حج و عمرہ میں خرچ کرنے کا ثواب

hajj-1

حج و عمرہ میں خرچ کرنے کا بہت ثواب ہے جتنا ہی خرچ ہو گا اتنا ہی زیادہ ثواب ہوگا۔یعنی جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ، حج میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسا جہاد میں خرچ کرنا یعنی جہاد میں ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات سو درہم کے خرچ کرنے کے برابر ہے۔
اسی طرح حج میں بھی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ
ترجمہ: جتنی تم کو تکلیف ہو گی اور جتنا خرچ کرو گی اتنا ہی تم کو ثواب ملے گا۔
اور ایک روایت میں فرمایا: اسی خرچ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ آخرت میں ثواب اور دنیا میں اس کا قائم مقام عطا فرماتا ہے ۔ حاجی کبھی محتاج نہیں ۔ مگر یہ ثواب اس وقت ملے گا جبکہ حلال مال خرچ کرے گا۔ اور اگر حرام مال خرچ کرے گا تو کچھ ثواب نہیں ملے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ترجمہ: جب حاجی پاک و حلال خرچ لے کر نکلتا ہے، رکاب میں پاﺅں رکھتا ہے اور لبیک پکارتا ہے تو آسمان سے آواز آتی ہے لبیک و سعدیک۔ تیرا توشہ حلال ہے تیری سواری حلال ہے تیرا حج مقبول ہے اور گناہوں سے پاک ہو گیا۔ کچھ گناہ نہیں ہے اور جب حاجی حرام ما للے کر نکلتا ہے اور رکاب میں پاﺅں رکھتا ہے اور لبیک پکارتا ہے تو آسمان سے یہ ندا آتی ہے۔ ”لا لبیک و لا سعد بک “تیرا توشہ حرام ہے، تیرا خرچ حرام ہے ، تیرا حج سراسر گناہ ہی گناہ ہے۔ تیرا حج قبول نہیں ۔ (طبرانی، ترغیب)

اپنا تبصرہ بھیجیں