حضرت ام عطیہؓ کا ذکر خیر

Hazrat-Umma-atia
EjazNews

ان کا نام نسیبہ بنت حارث تھا۔ انصار کے قبیلہ ابی مالک بنی بخار سے تھیں۔ ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو انصار کی عورتوں کو ایک مکان میں بیعت کے لیے جمع کیا اور حضرت عمرؓ کو دروازے پر بھیجا کہ ان شرائط پر بیعت لیں کہ شرک نہ کریں گی چوری اور زنا سے بچیں گی ،اولاد کو قتل نہ کریں گی کسی پر بہتان نہ باندھیں گی۔اچھی باتوں سے انکار نہ کریں گی۔ عورتوں نے یہ سب تسلیم کر لیا تو حضرت عمرؓ نے اندر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور عورتوں نے اپنے ہاتھ باہر نکالے جو بیعت کی علامت تھی۔ اس کے بعد حضرت ام عطیہؓ نے پوچھا کہ اچھی بات سے انکار کرنے کے کیا معنی ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا نوحہ اور بین نہ کرنا۔ (مسند احمد)
حضرت ام عطیہ ؓ عہد رسالت کے سات معرکوں میں شریک ہوئیں جن میں وہ مردوں کے لیے کھانا پکاتیں۔ ان کے سامان کی حفاظت کرتیں۔ مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ (مسلم)
آٹھ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا انتقال ہوا توحضرت ام عطیہ ؓ اور چند عورتوں نے ان کو غسل دیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہلانے کی ترکیب بتلائی۔ (بخاری)
خلافت راشدہ کے زمانے میں ان کا ایک لڑکا کسی غزوہ میں شریک تھا۔ بیمار ہو کر بصرہ آیا۔ حضرت ام عطیہؓ مدینہ میں تھیں۔ خبر ملی تو نہایت عجلت سے بصرہ روانہ ہوئیں لیکن پہنچنے کے ایک دو دن پہلے وہ وفات پا چکا تھا۔ یہاں آکر انہوں نے بنو خلف کے قصر،محل میں قیام کیا۔ تیسرے روز انہوں نے خوشبو منگا کر ملی اور کہا کہ شوہر کے علاوہ اور کسی کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہیں کرناچاہئے۔
اس کے بعد بصرہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ یہ نیک بخت خاتون حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں