہ کی احتیاط رکھے۔
پھر بھی میں ساری سلطنت کو نہیں چھینو گا بلکہ اپنے بندے داﺅد کی خاطر اور یروشلم کی خاطر جسے میں چن لیا ہے ایک قبیلہ تیرے بیٹے کو دونگا۔
اور ایسا ہوگا کہ اگر تو ان سب باتوں کو جن کا میں تجھے حکم دوں سنے اور میری راہوں پر چلے اور جو کام میری نظر میں بھلا ہے اس کو کرے اور میرے آئین و احکام کو مانے جیسا میرے بندئہ داﺅد نے کیاتو میں تیرے ساتھ رہونگا۔ اور تیرے لیے ایک پائیدار گھر بناﺅنگا جیسا میں نے داﺅد کے لیے بنایا اور اسرائیل کو تجھے دونگا۔
یہ تمام عبارات بھی توراة ہی کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ داﺅد خدا کے مختار اور پسندیدہ بندے تھے،بلاواسطہ اس سے ہمکلام ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ خدا کی شریعت کے کامل مطیع و فرمانبردار تھے، راستباز، پاکدامن اور باعفت بزرگ تھے اور خدا کے دئیے ہوئے ملک میں بنی اسرائیل کے امیر اور خلیفة اللہ تھے، ہر وقت خدا کی حفاظت و صیانت ان کی کفیل تھی، گویا برگزیدہ ”پیغمبر“ اور صاحب اقتدار حکمراں تھے۔ پس نہیں کہا جاسکتا کہ اہل کتاب تورات کے ان متضاد بیانات میں کس طرح تطبیق دیتے ہیں اور حضرت داﺅد کی شخصیت ان کی نگاہ میں کیا وقعت رکھتی ہے؟۔ اگر داﺅد نبی ہیں یا اخلاق حسنہ سے متصل کنگ داﺅد ہیں تو حتی ٰاوریا کی عورت سے متعلق داستان کا ان کے پاس کیا جواب ہے اور اگر اوریا کی بیوی کا واقعہ صحیح ہے تو اس مسطورہ بالا منقبت و مدحت کا استحقاق کس داﺅد کو حاصل ہے۔
اس کے برعکس قرآن عزیز نے حضرت داﺅد علیہ السلام کے متعلق تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اور معصوم پیغمبر ہیں، خلیفة اللہ اور بنی اسرائیل کے امیروحکمراں ہیں۔ وہ کہتا ہے۔
ترجمہ: اور بلاشبہ ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داﺅد زبور عطا کی۔ (اسرائ)
ترجمہ: اور ہم نے داﺅدکو سلیمان بخشا، داﺅد اچھا بندہ ہے بلاشبہ وہ خدا کی رحمت کی جانب رجوع ہونے والا ہے۔
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے داﺅد کو اپنی جانب سے فضیلت بخشی اور ہم نے اس (داﺅد ) کو مضبوط ملک عطا کیا اور حکمت سے نوازا اور حق و باطل کے فیصلہ کی قوت عطا فرمائی۔ (صٓ)
ترجمہ: اور بلاشبہ ہم نے داﺅد اور سلیمان کو ”علم“ سے بہرہ ور کیا اور ان دونوں نے کہا ”اس اللہ کےلئے ہر طرح کی حمد جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہم کو فضیلت اور برتری عطا فرمائی۔ (نمل)
ان تمام آیات میں حسب عادت قرآن عزیز نے کتب سابقہ کے ان خیالات کی تردید اصلاح فرمائی ہے جو ان کے پیرووں کی تحریف و تبدیل کی بدولت ان میں بطور معتقدات داخل ہو گئے ہیں۔ اس نے تاریخ کے اس تاریک پردہ کو چالاک کر کے بتایا کہ حضرت داﺅد حضرت سلیمان بنی اسرائیل میں مقدس ہستیاں گزری ہیں۔ وہ خدا کے سچے نبی اور پیغمبر ہیں اور ہرقسم کے گناہ اور نافرمانیوں سے مقدس اور پاک ہیں۔
مگر افسوس اور صد ہزار افسوس کہ قرآن عزیز کے اس مقدس اعلان کے باوجود حتیٰ اوریا کی بیوی کی اس خرافی داستان کو توراة اور اسرائیلیات سے لے کر بعض مفسرین نے قرآن کی تفسیر میں نقل کر دیا اور اسرائیلی ہفوات کو بلا دلیل و سند اسلامی روایات کی حیثیت دے دی۔
ان سادہ لوح بزرگوں نے یہ مطلق خیال نہیں فرمایا کہ جن خرافی داستانوں کو آج وہ اسرائیلی روایت کی حیثیت سے قرآن عزیز کی تفسیر میں نقل کر رہے ہیں کل وہ آیات قرآن کی تفسیر و تشریح سمجھی جا کر امت مرحومہ کے لیے فتنہ سامانی کا باعث بے لگی اور ان کی گمراہی کا سبب ثابت ہونگی اور حیرت و صد حیرت ہے۔ ان جدید و قدیم متکلمین پر جنہوںنے اس قسم کی ہزلیات کو سختی کےساتھ رد کر دینے اور ان بہتان طرازیوں کو مردود قرار دینے کی بجائے ان روایات کے نیک محمل تلاش کر کے ان کو قابل قبول کی سعی نامشکور فرمائی ہے اور بے محل حسن ظن سے کام لے کر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ یہ تاویلات جو اس خرافی روایت کے بارہ میں کی جارہی ہیں ریت کی دیوار اور تار عنکبوت ہیں اور کسی نہ کسی اسلوب کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے ”عصمت انبیائ“ جیسے اہم اور بنیادی اسلامی عقیدت پر ضر ب کاری لگتی ہے اور یہ کہ انبیاءور سل کی جانب اس قسم کے انتساب سے جبکہ قرآن عزیز کا دامن پاک اور بے لوث ہے اور ہ اس قسم کی روایات کو بہتان عظیم سمجھتا ہے تو پھر کسی شخص کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی تفسیر میں اس قسم کی خرافات کا تذکرہ کرتے۔
بہر حال ان مفسرین نے جن آیات کی تفسیر میں اس زہر ہلاہل کو ملایا ہے وہ سورة صٓ میں حضرت داﺅد کے اس واقعہ سے متعلق ہے۔
ترجمہ: اور کیا تجھ کو ان دعوے والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار کو د کر عبادتخانہ میں گھس آئے ۔ داﺅد کے پاس تو داﺅد ان سے گھبرایا ، وہ بولے گھبراﺅ نہیں ہم دو جھگڑ رہے ہیں۔ زیادتی کی ہے ایک نے دوسری پر سو ہمارے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کر دے اور ٹالنے والی بات نہ کرنا اور ہم کو سیدھی راہ بتا یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے د نبیاں ہیں اور میرے یہاں ایک دنبی ہے۔ پس یہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھی میرے حوالے کر دے اور مجھ سے گفتگو میں بھی تیز ہے۔ داﺅد نے کہا وہ اپنی دنبیوں میں تیری ایک دنبی کوملانے کے لیے جو سوال کرتا ہے ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں ۔ الا یہ کہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انہوں نے نیک اور ایسے بہت کم ہیں اور داﺅد کے خیال میں گزرا کہ ہم نے اس کا امتحان لیا پس مغفرت چاہنے لگا وہ اپنے رب سے اور گر پڑا جھک کر اور رجوع ہوا (خدا کے سامنے ) پھر ہم نے اس کو وہ کام معاف کر دیا اور اس کے لیے ہمارے پاس (عزت کا) مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا ۔ اے داﺅد ہم نے تجھ کو ملک میں (اپنا) نائب مقرر کیا ہے ،سو تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ حکومت کر اور نفس کی خواہش پر نہ چل کہ وہ تجھ کو اللہ کی راہ سے بچلا دے جو لوگ اللہ کی راہ سے بچلتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں