حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حج

khana kaba-3

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ بیت اللہ تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبریل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا بیت اللہ کا طواف کیجئے اور اس کے گرد سات چکر لگائیے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام نے بیت اللہ کا طواف کیا اور سات شوط (چکر) پورے کئے۔ ہر شوط میں بیت اللہ کے گوشوں کا استلام کرتے تھے۔ جب دونوں نے پورا طواف کر لیا تو مقام پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے حج کے مناسک ان کو دکھلائے اور بتلائے حتیٰ کہ صفا اور مروہ اور منیٰ اور مزدلفہ اور عرفہ تمام مقامات دکھلائے۔ جب منی پہنچے اور عقبہ سے گزرے تو عقبہ کے پاس ابلیس لعین اپنی شکل و صورت میں ظاہر ہوا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: اس کو کنکری مارو، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سات کنکریاں یکے بعد دیگر اس کو ماریں اور غائب ہوگیا ۔
پھر جمرئہ وسطیٰ پر ابلیس حاضر ہوا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا۔ اس کو کنکری مارو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو سات کنکری ماری اور وہ غائب ہو گیا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ پورا حج کیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو جس جگہ ٹھہرنا ہوتا تھا وہاں ٹھہراتے تھے اور حج کے تمام مناسک اور شعائر بتلاتے تھے جب عرفہ پہنچے تو حضربیل علیہ السلام نے دریافت کیا ’اعرفت مناسک “ کیا آپ نے مناسک حج پہچان لئے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا ہاں۔اسی لئے اس جگہ کو عرفات کہتے ہیں۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ربانی ہوا کہ مخلوق میں حج کا اعلان کرو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا ۔ پروردگار میری آواز کس طرح پہنچ سکتی ہے ؟ رب العزت کا فرمان ہوا تم اعلان کرو آواز پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مقام ابراہیم علیہ السلام پر کھڑے ہوئے اور وہ خوب بلند ہوگیا اور کانوں میں انگلیاں دے کر بآواز بلند شمال و جنوب اور مشرق و مغرب کی جانب صدا لگائی:
ترجمہ: لوگو! تم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا گیا ہے پس تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاﺅ ۔“
اللہ رب العالمین نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آواز کو ہر جگہ پہنچا دیا اور ہر سمت سے آواز آئی : لبیک اللھم لبیک ، حاضر ہیں الٰہی ہم حاضر ہیں۔ (تاریخ ازرقی)
ابن عمیر اللیثی بیان فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور قبیلہ جرہم کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر جواس وقت حرم میں رہتے تھے ۔ حج ادا کیا منیٰ پہنچے اور ظہر، عصر ، مغرب ، عشاءوہاں پڑھی اور رات منیٰ میں گزاری پھر صبح کی نماز پڑھ کر وہاں سے روانہ ہوئے اور مقام نمرہ میں قیام کیا جب زوال ہوگیا تو ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھی اور غروب آفتاب تک عرفات میں وقوف کیا غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچے اور مغرب و عشاءکی نماز ایک ساتھ پڑھی اور رات وہاں گزاری صبح کی نماز پڑھ کر مشعرالحرام پر آگئے اور وہاں وقوف کیا جب خوب چاندنا ہوگیا تو طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے روانہ ہوئے۔ منیٰ پہنچ کر جمرات کی کنکریاں ماریں۔ اسی طرح حج کو پورا کرکے ملک شام تشریف لے گئے اور وہاں وفات پائی۔ علیہ و علیٰ جمیع الانبیاءالصلوٰة و التسلیم۔ (تاریخ ازرقی)
ابن اسحق بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر سال بیت اللہ کا حج کرتے تھے۔ اور آپ کے بعد تمام انبیاءاور ان کی امتوں نے بیت اللہ کا حج کیا۔ (ازرقی)
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے پاپیادہ حج ادا کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سرخ اونٹ پر حج کیا۔ جب مقام روحاءسے گزرے تو اُن پر دو چادریں تھیں ایک کو باندھ رکھا تھا اور ایک کو اوڑھ رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت اللہ پہنچ کر طواف کیا۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پڑھ رہے تھے کہ آواز آئی:
ترجمہ: میرے بندے میں موجود ہوں میں تیرے ساتھ ہوں۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فوراً سر بسجو ہو گئے ۔ (حسن الختام)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مقام روحاءسے ستر انبیاءعلیہم السلام گزرے جو حج کے لئے جارہے تھے اور صوف کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ ان کے اونٹوں کی لگام کھجور کی تھی اور ستر انبیاءعلیہم السلام نے مسجد خیف یعنی منیٰ میں نماز پڑھی ہے۔ (حسن الختام)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد روحاءمیں نماز پڑھی ۔ پھر ارشاد فرمایا مجھ سے پہلے اس مسجد میں ستر انبیاءکرام نے نماز پڑھی ہے۔ یہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام حج یا عمرہ کے لئے گزرے۔ ان کےساتھ ستر ہزار بنو اسرائیل تھے۔ ایک اونٹنی پر سوار تھے اور دو سفید چھوٹی عبازیب تن تھی۔ (کتاب التشویق)
اور ان کے تلبیہ کے الفاظ مختلف تھے اور ان میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام ہیں جو یہ تلبیہ پڑھتے تھے۔ لبیک فراج الکرب لبیک۔ (میں حاضر ہوں اے مشکل کشا میں حاضر ہوں) ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ تلبیہ پڑھتے تھے ۔ لبیک انا عبدک لدیک ۔ حاضر ہوں میں تیرا بندہ ہوں تیرے سامنے ہوں۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ پڑھتے تھے۔ لبیک انا عبدک و ابن امتک۔ حاضر ہوں میں تیرا بندہ ہوں اور تیرا لونڈی زادہ ہوں۔ (کتاب التشویق)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں