حج کی فرضیت و شرائط حج

hajj

عربی زبان میں حج کے معنی قصد وارادے کے ہیں چونکہ بیت اللہ شریف کی زیارت کی نیت سے لوگ وہاں جاتے ہیں اور عبادت الٰہی کے مخصوص افعال ادا کرتے ہیں اس لئے اس کو حج کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: اور جب کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے لئے اس گھر بیت اللہ کی جگہ مقرر کی کہ شرک نہ کرو میرے ساتھ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے و نماز پڑھنے والوں کے لئے پاک کرو اور لوگوں میں حج کرنے کے لئے اعلان کرو۔ اس اعلان کے بعد تمہارے پاس پید یا دور دراز مقام سے لاغر اونٹنیوں پر آئیں یہاں آکر اپنے (دینی دنیاوی)فائدے کو دیکھیں اور ان مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر جو اللہ نے ان کو دئیے ہوں اللہ کانام لے کر (قربانی کریں) اور اس کے گوشت میں سے خود کھائیں اور غریب محتاج کو بھی کھلائیں۔
شرائط کیم وجودگی کی حالت میں حج کرنا فرض ہے اس کی فرضیت قرآن و حدیث و اجماع سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور اللہ کے لئے لوگوں پربیت اللہ کا حج کرنا ہے جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو۔(آل عمران)
ترجمہ: اور حج و عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو۔(البقرہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ، یقینا اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم حج کرو۔(مسلم)
اور فرمایا:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔(۱) اللہ کے ایک اور محمد ﷺ کو اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہونے کی شہادت دینا (۲) نماز پڑھنا (۳) بیت اللہ کا حج کرنا (۴) رمضان کا روزہ رکھنا (۵) زکوٰة دینا۔ (بخاری و مسلم)
اور تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ استطاعت کی حالت میں حج کرنا فرض ہے (مغنی ابن قدامہ)
فرض حج ادا کرنے کے بعد دوبارہ سہ بارہ حج ادا کرنا بشرط استطاعت مستحب ہے۔ اس کی مزید تشریح آگے آئے گی۔
شرائط حج
حج فرض ہونے کی پانچ شرطیں ہیں۔ (۱) اسلام ہونا یعنی مسلمان پر فرض ہے۔ کافر پر نہیں۔ (۲) بلوغ یعنی بالغ مکلف پر فرض ہے۔ نابالغ بچے پرفرض نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تین شخص غیر مکلف ہیں(۱) سونے والا یہانتک کہ بیدار ہو جائے۔ (۲) نابالغ بچہ حتی کہ بالغ ہو جائے۔ (۳) مجنون یہاں تک کہ عقل والا ہو جائے۔
اگر نابالغی کے زمانہ میں حج کرادیا گیا تو نفلی حج ہو جائے گا۔ والدین کو اجر ملے گا، بلوغ کے بعد مالی و جسمانی طاقت ہونے پر فرض حج ادا کرنا پڑے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: جس بچے نے بچپن میں حج کرلیا پھر بالغ ہو گیا تو اس پر دوبارہ حج کرنا ضروری ہے اور جس غلام نے حج کیا پھر آزاد ہوا تو اس پر بھی دوبارو حج کرنا ضروری ہے۔ (ابن ابی شیبہ)
ایک صحابیہ عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ ﷺ کی طرف ااٹھا کر عرض کیا: کیا اس بچے کے لئے حج ہے فرمایا ہاں اور تجھے ثواب ملے گا۔ (مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے حج کیا ہمارے ساتھ عورتیں تھیں ہم بچوں کی طرف سے لبیک کہتے اور ان کی طرف سے رمی کرتے ۔ (احمد ابن ماجہ)
(۳)حج فرض ہونے کے لئے عقل ہونا ضرور ی ہے کیونکہ مجنون کلف نہیں ہے۔
(۴) استطاعت بھی ضروری ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ بال بچوں کو واپسی تک خرچ دینے کے بعد گھر سے مکہ مکرمہ تک آمدو رفت کا خرچ ہو اور صحت و تندرستی ہو۔ راستہ پر امن ہو، عورت کے لئے محرم و خاوند ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے اس استطاعت کے بارے میں دریافت کیاگ یا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے زاد و راحلہ مراد ہے۔
دار قطنی و نیل الاوطار میں ہے: توشہ نان نفقہ حج کے واجب ہونے کے لئے شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے اہل و عیات کے لئے واپی تک کافی ہو۔
عورت کے لئے محرم ہونا ضروری ہے۔ بغیر محرم کے اس کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ترجمہ: مومنہ عورت کے لئے بغیر محرم کے ایک دن کا سفر کرنا حلال نہیں ہے۔ (بخاری)
مغنی میں ہے کہ عورت پر بغیر محرم کے حج فرض نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: کہ عورت بغیر محرم کے حج نہ کرے۔
اگر بغیر محرم کے کوئی عورت حج کرے تو حج ہو جائے گا۔ لیکن حدیث مذکور کے خلاف کرنے سے کی وجہ سے گنہگار ہو گی۔
(۵)حج فرض ہونے کے لئے وقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ حج کے یہ تین مہینے شوال، ذوالقعداور دس روز ذوالحجہ کے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: حج کے چند مہینے مقرر ہیں جو ان مہینوں میں احرام باندھ کر حج کو فرض کر لے تو احرام کی حالت میںبیوی سے ہمبستری جائز نہیں ہے اور نہ عدول حکیم جائز ہے اور نہ جھگڑا کرنا جائز ہے۔(البقرہ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اشہر الحج سے مراد شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس روز ہیں اور یو م النحر دسویں تاریخ اس میں داخل ہے۔ (المغنی)
اگر استطاعت کے بعد ان مہینوں کے آنے سے پہلے کوئی مرگیا توگنہگار نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں