حضرت داﺅد علیہ السلام (۳)

hazrat dawood as-3
EjazNews

شاہی اور شاہنشاہی کے باوجود حضرت داﺅد علیہ السلام سلطنت و مملکت کے مالیہ سے ایک حبہ نہیں لیتے اور اپنا اور اہل و عیال کی معاش کا باربیت المال پر نہیں ڈالتے تھے بلکہ اپنی محنت اور ہاتھ کی کمائی سے حلال روزی حاصل کرتے اور اسی کو ذریعہ معاش بناتے تھے۔ چنانچہ حضرت داﺅد کے اس وصف کو حدیث صحیح میں ان الفاظ کے ساتھ سراہا گیا ہے۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوا رز ق ہے اور بے شبہ اللہ کے پیغمبر داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت سے روزی کماتے تھے۔ (بخاری کتاب التجارة)
شیخ بدر الدین عینی فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا ایسی صورت پیدا کر دے کہ میرے لیے ہاتھ کی کمائی آسان ہو جائے کیونکہ میں بیت المال پر اپنی معاش کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ دراصل حضرت داﺅد کا یہ پاک جذبہ اسی پیغمبرانہ امتیازات میں سے تھا جن کا ذکر قرآن عزیز نے تما م اولو العزم پیغمبروں کی رشد و ہدایت کے سلسلہ میں کیا ہے کہ ہر نبی اپنی امت کو جب پیغام الٰہی سناتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتا ہے۔
ترجمہ: اور میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمہ ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حدیث بخاری کا مقصد یہ ہے کہ خلیفہ اسلام کو اگرچہ بیت المال سے بقدر کفاف وظیفہ لینا درست ہے لیکن افضل یہی ہے کہ اس پر بار نہ ڈالے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے وفات کے وقت اس تمام رقم کو واپس کر دیا تھا جو انہوں نے زمانہ خلاف میں بیت المال سے وظیفہ کی شکل میں لی تھی اسی طرح دوسری خدمات اسلامی پر معاوضہ لینے کا معاملہ ہے۔ چنانچہ حضرت داﺅد کی اس خواہش کو اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کے ساتھ قبول فرمایا کہ ان کے ہاتھ میں لوہے اور فولاد کو موم کی طرح نرم کردیا کہ جب وہ زرہ بناتے تو سخت مشقت اور آلات حدادی کے بغیر فولاد کو جس طرح چاہتے کام میں لاتے اور ان کے ہاتھ میں موم کی طرح بآسانی ہر قسم کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔
قرآن عزیز نے اس واقعہ کوسورة انبیاءاور سورة سبا میں اس طرح بیان کیا ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے اس (داﺅد) کے لیے لوہا نرم کر دیا کہ بنا زرہیں کشادہ اور اندازہ سے جوڑ کڑیاں اور تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو دیکھتا ہوں۔ (سبا)
ترجمہ: اور ہم نے اس (داﺅد) کو سکھایا ایک قسم کا لباس بنانا تاکہ تم کو لڑائی کے موقع پر اس سے بچاﺅ حاصل ہو ،پس کیا تم شکر گزار بنتے ہو؟۔(انبیائ)
توراة اور ”لوہے کے استعمال کے زمانہ یک تاریخ ‘ سے پتہ چلتا ہے کہ داﺅد علیہ السلام سے پہلے لوہے کی صنعت نے اس حد تک تو ترقی کر لی تھی کہ فولاد کو پگھلا کر اس سے سپا ٹکڑے بناتے اور ان کو جوڑ کر زرہ بنایا کرتے تھے لیکن یہ زرہ بہت بھاری ہوتی تھی اور چند قوی ہیکل انسانوں کے علاوہ عام طریقہ سے ان کا استعمال مشکل اور دشوار سمجھا جاتا تھا اور میدان جنگ میں سبک خرامی دشوار ہو جاتی تھی۔
حضرت داﺅد پہلے شخص ہیں جن کو خدائے تعالیٰ نے یہ فضیلت بخشی کہ انہوں نے تعلیم وحی کے ذریعہ ایسی زرہیں ایجاد کیں جو باریک اور نازک زنجیروں کے حلقوں سے بنائی جاتی تھیں اور ہلکی اورنرم ہونے کی وجہ سے میدان جنگ کا سپاہی اس کو پہن کر بآسانی نقل و حرکت بھی کرسکتا تھا اور دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے بھی بہت عمدہ ثابت ہوتی تھیں۔
سید محمود آلوسی نے روح المعانی میں حضرت قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔
منطق الطیر:
حضرت داﺅد علیہ السلام اور ان کے صاحبزادہ حضرت سلیمان کو خدائے تعالیٰ کی جانب سے ایک شرف یہ عطا ہوا تھا کہ دونوں بزرگوں کو پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم دیا گیا تھا اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان کی گفتگو سمجھتا ہے اسی طرح وہ پرندوں کی گفتگو سمجھتے تھے۔
نطق طیر کی حقیقت کیا ہے اور حضرت داﺅد سلیمان (علیہما السلام) کو نطق طیر کے متعلق کس قسم کا علم تھااس کی مفصل بحث حضرت سلیمان کے واقعات میں آئیگی لیکن یہ یقینی بات ہے کہ ان کا یہ علم اس طریقہ کا نہ تھا جو علم الحیوانات کے ماہرین نے تخمینی اور ظنی طور پر ایجاد کیا ہے اور جو علمی اصطلاح میں زولوجی کی ایک شاخ شمار ہوتا ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک موہبت اور بخشش تھی جس سے ان دونوں پیغمبروں کو نوازا گیا تھا۔
تلاوت زبور:
گزشتہ سطور میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت داﺅد جب گھوڑے پر زمین کسنا شروع کرتے تو اس سے فارغ ہونے تک مکمل زبور کی تلاوت کر لیا کرتے تھے تو حضرت داﺅد کا یہ معجزہ ”حرکت زبان“ سے تعلق رکھتا ہے گویا خدائے تعالیٰ حضرت داﺅد علیہ السلام کے لیے زمانہ کو اس مدت میں ایسا سمیٹ دیتا تھا کہ عام حالت میں وہ گھنٹوں کی مقدار بن سکتا ہے یا حضرت داﺅد کو سرعت اور الفاظ کی اس درجہ قوت عطا کر دی گئی تھی کہ دوسرا شخص جس کلام کو گھنٹوں میں ادا کرے ۔ داﺅد علیہ السلام اس کو بخاری کی نقل کردہ روایت کے مطابق مختصر وقت میںا دا کرنے پر قدرت رکھتے تھے اور یہ تو آج بھی مسلم ہے کہ سرعت حرکت کے لیے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی۔
حضرت داﺅد اور دو اہم تفسیری مقام:
حضرت داﺅد علیہ السلام کے واقعہ میں دو اہم مقام ایسے ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی اور مفسرین کے تفسیری مباحث کے لحاظ سے بھی اہم شمار ہوتے ہیں اور پہلا”مقام“ اگرچہ اختلافی نہیں ہے مگر دوسرا مقام معرکة الآراءبن گیا ہے اور اہل علم کی موشگافیوں نے اس کو کچھ سے کچھ بنا دیا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ اصل حقیقت کو آشکارا کیا جائے اور باطل اوہام و مزعومات کو دلائل و براہین کی روشنی میں رد کیا جائے۔
مقام اول:
اور داﺅد اور سلیمان (کا واقعہ) جب کہ وہ ایک کھیتی کے معاملہ کا فیصلہ کر رہے تھے جس کو ایک فریق کی بکریوں کے ریوڑ نے خراب کر ڈالا تھا اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت (اپنے علم محیط کے اعتبار سے) موجود تھے پھر ہم نے اس کے (بہترین) فیصلہ کی سمجھ سلیمان کو عطا کی اور داﺅد و سلیمان کو ہم نے علم و حکمت عطا کیے۔ (انبیائ)
اس آیت کی تفسیر میں جمہور مفسرین نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ و حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں دو شخص ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ، مدعی نے دعوے کی روئیدادیہ سنائی کہ مدعی علیہ کی بکریوں کے گلے نے اس کی تمام کھیتی تباہ و برباد کر ڈالی اور اس کو چرچگ کو روند ڈالا۔
حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنے علم و حکمت کے پیش نظر یہ فیصلہ دیا کہ مدعی کی کھیتی کا نقصان چونکہ مدعی علیہ کے گلہ کی قیمت کے قریب قریب متوازن ہے۔ لہٰذا یہ پورا گلہ مدعی کو تاوان میں دے دیا جائے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر ابھی گیارہ سال کی تھی وہ والد ماجد کے نزدیک ہی بیٹھے ہوئے تھے کہنے لگے کہ اگرچہ آپ کا یہ فیصلہ صحیح ہے مگر اس سے بھی زیادہ مناسب شکل یہ ہے کہ مدعی علیہ کا تمام ریوڑ مدعی کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ اس کے دودھ اور اس کی اون سے فائدہ اٹھائے اور مدعی علیہ سے کہا جائے کہ وہ اس درمیان میں مدعی کے کھیت کی خدمت انجام دے اور جب کھیت کی پیداوار اپنی اصلی حالت پر واپس آجائے تو کھیت مدعی کے سپرد کر دے اور اپنا ریوڑ واپس لے لے۔ حضرت داﺅد کو بیٹے کا یہ فیصلہ بہت پسند آیا۔
قرآن عزیز نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس معاملہ میں سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ زیادہ مناسب رہا اور اس واقعہ خاص میں فہم داﺅد پر فہم سلیمان گوئے سبقت لے گیا۔ فقہی اصطلاح میں حضرت داﺅد کے فیصلہ کو قیاسی کہینگے اور حضرت داﺅد سلیمان علیہالسلام کے فیصلہ کو ”استحسانی“ مگر اس قسم کی جزئی فضیلت ے یہ معنی نہیں ہیں کہ بحیثیت مجموعی فضائل حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داﺅد علیہ السلام پر فضیلت رکھتے تھے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجموعہ فضائل کے اعتبار سے حضرت داﺅد کی جو منقبت فرمائی ہے وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حصہ میں نہیں آئی۔
مقام ثانی:
توراة اور ”اسرائیلی روایات“ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ انبیاءعلیہم السلام کی ذات قدسی صفات کی جانب ایسی مضحکہ خیز اور بے ہودہ حکایات و قصص منسوب کرتی ہیں کہ جن کو پڑھ کر ان مقدس ہستیوں کے متعلق نبی یا رسول ہونے کا تو کیا یقین ہو سکتا ہے یہ بھی باور نہیں ہوتا کہ وہ بااخلاق بزرگ ہستیاں ہیں۔
بہتان طرازی کی مثال:
چنانچہ ان قصص و حکایات میں سے ایک خرافی روایت حضرت داﺅد سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ تورات کے صحیفہ ”سمو ئیل“ میں حضرت داﺅد علیہ السلام کے متعلق ایک طویل داستان بیان کی گئی ہے جو مختصراً الفاظ میں اسی کی زبانی سننے کے قابل ہے۔
”اور شام کے وقت داﺅد اپنے پلنگ پر سے اٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اس نے ایک عورت کو دیکھا جونہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی۔ تب داﺅد نے لوگ بھیج کر اس عورت کا حال دریافت کیا، اور کسی نے کہا کیا وہ العام کی بیٹی بنت سبع نہیں جو حتیٰ اور یا کی بیوی ہے؟ اور داﺅد نے لوگ بھیج کر اسے بلا لیا۔ وہ اس کے پاس آئی اور اس نے اس سے صحبت کی (کیونکہ وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہو چکی تھی) پھر اپنے گھر کو چلی گئی اور وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ سو اس نے داﺅد کے پاس خبر بھیجی کہ میں حاملہ ہوں۔۔۔۔صبح کو داﺅد نے یوآب کے لیے ایک خط لکھا اور اسے اوریا ہ کے ہاتھ بھیجا اور اس نے خط میں یہ لکھا کہ اوریا کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے۔۔۔ اور اس شہر کے لوگ نکلے اور یو آب سے لڑے اور وہاں داﺅد کے خادموں سے تھوڑے سے لوگ کام آئے اور حتیٰ اوریا ہ بھی مر گیا تب یو آب نے آدمی بھیج کرجنگ کاسب حال داﺅد کو بتایا ۔۔۔جب اوریاہ کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر اور یاہ مر گیا تو وہ اپنے شوہر کے لیے ماتم کرنے لگی اور جب سوگ کے دن گزر گئے تو داﺅد نے اسے بلوا کر اس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اس کی بیوی ہو گئی اور اس سے اس کے ایک لڑکا ہوا۔ پر اس کام سے جسے داﺅد نے کیا تھا خدا وند ناراض ہوا۔(صموئیل)
اس داستان میں حضرت داﺅد علیہ السلام کا جو اخلاقی نقشہ پیش کیا گیا ہے ۔اس کے مطالعہ کے بعد ان کو نبی اور پیغمبر تو کجا ایک صحیح اخلاق کا انسان بھی نہیں سمجھا جاسکتا ۔ دوسرے کی بیوی پر نظر بد ڈالنا، اس سے ناجائز طور پر ملوث ہونا اورپھر سازش کر کے اس کے شوہر کو نا حق قتل کروا دینا انسانی زندگی کے وہ ناپاک اعمال ہیں جن کے لیے علم اخلاق کی زبان میں ”بدکاری“ سے کم کوئی دوسرالفظ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سبحنک ھذا بھتان عظیم۔

اپنا تبصرہ بھیجیں