حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ پنجم و آخر)

hazrat_ibrahim_as-5
EjazNews

ہدایت قوم کیلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اضطراب:
گزشتہ سطورسے یہ بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کی ہدایت کے لئے کس درجہ مضطرب اور بے چین تھے اور دلائل و براہین کی وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جوانہوں نے حق کے آشکارا کرنے میں صرف نہ کر دی ہو؟۔ سب سے پہلے اپنے باپ آزر کوسمجھایا پھرجمہورکے سامنے حق کی اس روشنی کوپیش کیا اورآخر میں نمرود سے مناظرہ کر کے اس کے سامنے بھی احقاق حق کوبہتر سے بہتر اسلوب کے ساتھ ادا کیااور ہر لمحہ یہی سب کو تلقین کی کہ خدا ئے واحد کے علاوہ کسی کی پرستش جائز نہیں اور اصنام پرستی اور کواکب پرستی کا نتیجہ خسران اورذلت کے سوائے دوسرا نہیں ہے اس لئے شرک سے باز آنا چاہئے اور ملت حنیفہ ہی کو صراط مستقیم سمجھنا چاہئے جس کی اساس و بنیادصرف توحیدالٰہی پر قائم ہے۔
مگر بدبخت قوم نے کچھ نہ سنا اور کسی طرح رشد وہدایت کو قبول نہ کیا اور ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ رضی اللہ عنہا اوران کے برادر زاد حضرت لوط علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایک بھی ایمان نہیں لایا۔اور تمام قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کو جلا دینے کا فیصلہ کر لیا اور دہگتی آگ میں ڈال دیا۔
پس جب خدائے تعالیٰ نے دشمنوں کے ارادوں کوذلیل و رسوا کر کے حضرت ابراہیم ؑ کے حق میں آگ کو بردو سلام بنا دیا تو اب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ کسی دوسری جگہ جاکر پیغام الٰہی سنائیں اور دعوت حق پہنچائیں اور یہ سوچ کر ”قدآن، آرام“ سے ہجرت کا ارادہ کر لیا۔
ترجمہ: اور ابراہیم نے کہا میں جانے والا ہوں اپنے پروردگار کی طرف قریب ہی وہ میری رہنمائی کریگا۔
یعنی اب مجھے کسی ایسی آبادی میں ہجرت کرکے چلا جانا چاہئے جہاں خدا کی آواز گوش حق نیوش سے سنی جائے ، خدا کی زمین تنگ نہیں ہے یہ نہیں اورسہی میرا کام پہنچانا ہے ،خدا اپنے دین کی اشاعت کا سامان خود پیدا کر دے گا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ اول)


اور کلدانین کی جانب ہجرت:
بہر حال حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے والد آزر اورقوم سے جدا ہو کر فرات کی غربی کنارہ کے قریب ایک بستی میں چلے گئے جو اور کلدانین کے نام سے مشہور تھا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کیا اورحضرت لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ عنہا ہم سفر رہیں اور کچھ دنوں کے بعد یہاں سے حران یا حاران کی جانب روانہ ہو گئے ۔ اور وہاں دین حنیف کی تبلیغ شروع کر دی مگر اس عرصہ میں برابر اپنے والد آزر کے لئے بارگاہ الٰہی میں استغفار کرتے اور اس کی ہدایت کے لئے دعا مانگتے رہے اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ وہ نہایت رقیق القلب ، رحیم اور بہت ہی نرم دل و بردبار تھے اس لئے آزر کی جانب سے ہر قسم کی عداوت کے مظاہروں کے باوجود انہوں نے آزر سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگرچہ میںتجھ سے جدا ہورہاہوں اور افسوس کہ تو نے خدا کی رشد و ہدایت پرتوجہ نہ کی تاہم میں برابر تیرے حق میں خدا سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا آخر کار حضرت ابراہیم ؑ کو وحی الٰہی نے مطلع کیا کہ آزر ایمان لانیوالا نہیں ہے اور یہ انہی اشخاص میں سے ہے جنہوںنے اپنی نیک استعداد کو فنا کرکے خود کو اس کا مصداق بنا لیا۔
ترجمہ: اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ (البقرة)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب یہ معلوم ہوگیا تو آپ نے آزر سے اپنی برا¿ت کا صاف صاف اعلان کر دیا کہ جوامیدیں موہوم میں نے لگا رکھی تھی وہ ختم ہو گئی، اس واقعہ سورة توبہ کی اس آیت میںذکر کیا گیا ہے۔
ترجمہ: اور نہ تھا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لئے مگر اس وعدہ کے مطابق جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ پھر جب اس پر یہ ظاہر ہو گیا کہ یہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزاری کا اظہار کر دیا۔ بیشک ابراہیم ہے ضرور رقیق القلب ، بردبار۔ (توبہ)

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ دوئم)

ہجرت فلسطین:
ابراہیم علیہ السلام اس طرح تبلیغ کرتے کرتے فلسطین پہنچے اس سفر میں بھی ان کے ہمراہ حضرت سارہ حضرت لوط ؑ اور لوط ؑ علیہ السلام کی بیوی تھیں۔ سورہ عنکبوت میں ہے ۔
ترجمہ: پس ابراہیم ؑ پر ایمان لے آیا اور کہنے لگا میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنیوالا ہوں بیشک وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ (عنکبوت)
روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ مطہرہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کر گئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ لوط علیہ السلام کے بعد عثمان پہلے مہاجر ہیں جنہوں نے اپنی بیوی سمیت ہجرت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے فلسطین کے غربی اطراف میں سکونت اختیار کی ۔ اس زمانہ میں یہ علاقہ کنانیوں کے زیر اقتدار تھا۔ پھر قریب ہی شلیم (نابلس) میں چلے گئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا اس کے بعد یہاں بھی زیادہ مدت قیام نہیں فرمایااور غرب ہی کی جانب بڑھتے چلے گئے حتیٰ کہ مصر تک جاپہنچے۔
ہجرت مصر اور حضرت ہاجرہؓ :
جب نا بلس سے چل کر مصر پہنچے تو بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق ملک جبار کا وہ واقعہ پیش آیا جو گزشتہ سطور میں سپرد قلم ہو چکا ہے اور تورات میں اس قصہ کو اس طرح نقل کیا گیا ہے۔
ترجمہ: سو جب ابراہم مصر پہنچا مصریوں نے اس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوبصورت ہے اور فرعون کے امیروں نے بھی اسے دیکھا اور فرعون کے حضورمیں اس کی تعریف کی اور اس عورت کو فرعون کے گھر میں لے گئے اور اس نے اس کے سبب ابرام پر احسان کیا کہ اس کو بھیڑ بکری اور گائے بیل اور گدھے اور غلام اور لونڈی اور گدھیاں اور اونٹ ملے۔ پھر خداوند نے فرعون اور اس کے خاندان کو ابرام کی جو رو سری کے سبب بڑی مار ماری۔ تب فرعون نے ابرام کو بلا کر اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے یہ کیا کیا؟۔ کیوں نہ جتایا کہ یہ میری جورو ہے۔ تو نے کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے؟ ۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو اپنی جورو بنانے کو لیا۔ دیکھ یہ تیری جورو حاضر ہے اس کو لے اور چلا جا اور فرعون نے اس کے حق میں لوگوں کو حکم کیا، تب انہوں نے اسے اور اس کی جورو کو اور جو کچھ اس کا تھا روانہ کیا۔ (تورات۔پیدائش باب 12)
صحیحین (بخاری و مسلم) کی روایت اور تورات کی اس روایت کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ صحیحین کی روایت میں حضرت سارہ ؓ کے بددعا والے واقعہ کو ملک جبار ”فرعون“ نے شیطانی (جنی) اثر سمجھ کر سارہ سے جان چھڑائی اور حضرت ہاجرہ کو ان کے حوالہ کر کے ابراہیم ؑ کو مع ان کے رفقاءاور سازو سامان کے مصر سے چلے جانے کی اجاز ت دی۔ فتح الباری میں ہے کہ مصری جن کی عظمت کے قائل تھے۔ اس لئے شیطان سے مراد یہاں جن ہے۔
اور تورات کی روایت یہ کہتی ہے کہ فرعون نے سارہ کے واقعہ کوکرامت یقین کیا۔ اور حضرت ابراہیم پر یہ عتاب کیا کہ انہوں نے شروع ہی سے یہ کیوں نہ بتا دیا کہ سارہ ان کی بہن نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اور پھر بڑے انعام و اکرام اور عزت کے ساتھ ان کو مصر سے رخصت کیا۔ تورات کی روایت کے مطابق اس وقت سارہؓ کی عمر ستر سال کی تھی۔
بہر حال صحیحین کی روایت ہو یا تورات کی معنی اور مفہوم کے اعتبار سے دونوں روایات قریب قریب ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔
البتہ تمام روایات سے اس قدر یقینی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی سارہ ؓ اور اپنے برادر زاد حضرت لوط ؑ کے ساتھ مصر تشریف لے گئے اور یہ وہ زمانہ ہے جبکہ مصر کی حکومت ایسے خاندان کے ہاتھ میں ہے جو سامی قوم سے تعلق رکھتے اور اس طرح حضرت ابراہیم ؑ سے نسبی سلسلہ میں وابستہ تھے۔ یہاں پہنچ کر ابراہیم ؑ اور فرعون مصرکے درمیان ضرور کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس سے اس کویقین ہوگیا کہ ابراہیم ؑ اور اس کا خاندان خدا کا مقبول اور برگزیدہ خاندان ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی حضرت سارہ ؓ کا بہت اعزاز کیا اور ان کو ہرقسم کے مال و منال سے نوازا۔ اور صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے قدیم خاندانی رشتہ کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اپنی بیٹی ہاجرہ کو بھی ان کی زوجیت میں دے دیا جو اس زمانے کے رسم و رواج کے اعتبار سے پہلی اور بڑی بی بی کی خدمت گزار قرار پائیں۔ چنانچہ اس تاریخی قیاس کی سب سے بڑی شہادت خود یہود کے یہاں بھی موجود ہے۔
سفر الیشاءمیں جو یہودیوں کی ایک معتبر تاریخ ہے مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ حضرت کا ہموطن تھا۔ (ارض القرآن جلد ۲ ص۱۴)
اور اسی طرح یہود کی معتبر روایات سے یہ مسئلہ بھی صاف اور روشن ہو جاتا ہے کہ حضرت ہاجرہ شاہ مصر فرعون کی بیٹی تھیں ، لونڈی اور باندی نہیں تھیں۔ توراة کا ایک معتبر مفسر ربی شلو ملو اسحق کتاب پیدائش کی تفسیر میں لکھتا ہے جب اس نے (رقیوں شاہ مصر نے) سارہ کی وجہ سے کرامات کو دیکھا تو کہا: میری بیٹی کا اس کے گھر میں لونڈی ہو کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ ہو کر رہنے سے بہتر ہے۔ (ارض القرآن جلد ۲ ص۱۴)

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ سوئم)

اس تفسیر اور تورات کی آیت کو جمع کرنے سے یہ حقیقت بخوبی آشکارا ہو جاتی ہے کہ تورات میں ہاجرہ کو صرف اس لئے لونڈی کہا گیا کہ شاہ مصر نے ان کو سارہ اور ابراہیم ؑ کے سپرد کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ سارہ کی خدمت گزار رہے گی یہ مطلب نہ تھا کہ وہ لونڈی بمعنی جاریہ ہیں ۔ا س لئے کہ ربی شلو ملو تصریح کرتا ہے کہ ہاجرہ فرعون مصر کی بیٹی تھیں۔
بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ملک جبار کی جو روایت مذکور ہے اس میں بھی یہ جملہ ہے اور ربی شلو ملو کی تفسیر کی تائید کرتا ہے۔” اور ہاجرہ کو سارہ کے حوالہ کر دیا کہ ان کی خدمت گزار رہے“۔
اس لئے بنی اسرائیل کا یہ طعن کہ بنی اسمعیل ہم سے اس لئے کمتر ہیں کہ وہ لونڈی سے ہیں اور ہم حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی سارہ سے صحیح نہیں ہے اور واقعہ اور تاریخ دونوں کے خلاف ہے اور جس طرح تورات میں دوسری مضامین میں تحریف کی گئی ہے اسی طرح اس واقعہ میں بھی تحریف کی گئی ہے اور واقعہ کی تمام تفصیلات کو حذب کر کے صرف لونڈی کا لفظ باقی رہنے دیا گیا ہے۔
ہاجرہ اصل میں عبرانی لفظ ہاغا ہے جس کے معنی بیگانہ اور اجنبی کے ہیں ۔ ان کا وطن چونکہ مصر تھا اس لئے یہ نام پڑ گیا۔ لیکن اسی اصول کے پیش نظر زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ ہاغا کے معنی جدا ہونے والے کے ہیں اور عربی میں ہاجر کے معنی بھی یہی ہیں یہ چونکہ اپنے وطن مصر سے جدا ہو کر یا ہجرت کر کے حضرت ابراہیم ؑ کی شریک حیات اور حضرت سارہ کی خدمت گزار بنیں اس لئے ہاجرہ کہلائیں۔
حضرت ابراہیم ؑ اور دو ہم مقام :
حضرت ابراہیم ؑ کے زیر عنوان بحث ختم کرنے سے قبل دو ایسے اہم مقامات کاذکر کر دینا از بس ضرورت ہے جن کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بہت گہرا تعلق ہے اور جو پیروان ملت ابراہیمی کے لئے مقام بصیرت کی حیثیت رکھتے اور مجدد انبیاءحضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیغمبرانہ عظمت و جلال کو تابندہ تر بناتے ہیں۔
مقام اول: سورة ممتحنہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک خاص دعا کا تذکر ہو رہا ہے وہ بارگاہ الٰہی میں دست طلب دراز کئے عجز و نیاز کے ساتھ یہ عرض کر رہے ہیں۔
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان لوگوں کے لئے ”فتنہ“ نہ بنا جو کافر ہیں۔
فتنہ ”فتن“ سے ماخود ہے جب سونے کو اس لئے آگ میں تپاتے ہیں کہ کھوٹ اور میل جل کر خالص سونا باقی رہ جائے تو اس کے لئے فتن الذب بولتے ہیں ۔ اب اصطلاح میں امتحان، آزمائش اور پرکھ کو کہتے ہیںاور اس لئے حضرت انسان پر جو شدائد و مصائب آتے ہیں وہ اس مناسبت سے فتنہ کہلاتے ہیں۔ قرآن حکیم نے بھی مال ، اولاد اور متصب و جاہ کو اسی معنی کے پیش نظر فتنہ کہا ہے اور صاف صاف اعلان کیا ہے کہ صادق کا ذب کی جانچ کے لئے مومن کو اس کسوٹی پر ضرور پر کھا جاتا ہے۔
ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ جو لوگ دعویٰ ایمان کرتے ہیں وہ یوں ہی چھوڑ دئیے جائینگے اور آزمائے نہ جائیں گے۔(عنکبوت)
ترجمہ: اور ان مشرکوں سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور دین سب کا سب خالص اللہ کیلئے رہ جائے۔ (انفال)
تو اب قابل توجہ ہے یہ بات کہ اس دعا ابراہیمی کی مراد کیا ہے؟۔اور وہ کافر وں کے لئے فتنہ نہ بننے سے متعلق کیا خواہش رکھتے ہیں؟۔
اختلاف ذوق کے پیش نظر علماءحق نے اس سوال کو تین طرح سے حل کیا ہے لیکن ان تینوں حقیقتوں پر غائر نظر ڈالنے کے بعد بآسانی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا اپنی وسعت اور دقیق تعبیر کے لحاظ سے بیک وقت تینوں باتوں پر حاوی ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ درگاہ رب العزت میں یہ دعا کر رہے ہیں پروردگار عالم ! مجھ کو وہ زندگی بخش کہ میرا قول و عمل اور میری رفتار و گفتار اسوہ حسنہ کی تعبیر ہو ، میں اگر ہادی بنوں تو اسوہ حسنہ کا اور مجھ کو قیادت نصیب ہو تو رشد و ہدایت کی اور پھر اس پر استقامت عطا فرما، ایسا نہ ہو کہ میں اسوہ سیئہ کا رہنما اور قائد بن جاﺅں اور فردائے قیامت میں امت کے گمراہ اور کافر تیرے حضور مجھ کو یہ کہہ کر شرمندہ کریں۔
ترجمہ: اے ہمارے پروردگا! اس میں ذرا شک نہیں ہے کہ ہم نے اپنے قائدین اور اپنے بڑوں کی پیروی اختیار کرلی تھی پس انہوں نے ہی ہم کو راہ سے بے راہ کیا۔ (احزاب)
یعنی وہ خواہش رکھتے ہیں کہ اگر راہنمائی اورقیادت ان کا نصیب ہے تو پھر وہ اسوہ اور قد وہ چھوڑ کر جائیں کہ کل کے دن اولیاءالرحمن کے زمرہ میں جگہ ملے اور ان کی زندگی کا راز اولیاءالشیطان کے ساتھ عداوت بن جائے۔ آیت کا سیاق و سباق اس معنی کی پوری تائید کرتا ہے اس لئے کہ آیت سے قبل مشرکین کے مقابلہ میں حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی پاکباز امت کے اس اعلان کا تذکرہ ہے۔
ترجمہ: اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت و بغض کا آغاز ہوگیا ہے تااینکہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لے آﺅ۔
اور زیر بحث آیت کے بعدپھر حضرت ابراہیم ؑ اوران کے پیرو مومنین قانتین کے اسوہ حسنہ کی تلقین کی جارہی ہے اور شروع سورة میں بھی ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کا ذکر موجود ہے۔
(۲) ابراہیم علیہ السلام اپنے ان جامع کلمات میں بارگاہ حق سے اس کے بھی طالب ہیں کہ خدایا! تو ہم کوکافروں کے ہاتھوں آزمائش کے لئے نہ چھوڑ دینا کہ وہ ہم کو ایمان سے برگزشتہ اور کفر کے قبول کرنے کےلئے طرح طر ح کے مصائب و آلام کا شکار بنائیںاورجبرو ظلم کے ذریعہ راہ سے بے راہ بنانے پرآمادہ و دلیر ہو جائیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ چہارم)

اس معنی کا قرینہ یہ ہے کہ آیت زیر عنوان سے قبل یہ ذکر آچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی امت اجابت نے ذی اقتدار اوبر ا اختیار کافرو مشرک جماعت کے سامنے جرآت حق کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ ہم تمہارے معتقدات کے قطعاً منکر ہیں۔ اور ہمارے اور تمہارے درمیان اسلام کے اقراو انکار اور قبول و عدم قبول کے لئے کھلا چیلنج ہے تو اس صورت حال میںا ز بس ضروری تھا کہ کہ ایک با خدا انسان جلیل القدر پیغمبر ، عظیم المرتبہ ہادی اپنی انسانی کمزوریوں پر نظررکھتے ہوئے درگاہ الٰہی میں دست بدعا ہو کروہ اپنی لازوال قدرت کے ہاتھوں کسی حالت میں بھی کافروںکو ہم پر غلبہ عطا نہ فرمائے اور کافر کسی شکل میں بھی ہم پر ایسے قابو یافتہ نہ ہو سکیں کہ ایمان و کفر سے متعلق ہمارایہ اعلان جنگ ہمارے لئے باعث امتحان و فتنہ بن جائے اور مشرک ہم کو کفر کی جانب واس لانے کی جرا¿ت بیجا کر سکیں۔
(۳)حضرت ابراہیم ؑ اس مقام پر فتنہ کہہ کر ”عذاب“ مراد لیتے ہیں اس لئے کہ فتنہ کی مختلف شکوں میں سے ایک بھیانک شکل یہ بھی ہے اور عرض کرتے ہیں۔ پروردگار ہم کو ایسی حالت پر کبھی نہ پہنچانا کہ ہم کافروں اور مشرکوں کے ہاتھوں طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں اورنتیجہ یہ نکلے کہ اپنی پستی ، نکبت ،ذلت و غلامی اور دشمنوں کی دنیوی عزت و جاہ ، عروج و ترقی، اور حاکمانہ اقتدار کو دیکھ دیکھ کر ہم یہ کہہ اٹھیںکہ اگر ہم حق پر ہوتے تو ہم اس ذلت و خسران میں نہ ہوتے اور اگر شرک و کفر خدا کی نگاہ میں مبغوض ہوتا تو ان کافر اور مشرک جماعتوں کویہ عزت و جاہ اور یہ فروغ حاصل نہ ہو تا یعنی ہم سے حق و باطل کاامتیاز ہی اٹھ جائے۔
مقام ثانی:
سورة شعراءمیں بہ سلسلہ عبرت و بصیرت ، انبیاءعلیہم السلام کی دعوت رشد و ہدایت کا جو ذکر ہو رہا ہے اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کابھی تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو توحید الٰہی کی تلقین اور شرک و کفر سے بیزاری و نفرت کی ترغیب دلا رہی ہیں۔ اسی حالت میں وہ توحید ذات و صفات کاذکر خیر کرتے ہوئے۔ یک بیک خدائے واحد کی جانب دست بدعا ہو جاتے ہیں ۔ گویا ایک دوسرے رنگ میں قوم کو اللہ رب العالمین کا پر ستاربنانے کی سعی فرما رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور جس روز لوگ دوبارہ اٹھائے جائینگے تو اس دن مجھ کو رسوا نہ کرنا۔
اس آیت کے تحت امام بخاری ؒ نے اپنی الجامع الصحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرمائی ہے جو کتاب التفسیر میں مختصر اورکتاب الانبیاءمیں تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔ کتاب التفسیر میں منقول حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔
ترجمہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے والد کو پراگندہ حال اور روسیاہ دیکھیں گے تو فرمائیں گے پروردگار! دنیا میں تو نے میری اس دعا کوقبول فرما لیا تھا ۔ ”ولا تخزنی یوم یبعثون“ (یعنی پھر یہ رسوائی کیسی کہ میدان حشر میں اپنے باپ کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ابراہیم ! میں نے کافر وں پر جنت کو حرام کردیا ہے۔
اور کتاب الانبیاءمیں یہ روایت ان اضافات کے ساتھ مذکور ہے:
جب قیامت میں حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کو پراگندہ حال اور روسیاہ دیکھیں گے تو باپ سے مخاطب ہوکر فرمائیں گے ! کیا میں نے بار ہا تجھ سے یہ نہیں کہا تھا کہ میری راہ ہدایت کی مخالفت نہ کر ، آزر کہے گا جو ہوا سو ہوا آج کے دن سے میں تیری مخالفت نہیں کرونگا۔“ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام درگاہ الٰہی میں عرض رسا ہونگے:”پروردگار! تو نے میری اس دعا کو قبول فرما لیا تھا۔”رب لا تخزنی یوم یبعثون“ مگر اس سے زیادہ رسوائی اور کیا ہوگی کہ میرا باپ (آزر) تیری رحمت سے انتہائی دور ہے“ ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ”میں نے بلاشبہ کافروں پرجنت کو حرام کر دیا ہے“۔ پھر ہاتف غیبی آواز دے گا (اور بعض روایات میں ہے کہ اللہ ہی پکاریگا) ابراہیم! قدموں کے نیچے دیکھ کیا ہے ؟۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دیکھیں گے کہ گندگی میں لتھڑا ہوا ایک بحو پیروں میں پڑا لوٹ رہا ہے۔ تب فرشتے ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں اس کو پھینک دینگے۔
مختصر حدیث میں قیامت کے دن آزر کی ہیئت کذائی کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ تو ٹھیک ٹھیک قرآن عزیز سورة عبس کی اس آیت کی تفسیر ہے جس میںقیامت کے دن کافرو ں کی یہ حالت بیان کی گئی ہے۔
ترجمہ: اور کتنے منہ اس دن ہوں گے کہ ان پر گرد پڑی ہو گی اور ان پر کلونس چھا رہی ہوگی، یہی وہ ہیں جو کافر اور بدکار ہیں۔
اور سورہ یونس میں مومنوںاور اصحاب جنسہ کے لئے اسی حالت کی نفی کی گئی ہے۔
ترجمہ: جن لوگوں نے دنیا میں بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور کچھ بڑھ کر بھی اور گنہگاروں کی طرح، ان کے منہ پر نہ کلونس چھائی ہوئی ہوگی اورنہ ذلت ، یہی ہیں جنتی کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
طویل حدیث میں دو نئی باتیں کہی گئی ہیں ایک یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آزر کی یہ حالت دیکھ کر درگاہ الٰہی میں مسطور بالا دعا کا ذکر کرینگے جو انبیاءعلیہ السلام کی دعاﺅں کی طرح شرف قبول حاصل کر چکی ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ باپ کی یہ رسوائی دراصل میری رسوائی۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آزر کو یحو کی شکل میں مسخ کر دیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ اس حدیث کے اجزاءپر بحث کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آزر کواس لئے مسخ کر دیگا تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ حزن وملال جاتا رہے جو آزر کے بشکل انسان رہنے کی صورت میںناری اور جہنمی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگیا تھا اورو ہ اس کی ہیئت کذائی کو دیکھ کر متنفر ہو جائیں اور فطرت ابراہیمی اس سے بیزار ہو جائے۔
اور بجو کی شکل میں مسخ ہوجانے کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کہ ماہرین علم الحیوانات کے نزدیک یحو گندہ بھی ہے اور درندہ میں احمق بھی تو چونکہ آزر بھی بت پرست ہونے کی وجہ سے نجاست میں ملوث تھااور حضرت ابراہیم ؑ کی پیش کر دہ آیات بنیات اور توحید الٰہی کے روشن دلائل و براہین کے نہ قبول کرنیکی بنا پر احمق بھی تھااس لئے قانون الٰہی پاداش عمل از جنس عمل کے پیش نظر اسی کا مستحق تھا کہ ایک احمق اور نجس درندہ کی شکل میں مسخ کر دیا جائے۔
مگر مشہور محدث اسمٰعیلی اس روایت ہی کو مجروح اور لائق طعن سمجھتے اورصحت سندکے اعتراف کے باوجود”سقم روایت “ کی بنا پر اس کو قبول نہیںکرتے وہ فرماتے ہیں ۔
اس حدیث میں یہ ”سقم“ ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ العیاذ باللہ خدائے برتر کے متعلق ”خلف وعد“ کا شک کرتے تھے۔ تب ہی تو یہ سوال کیا؟ حالانکہ حضرت ابراہیم اولو العزم انبیاءمیں سے ہیںاور وہ بلاشبہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی ہرگز نہیں کرتا ”ان اللہ لا یخلف المیعاد“ لہٰذا ابراہیم علیہ السلام کی جانب ایسی بات کی نسبت کرنا قطعاً درست نہیں وہ کسی طرح بھی آزر کی مشرکانہ زندگی و موت کے علم ہوتے ہوئے ایسا سوال نہیں کرسکتے۔
اسمٰعیلی کے علاوہ بعض دوسرے محدثین نے بھی اس تفصیلی روایت پر جرح کی ہے وہ کہتے ہیں:
یہ روایت بظاہر قرآن کے خلاف ہے ۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہے:
ترجمہ: اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا مانگی تھی سو ایک وعدہ سے مانگی تھی جو ابراہیم نے اپنے باپ سے کر لیاتھا۔ پھر ان کو جب معلوم ہوگیا کہ یہ دشمن خدا ہے تو باپ سے دست بردار ہوگئے بیشک ابراہیم البتہ بڑے نرم دل اور بردبار تھے۔
یہ آیت ناطق ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو دنیا ہی میں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کاباپ آزر حیات کے آخری لمحہ تک خدا کا دشمن ہی رہا اور اسی پر اس کی موت ہوئی ۔اس لئے انہوں نے دنیا ہی میں اس سے اپنی بیزاری اور بے تعلقی کا اعلان کر دیا تھا اوربتلا دیا تھا کہ خلیل الرحمن کو عدو الرحمن کے ساتھ کسی قسم کا واسطہ نہیں ہوسکتا۔
پس اس صورت حال کے بعد روایت کا یہ مضمون کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟۔ حافظ ابن حجر ان ہر دو جرح کو نقل کرنے کے بعد ان کا جواب اس طرح دیتے ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے باپ آز ر سے اظہار بیزاری کس وقت پیش آیا ؟۔ اس سلسلہ میں دو روایات منقول ہیں، ایک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن جریر نے بسند صحیح اس طرح روایت کی ہے۔ جب آزر کا بحالت شرک و کفر انتقال ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہو کر مرا، لہٰذا انہوں نے آز ر سے جو وعدہ استغفار کیا تھا اب اس کو ترک کر دیا اور اس سے اظہار بیزاری کر دیا۔
اور دوسری روایت کہ وہ بھی ابن جریر ہی نے روایت کی ہے یہ ہے۔
”ابراہیم علیہ السلام کی ”تبری “(آزر سے اظہار بیزاری ) کا یہ معاملہ دنیا میں نہیں قیامت کے دن پیش آئے گااور اسی طرح پیش آئے گا جیسا کہ مسطور ہ بالا تفصیلی روایت میں مذکور ہے یعنی جب آزر مسخ کردیا گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے یقین کر لیا کہ اب استغفار کی قطعاً گنجائش باقی نہیں رہے۔
پس ان ہر دو روایات کے درمیان تطبیق کی شکل یہ ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دنیا ہی میں آزر کی مشرکانہ موت کے پیش نظر اس سے اظہاربیزاری کر دیا تھا لیکن جب میدان حشرت میں باپ کی زبوں حالت کو دیکھا تو صف رافت و رحمت جوش میں آگئی اور بہ تقاضائے فطرت انہوں نے پھر طلب مغفرت پر اقدام کیا مگر جب اللہ تعالیٰ نے آزر کو مسخ کردیا تب ابراہیم ؑ اس کے انجام سے مایوس ہو گئے اور سمجھ گئے کہ اس کی مغفرت کی قطعاً کوئی صورت نہیں ہے ۔لہٰذا دوسری مرتبہ اس دارو گیر کے دن بھی ”تبری“ کا اعلان فرمایا۔۔
حافظ ابن حجر ؒ کے اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نمایاں خصوصیات میں سے اس صفت کا بھی اعلان کیا ہے”ان ابراہیم لا واہ حلیم “ چنانچہ اس کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر یہ بھی ہے کہ آزر کی شرک پر موت اور ابراہیم علیہ السلام کے دنیا ہی میں اس سے اظہار تبری کے باوجود کہ جس کاذکر قرآن عزیز کی سورة توبہ میں موجود ہے جب وہ فردائے قیامت میں آزر کو اس زبوں حال میں دیکھیں گے ”غبرة علیھا قترة “ تو ان کی رافت ورحمت جوش میں آجائیگی اور اولو العزم پیغمبر کی طرح حقیقت حال سے باخبر رہتے ہوئے بھی ان کی صفات کریمانہ کا اس درجہ فطری غلبہ برسرکار آجائے گا کہ وہ آزر کے لئے طلب مغفرت پر آمادہ ہو جائیں گے، مگر یہ دیکھ کر آزر کی مشرکانہ زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں ہے کہ اس کو حیلہ شفاعت بنایا جاسکے ابراہیم ؑ اپنی اس دعا کی پناہ لینگے جو دنیا ہی میں قبولیت کا شرف دوام حاصل کر چکی تھی اور باپ کی رسوائی کو اپنی رسوائی ظاہر کر کے درگاہ حق میں وعدہ کاذکر کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ ”کافر پر میں نے جنت کو حرام کر دی ہے“ ابراہیم علیہ السلام کو اس جانب توجہ دلائی کہ اپنی اس فطری رافت و رحمت کے باوجود یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ یہ دنیا عمل نہیں بلکہ روز جزاءہے اور آج میزان عدل قائم ہے جس کے لئے ہمارا یہ غیر متبدل قانون ابدیت کا شرف حاصل کر چکا ہے کہ کافر و مشرک کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں اور یہ کہ ”مشرک کی رسوائی“ ہرگز مومن کی رسوائی کا باعث نہیں ہوسکتی، خواہان دونوں کے درمیان علاقہ دنیوی کے مضبوط رشتے ہی کیوں نہ قائم رہے ہوں۔
اور ساتھ ہی حکمت الٰہی نے عملاً ایسی صورت حال پیدا کر دی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حزن و ملال کی وہ تاثیر ہی باقی نہ رہے جس کی وجہ سے ان کے فطرت ملکات نے اس طلب مغفرت پر آمادہ کیا چنانچہ آزر کو درندہ کی شکل میں مسخ کر دیا جس سے حضرت ابراہیم کی پاک فطرت نفرت و کراہت کرنے لگے تو ابراہیم ؑ یہ سوال اس لئے نہ تھا کہ و ہ العیاذ باللہ اس صورت حال کو خلف وعدہ سمجھ رہے تھے بلکہ ایک فطری تقاضے کے پیش نظر تھا جو اگرچہ نتائج وثمرات کو تو نہیں بدل سکتا مگر اس شخصیت کے ملکات حسنہ اور اوصاف کریمانہ کے نمایاں کرنے کا باعث ضرور بن جاتا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ کا یہ جواب اگرچہ اسمٰعیلی اور بعض دوسرے محدثین کے طعن جرح کو بلاشبہ بڑی حد تک ہلکا کردیتا ہے ۔ تاہم اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول بخاری کی مختصر حدیث کے علاوہ حدیث کے بعض اجزاءضرور محل نظر ہیں تب ہی تو غالباً حافظ حدیث عماد الدین ابن کثیر نے ان روایات کو اپنی تفسیر میں نقل کرنے کے بعد مختصر حدیث کوقبول کرتے ہوئے بخاری کی کتاب الانبیاءوالی طویل حدیث پر ”تفرد “کا اور نسائی کی حدیث پر” غرابت“ و” نکارت“ کا حکم لگایا ہے۔ مشہور محدث کرمانی نے بھی اس مسئلہ کو سوال و جواب کی شکل میں پیش کر کے اس کے حل کرنے کی سعی فرمائے ہے جو اپنی جگہ قابل مراجعت ہے۔ (فتح الباری جلد ۸،کتاب الانبیائ)

اپنا تبصرہ بھیجیں