حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ اول)

hazrat_ibrahim_as
EjazNews

نسب ابراہیم کی تحقیق، مستشرقین کی ہرز ہ سرائی کاجواب، قرآن عزیز میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ ، ابراہیم علیہ السلام کابتوں کے ساتھ معاملہ، اسلام کے متعلق باپ سے مناظرہ، قوم سے مناظرہ اور محاکمہ، بادشاہ وقت سے مناظرہ، سکونت و قیام، قوم کی ہدایت کے لئے اضطراب، مصر کی جانب سفر، ابراہیم و حاجرہ ، ولادت اسمعیل علیہ السلام، سارہ و ہاجرہ رضی اللہ عنہما ، سنت ختنہ، ارض حجاز وہاجرہ و اسمٰعیل ، اسحق علیہ السلام، بناءکعبہ، چند اہم نتائج کا تذکرہ ہم کریں گے۔
نسب:
ابراہیم علیہ السلام(خلیل اللہ) بن تارخ بن ناحور بن سروج،بن رعوبن فالح بنعابر بن شالح بن ارفکشاذ بن سام بن نوح علیہ السلام ۔
یہ تصریح تورات اور تاریخ ابن کثیر کے مطابق ہے مگر قرآن عزیز نے ان کے والد کا نام آزر بتایا ہے۔
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو، جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا ”کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟“۔(انعام)
آزر کی تحقیق:
چونکہ تاریخ اور تورات ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ بتاتے ہیں اور قرآن عزیز آزر۔ اس لئے علماءاور مفسرین نے اس مسئلہ کی تحقیق میں دوراہیں اختیار کی ہیں۔
ایسی صورت کی جائے کہ دونوں ناموں کے درمیان مطابقت ہو جائے اور یہ اختلاف جاتا رہے۔
تحقیق کے بعد فیصلہ کن بات کہی جائے کہ ان دونوں میں کون صحیح ہے اور کون غلط یا دونوں صحیح ہیں مگر دوجدا جدا ہستیوں کے نام ہیں۔
پہلے خیال کے علماءکی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت سے وابستہ ہیں اور تاریخ علم اسمی (اسمی نام) ہے اور آزر علم و صفی (وصفی نام)۔
ان میں سےبعض کہتے ہیں کہ آزر عبری زبان میں ”محب صنم “ کو کہتے ہیں اور چونکہ تارخ میں بت تراشی و بت پرستاری دونوں وصف موجود تھے اس لئے آزر کے لقب سے مشہور ہوا۔ اور بعض کا گمان ہے کہ آزر کے معنی اعوج (کم فہم) یا بے وقوف اور پیر فرلوت کے ہیں اور چونکہ تارخ میں یہ باتیں موجود تھیں اس لئے اس وصف سے موصوف کیا گیا۔ قرآن عزیز نے اسی مشہور وصفی علم کو بیان کیا ہے۔
سہیلی نے روض الانف میں اسی کو اختیار کیا ہے۔
اور دوسرے خیال کے علماءکی تحقیق یہ ہے کہ آزر اس بت کا نام ہے تارخ جس کا پجاری اور مہنت تھا۔چنانچہ مجاہد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ قرآن عزیز کی مسطورہ بالا آیت کا مطلب یہ ہے۔
ترجمہ: کیا تو آزر کو خدا مانتا ہے یعنی بتوں کوخدا مانتا ہے؟۔
اور صغانی کی رائے بھی اس کے قریب قریب ہے۔ صرف نحوی اعتبار سے تقدیر کلام میں وہ ایک دوسری راہ اختیار کرتے ہیں۔ غرض ان دونوں کے نزدیک آزرا ”ابیہ“ کا بدل نہیں ہے بلکہ بت کا نام ہے اور اس طرح قرآن عزیز میں ان کے والد کانام مذکور نہیں۔
ایک مشہور قول یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام تارخ تھا اور چچا کا آزر اور چونکہ آزر ہی نے ان کی تربیت کی تھی اور بمنزلہ اولاد کےپالا تھا اس لئے قرآن عزیز میں آزر کو باپ کہہ کر پکارا گیا جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے۔ ”العم صنوابیہ“ چچا باپ ہی کی طرح ہے۔
علامہ عبدالوہاب نجار کی رائے یہ ہے کہ ان اقوال میں سے مجاہد کا قول قرین قیاس اور قابل قبول ہے اس لئے کہ مصریوں کے قدیم دیوتاﺅں میں ایک نام ازوریس بھی آتا ہے۔معنی ”خدائے قوی و معین “ ہیں اور اصنام پرست اقوام کا شروع سے یہ دستور رہا ہے کہ قدیم دیوتاﺅں کے نام ہی پر جدید دیوتاﺅں کے نام رکھ لیا کرتےتھے، اس لئے اس بت کا نام بھی قدیم مصری دیوتا کے نام پر رکھا گیا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔
ہمارے نزدیک یہ تمام تکلفات باردہ ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عزیز جب صراحت کے ساتھ آزر کو اب ابراہیم (ابراہیم کا باپ) کہا ہے تو پھر محض علماءانساب اور بائیبل کے تخمینی قیاسات سے متاثر ہو کر قرآن عزیز کی یقینی تعبیر کو مجاز کہنے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر خواہ مخواہ قرآن عزیز میں نحوی مقدرات ماننے پر کون سی شرعی اور حقیقی ضرورت مجبور کرتی ہے۔
برسبیل تسلیم اگر آزر عاشق صنم کو کہتے ہیں ، یا بت کا نام ہے تب بھی بغیر تقدیر کلام اور بغیر کسی تاویل کے یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ ان ہر دو وجہ سے آزر کا نام آزر رکھا گیا جیسا کہ اصنا م پرست اقوام کا قدیم سے یہ دستور رہا ہے کہ وہ کبھی اپنی اولاد کا نام بتوں کا غلام ظاہر کر کے رکھتے تھے اور کبھی خود بت ہی کے نام پر نام رکھ دیا کرتے تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ ”آوار “ کا لدی زبان میں بڑے پجاری کو کہتے ہیں اورعربی میں یہ ”آزر “ کہلایا۔ تارخ چونکہ بت تراش اور سب سے بڑا پجاری تھا اس لئے ”آزر“ ہی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ حالانکہ یہ نام نہ تھا بلکہ لقب تھا اور جبکہ لقب نے نام کی جگہ لے لی تو قرآن عزیز نے بھی اسی نام سے پکارا۔
جس مقدس انسان (ابراہیم علیہ السلام) کی اخلاقی بلندی کا یہ عالم ہو کہ جب بت پرستی کی مذمت کے سلسلہ میں آزر سے اس کا مناظرہ ہو گیا اور آزر نے زچ ہو کر یہ کہا۔
ترجمہ: اے ابراہیم کیا تو میرے خداﺅں سے بیزار ہے تو اگر اس حرکت سے باز نہ آیا میں ضرور تجھ کو سنگسار کر دوں گا اور جا میرے سامنے سے دور ہوجا۔
تو اس سخت گیر اور دل آزر گفتگو کے موقع پر بھی اس نے پدری رشتہ کی بزرگی کا احترام کیا اور جواب میں صرف یہ فرمایا۔
ترجمہ: تجھ پر سلامتی ہو، میں عنقریب تیرے لئے اپنے پروردگار سے بخشش چاہوں گا بلاشبہ وہ میرے ساتھ بہت مہربان ہے۔ (مریم)
اس ہستی سے یہ کیسے توقع ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے باپ آزر کو بے وقوف، پیر فرتوت اور اسی قسم کے تحقیر آمیز الفاظ کے ساتھ خطاب کرے؟۔
پس بلا شبہ تاریخ کا تارخ، آزرہی ہے اور وہ علم اسمی ہے نہ کہ علم وصفی اور تارخ یا غلط نام ہے اور یا آزر کا ترجمہ ہے جوتورات کے دوسرے اعلام کی طرح ترجمہ نہ رہا بلکہ اصل بن گیا۔
مرتشی سترہویں صدی کا ایک عیسائی عالم ہے اس نے قرآن عزیز کا ترجمہ کیا ہے اور قرآن عزیز پر نہایت رکیک اور متعصبانہ حملے کئے ہیں۔ اس نے اس موقع پر بھی عادت کے مطابق ایک مہمل اور لچر اعتراض کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یوزبیوس کی تاریخ کنیسہ کی ایک عبارت میں یہ لفظ آیا ہے جس کو غلط صیغہ کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن عزیز میں درج کیا ہے۔
لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ مراتشی اپنے اس دعوے کے ثبوت میں نہ تاریخ کینسہ کی وہ عبارت پیش کرتا ہے جس سے یہ لفظ ماخوذ بتایا گیا ہے اور نہ اس اصل لفظ ہی کا پتہ دیتا ہے کہ جس سے یہ غلط لفظ بنا لیا گیا اور نہ یہ بتلاتا ہے کہ آخر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نقل کی کیا ضرورت پیش آئی؟۔ اس لئے یہ قطعاً بے دلیل اور بے سروپا بات ہے جو محض تعصب اور جہالت کی وجہ سے کہی گئی اور حق وہی ہے جو ہم نے ابھی واضح کیا ۔
شجرہ نسب ابراہیم تا نوح علیہما السلام:
تورات اور تاریخ نے حضرت ابراہیم سے حضرت نوح (علیہما السلام) تک نسب کی جو کڑیاں شمار کرائی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ اس شجرہ نسب کی صحت و عدم صحت کا معاملہ قیاسی اور تخمینی رائے سے زیادہ نہیں ہے اس لیے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب کے متعلق اس یقین کے باوجود کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ عدنان سے اوپر کی کڑیوں کے متعلق خودذات اقدس کا یہ فیصلہ ہے کہ ”کذب النسابون” علماءنسب نے ناموں کی تعیین میں غلط بیانی سے کام لیا ہے “۔ تو حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت نوح ؑ تک کا سلسلہ کس طرح اس کذب بیانی اور وضع سے پاک رہ سکتا ہے؟۔

مستشرقین یورپ کی ہرزہ سرائی:
مستشرقین یورپ کی ایک جماعت اسلامی دشمن میں ید طولیٰ رکھتی ہے اور بغض و عناد کی مشتعل آگ میں حقائق و واقعات تک کے انکار پرآمادہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس قسم کے مواقع میں سے کہ جہاں قرآن عزیز کے خلاف بے دلیل ان کی تنقید کی تلوار چلتی رہتی ہے ایک موقع حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت کا بھی ہے۔
دائرة المعارف اسلامیہ نے ونسنک کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے اسپرنگر نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن میں ایک عرصہ تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت کعبہ کے بانی اور دین حنیف کے ہادی کی حیثیت سے روشنی میں نہیں آئی البتہ عرصہ دراز کے بعد ان کی شخصیت کو ان صفات کے ساتھ متصف ظاہر کیا گیا ہے اوران کی ذات کی خاص اہمیت نظر آتی ہے، چونکہ یہ دعویٰ اپنی اجمالی تعبیر کے لحاظ سے ابھی تشنہ تکمیل تھا اس لئے ایک طویل زمانہ کے بعداسپرنگر کے اس دعوے کو سنوگ ہیکرو نیہ نے بڑے شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا اور اپنے مزعومہ دلائل کے ذریعہ اس کو خاص آب ور نگ سے رنگین بنایا۔
اس نے کہا: قرآن پاک میں جس قدر مکی آیات اور سورتیں ہیں ان میں کسی ایک مقام پربھی اسمٰعیل علیہ السلام کا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ رشتہ نظر نہیں آتا اور نہ ان کو اول مسلمین بتایا گیا ہے بلکہ وہ صرف ایک نبی اور پیغمبر کی حیثیت میں نظر آتے ہیں ان کے تذکرہ کی ایک آیت بھی ایسی نہیں ملتی جو ان کو موسس کعبہ ، اسمعیل علیہ السلام کا باپ ، عرب کا پیغمبر وہادی اور ملت حنیفی کا داعی ظاہر کرتی ہو، سورہ الذاریات ، الحجر ، الصافات ، الانعام ، ہود، مریم، انبیاءاور عنکبوت جو سب مکی سورتیں ہیں ہمارے اس دعوے کی شاید ہیں۔ اس سے صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے سرزمین عرب میں کوئی نبی نہیں آیا اور یہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
البتہ جب محمد (ﷺ کی مدنی زندگی شروع ہوتی ہے تو مدنی سورتوں میں حضرت ابراہیم کے ذکر کے وقت یہ تمام خصوصیات نمایاں کی جاتی اور اہمیت کے ساتھ روشنی میں لائی جاتی ہیں۔
ایسا کیوں ہوا؟ اور یہ اختلاف کیوں موجود ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور میں یہود پر اعتماد رکھتے اور انہیں کے طریقوں کو پسند فرماتے تھے، لہٰذا اس وقت تک ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کو بھی انہوں نے اسی نظر سے دیکھا جس نظر سے یہود دیکھتے تھےلیکن جب مدینہ پہنچ کر انہوں نے یہود کو اپنے مشن ”اسلام “ کی دعوت دی تو انہوں نےقبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور وہ آپ کے دشمن ہو گئے اب محمد (ﷺ) نے فکر و تامل کیا اور خوب سوچا، آخر ان کی ذکاوت اور جودتطبع نے رہنمائی کی اور انہوں نے عرب کے لئے یہود کی یہودشت سے جدا ایک ایسے دین کی بنیاد ڈالی جس کو یہودشت ابراہیم کہنا چاہئے۔ لہٰذا اس سلسلہ کی تکمیل کے لئے قرآن کی مدنی سورتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت کو اس طرح پیش کیا گیا کہ وہ ملت حنیفی کے داعی ، عرب کے پیغمبر، اسمٰعیل علیہ السلام کے والد ، کعبہ کے موسس نظر آتے ہیں۔(Het mehhaansohfeest)۔
یہ ہے وہ دعویٰ اور اس کی دلیل جو اسپرنگر ، سنوک اور وینسنک جیسے اسلام دشمن مستشرقین کی جانب سے محض اس لئے اختراع کیے گئے کہ اس قسم کی لچر بنیادوں پر مسیحیت کی برتری اور اسلام کی تحقیر کی عمارت تیار ہو سکے اور نیز یہ کہ ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ ثابت کیا جائے کہ ان کا عرب کے ساتھ نہ نسلی تعلق ہے اور نہ دینی۔ لیکن جب ایک مورخ اور ایک نقاد مستشرقین کے اس دعویٰ اور دعویٰ کے دلائل کو صرف تاریخی اور تنقیدی حیثیت سے دیکھتا ہے تب بھی اس کویہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ جو کچھ کہا گیا ہے حقائق اور واقعات سے قصداً چشم پوشی کر کے محض عداوت اور بغض و عناد کی راہ سے بے دلیل کہا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس سلسلہ میں سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ مکی صورتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق وہ اوصاف نظر نہیں آتے جو مدنی آیات میں پائے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سراسر غلط بلکہ قصد و ارادہ کے ساتھ علمی بددیانتی ہے کہ مکی سورتوں میں سے صرف انہی کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں حضرت ابراہیم کو فقط ایک پیغمبر کی صورت میں ظاہر کیا گیا ہے لیکن وہ مکی سورت جو ابراہیم ؑ کی شخصیت کہ ہمہ حیثیت سے نمایاں کرنے کے لئے ان کے نام ہی سے معنون کر کے نازل کی گئی یعنی سورہ ابراہیم اس کو نظر انداز کر دیا گیا تاکہ قرآن عزیز سے براہ راست فائدہ نہ اٹھا سکنے والے حضرات کے سامنے جہالت کا پردہ پڑا رہے اور ان کی کورا نہ تقلید میں وہ ان کے غلط دعوے کو صحیح سمجھتے رہیں۔
سورہ ابراہیم مکی ہے۔ اس کی آیات کا نزول ہجرت سے قبل مکہ ہی میں ہوا ہے اور وہ حسب ذیل حقائق کا اعلان کرتی ہے۔
(۱) حضرت ابراہیم ؑ عرب (حجاز) کے اندرقیام پذیر ہیں اورخدا کے رسول کی حیثیت سے خود کواور اپنی اولاد کو بت پرستی سے بچنے اور اس مقام کو امن عالم کامرکز بنانے کی دعا کر رہے ہیں:
ترجمہ: اے پروردگار اس شہر(مکہ) کو تو امن کا مرکز بنا اور مجھ کواور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ۔ (35)
ترجمہ: اے پروردگار بلاشبہ ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا پس جو شخص میری پیروی کرے وہ میری جماعت میں سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے پس بلاشبہ تو بخشنے والا رحم کرنیوالا ہے۔ (36)۔
حضرت ابراہیم ؑ اقرار کرتے ہیں کہ سرزمین حجاز (جو عرب کا قلب ہے) ان ہی کی اولاد سے آباد ہوئی اور انہوں نے ہی اس کو بسایا ہے اور وہی اس چٹیل میدان میں بیت محرم (کعبہ) کے موسس ہیں۔
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار بیشک میں نے اپنی بعض ذریت کو اس بن کھیتی کی سر زمین میں تیرے گھر (کعبہ) کے نزدیک آباد کیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار یہ اس لئے کہ تاکہ وہ نماز قائم کریں پس تو لوگو میں سے کچھ کے دل اس طرف پھیر دے کہ وہ (اس کعبہ کی بدولت) ان کی جانب مائل ہوں اور ان کو پھلوں سے رزق عطا کرتاکہ یہ شکر گزار بنیں۔ (37)
حضرت ابراہیم اسمعیل و حضرت اسحق (علیہم اسلام) کے والد ہیں اور یہی اسمٰعیل اہل عرب کےباپ ہیں اور حضرت ابراہیم اپنے اور اپنی اولاد کے لئے ملت حنیفی کے شعار ”صلوٰة “ کی اقامت کی دعا کر رہے ہیں۔
ترجمہ: سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ کو بڑھاپے میں اسمعیل اور اسحق بخشے بلاشبہ میرا پروردگار ضرور دعا کا سننے والا ہے۔ اے پروردگار مجھ کو اور میری اولاد کو نماز قائم کرنیوالا بنا دے۔ اے ہمارے پروردگار ہماری دعا سن، اے ہمارے پروردگار تو مجھ کو اور میرے والدین کو اور کل مومنوں کو قیام حساب (قیامت) کے روز بخش دے۔ (36-40-41)
ان آیات کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا ایک لمحہ کے لئے بھی کسی شخص کو یہ جرات ہو سکتی ہے کہ وہ ان لغو اور بے سروپا دعوﺅں کی تصدیق کرے جن کو مستشرقین یورپ نے اپنی جہالت یا ارادی جھوٹ کے ساتھ علمی تنقید کا عنوان دیا ہے۔ کیا یہ آیات مکی نہیں ہیں اور کیا ان سے وہ سب کچھ ثابت نہیں ہوتا جو مدنی آیات میں مذکور ہے؟۔
اسی طرح سورة ابراہیم کے علاوہ سورة انعام اور سورة النحل بھی مکی سورتیں ہیں ان میں بصراحت موجود ہے کہ حضرت ابراہیم شرک کے مقابلہ میں ملت حنیفی کے داعی ہیں اور ان کی شخصیت اس دعوت میں بہت نمایاں اور ممتاز ہے۔
ترجمہ: بلا شبہ میں اپنے چہرہ کو اسی ذات کی طرف جھکاتا ہوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے اور میں شرک کرنیوالوں میں سے ہرگز نہیں۔ (الانعام)
ترجمہ: (اے محمد ﷺ) کہہ دو بلا شبہ مجھ کو میرے رب نے سیدھی راہ کی ہدایت کی ہے جو کج مج راہ سے الگ صاف اور سیدھا دین ہے ملت ہے ابراہیم کی جو تھے ایک خدا کی طرف جھکنے والے اور نہ تھے وہ مشرکوں میں سے۔ (انعام)
ترجمہ: بیشک ابراہیم تھا راہ ڈالنے والا حکم بردار صرف ایک خدا کی طرف جھکنے والا اور نہ تھا وہ شرک کرنیوالوں میں سے ۔ (النحل)
ترجمہ: پھر وحی کی ہم نے تیری جانب (اے محمد ﷺ) اس بات کی کہ تو پیروی کر اس ابراہیم کی ملت کی جو صرف خدائے واحد کی جانب جھکنے والا ہے اور نہیں ہے مشرکوں میں سے ۔ (133)
تو کیا اوصاف اورواضح آیات کے بعدبھی ان دلائل کو دلائل کہنا کوئی حقیقت رکھتا ہے جو اس سلسلہ میں سنوک اور اس کے ہمنواﺅں نے بیان کئے ہیں؟ مکی سورتیں ہوں یا مدنی دونوں جگہ ابراہیم ؑ کی شخصیت ایک ہی طرح نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ دونوں حالتوں میں ملت حنیفی کے داعی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور عرب کے باپ، کعبہ کے موسس و بانی، عرب کے ہادی ہیں اور اس لئے مستشرقین یورپ کا یہ کہنا کہ ابراہیم علیہ السلام کی شصخیت قرآن عزیز کی مکی اور مدنی آیات میں دو جدا جدا صورتوں میں نظر آتی ہے کذب اور صریح بہتان ہے تیر یہ بھی خلاف واقعہ ہے کہ عرب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے قبل کوئی بھی اور پیغمبر نہیں گزرا کیونکہ ابراہیم و اسمعیل اور ہود و صالح اسی سرزمین کے ہادی و پیغمبر ہیں۔
ان مدعیان علم کو تعصب نے ایسا نادان بنا دیا کہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے وقت یہ بھی خیال نہ رہا کہ اس قسم کے دعوی سے ہم صرف قرآن ہی کی نہیں بلکہ بائبل (تورات) کی بھی تکذیب کر رہے ہیں، اس لئے کہ تورات میں تصریح ہے کہ اسمعیل ؑ ، ابراہیم ؑ کے بیٹے ہیں اور اسمٰعیل ؑ ہی عرب کے باپ ہیں اور ابراہیم ؑ کی اسی اولاد سے حجاز کی سرزمین آباد ہوئی اور یہ دونوں باپ بیٹے عرب کی نمایاں شخصیتیں ہیں۔

یہ الزام بھی قطعاً بے بنیاد اور لغو ہے کہ ’’مکہ کی زندگی میں رسول اکرم ﷺ نے یہود اور ان کے مذہبی امور کی تقلید کی اور جب مدینہ میں پہنچ کر یہود کے انکار اور ان کے مخالفانہ جذبہ کو دیکھا تو یہود سے الگ ایک نئی یہودیت کی بنیاد ڈالی اور اس کو ملت ابراہیمی کا لقب دیا۔ ‘‘ اس لئے کہ مکہ کی زندگی میں تو یہود سے آپ کا سابقہ ہی نہیں پڑا تو پھر مخالفت و موافقت یا اتباع کا سوال ہی کیا۔ البتہ مدینہ میں آکر آپ نے مشرکین کے معاملہ میں یہود کی جانب زیادہ توجہ فرمائی اور یہ اس لئے کہ وہ اسلام کے عقیدہ کے مطابق دین موسوی کے پیرو تھے۔ اگرچہ اس میں تحریف ہو چکی تھی مگر وہ مشرکین کے خلاف توحید کے قابل تھے اور ان کی محرف کتابوں میں تحریف کے بعد بھی بہت سے جملے ایسے موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور رسالت کے شاہد اور گواہ ہیں اور ان سے آپ کے حق میں بشارات نکلتی ہیں اس لئے آپ کو خیال تھا کہ یہ مشرکین کے مقابلہ میں جلد ہی ملت ابراہیمی یعنی اسلام قبول کرلینگے لیکن جب آپ نے ان کے انکار بغض و حسد کا تجربہ کر لیا تو پھر ان کے ساتھ بھی آپ کا معاملہ وہی ہو گیا جو مشرکین کے ساتھ تھا اور بمصداق ’’الکفر ملۃ واحدۃ ‘‘ کفر سب ایک ملت ہے ۔آپ نے ان سب کو ایک ہی حیثیت میں رکھا۔
اسپرنگر، سنوک اور ان کے ہمنوا اتنی صاف بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں یا عمداً سمجھنا نہیں چاہتے کہ جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، اسرائیل (یعقوب )علیہ السلام کے دادا تھے اور یہود اپنے دین کی نسبت حضرت اسرائیل علیہ السلام کی جانب کرتے اور بنی اسرائیل ہونے کی حیثیت سے اس پر فخر کرتے تھے تو ان کا یہ کہنا کہ ابراہیم بھی یہودی تھے کس قدر مضحکہ خیز تھا ،کیا پوتے کے دین کے متعلق کسی طرح یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ عرصہ دراز کے گزرے ہوئے دادا کا دین پوتے کے دین کے تابع تھا۔
پس اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے قرآن عزیز نےیہ اعلان کیا :
ترجمہ: ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی اور البتہ وہ تھے ایک خدا کی جانب جھکنے والے مسلمان۔
مگر ا ن کور چشموں نے اس کے معنی یہ لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تو یہود کے دین پر تھے لیکن مدینہ جا کر جب یہود نے ان کو پیغمبر ماننے سے انکار کر دیا تو یہود کے دین کے مقابلہ میں ذکاوت طبع سے یہودیت ابراہیمی ایجاد کر لی۔ سبحانک ھذا البھتان عظیم۔
سنوک اور اس کے ہمنوائوں نے اس دعویٰ کی دلیل میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب میں کوئی پیغمبر نہیں گزرا، قرآن عزیز کی اس آیت کو بھی پیش کیا ہے۔
ترجمہ: تاکہ تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ڈرائے ایسی قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ابراہیم ؑو اسمعیل ؑعرب کے پیغمبر ہوتے تو قرآن عزیز امت عربیہ کے متعلق اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب نہ کرتا۔
مگر یہ بھی ایک سخت مغالطہ ہے جو قرآن عزیز کے طرز خطابت ، اسلوب بیان اور باطل پرستوں کی باطل پرسی کے خلاف دلائل کی ترتیب سے ناواقفی کی بنا پر پیدا ہوا ہے یا گزشتہ اعتراضات کی طرح محض بغض و عناد کی خاطر اختیار کیا گیا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ عرب کا بہت بڑا حصہ بت پرستی میں مبتلا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے عقائد اور دین کے نام سے کچھ احکام مرتب کر رکھے تھے۔ مثلاً دیوتائوں کی نذر اور قربانی کے لئے سائبہ، بحیرہ ا ور وصیلہ کی ایجاد، مختلف بتوں کی پرستش کے مختلف قواعد و ضوابط وغیرہ، اس لئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو توحید اور اسلام کی دعوت دی اور شرک اور بت پرستی سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ تمہارا یہ کہنا کہ ہم بددین ہیں اور ہمارا کوئی الہامی دین نہیں ہے، غلط ہے ہم تو خود مستقبل دین رکھتے ہیں اور وہ ہمارے باپ دادا کا قدیمی دین ہے۔
ترجمہ: مشرکین نے کہا ہم نے اسی (بت پرستی) پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اللہ نے ہم کو اسی کا حکم دیا ہے۔
تب قرآن عزیز نے ان کے باطل عقائد کی حقیقت کو ان پر وضاحت کرنے کے لئے یہ طرقہ اختیار کیا کہ ان کو بتایا جائے کہ کسی دین کے خدائی دین ہونے کے لئے دو ہی قسم کے دلائل ہو سکتے ہیں، یا حسی اور عقلی راہ سے یہ واضح ہو جائے کہ خدا کا دین اور اس کا مرغوب مذہب ہے اور یا نقلی روایات اس کا قطعی، یقینی اور ناقابل انکار ثبوت پیش کرتی ہوں کہ یہ خدا کی بھیجی ہوئی شریعت ہے اور اگر یہ دونوں راہیں کسی دعوے کے لئے بند ہیں تو وہ دعوی باطل اور اس کا مدعی کاذب ہے۔
پس قرآن عزیز نے مشرکین کے اس دعوے کی تردید کے لئے آیات قرآنی کے تین حصے کر دئیے ایک حصہ میں ان کے اس دعوے کا انکار اور دعوی کی غیر معقولیت کا اظہار کیا اور بتایا کہ مشرکین کا یہ کہنا کہ ’’اللہ امرنا بھا‘‘ (ہم کو خدا نے ایسا (شرک) کرنے ہی کا حکم دیا ہے ۔)بالکل غلط اور سر تا سر باطل ہے ۔ اس لئے کہ:
ترجمہ: بلا شبہ اللہ تعالیٰ بیہودہ خرافات کا حکم نہیں دیا کرتا (اے مشرکین) کیا تم اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ (اعراف)
اور دوسرا حصہ ان کے باطل دعوے پر حسی اور عقلی سند کے مطالبہ سے متعلق کیا اور بتایا کہ وہ عقل سے یہ فتوی ٰ صادر کریں کہ جو کچھ خدا کے ساتھ انہوں نے غلط نسبتیں قائم کر رکھی ہیں اور جن پر ان کے مزعومہ دین کی بنیاد قائم ہے وہ کس طرح صحیح اور اہل عقل کے نزدیک قابل تسلیم ہیں؟۔
ترجمہ: پس (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تم ان سے دریافت کرو کیا تمہارے پروردگار کے لئے لڑکیاں ہیں اور ان کے لئے لڑکے ، کیا ہم نے فرشتوں کو لڑکیاں بنایا اور وہ اس وقت موجود تھے۔ خبردار بلاشبہ یہ سب ان کی بہتان طرازی ہے ۔ البتہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کیلئے اولاد ہے اور بلاشبہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں (یہ کہتے ہیں کہ خدا نے )اپنے لئے بیٹوں کےمقابلہ میں بیٹیوں کوپسند کر لیا ہے (اے مشرکین) تم کو کیا ہوا یہ تم کیسا (جھوٹا) حکم کرتے ہو، پس کیا تم نصیحت نہ حاصل کرو گے؟۔ (الصافات)
اور تیسرا حصہ ان کے باطل عقیدوں کے متعلق نقلی سند کے مطالبہ سے وابستہ کیا، قرآن عزیز ان سے سوال کرتا ہے کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اور اس کو خدا کا دین بتا رہے ہو تو کیا تمہارے پاس اس کے لئے خدا کی جانب سے کوئی حجت اور دلیل نازل ہوئی ہے یا اس کے پاس سے ان عقائد کی صداقت کے لئے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے اگر ایسا ہے تو پیش کرو؟۔
ترجمہ: کیا تمہارے پاس کوئی ظاہر حجت اور صاف دلیل ہے پس تم اپنی (خدا کی جانب سے نازل شدہ) وہ کتاب لائو، اگر تم سچے ہو؟۔
پس اگر ان کے اپنے دعوے کی صداقت کے لئے ان کے پاس نہ کوئی حسی و عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی سند کے طورپر کوئی حجت و کتاب، توپھر ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے پاس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کاد ین موجود ہے اور اس کی منضبط شریعت بھی! بالکل غلط اور باطل دعویٰ ہے۔
اسی طرح مشرکین پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ تمہارے پاس اپنے دعویٰ باطل کے سلسلہ میں نہ عقلی سند ہے اور نہ نقلی اور ان کو لا جواب بنانے کے لئے سورہ احقاف میں بھی یہی طریق استدلال اختیار کیا گیا ہے۔
ترجمہ: تم مجھے بتائو کہ اللہ کے ماسوا جن کو تم پوجتے ہو ۔مجھے کھلائو کہ انہوں نے زمین سے کیا بنایا، یا کیا ان کی آسمانوں میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت ہے۔ اس سے پہلے کوئی کتاب اگر تمہارے پاس ہے (جو اس دعویٰ کی تصدیق کرتی ہو) تو وہ لے آئو، یا علم ،اولین میں سے کوئی بقیہ علم تمہارے پاس ہو تو وہ پیش کرو۔( احقاف)
یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک دوسرے پیرایہ میں قرآن عزیز کی ان آیات میں بیان کیا گیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشرکین، عرب کے پاس محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا۔ ان آیات کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ سرزمین عرب (حجاز) ہمیشہ سے خدا کے نبی اور پیغمبر کے وجود سے محروم ہے۔ اور اس ملک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سب سے پہلی ہی آواز ہے۔ قرآن ایسی خلاف حقیقت بات کس طرح کہہ سکتا تھا جبکہ سورہ ابراہیم ، الانعام اور النمل کی آیات میں حضرت اسراہیم ؑ و اسمعیلؑ کے عربی نبی ہونے کی صاف اور صریح شہادتیں موجود ہیں جو ابھی نقل کی جا چکی ہیں اور قرآن اس قسم کے تضاد اور اختلاف سے قطعاً بری ہے کہ ایک جگہ وہ ایک بات کا انکار کرے اور دوسری جگہ اسی بات کا اقرار ، ا س لئے کہ وہ خدائے عالم الغیب و الشہادہ کا کلام ہے نہ کہ بھول چوک کرنیوالے انسان کا کلام۔
ترجمہ: کیا انہوں نے قرآن پر غور نہیں کیا اور اگر وہ ہوتا اللہ کے سوا کسی اور کلام تو تم ضرور پاتے اس میں بہت سا اختلاف۔
لہٰذا قرآن عزیز کے خلاف سنوک، اسپرنگر اور وینسنک کے یہ تمام دعوے اور ان کے دلائل تاریخی حقائق او واقعات کی روشنی میں قطعاً باطل اور افترا ہیں اور ان کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اور اس قسم کے دوسرے ناقدین قرآن کریم پر علمی دیانت کیساتھ تنقید نہیں کرتے اور نہ ان کی فہم اور سمجھ کا قصور ہے بلکہ اس کے برعکس و ہ علمی بددیانتی سے کام لے کر قرآن کے خلاف زہر اگلتے ، غلط الزام عائد کرتے اور صریحاً اور واضح مسائل میں اپنے پیش نظر مقاصد کے مطابق گنجلک پیدا کر کے ناواقف دنیا کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ اس قسم کے الزامات سے ان کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے جس کو قرآن کریم نے اس قسم کے معاندین کے لئے ایک مستقل قانون کی طرح واضح کر دیا ہے۔
ترجمہ: یہ (منکرین قرآن و اسلام) یہ خواہش رکھتے ہیں کہ کاش تم بھی ان کی طرح منکر بن جائو تاکہ وہ اور تم سب یکساں ہو جائیں۔
اس لئے ان منکرین ،کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کاہمیشہ ایک ہی جواب رہا ہے۔
ترجمہ : اے پروردگار ہمار ے دلوں کو ہدایت یافتہ اور راہیاب کرنے کے بعد کجی کی جانب مت مائل کرنا۔ (آمین)
بہر حال قرآن حکیم کی مسطور ہ بالا زیر بحث آیت کا مطلب صاف اورو اضح ہے اور اس کے درمیان اور الانعام ، النحل اور ابراہیم جیسی سورتوں میں ابراہیم علیہ السلا م کے پیغمبر عرب کے درمیان قطعاً کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔
اس پیش کر دہ تفصیل و تشریح کے علاوہ مفسرین نے اس قسم کی آیات کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یہ خطاب صرف ان ہی لوگوں سے متعلق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں موجود تھے۔ ان کے گزشتہ آبائوو اجداد اور گزشتہ تاریخ عرب سے اس خطاب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں